محترم مولانا دوست محمد شاہد صاحب

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 6ستمبر 2010ء میں شامل اشاعت ایک مضمون میں مکرمہ خالدہ منورصاحبہ نے اپنے والد محترم مولانا دوست محمد شاہد صاحب کا تفصیلی ذکرخیر کیا ہے۔
آپ بیان کرتی ہیں کہ جب سے مَیں نے ہوش سنبھالا پیارے اباجان کو دین کی خدمت اور خلافت کی اطاعت میں دن رات دیوانگی کی حد تک مصروف پایا۔
3 ؍اپریل تا 3 مئی 1990ء تک گوجرانوالہ سنٹرل جیل میں 9 دیگر احباب کے ساتھ آپ بھی اسیر راہ مولیٰ بھی رہے۔ اس دوران حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ نے میرے بھائی ڈاکٹر سلطان احمد مبشر کو ایک خط میں تحریر فرمایا کہ: ’’شیر پنجرے میں بھی شیر رہتا ہے۔ اللہ کے شیروں سے ملنے جاؤ تو میرا محبت بھرا سلام اور پیار دینا‘‘۔
آپ کی اسیری کے وقت ہماری امّی شدید بیمار تھیں اور ڈاکٹروں نے جواب دیدیا ہوا تھا۔ اُن کی وفات اباجان کی رہائی کے 17 دن بعد ہوئی۔ حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ نے اپنے تعزیتی خط میں آپ کو لکھا: تمہاری خدمات میں تمہاری بیوی برابر کی شریک تھیں۔
ہماری امی نے ایک واقف زندگی کی بیوی ہونے کے ناطے بڑے صبر و شکر کے ساتھ وقت گزارا۔ پنجوقتہ نمازوں کی پابند اور تہجد گزار تھیں۔ جو کچھ گھر میں آتا اس پر شکر کرتیں۔ کبھی زبان پر حرف شکایت نہ آتا۔ اباجان کے زیادہ تر رشتہ دار غیرازجماعت ہیں۔ اُن کی خدمت محبت کے ساتھ کرتیں اور ان کی خوشی اور غم میں شریک ہوتیں۔ جماعتی کام کرنے کے سلسلہ میں ہم بچوں کی راہنمائی کرتیں۔
جب ابا جان 2005ء میں جلسہ سالانہ قادیان تشریف لے گئے تو ’ہوشیار پور ٹائمز‘ اور ’ہندسماچار‘ نے ایک گھنٹہ آپ کا انٹرویو کیا اور انٹرویو کے بعد 500 روپے پیش کئے جو آپ نے چندہ خدمت درویشاں میں جمع کروادیئے۔
حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے 27 مئی 2008ء کو خلافت صدسالہ جوبلی کے موقعہ پر دنیا بھر کے احمدیوں کو کھڑا کرکے جب عظیم الشان عہد لیا تو آپ نے اپنے سب بچوں کو مبارکباد دی اور آخری سانس تک خلافت سے وابستہ رہنے کی نصیحت کی۔
خداتعالیٰ پر توکّل بہت زیادہ تھا۔ ہمیشہ خلیفۂ وقت کی دعاؤں کا سہارا لیتے۔ روزانہ صبح صدقہ نکالتے اور ہمیں بھی نصیحت فرماتے کہ صدقہ کیا کرو۔ نظام اور وقت کی بہت پابندی کرتے۔ مسجد مبارک میں امامت بھی کرتے رہے۔ فرماتے تھے کہ جو انسان وقت کی قدر نہیں کرتا اور وقت پر کام نہیں کرتا وہ لاکھوں کروڑوں روپے خرچ کرکے بھی گزرا ہوا لمحہ واپس نہیں لاسکتا۔ کسی بھی پروگرام پر جانے کے لئے مقررہ وقت سے کافی دیر پہلے تیار ہو کر بیٹھ جاتے تھے۔
نماز فجر سے فارغ ہوکر آپ کا معمول تھا کہ بہشتی مقبرہ جاتے اور سیر کرتے۔ واپس آکر قرآن کریم کی اونچی آواز میں تلاوت کرتے۔ چاہے کوئی موسم ہو، ہر روز غسل کرتے۔ صاف ستھرے کپڑے پہنتے۔ خوشبو کا استعمال کرتے اور خود کو پاک صاف رکھتے تھے۔ اپنی ہر اچکن میں عطر کی شیشی رکھتے۔
جو پکا ہوتا شکر کرکے کھالیتے۔ مرچ اور گھی کا زیادہ استعمال پسند نہ تھا۔ اپنے گلے کا بے حد خیال رکھتے تھے۔ خوراک بہت کم ہوتی۔ سر پر تیل لگا کر رکھتے۔ شہد کا استعمال اور وٹامن کی گولیوں کا استعمال ضرور رکھتے۔
طبیعت میں سادگی تھی۔ نمودونمائش کو ہرگز پسند نہ کرتے تھے۔ بات سادہ انداز میں اور ناپ تول کر کرتے تھے۔ اپنی ذات کے لئے کوئی خواہش نہ تھی۔ خواہش تھی تو جماعت کی خدمت، تبلیغ اور خلیفۂ وقت کے ارشاد کی تکمیل کی تھی۔ آپ کبھی دفتر کی کوئی بات گھر آکر نہ کرتے تھے۔ بعض دفعہ امی جان نے آپ سے پوچھنا کہ فلاں خاتون نے دفتر کی یہ بات بتائی ہے تو آپ شدید ناراضگی کا اظہار کرتے اور کہتے کہ نہ جانے کون سے ایسے لوگ ہیں جو دفتر کی پوشیدہ باتیں گھر آکر کرتے ہیں۔
آپ کی ذاتی لائبریری میں 8 ہزار سے زائد کتب موجود ہیں۔ مختلف موضوعات پر کتابیں علیحدہ علیحدہ رکھتے۔ ہر کتاب کا نام، جلد، نمبر اور سن اشاعت کا ان کو علم ہوتا تھا۔ اپنی تنخواہ میں سے کتابیں خرید کر اس لائبریری میں اضافہ کرتے۔ طبیعت میں نفاست اتنی زیادہ تھی کہ ہر شیلف میں ایک کپڑا رکھا ہوتا تھا۔ جب اس شیلف سے کوئی کتاب نکالتے تو کپڑے کے ساتھ اچھی طرح صاف کرلیتے۔
خلیفۂ وقت کی اطاعت کا اعلیٰ نمونہ تھے۔ جب خلیفۂ وقت کی طرف سے کوئی حکم آتا تو دنیا کے سب کام بھول جاتے حتیٰ کہ کھانے اور آرام کی پرواہ نہ کرتے۔
شدید گرمی کے موسم میں بھی روزے رکھتے اور اس حالت میں درس بھی دیتے۔ ایک رومال میں برف کا ٹکڑا باندھ کر پگڑی کے اندر رکھ لیتے تا سر ٹھنڈا رہے۔ لیکن کبھی بھی تکان کی شکایت نہ کرتے۔
ایک دفعہ ہمارے پڑوس میں کسی عورت نے اپنے بچے کو بہت بری طرح پیٹا۔ بچے کے رونے کی آواز سن کر کہنے لگے کتنے جاہل ہیں جو بچوں کو مارتے ہیں۔ اسی وقت جائے نماز بچھائی اور ہمیں کہا کہ آؤ نماز پڑھیں اور ان کے لئے دعا کریں۔
میری بڑی بہن کی شادی ہوئی تو اباجان گجرات کے دورہ پر تھے۔ گھر میں آپ سے عرض کیا گیا کہ آپ خلیفۂ وقت سے درخواست کرکے دورے کی تاریخ آگے کروالیں۔ آپ نے کہا کہ میں ہر گز ایسا نہیں کرسکتا کیونکہ خلیفۂ وقت کی منظوری سے یہ پروگرام طے ہوا ہے۔ چنانچہ آپ جب دورہ ختم کرکے واپس آئے تو رخصتی کا وقت تھا۔ دوسری بہن کی شادی ہوئی تو ان دنوں میں آپ بیرون ملک دورہ پر تھے۔ جب دورے سے واپس آئے تو ایئرپورٹ سے سیدھے ربوہ چلے گئے اور بیٹی کو ملنے نہ گئے اور کہا کہ جماعت نے گاڑی بھیجی تھی اس لئے مَیں لاہور میں نہ رک سکتا تھا۔ مناسب یہ ہے کہ میں خود اپنے خرچ پر لاہور آکر اپنی بیٹی اور داماد سے ملوں۔ اور پھر دوبارہ ملنے کے لئے ربوہ سے اپنے خرچ پر تشریف لائے۔ جب جماعتی دورہ پر لاہور آتے تو ہمارے گھر نہ آتے ۔
اپنے بچوں کے رشتے کرتے وقت ہمیشہ یہ دیکھا کہ اُس فیملی کا جماعت کے ساتھ تعلق کیسا ہے۔
ایک روز لجنہ کے اجلاس سے واپس آتے ہوئے پاؤں سلپ ہونے سے میری ٹانگ میں فریکچر ہو گیا۔ آپ میرے پاس لاہور تشریف لائے اور کہنے لگے کہ جب میری ٹانگ میں فریکچر ہوا تھا تو میں سائیکل پر نماز پڑھ کر آرہا تھا کہ کسی سائیکل سوار نے میری سائیکل کو ٹکر ماردی اور آپ بھی اجلاس سے واپس آرہی تھیں، ہم دونوں نیک مقصد کے لئے نکلے تھے۔ کہنے لگے کہ میں بے حد تکلیف میں تھا لیکن اس تکلیف میں میں نے سوچا کہ خداتعالیٰ کتنا عظیم ہے کہ اُس نے مجھے کسی بڑی تکلیف سے بچالیا ہے۔ خدانخواستہ آنکھوں کا نقصان ہو جاتا اور بینائی ضائع ہو جاتی تو مَیں جماعت کی خدمت سے محروم ہو جاتا۔
وفات سے قریباً ایک سال قبل آپ کی خواہش پر میرے میاں منور احمد عباسی صاحب آپ کو جھنگ کے راستہ میں واقع ایک گاؤں سانبھل لے گئے جہاں آپ کے کچھ غیرازجماعت عزیز رہتے ہیں۔ آپ نے راستہ میں اُن سب 15گھروں کے لئے پھلوں کے علیحدہ علیحدہ لفافے تیار کروائے۔ وہاں جاکر اُن کو تبلیغ کی۔ کتب بھی دیں اور شام کو مطمئن ہوکر واپس آئے۔
آخری بیماری میں نیم بیہوشی میں جانے سے قبل ہم سب بچوں کو صبر اور دعا کی تلقین کی اور کہا کہ مَیں تو خدا کی رضا پر راضی ہوں۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/yXD6K]

اپنا تبصرہ بھیجیں