محترم مولانا عبدالوہاب بن آدم صاحب

(مطبوعہ ’’الفضل ڈائجسٹ‘‘، الفضل انٹرنیشنل لندن 29؍اپریل 2024ء)

مولانا عبدالوہاب بن آدم صاحب

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ ۲؍جون۲۰۱۴ء میں محترم مولانا عبدالوہاب بن آدم صاحب کی ایک غیررسمی گفتگو شائع ہوئی ہے جو انہوں نے لندن میں تعلیم الاسلام کالج ربوہ کے سابق طلبہ کی ایک تقریب میں کی۔

محترم مولانا صاحب نے بتایا کہ تعلیم الاسلام کالج کی کچھ باتیں مجھے یاد ہیں۔ وہاں صومالی لینڈ (صومالیہ) سے آئے ہوئے دو طلبہ بھی تھے۔ دونوں فٹ بال کے اچھے کھلاڑی اور انگریزی ڈیبیٹ میں پنجاب یونیورسٹی تک حصہ لیا کرتے تھے۔ ان میں ابوبکر صاحب جو اس وقت صومالیہ کے ایک علاقے کے گورنر ہیں اور دوسرے سعید عبداللہ بھی ایک اچھے انتظامی عہدے پر ہیں۔ ابوبکر صاحب کو دوسروں کو ہم خیال بنالینے میں بڑی مہارت حاصل تھی۔ ایک بار وہ حجامت کروانے گئے تو چونکہ حجام کو معلوم نہیں تھا کہ افریقنوں کے بال کیسے کاٹے جاتے ہیں چنانچہ اُن کے بال چھوٹے بڑے کٹ گئے۔ انہوں نے اپنے سر کی یہ حالت دیکھی تو سوچا کہ کیوں نہ سر منڈوالیں۔ چنانچہ انہوں نے ٹنڈ کروالی۔ پھر اُن کو خیال آیا کہ میرے اکیلے کی ٹنڈ ہے یہ تو صحیح نہیں۔ چنانچہ انہوں نے ایک اَور طالب علم کو ٹنڈ کے فائدے بیان کرکے آمادہ کرلیا اور یہ بھی کہا کہ تمہارے ٹنڈ کروانے کے پیسے مَیں دوں گا۔ اسی طرح کرتے کرتے انہوں نے کئی طلبہ کی ٹنڈ کروادی۔ پھر خیال آیا کہ اتنے طلبہ کی ٹنڈ دیکھ کر کہیں پرنسپل حضرت مرزا ناصر احمد صاحب ناراض نہ ہوجائیں چنانچہ لٹھے کی ٹوپیاں بنواکر اُن سب طلبہ کو پہنادیں۔


ربوہ میں ہم ۱۹۵۲ء میں آئے۔ یہ وہ جگہ تھی جہاں سرکاری ریکارڈ کے مطابق پانی نہ ہونے کی وجہ سے آبادی ممکن نہیں تھی۔ لیکن اللہ کے فضل سے ربوہ کی بنیاد رکھی گئی تو پانی بھی نکل آیا۔ ہم وہاں جب پہنچے تو وہاں کا پانی نمکین تھا اور صرف ایک جگہ سے پینے والا پانی نکلتا تھا۔ وہاں سے ماشکی پانی لے کر لوگوں کے گھروں میں پہنچایا کرتا تھا۔اُن دنوں بجلی بھی نہ تھی۔ نہ کوئی پکّی بلڈنگ تھی۔ ہوسٹل کی چھت کچی تھی جو بارش میں ٹپکتی تھی اور فرش بھی کچا تھا جس پر پانی جمع ہوجاتا تھا۔ بارش زیادہ ہوتی تو کئی بار ہمارا صندوق پانی میں تیرنے لگتا۔ پھر احمدنگر میں ایک عمارت لے لی گئی تو ہم روزانہ چار میل چل کر وہاں پڑھنے جایا کرتے اور پھر اتنا ہی چل کر واپس آتے۔ہمارا ہوسٹل غیرملکیوں کے لیے مختص تھا۔ وہاں افریقہ کے علاوہ انگلستان، امریکہ، جرمنی، چین، ٹرینیڈاڈ وغیرہ سے کئی لوگ مقیم تھے۔ اتنے مختلف رنگ و نسل کے لوگ تھے مگر وہاں بڑے ہی اچھے دن ہم نے گزارے ہیں۔
ایک دفعہ گھانا کے سفیر ربوہ آئے تو مَیں نے انہیں ربوہ کی ابتدائی حالت اور وہاں آبادکاری سے متعلق بتایا۔ اس پر وہ عیسائی ہونے کے باوجود کہنے لگے کہ اگر کوئی شخص خدا پر یقین نہ رکھتا ہو تو یہ واقعات سُن کر یقیناً خدا کی ہستی پر ایمان لے آئے گا۔ اسی طرح ۱۹۷۰ء میں جب مَیں لندن میں تھا تو حضرت چودھری محمد ظفراللہ خان صاحبؓ کے ہمراہ انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس کے سیکرٹری ربوہ گئے اور وہاں سے واپس ہالینڈ جاتے ہوئے لندن میں ٹھہرے تو انہیں مشن ہاؤس میں مدعو کیا گیا۔ انہوں نے اپنی تقریر میں اظہار کیا کہ مَیں ربوہ سے ہوکر آیا ہوں۔ وہ ایک ایسا شہر مَیں نے دیکھا ہے جہاں صرف اچھائی ہی اچھائی ہے، برائی کوئی نہیں۔ وہاں کالج، لائبریریاں، ریسرچ سینٹر اور مساجد تو دیکھیں لیکن کوئی شراب خانہ، جؤاخانہ یا ڈانس کی جگہ نہیں دیکھی۔

مسجد مبارک ربوہ

۲۰۱۰ء میں لاہور میں احمدیہ مساجد پر حملوں کے بعد مَیں ایک وفد لے کر ربوہ گیا تھا جس میں گھانا، بینن اور سیرالیون کے افراد شامل تھے۔ جب ہم ربوہ پہنچے تو مَیں بالکل حیران ہوگیا کہ یہ تو وہ والا ربوہ ہی نہیں ہے۔ سرائے مسرور کی چھ منزلہ عمارت ہے۔ دارالضیافت کی نئی سات منزلہ بلڈنگ ہے۔ لفٹ لگی ہوئی ہے۔ ہم نے جو ابتدائی ربوہ دیکھا ہوا ہے ہمارے لیے تو یہ اللہ تعالیٰ کا ایک معجزہ ہے۔

مولانا محمد عثمان چو صاحب

۱۹۵۲ء میں تعلیم الاسلام کالج کی عمارت پکّی تھی۔ حضرت خلیفۃالمسیح الثانیؓ فرمایا کرتے تھے کہ جامعہ کو بھی اسی طرح بنانا ہے۔اگرچہ مالی وسعت نہیں تھی لیکن خلفاء کی دُوراندیشی کا اندازہ ہم کرسکتے ہیں کہ اُن کے نزدیک دنیاوی تعلیم اور دینی تعلیم ، دونوں کی اہمیت اُس وقت بھی پیش نظر تھی۔ اُس وقت بڑے بڑے سرکاری عہدیدار ربوہ میں آنا فخر محسوس کرتے تھے۔ روسی خلاباز اور کئی سائنسدان بھی وہاں کالج میں آئے تھے۔ حضرت چودھری محمد ظفراللہ خان صاحبؓ کا نام پاکستان میں نمایاں اعزاز کے ساتھ لیا جاتا تھا۔ چینی سفیر بھی وہاں آئے تھے تو اُن کا استقبال کرنے کے لیے مکرم عثمان چینی صاحب نے اہالیانِ ربوہ کو چینی الفاظ ’’وائیں نے‘‘ یاد کروائے تھے۔ سفیر سے اُن سب مبلغین کو ملوایا گیا جو بیرونی ممالک میں خدمات سرانجام دے چکے تھے۔

مکرم شیخ عمری عبیدی صاحب بھی اُن دنوں ربوہ میں تھے۔ وہ تعلیم سے فارغ ہوئے تو بطور مبلغ تنزانیہ بھیجے گئے۔ انہوں نے قرآن شریف کے سواحیلی ترجمے میں نمایاں خدمت کی۔ وہ بہت قابل آدمی تھے اور روحانی بھی۔ بعد میں تنزانیہ کی حکومت نے حضرت مصلح موعودؓ سے درخواست کی کہ ہم انہیں اپنی انتظامیہ میں لینا چاہتے ہیں چنانچہ وہ دارالسلام کے پہلے افریقن میئر بنے۔ وزیر انصاف بھی رہے۔ جب وہ ربوہ میں تھے تو حضرت مولوی محمد دین صاحب (جو بعد میں صدر صدرانجمن احمدیہ رہے) سے ’’ریڈرز ڈائجسٹ‘‘ لے کر پڑھا کرتے تھے۔ ایک بار جب رسالہ واپس کرنے میں کافی دیر ہوگئی اور مولوی صاحب سے ان کی سڑک پر کہیں ملاقات ہوئی تو مولوی صاحب نے لطیف انداز میں پوچھا:

Have you digested the digest?

جب مَیں انڈیا گیا تو ایک بار ٹرین میں سفر کرتے ہوئے ایک مسافر نے اپنے علم کے گھمنڈ میں افریقنوں کے بارے میں کچھ غلط بیانی کی۔ اس پر مَیں اردو میں اُن سے مخاطب ہوا کہ آپ کی حکومت نے ہمیں ویزا دے کر اپنا مہمان بنایا ہے۔ آپ جو غلط باتیں کررہے ہیں اُن پر آپ کے خلاف کارروائی ہوسکتی ہے۔ اس پر وہ شرمندہ ہوئے اور معذرت کرنے لگے۔

محترم مولانا ابوالعطاء صاحب

ایک بار زمانۂ طالب علمی میں بھی قادیان جانے کا موقع ملا تھا۔ وہاں ایک گلی میں اپنے پرنسپل حضرت مولوی ابوالعطاء صاحب کے ساتھ گزر رہا تھا کہ ایک جگہ دو سکھ مجھے دیکھتے ہوئے زورشور سے آپس میں بحث کرنے لگے۔ اچانک اُن میں سے ایک میرے قریب آیا اور میری جِلد پر زور سے اپنا ہاتھ رگڑا۔ پھر اپنے ساتھی کو ہاتھ دکھاکر فخریہ انداز سے کہنے لگا کہ ’’مَیں تمہیں کہتا نہیں تھا پکّا کوٹ ہے۔‘‘ مولانا صاحب یہ دیکھ کر بہت ہنسے اور اُس کے بعد سے مجھے پیار سے ’’پکّاکوٹ‘‘ کہہ کر ہی بلانے لگے۔
ایک بار ہم کراچی گئے تو پتہ چلا ٹنڈوالہ یار میں غیراحمدیوں کا ایک دارالعلوم ہے۔ ہم اُسے دیکھنے چلے گئے۔ وہاں کینیا، یوگنڈا اور تنزانیہ وغیرہ سے طالب علم پڑھنے کے لیے آئے ہوئے تھے۔ہمارے ساتھ ایک جرمن ساتھی بھی تھا۔ انہوں نے ہمیں بہت حیرانی سے دیکھا کہ افریقن اور یورپین اکٹھے کیسے ہوگئے؟ باتیں ہوئیں تو انہوں نے حیرت کا اظہار کیا کہ اُن کو تو نہ کنگھی کرنے دی جاتی ہے اور نہ ٹراؤزر پہننے کی اجازت ہے کہ یہ اسلام میں جائز نہیں۔ پھر انہوں نے خواہش ظاہر کی کہ وہ بھی ربوہ آنا چاہتے ہیں۔ ہم نے کہا کہ ابھی ہمارے ساتھ جانا ٹھیک نہیں لیکن وہاں واپس جاکر آپ کو ہم بتائیں گے۔ جب ہم ربوہ آئے تو وکیل التبشیر صاحب سے اس بارے میں بات کی۔ وہ کہنے لگے کہ اگر کوئی آنا چاہتا ہے تو اُسے منع نہیں کرتے۔ چنانچہ ہم نے اُنہیں بتادیا تو وہ سارے ایک ہفتے کے اندر اندر ربوہ آگئے۔ اُن میں ایک جرمن عمر نامی بھی تھا جو تعلیم الاسلام کالج میں پڑھتا رہا اور جرمنی واپس جاکر DW میں براڈکاسٹر بن گیا۔ ایک افریقن ابوطالب نے جامعہ میں تعلیم مکمل کی اور تنزانیہ میں کامیاب مبلغ رہے۔ اُن میں سے بعض کو اس لیے بھجوایا گیا تھا کہ ہماری کمزوریاں تلاش کریں لیکن وہ سب پکے احمدی ہوگئے۔
۱۹۶۰ء میں مَیں ایک گھانین دوست کے ساتھ جلسہ سالانہ میں شرکت کے لیے آیا تو کراچی ایئرپورٹ پر میرے ساتھی سے ایک غیراحمدی مولوی نے پوچھا کہ آپ کس ملک سے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ گھانین ہوں۔ اُس نے پوچھا کہ کہاں جارہے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: ربوہ۔ وہ کہنے لگا آپ قادیانی ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ ابھی تو مَیں نے آپ کو بتایا ہے کہ مَیں گھانین ہوں۔

جامعہ احمدیہ ربوہ کے طلبہ سیّدنا حضرت مصلح موعودؓ کے ہمراہ

ربوہ میں قیام کے دوران ہونے والا ایک افسوسناک حادثہ بھی یاد ہے۔ ایتھوپیا کے ایک دوست رضوان تھے۔ اُن کی عربی اور اردو بہت اچھی تھی۔ ہم جب گرمیوں کی چھٹیوں میں مانسہرہ چلے گئے تو وہ مولوی فاضل کی تیاری کررہے تھے اس لیے ربوہ میں ہی رہے۔ اس دوران پکنک کے لیے چند طلبہ اور اساتذہ کے ہمراہ دریائے چناب پر گئے تو وضو کرتے ہوئے اُن کا پاؤں پھسلا اور وہ دریا میں گرگئے۔ اُن کو بچانے کی کافی کوشش کی گئی لیکن وہ بچ نہیں سکے۔ اس دردناک واقعہ کا حضرت خلیفۃالمسیح الثانیؓ کو بہت دکھ ہوا۔ مرحوم کی تدفین ربوہ میں ہی ہوئی۔ جب اُن کے والد صاحب کو ایتھوپیا میں اس حادثے کی اطلاع دی گئی تو اُن کا جواب آیا کہ ہم نے تو اپنے بیٹے کو اللہ کی راہ میں وقف کردیا تھا۔ اب اگر خدا کی یہی مرضی تھی توہم اس کی رضا پر راضی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں