محترم ملک مبارک احمد خانصاحب اعوان (آف اٹک)

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 27جنوری 2012ءمیں مکرم محمود مجیب اصغر صاحب کے قلم سے محترم ملک مبارک احمد خان صاحب اعوان کا ذکرخیر شامل اشاعت ہے۔
حضرت ملک نور خان صاحب اعوان 1898ء میں قادیان پہنچے اور 1899ء کے آغاز پر حضرت مسیح موعودؑ کی دستی بیعت سے مشرف ہوئے۔ ان کے حالات رجسٹر روایات نمبر8 صفحہ 115تا120 پر درج ہیں۔ آپؓکی بیعت میں بہت سا دخل حضرت سردار عبدالرحمٰن صاحب (مہر سنگھ) کا تھا جو اٹک شہر سے ملحق گاؤں سروالہ کے سکول میں استاد بن کر آئے جہاں آپ اُن کے شاگرد بنے۔ حضرت سردار صاحب کی تبلیغ اور دعا کی تحریک کے بعد آپ کو مبشر خوابیں آئیں اور آپ بیعت کے لئے تیار ہوگئے۔ لیکن سروالہ کے حالا ت ایسے نہیں تھے کہ آسانی سے بیعت کی جاسکتی۔ چنانچہ حضرت سردار عبدالرحمن صاحبؓ نے سارا معاملہ حضرت مولانا حکیم نور الدین صاحبؓ کی خدمت میں لکھ کر بھجوایا تو انہوں نے فرمایا کہ اس بچے کو میرے پاس قادیان بھجوادیں۔ (اصحاب احمد جلد ہفتم میں بھی اس کا ذکر ہے۔ اُس وقت چونکہ اٹک ضلع راولپنڈی میں شامل تھا اس لئے وہاں راولپنڈی کا نام لکھا ہے۔ اٹک (کیمبلپور) ضلع راولپنڈی سے الگ ہوکر 1904ء میں ضلع بنا تھا)۔
حضرت ملک نور خان صاحب کے صاحبزادے محترم ملک مبارک احمد خان صاحب ایک وجیہہ بزرگ تھے۔ نکھرا ہوا رنگ، سر پر جناح کیپ اور ہاتھ میں چھڑی رکھتے تھے۔ جسم قدرے بھاری تھا۔ نورانی چہرہ تھا۔ گردوں کے مریض تھے۔ بتاتے تھے کہ ڈاکٹر کئی بار جواب دے چکے ہیں لیکن معجزانہ طور پر زندہ ہوں۔ آپ کو کنسٹرکشن کا اچھا تجربہ تھا۔ ایک وصف مہمان نوازی کا بہت نمایاں تھا۔ ضلعی اجلاسات و اجتماعات میں کھانے کا انتظام بھی آپ کرتے۔ آپ کا بچپن زیادہ تر قادیان میں گزرا اور وہاں کی یادیں ہمیشہ تازہ رہیں۔
محترم ملک مبارک احمد خان صاحب شدید مخالفانہ ماحول میں اٹک میں مقیم رہے۔ 1974ء اور 1984ء کے زمانے میں بیحد مخالفت ہوئی۔ آپ کا ایک بیٹا ملک بشارت احمد خان احمدیت کی مخالفت کی وجہ سے اغوا کرلیا گیا تھا جس کی بازیابی نہیں ہو سکی۔ اس بیٹے کی تصویر ڈرائنگ روم میں لگائی ہوئی تھی اور اس کے ذکر میں ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو جاتے تھے لیکن بڑے صبر اور تحمل سے انہوں نے جماعت کی خاطر یہ قربانی دی۔ آپ قائمقام امیر ضلع کے طور پر بھی خدمت کی توفیق پاتے رہے۔
ستمبر 2010ء میں رمضان المبارک کے مہینہ میں آپ کی وفات بعمر 82 سال ہوئی اور بہشتی مقبرہ ربوہ میں تدفین عمل میں آئی۔ آپ نے بیوہ کے علاوہ 4بیٹے، 3بیٹیاں اور اُن کی اولادیں یادگار چھوڑے ہیں۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/njAwf]

اپنا تبصرہ بھیجیں