محترم مولانا ظفر محمد ظفر صاحب

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ یکم مارچ 2002ء میں محترم مولانا ظفر محمد ظفر صاحب کے بارہ میں ایک مضمون مکرم منصور احمد ظفر صاحب کے قلم سے شامل اشاعت ہے۔ آپ کا ذکر خیر قبل ازیں ہفت روزہ ’’الفضل انٹرنیشنل‘‘ 2؍اکتوبر 1998ء کے اسی کالم میں کیا جاچکا ہے۔ ذیل میں وہ باتیں پیش ہیں جو شائع شدہ مضمون میں بیان نہیں کی گئیں۔
محترم مولانا صاحب کے والد حضرت حافظ فتح محمد خان صاحبؓ ایک متوسط درجہ کے زمیندار تھے اور اپنے علاقہ میں اپنے علم و فضل کی بدولت مشہور تھے۔ عربی اور فارسی کے عالم تھے اور فارسی میں فی البدیہہ اشعار بھی کہتے تھے۔ اُن کا ایک مجموعہ کلام بھی تھا جو ضائع ہوگیا۔ اُن کے استاد حضرت حافظ میاں رانجھا صاحب ایک صاحب کشف و کرامات بزرگ تھے۔ ایک دفعہ انہوں نے آپ سے فرمایا: ’’حافظ صاحب! مَیں اس دار فانی سے گزر جاؤں گا اور آپ زندہ ہوں گے کہ امام مہدی ظہور فرمائیں گے۔ انکار نہ کرنا‘‘۔
غالباً 1903ء میں حضرت مسیح موعودؑ کی آواز آپ تک پہنچی تو اپنی مسجد کے دروازہ میں کھڑے ہوگئے اور ہر نمازی سے کہنے لگے کہ امام الزمان آگئے ہیں، اُن کی بیعت کے لئے اپنا نام لکھوادو۔ چنانچہ تمام نمازیوں نے اپنے نام لکھادیئے۔ اُسی سال آپ اپنے ساتھیوں سمیت پیدل قادیان تشریف لے گئے اور سب کے ساتھ بیعت کا شرف حاصل کیا۔
آپؓ نے اپنے چوتھے بیٹے محترم مولانا ظفر محمد ظفر صاحب کو 13 سال کی عمر میں قادیان بھجوادیا جہاں سے انہوں نے تعلیم حاصل کی اور مولوی فاضل کے امتحان میں دوم رہے۔ پھر مختلف حیثیتوں سے خدمت دین کی توفیق پاکر 1956ء میں آنکھوں کی تکلیف کی وجہ سے ریٹائرمنٹ لے لی۔
محترم مولانا صاحب قاضی کے طور پر کام کرتے رہے۔ ایک مقدمہ جس کا فیصلہ پہلے ایک قاضی کرچکے تھے اور پھر دو قاضیوں کے بورڈ نے اُس کو بحال رکھا تھا، تین قاضیوں کے بورڈ میں پیش ہوا جس میں آپ بھی شامل تھے۔ مقدمہ کی کارروائی مکمل ہونے پر آپ نے سب قاضیوں سے اختلاف کرتے ہوئے اپنا نوٹ لکھا۔ حضرت مصلح موعودؓ نے محترم شیخ بشیر احمد صاحب (جو بعد میں لاہور ہائی کورٹ کے جج بنے) کو آپ کا فیصلہ دکھایا تو انہوں نے فیصلہ پڑھ کر آپ سے ملنے کی خواہش کی اور پھر ملاقات کرکے آپ کو مبارکباد اور داد دی۔
محترم مولانا صاحب کو اردو، عربی اور فارسی پر دسترس حاصل تھی۔ تینوں زبانوں کے قادرالکلام شاعر تھے۔ 1980ء میں آپ کا شعری مجموعہ ’’کلام ظفر‘‘ شائع ہوا۔ جس کی حضرت مرزا طاہر احمد صاحب ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اور بہت سے نامور علماء نے دل کھول کر تعریف کی۔ ’’ترانہ ناصرات‘‘ بھی آپ ہی کا کلام ہے:

ہم احمدی بنات ہیں دیں کی ناصرات ہیں
رسول پاک مصطفی کی دل سے خادمات ہیں

آپ نے بچپن میں ہی خواب دیکھا تھا کہ قرآن شریف آپ کے سینہ میں چمک رہا ہے۔ جب یہ خواب آپ نے اپنے والد محترم کو سنائی تو انہوں نے آپ کو دینی تعلیم کے حصول کے لئے قادیان بھجوادیا۔ قرآن کریم سے آپ کو گہرا شغف اور محبت تھی۔ قرآنی رموز و اسرار جاننے میں منہمک رہتے اور اس سلسلہ میں تین کتب کے بیش قیمت مسودات آپ نے قلمبند کئے جو شائع ہوئے۔
قیام پاکستان کے بعد آپ کو حکم ملا کہ ملتان ڈویژن جائیں۔ آپ نے اپنے اہل خانہ کو بھی ہمراہ لے جانے کی اجازت مانگی جو مل گئی ۔ لیکن کرایہ نہ تھا۔ چنانچہ آپ ساری رات نوافل میں گریہ و زاری سے دعائیں کرتے رہے۔ صبح کی نماز کا وقت قریب آیا تو سجدہ میں ایک زوردار آواز آئی کہ خدا نے تمہیں موت کے بعد زندگی بخش دی۔ چنانچہ آپ نے سب کو تسلّی دی کہ اللہ تعالیٰ سارے انتظامات خیریت سے کردے گا۔ صبح آپ کو کسی نے پچاس روپے دے کر کہا کہ یہ حضرت مرزا شریف احمد صاحبؓ نے بھیجے ہیں اور فرمایا ہے کہ اگر اَور ضرورت ہو تو اَور منگوالیں۔
پاکستان بننے کے بعد جب آپ احمدنگر میں آباد ہوئے تو پہلے موسم سرما میں آپ کے پاس کوئی گرم کپڑا نہ تھا۔ کسی نے بتایا کہ مرکز میں گرم کوٹ آئے ہیں، مَیں بھی لایا ہوں، آپ بھی لے آئیں۔ لیکن آپ نے مانگنے کو پسند نہ فرمایا۔ دوسرے ہی دن آپ کو اطلاع ملی کہ حضرت مولانا غلام حسین ایاز صاحب نے سنگاپور سے آپ کے لئے گرم کوٹ کا کپڑا بھیجا ہے۔
آپ ایک خوش مزاج، سادگی پسند، نام و نمود سے متنفر اور مستغنی بزرگ تھے۔ ہر قسم کے حالات میں آپ خوش و خرم رہے۔ آپ ہی کا شعر ہے:

کتنا ہے خوش نصیب ظفرؔ آج تک جسے
دنیا کے حادثات پریشاں نہ کرسکے

آپ صاحب رؤیا بزرگ تھے۔ ایک دفعہ آپ نے مالی تنگی کے ایام میں اللہ تعالیٰ سے بیس روپے مانگے۔ اللہ تعالیٰ نے بیس روپے تو دے دیئے لیکن ساتھ ہی خواب میں دکھایا کہ مجھ سے یہ چیز کیوں مانگتے ہو، مجھ سے میرا فضل مانگو۔
23؍اپریل 1982ء کو آپ نے وفات پائی اور بہشتی مقبرہ ربوہ میں محو خواب ہوئے۔ آپ کے کتبہ پر آپ کا یہ شعر درج ہے:

آئے مرے عزیز ہیں میرے مزار پر
رحمت خدا کی مانگنے مشتِ غبار پر

50% LikesVS
50% Dislikes
0

اپنا تبصرہ بھیجیں