محترم محمود احمد شاد صاحب شہید

’’الفضل‘‘ ربوہ 9ستمبر2010ء میں مکرم مظفر احمد درّانی صاحب مربی سلسلہ اپنے مضمون میں محترم محمود احمد شاد صاحب شہید کا ذکرخیر کرتے ہوئے رقمطراز ہیں کہ شہید مرحوم جامعہ احمدیہ میں خاکسار کے کلاس فیلو تھے۔ آپ کا شمار ذہین طلباء میں ہوتا تھا۔شروع سے ہی بڑے ہنس مکھ، خوش مزاج اور ہر دلعزیز تھے۔ہمارا آپس میں دوستی ہی نہیں اخوت کا رشتہ تھابلکہ دوست احباب ہمیں قریبی رشتہ دار سمجھا کرتے تھے اور یہ تعلق آخر وقت تک قائم رہا۔ مگر یہ سب کچھ آپ کی ہی اعلیٰ صفات کی وجہ سے تھا۔
محترم شاد صاحب کے والدین نے دین کو دنیا پر مقدم کرتے ہوئے ربوہ میں آڈیرے ڈالے تھے۔ آپ نے بچپن میں مدرسۃ الحفظ میں کچھ پارے حفظ بھی کئے تھے ۔ جامعہ سے فارغ التحصیل ہوتے ہی 1986ء کے جلسہ سالانہ برطانیہ میں شمولیت اور حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ سے شرف ملاقات کی سعادت پائی۔ فضل عمر فاؤنڈیشن ربوہ سے عملی خدمت کا آغاز کیا۔ منڈی بہائوالدین اور کھاریاں میں بھی متعین رہے۔ کھاریاں کی ایک مخلص خاتون کا ذکر کرتے ہوئے آپ بتایا کرتے تھے کہ جب حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ کا خطبہ جمعہ بذریعہ سیٹلائٹ آنا شروع ہوا تو کھاریاں کے صاحبِ حیثیت احبابِ جماعت کی لِسٹ بنائی گئی۔ رابطوں کے آغاز میں ہی جماعتی وفد ایک بیوہ کے گھر پہنچا۔ خاتون نے پوچھا کہ ڈِش انٹینا اور رسِیور کی کل کتنی قیمت ہے۔ بتایا گیا کہ تقریباً آٹھ ہزار روپے۔ تو اس خاتون نے ساری رقم خود ہی ادا کردی۔
مضمون نگار رقمطراز ہیں کہ جب خاکسار کا تقرر 1999 ء میں تنزانیہ ہوا تو اُس وقت محترم شاد صاحب تنزانیہ میں تعینات تھے۔ بڑے ہی شوق اور لگن سے دعوت الی اللہ کیا کرتے تھے۔ نئی نئی جگہوں پر رابطے کر کے وڈیو اور آڈیو کیسٹس کے ذریعہ اور مجالس لگا کر تبلیغی کیمپس لگایا کرتے تھے۔ جس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے کئی نئی جماعتیں بھی عطا کیں۔چنانچہ آپ کی باثمر کاوشوں کی وجہ سے حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ نے آپ کو جلسہ سالانہ انگلستان 2000 ء میں تنزانیہ جماعت کی طرف سے بطور نمائندہ شرکت کی منظوری عطا فرمائی۔ جلسہ سالانہ کے ایک لوکل سیشن میں آپ کو تلاوتِ قرآن کریم کرنے کی بھی سعادت ملی۔ نیز اس موقعہ پر انٹرنیشنل تبلیغی سیمینار میں آپ نے اپنے تبلیغی تجربات سے بھی نمائندگان کو آگاہ کیا۔
آپ Iringa میں تعینات تھے کہ آپ کی کامیابیوں کو دیکھتے ہوئے مقامی علماء نے عرب ریاستوں کی طرف سے مذہبی امداد دینے والے اداروں سے متعدد سہولیات کا مطالبہ کرنا شروع کیا تاکہ وہ احمدیہ نفوذ کو روک سکیں۔ لیکن جب مقامی علماء سے پوچھا گیا کہ تمام سہولیات کے باوجود بھی اُن کے کام کا کوئی نتیجہ کیوں نہیں نکل رہا تو اُن کا جواب تھا کہ اُن کے پاس ایک چیز کی کمی ہے یعنی ایک پاکستانی مبلغ کی کمی ہے۔
محترم محمود شاد صاحب کو کئی نئی جماعتوں کے قیام کے بعد وہاں پر مساجد کی تعمیر کی توفیق بھی ملی جن میں سے ایک تنزانیہ سے زیمبیا جانے والی شاہراہ پر واقع جماعت Kinengebasi کی مسجد اور مربی ہاؤس بھی ہے۔ نہایت خوبصورت علاقہ میں تیزی سے تعمیر کی جانے والی اس مسجد کا بہت اچھا اثر پڑا۔ ایک دن ایک ٹرک ڈرائیور وہاں رُکا اور مسجد کی تیز تعمیر پر خوشنودی کا اظہار کرتے ہوئے دو ہزارشلنگ بطور مسجد فنڈ ادا کئے۔ اور بتایا کہ گزشتہ ہفتے وہ یہاں سے گزرا تھا تو مسجد کا سنگِ بنیاد رکھا جا رہا تھا اور آج چھت بھی ڈالی جاچکی ہے، اس بات نے مجھے یہاں رُکنے، نماز ادا کرنے اور تعمیر میں حصہ لینے پر مجبور کیا ہے۔
محترم شاد صاحب اپنے حلقہ کی جماعتوں اور دیہات کے بکثرت دورے کیا کرتے تھے۔ایک دن آپ شام کو واپس اپنے سنٹرایرینگا آرہے تھے کہ رستے میں آپ کو ایک نومبائع فیملی کے ممبران ملے جن کے ہمراہ حالتِ زچگی میں ایک خاتون تھیں، جنہیں وہ لوگ ہاتھ سے دھکیلنے والی ریڑھی پر ڈال کر سڑک تک پہنچے تھے کہ کوئی سواری ملے تو اسے ہسپتال پہنچائیں۔ اس علاقہ میں ٹرانسپورٹ کی سخت کمی تھی۔چنانچہ آپ انہیں اپنی گاڑی میں شہر کے ہسپتال لے آئے۔ دو دن بعد زچہ بچہ کو چھوڑنے ان کے گاؤں چلے گئے۔ یہ دیکھ کر مقامی لوگوں نے احمدیہ مربی زندہ باد کے نعرے لگائے اور علیٰ الاعلان اس بات کا اظہار کیا کہ آج تک کوئی غیرملکی اس گاؤں میں نہیں آیا یہ صرف احمدی مربی ہی ہے جو نہ صرف ہمارے پاس پہنچا بلکہ انتہائی ضرورت کے وقت ہماری مدد بھی کی۔
آپ اپنے اہل خانہ سے بہت حسن سلوک کرنے والے تھے۔ ان کی کوشش ہوتی کہ جہاں خود جائیں بچوں کو بھی ان مقامات کی زیارت سے محروم نہ رکھیں۔ چنانچہ جب آپ کو بطور جماعتی نمائندہ جلسہ سالانہ انگلستان میں شرکت کی دعوت دی گئی تو آپ نے اپنے خرچ پراپنی فیملی کو بھی ساتھ لے لیا۔اور جرمنی کے جلسہ سالانہ میں بھی شرکت کی توفیق پائی اور دونوں ملکوں کے اہم مقامات کی سیر بھی کروائی۔ قادیان کی زیارت کے وقت بھی فیملی کو ساتھ لے کر جاتے رہے۔
دین کے لئے آپ غیرت اور جرأت و بہادری رکھتے تھے۔ حضرت مسیح موعودؑ کا یہ فارسی شعر اکثر دورانِ گفتگو سنایا کرتے تھے ۔ ؎

من نہ آنستم کہ روزِ جنگ بینی پُشتِ من
آن منم کاندرمیانِ خاک و خوں بینی سرے

یعنی میں وہ نہیں ہوں کہ جنگ کے دن تُو میری پُشت کو دیکھے۔ میں تو وہ ہوں کہ جس کا سر تُو خاک و خون میں غلطاں دیکھے گا۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/jbPWC]

اپنا تبصرہ بھیجیں