محترم محمود احمد شاد صاحب شہید

مجلس انصاراللہ UK کے رسالہ ’’انصارالدین‘‘ مئی جون 2011ء میں محترم ڈاکٹر فضل الرحمن بشیر صاحب کے قلم سے ایک مضمون شائع ہوا ہے جس میں محترم محمود احمد شاد صاحب کا ذکرخیر کیا گیا ہے۔
محترم محمود احمد شاد صاحب کے بارہ میں تیار کی گئی ڈاکومنٹری میں اُن کا چھوٹا بیٹا عزیز م نوید احمد بھرائی ہوئی آواز میں بیان کر رہا تھا کہ جب دہشتگرد گولیوں کی بوچھاڑ کرتے ہوئے مسجد کے بالکل قریب پہنچ گئے تو آپ نے احباب سے کہا کہ وہ لیٹ جائیں مگر خود کھڑے رہے اور کسی خوف کا مظاہرہ نہیں کیا۔ دعائیں کرتے رہے اور دعاؤں کی تلقین کرتے رہے کہ اسی اثناء میں خود دہشت گرد کی گولیوں کا نشانہ بنے اور نعرہ تکبیر بلند کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش کر گئے۔
شاد صاحب مرحوم سے میرا تعلق بچپن سے تھا۔ کچھ عرصہ حافظ کلاس میں اکٹھے رہے اور تعلیم الاسلام ہائی سکول ربوہ سے اکٹھے میٹرک پاس کیا۔ ہم ایک کلاس اور ایک ہی سیکشن میں تھے۔ مَیں نے اُنہیں بہت قریب سے دیکھا ہے وہ بہت ذہین اور زبر دست حسِ مزاح رکھنے والے تھے ۔بہت حاضر جواب تھے۔ محفل کو گل و گلزار بنا دینے کا فن اُنہیں خوب آتا تھا۔ اپنی قابلیت کی بدولت بہت جلد سٹیج کی رونق بن گئے۔ سکول کی اسمبلی میں ترانہ پڑھا کرتے تھے۔ کلاس میں بھی ہردلعزیزتھے۔ اطفال الاحمدیہ کے اجلاسوں میں ان کی شرکت اور ہر مقابلے کے بعد ڈھیروں انعامات وصول کرنا اچھی طرح یاد ہے۔ خاص طور پر تلاوت میں وہ ہمیشہ اوّل انعام حاصل کرتے۔ اپنے اُستاد محترم قاری محمد عاشق صاحب کی طرز میں تلاوت کرتے تھے اس وجہ سے اُنہیں یہ اعزاز بھی حاصل رہا کہ متعدد مرتبہ خلفائے احمدیت کی موجودگی میں تلاوت کرنے کا موقع ملا۔ ایک مرتبہ حضرت خلیفتہ المسیح الثالث ؒ بیرون ممالک کے دورہ سے واپس تشریف لائے تو اطفال الاحمدیہ ربوہ کی نمائندگی میں حضور ِ انور کو پھولوں کا گلدستہ پیش کرنے کا اعزاز حاصل ہوا۔ نظمیں بھی بہت اچھی پڑھتے تھے۔ حضرت مصلح موعودؓ کی مشہور نظم ’’دُشمن کو ظلم کی برچھی سے تم سینہ و دل برمانے دو ‘‘ ان کی پسندیدہ نظمو ں میں سے تھی۔شاعر احمدیت محترم ثاقب زیروی صاحب کی شہرہ آفاق نظم ’’فرصت ہے کسے جو سوچ سکے پس منظر ان افسانوں کا ‘‘ بالکل ثاقب صاحب کے انداز اور لَے میں پڑھا کرتے تھے کہ سماں بندھ جاتا تھا۔ جماعت کے بزرگوں سے بے انتہا محبت رکھتے تھے اور اُن سے ملنا باعث برکت خیال کرتے۔ یہ سب کچھ آپ نے اپنے والد محترم سے ورثہ میں پایا تھا۔ آپ کے والد چوہدری غلام احمد صاحب ایک سچے اور جانثار خادمِ احمدیت تھے۔ انتقالِ اراضی کے محکمہ سے اُن کا تعلق تھا۔ حضرت خلیفۃالمسیح الثالث ؒ اپنی زمینوں کے معاملات پر اُن سے رائے لیا کرتے تھے۔ اس طرح محترم شاد صاحب کا بچپن ہی سے حضرت خلیفۃالمسیح الثالث ؒ سے قریبی تعلق تھا۔ آپ کے والد اکثر انہیں ساتھ لے جایا کرتے تھے۔ بچپن میں شاد صاحب کا قد بہت چھوٹا تھا۔ حضور انور نے اُنہیں ازراہ شفقت کوہاٹ بھجوایا تاکہ آب وہوا اور پانی کی تبدیلی سے ان کا قد بڑھ جائے۔ اگرچہ ان کے جسمانی قد میں تو زیادہ اضافہ نہ ہوا مگر عشق و فدائیت کے جذبے نے ان کے روحانی قد کو بلند کرتے کرتے شہادت جیسے بلند مقام پر فائز کردیا۔ شاد صاحب اپنی چھ بہنوں کے اکلوتے بھائی تھے ان کے والد محترم نے اپنے اکلوتے فرزند کو خدا کی راہ میں وقف کردیا اور اس سعادتمند بیٹے نے اپنے باپ کی خواہش کی ہمیشہ لاج رکھی۔ انہیں اپنے والد محترم سے بڑی محبت تھی۔ اکثر اس بات کا تذکرہ کرتے تھے کہ آپ پر ہونے والے افضال و انعامات کے پیچھے آپ کے والد کی دلگداز دعائیں ہیں جو ہر مشکل گھڑی میں بھی ایک ڈھال کی طرح اُن کے آگے کھڑی ہوتی ہیں۔
خلافت سے ایک عشق کا تعلق تھا۔ جلسہ سالانہ میں شرکت کے لئے لندن جانے کی منظوری آئی تو اپنی اہلیہ اور بچوں کو بھی ساتھ لے گئے اور اس کے لئے قرض بھی لینا گوارہ کر لیا۔ مَیں نے پوچھا کہ آپ کیوں اپنے اوپر اتنا بوجھ ڈالتے ہیں بعد میں اس کی ادائیگی آپ کے لئے مشکل ہوجائے گی۔ کہنے لگے معلوم نہیں پھر کبھی جلسہ پر جا نا نصیب ہو، مَیں چاہتا ہوں میری اولاد خلیفۂ وقت سے مل لے تاکہ ان کے اندر بھی خلافت سے عشق و محبت پروان چڑھے۔
شاد صاحب مرحوم بہت سادہ طبیعت کے مالک تھے ،نمود و نمائش نام کو نہ تھی لباس بھی سادہ مگر اچھا اور صاف ستھرا ہوتا تھا ۔تبلیغ کا جنون تھا ۔ ارنگا کے علاقہ میں اُنہوں نے تبلیغ کا حق اد اکردیا ،اس علاقے میں عربوں کا بڑا اثر ہے اس وجہ سے اُنہیں مخالفت کا بھی بہت سامنا کرنا پڑا مگر کسی خوف کا مظاہرہ نہیں کیا۔ اُنہوں نے اپنی تبلیغی مہمات کی وڈیو بھی بنائی تھیں جو ایک قابلِ قدر اور ایمان افروز اثاثہ ہے اور نئے مبلغین کے لئے بڑی راہنمائی کا موجب بن سکتی ہیں۔
موروگورو میں جب اُن کی تبدیلی ہوئی تو اُنہوں نے آتے ہی 23مارچ کو حضرت خلیفۃالمسیح الرابع ؒ کی عظیم تصنیف ’’الہام، عقل اور سچائی ‘‘ پر ایک بڑے سیمینار کا انعقاد کروایاجس میں اُس وقت کے ریجنل کمشنر نے بھی شرکت کی۔
افرادِ جماعت سے بڑا قریبی اور محبت کا تعلق تھا۔ ہر کسی سے مسکرا کر ملنا ان کی خاص بات تھی۔ دراصل وہ ایک صاف دل انسان تھے۔ تنزانیہ میں گیارہ سال سے زائد عرصہ تک خدمات سر انجام دیں، اس دوران جہاں بڑی کامیابیاں بھی حاصل کیں تو وہاں کئی نشیب و فراز سے بھی گزرے۔ دعا پر بڑا یقین تھا اور ہر ابتلا میں اللہ تعالیٰ کے خاص فضل و کرم سے سرخرو رہے۔
ارنگا میں شاد صاحب مرحوم کا مخالف علماء کے ساتھ ایک بڑا مناظرہ تین روز تک جاری رہا۔ آخری روز نام نہاد علماء نے بد تہذیب لڑکوں کے ذریعہ مخالفانہ نعرہ بازی کروائی اور مناظرے میں جماعت کی فتح کے اثر کو زائل کرنے کی کوشش کی۔ محترم شاد صاحب مرحوم نے آخر پر بڑا جلالی خطاب کیا اور حضرت مسیح موعودؑکی کتب کے متعدد حوالہ جات پیش کرنے کے بعد پر شوکت آواز میں کہا کہ ’’ اے ارنگا کی سر زمین تو گواہ رہ کہ میں نے مسیح موعودؑ کا پیغام تجھ تک پہنچا کر اپنا فرض پورا کر دیا ہے‘‘۔
MTAکی اس ڈاکو منٹری میں اُن کی اہلیہ محترمہ نے بیان کیا کہ اُنہوں نے اپنے خاوند کی دعاؤں کے ذریعہ مدد کی۔ یہاں میں ایک واقعہ لکھتا ہوں۔ ایک موقع پر شاد صاحب مرحوم پر بڑا ابتلاء آگیا اور جس بات پر اُن کے خلاف تحقیقات ہوئیں مَیں قطعی طور پر جانتا ہوں کہ وہ بالکل غلط طور پر اُن سے منسوب کی گئی تھی لیکن الزام بہت بڑا تھا۔ وہ بے حد پریشان تھے۔ موروگورو میں ہم ہمسایہ میں تھے۔ ایک روز رات کو میری آنکھ کھلی اور مجھے کسی کے رونے کی آواز آئی۔ غالباً صبح کے چار بجے کا وقت تھا۔ میں اُٹھا اور سننے کی کوشش کی ۔حلفاًلکھتا ہوں کہ شاد صاحب مرحوم کی اہلیہ اس قدر گریہ و زاری سے دعا کر رہی تھیں جیسے بکرے کو ذبح کیا جارہا ہو۔ وہ تڑپ تڑپ کر اپنے خاوند کے لئے دعا کر رہی تھیں کہ میرا دل دہل گیا ۔ مَیں قریباً پندرہ منٹ تک سنتا رہا۔ مزید ہمت نہ تھی واپس اپنے بستر پر آکر لیٹ گیا اور سوچتا رہا کہ اس بیوی نے اپنے خاوند سے وفاداری کا حق ادا کردیا ہے۔ MTA سے اُن کی زبانی سُنا تو یہ دلخراش واقعہ یاد آگیا ۔
شاد صاحب بڑے زندہ دل انسان تھے ۔محفل میں چھا جاتے تھے نہ صرف یہ کہ مزاح پیدا کرتے تھے بلکہ اپنے اُوپر ہونے والا بڑے سے بڑا مذاق بھی خندہ پیشانی سے برداشت کرتے۔ بڑے بڑے ابتلاؤں کے دنوں میں بھی وہ مسکراتے ہوئے ملتے اورکسی کو گمان نہ ہوتا کہ وہ کس اذیت میں سے گزر رہے ہیں۔
محترم محمود شاد صاحب مرحوم بے حد عجزو انکسارکے مالک تھے۔ بڑے عالم تھے۔ فقہی مسائل اور جماعتی لٹریچر پر اُنہیں عبور حاصل تھا۔ تاریخ احمدیت پر بھی دسترس تھی۔ ان کی تقریر میں بڑی روانی اور تسلسل ہوتا تھا مگر لکھنے کی طرف اُنہیں توجہ نہیں تھی۔ تنزانیہ میں گیارہ سال رہنے کی وجہ سے سواحیلی زبان پر بھی بڑا عبور تھا۔ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے۔

پرنٹ کریں
0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/rwt0W]

اپنا تبصرہ بھیجیں