محترم ماسٹر خان محمد صاحب

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 17؍مئی 2001ء میں محترم ماسٹر خان محمد صاحب کا ذکر کرتے ہوئے مکرم ناصر احمد ظفر صاحب لکھتے ہیں کہ آپ 14؍جون 1926ء کو گل گھوٹو میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم ڈیرہ غازیخان میں حاصل کی۔ آپ کے والد محترم سردار پیر بخش صاحب لسکانی بلوچ قبیلہ کے رئیس تھے اور باکردار، ذہین اور نڈر ہونے کی وجہ سے اپنے علاقہ سے دُور تک قدر سے دیکھے جاتے تھے۔ جاذب نظر شخصیت کے مالک اور مہمان نواز تھے۔ اُن کو حضرت امام مہدی علیہ السلام کی آمد کا علم 1934ء میں ہوا تو وہ قادیان گئے اور حضرت مصلح موعودؓ کے دست مبارک پر بیعت کا شرف حاصل کیا۔ جب وہ واپس اپنے گاؤں پہنچے تو اپنے چاروں بھائیوں کو اکٹھا کرکے پیغام حق پہنچایا۔ دو بھائیوں نے قبول کیا اور دو نے شدید مخالفت شروع کردی۔ اس کے نتیجہ میں بستی میں ایک لڑائی شروع ہوگئی جس میں لاٹھیاں، کلہاڑیاں اور تلواریں استعمال کی گئیں۔
اس لڑائی میں محترم سردار پیر بخش صاحب بھی شدید زخمی ہوئے لیکن وہ احمدیت پر استقامت سے قائم رہے۔ اس پر مخالفین نے اپنے پیروں اور فقیروں کو اکٹھا کرکے ہزاروں افراد کی موجودگی میں اُن کے خلاف بددعا کروائی جس میں بیان کیا کہ اگر وہ احمدیت نہ چھوڑیں گے تو ذلّت کی موت مریں گے، قبر کا نام و نشان نہ رہے گا اور قبر کو خدائی آگ لگے گی، اِن کی اولاد ہم پیروں کے در پر پلے گی اور اس کی بستی کا نام و نشان مٹادیاجائے گا۔ جب انہوں نے پیروں کے دعاوی سنے تو مسیح محمدؐی کی غلامی کا دعویٰ کرتے ہوئے ساری قوم کو گواہ بناکر کہا کہ یہی کچھ ان پیروں کے ساتھ ہوگا۔ چنانچہ عشرہ بھی نہیں گزرا تھا کہ جھکڑ امام شاہ کے قبرستان میں جہاں بڑے بڑے پیر دفن تھے، آگ لگ گئی جس نے سارے قبرستان کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے محترم سردار صاحب کو لمبی عمر دی اور دوسرے پیر آپ کی زندگی میں کوچ کرگئے، پھر یوں ہوا کہ پیروں اور سجادہ نشینوں کی بستی جھکڑامام کو دریائے سندھ نے ہڑپ کرلیا اور وہاں کے گدی نشینوں کی اولاد کو دربدر دھکے کھانے کے بعد محترم سردار صاحب کی بستی میں ہی پناہ لینی پڑی۔
محترم سردار صاحب کی وفات پر حضرت خلیفۃالمسیح الثالثؒ نے اُن کی نماز جنازہ پڑھائی اور فرمایا: وہ اپنے علاقہ میں روشنی کا مینار تھے۔
محترم سردار پیربخش صاحب نے 1939ء میں اپنے بیٹے محترم خان محمد صاحب کو قادیان لے جاکر مدرسہ احمدیہ میں داخل کروادیا۔ محترم خان محمد صاحب نے 1950ء میں مولوی فاضل کیا اور پھر محکمہ تعلیم میں بطور عربی مدرس ملازمت اختیار کرلی۔ آپ ہردلعزیز اساتذہ میں شمار کئے جاتے تھے چنانچہ آپ کے شاگرد جس شعبہ میں بھی گئے انہوں نے ضرورت کے وقت آپ کے ساتھ احسن رنگ میں تعاون کیا۔آپ انتہائی نڈر اور بے باک مرد تھے جو اصولوں پر کبھی سودے بازی نہیں کرتے تھے۔ جب بھی آپ کو سکول سے تبدیل کروانے کی معاندین نے کوشش کی تو آپ متعلقہ افسران کے پاس حاضر ہوکر فرماتے کہ اگر یہ تبادلہ میری ناقص کارکردگی کے باعث کیا گیا ہے تو مجھے قبول ہے اور اگر مذہبی تعصب کی بنا پر کیا گیا ہے تو یہ سراسر نامنصفانہ ہے۔ چنانچہ آپ کے نتائج کا ریکارڈ دیکھ کر آپ کا تبادلہ ہمیشہ منسوخ کردیا جاتا اور آپ ایک ہی سکول میں مسلسل 23 سال تعینات رہے۔ آپ دعوت الی اللہ کے شیدائی تھے۔ مخالفین نے آپ کے قتل کے منصوبے بھی بنائے لیکن اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ حفاظت فرمائی۔
حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب ایدہ اللہ (منصب خلافت پر فائز ہونے سے قبل) ایک بار آپ کی بستی میں تشریف لائے تو اس بات پر تعجب کا اظہار فرمایا کہ جہاں کثیر تعداد میں احمدی ہوں ، اُس بستی کا نام ’’گل گھوٹو‘‘ زیب نہیں دیتا۔ پھر محترم خان محمد صاحب کی درخواست پر حضور نے متبادل نام ’’احمدپور‘‘ تجویز فرمایا اور اب یہ بستی اسی نام سے معروف ہے۔
1976ء میں ڈیرہ غازیخان شہر میں ایک مناظرہ کے دوران غیراحمدیوں نے امن کو درہم برہم کیا اور محترم خان محمد صاحب اور مکرم سلیمان صاحب مربی سلسلہ کے خلاف مقدمہ درج کروادیا۔ اُس وقت ان دونوں کو اسیر راہ مولا بننے کی سعادت عطا ہوئی۔
1983ء میں محترم خان محمد صاحب امیر ضلع منتخب ہوئے اور یہ سلسلہ 1999ء تک جاری رہا جب آپ نے اپنی صحت کے پیش نظر کسی اَور کو امیر ضلع نامزد کرنے کی درخواست دی۔ اس دوران ابتلاء کا لمبا دَور آپ نے بڑی جرأت اور فراست سے گزارا۔ آپ کو اور آپ کے پانچ میں سے تین بیٹوں کو مقدمات اور اسیری کی سعادت بھی عطا ہوئی۔ کئی مواقع پر نصرت الٰہی نے آپ کی غیرمعمولی حفاظت فرمائی۔ اس دوران آپ کے خلاف پانچ مقدمات قائم ہوئے جن میں سے ایک قرآن کریم کا سرائیکی زبان میں ترجمہ کرنے کے جرم میں قائم ہوا تھا۔ جیل میں بھی آپ قیدیوں کو قرآن کریم پڑھاتے اور دعوت الی اللہ کرتے رہے۔
آپ اپنے علاقہ میں بطور منصف اور ہمدرد مشہور تھے۔ لوگ بلاامتیاز اپنے تنازعات لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے۔ آپ نادار وں کی جماعتی ذرائع کے علاوہ ذاتی طور پر بھی بہت خدمت کرتے۔ امارت کی ذمہ داریوں سے قبل آپ کو لمبا عرصہ قائد مجلس خدام الاحمدیہ ، صدر جماعت اور نائب امیر ضلع کے طور پر خدمت کرنے کا بھی موقع ملا۔ خدمت دین کی چاٹ آپ نے سارے خاندان کو لگادی تھی۔ چنانچہ آپ کی اہلیہ کو بھی لمبا عرصہ صدر لجنہ ضلع اور تین بیٹوں کو قائد ضلع اور اُن میں سے دو کو قائد علاقہ کے طور پر بھی خدمت بجالانے کی توفیق ملی۔ محترم خان محمد صاحب 29؍جون 2000ء کو لاہور میں وفات پاگئے۔ اگلے روز ربوہ میں تدفین عمل میں آئی۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں