محترم منیراحمد شیخ صاحب شہیدلاہور

لجنہ اماء اللہ کینیڈا کے رسالہ ’’النساء‘‘ ستمبر تا دسمبر 2010ء میں شامل اشاعت مکرمہ آصفہ اسلم صاحبہ نے اپنے مضمون میں محترم منیر احمد شیخ صاحب شہید (سابق امیر ضلع لاہور) کا ذکرخیر کیا ہے۔
آپ بیان کرتی ہیں کہ ہمیں اپنے ابّو اور امّی کی وفات کے بعد ہمارے بہنوئی محترم منیر احمد شیخ صاحب شہید نے اس طرح پیار اور عزت دی اور اس طرح اپنے دامن عاطفت میں لیا کہ ہم بھول گئے کہ ہمارا اس سے پہلے بھی کوئی اور گھر تھا۔ آپ نے زندگی کو زندہ دلی کے ساتھ خوشگوار رکھا اور ہم اس طرح آپ کے پیارو محبت کے وسیع حلقہ میں کئی خاندان تھے جو ایک ہو گئے۔ ہر مہمان کا اس طرح خوشدلی سے استقبال کرتے کہ یوں لگتا کہ صرف وہی مہمان ان کا قریبی عزیز ہے۔ صلہ رحمی کے صحیح معنے ان میاں بیوی نے ہمیں سکھائے۔ وسعت حوصلہ کی کس طرح داد دوں۔ بنی نوع انسان کی ہمدردی، غرباء پروری، بہادری، معاملہ فہمی، بے حد زیرک کہ جلد ہی معاملہ کو سمجھ کر فیصلہ کردیتے اور پھر اس پرقائم رہتے اور انجامکار وہی فیصلہ صحیح ثابت ہوتا۔ الغرض کس کس خوبی کا بیان ہو۔
انتھک انسان تھے ۔عدالت سے آکر ابھی پسینہ بھی خشک نہیں ہوتا تھا کہ ملازم بتاتا کہ کوئی صاحب ملنے آئے ہیں۔ اُس کے ہمراہ جاتے تو شام کو لَوٹتے اور پھر دوپہر کا کھانا کھاتے۔ پوچھنے پر بتاتے کہ غریب آدمی تھا۔ مَیں نے اُسے لے جاکر کام کروادیا اور پھر اس کو اُس کے گھر چھوڑ آیا۔ یہ روزمرہ کا معمول ہی تھا اور وہ اس کے عادی ہوچکے تھے۔ انہوں نے ہر حال میں ہر کسی کاکام کرنا ہوتا تھا چاہے وہ غریب ہو یا امیر ہو یا رشتہ دار۔ سب ان کے لئے برابر تھے۔ ڈاکٹر کو دکھانا ہے، زرگر کے پاس یا کسی اور جگہ جانا ہو، کسی نے زمین خریدنی یا فروخت کرنی ہو ، بنک کا کام ہو ، رشتہ ناطہ کا کام ہو، کوئی بھی ان سے مشورہ کے بغیر کوئی کام نہیں کرتا تھا۔ جب ہماری والدہ بیمار ہوئیں تو شہید مرحوم کی پوسٹنگ لاہور ہوچکی تھی۔ آپ مکان کے اوپر کے حصہ میں رہائش پذیر ہوئے اور ان کی تیمار داری کا پورا حق ادا کیا۔ ہر غمی و خوشی میں عزیزوں کا بھرپور ساتھ دیتے۔
انسانی ہمدردی کُوٹ کُوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ ایک دفعہ کورٹ سے واپسی پر پتہ چلا کہ ایک ملازم رات سے بیمار ہے۔ پہلے اسے دیکھا اور دوائی دی۔ اُس کا بخار اُترگیا تو الحمد للہ کہہ کر کھانا کھایا جو اس وقت ٹھنڈا ہوچکا تھا۔ ملازموں کے ساتھ بے حد نرم سلوک روا رکھتے اور کبھی غصّہ میں ناراض ہوتے نہیں دیکھا۔ ایک دفعہ ایک میٹنگ میں جانے سے قبل بالکل نئے گرم سوٹ کی پتلون ملازم کو استری کرنے کے لئے دی۔ اُس سے پتلون جل گئی تو اُس کا رنگ زرد ہوگیا۔ آپ نے کہا کہ تم نے پینٹ میری اڑا دی ہے اور رنگ تمہارا کیوں اڑا ہوا ہے، اب اس کو پھینکو اور دوسری پینٹ استری کر دو۔ اس سے زیادہ کچھ نہیں کہا۔
ملازموں کو ہدایت تھی کہ کوئی بھی ملنے کے لئے آئے خواہ رات ہو یا دن اسی وقت مجھے بتاؤ۔ کوئی کسی مجبوری کی حالت میں آتا ہے۔ کبھی نہیں کہنا کہ صاحب ابھی آرام کر رہے ہیں۔ رات دن فون کی گھنٹی بجتی رہتی تھی وہ ہر فون کو اٹھاتے اور بات کر لیتے۔
دینی غیرت کا اظہار بہت تھا۔ جب ہماری خالہ زاد بہن عابدہ ملک صاحبہ کی وفات راولپنڈی میں ہوئی تو اُن کے گھر محترمہ بے نظیر بھٹو صاحبہ تعزیت کے لئے آئیں۔ اُن کے آنے کی اطلاع ملی تو شہید مرحوم ہم سب کو دوسرے کمرہ میں لے گئے اور کہا کہ ان کے باپ نے ہمارے ساتھ جو سلوک کیا ہے اس کے پیش نظر ہم ان سے کیسے مل سکتے ہیں۔ بے نظیر صاحبہ ایک گھنٹہ تک اہل خانہ کے ساتھ رہیں لیکن ہم میں سے کوئی بھی ان سے نہ ملا۔
ہرشخص نے ان کی دیانتداری، ایمانداری اور محنت کے ساتھ کام کرنے کی تعریف کی ہے۔ اُن کے تمام فیصلے عدل او ر حق و صداقت پر ہوتے تھے۔ کبھی رشوت نہیں لی اور نہ ہی ناجائز سفارش کو قبول کیا ۔ ہمیشہ انصاف کو مدّنظر رکھا۔جب میانوالی میں سیشن جج تھے تووہاں کی جماعت کے صدر صاحب سے کسی معزز غیر احمدی دوست نے سفارش کرنے کے لئے کہا تو انہوں نے جواب دیا کہ سفارش کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا کیونکہ جو فیصلہ انہوں نے کرنا ہے حق و انصاف سے کرنا ہے۔ وہ غیراحمدی دوست بہت مایوس ہوئے اور راتوں رات سفر کرکے گجرات گئے اور وہاں سے مکرم شیخ صاحب کے ایک عزیز کی سفارش لے کر آئے اور ان کے گھر پہنچ گئے ۔ بعد میں آپ نے صدر صاحب سے کہا کہ آپ نے خواہ مخواہ اس معزّز شخص کو تکلیف دی۔ آپ اُن کی سفارش کردیتے، کرنا تو مَیں نے وہی تھا جو اُن کا حق تھا۔
جب آپ سرگودھا میں متعین تھے ہائی کورٹ کے رجسٹرار نے کسی کیس میں سفارش کروائی اور ساتھ یہ بھی کہلوایا کہ یہ کام ضرور کرنا ہے ورنہ نتیجہ کے آپ خود ذمہ دار ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ میں انصاف کے مطابق فیصلہ کروں گا رجسٹرارصاحب زیادہ سے زیادہ میری تبدیلی کروا سکتے ہیں اور وہ انہوں نے کروا دی۔
عزیزوں کی مدد کے لئے گاؤں سے چاولوں کی بوریاں منگواتے اور بڑی محنت اور تکلیف اٹھا کر اُن کے گھروں میں پہنچانے کا انتظام کرتے۔ اپنے اور سسرال کے رشتہ داروں کو ایک کر دیا۔ یہ محض ان کے اور ان کی بیگم آنسہ منیر صاحبہ کے حسن سلوک کی وجہ سے ممکن ہوا۔
14 دسمبر2009ء کو ان کے چھوٹے بیٹے مقیت احمد واقف زندگی کی دعوت ولیمہ تھی۔ اس دن ان کے برادرِ نسبتی راجہ منصور احمد صاحب کی لاس اینجلز امریکہ میں وفات ہوگئی۔ لیکن کمال حکمت اور اطمینان سے دعوت ولیمہ کی تقریب کروائی اور کسی کو خبر تک نہیں ہونے دی۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے آپ کو تین بیٹوں اور ایک بیٹی سے نوازا۔ دو بیٹے مکرم اسامہ احمد اور مکرم مقیت احمد کو زندگی وقف کرنے کی سعادت حاصل ہے۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/9nQ8C]

اپنا تبصرہ بھیجیں