محترم مولانا محمد شفیع اشرف صاحب

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 4؍اپریل 2009ء میں محترم مولانا محمد شفیع اشرف صاحب کا ذکرخیر اُن کی بیٹی مکرمہ راشدہ فہیم صاحبہ کے قلم سے شامل اشاعت ہے۔ قبل ازیں آپ کی سوانح اور شاعری کے بارہ میں ایک مضمون 16؍اکتوبر 1998ء کے اخبار میں الفضل ڈائجسٹ کی زینت بن چکا ہے۔
مضمون نگار بیان کرتی ہیں کہ ابّا لمبے عرصہ سے ذیابیطس اور گردوں کے عارضہ میں مبتلا تھے لیکن وفات سے کچھ عرصہ پہلے کثرت سے اپنے انجام بخیر کے لئے کہا کرتے۔ بظاہر تو درخواستِ دعا ہی تھی مگر مجھے انجام کے لفظ سے طبعاً گھبراہٹ ہوتی اور ابّا سے کہتی کہ ایسے نہ کہا کریں خدا تعالیٰ آپ کو لمبی عمر عطا کرے گا۔ آپ ہنس کر جواب دیتے کہ عمر تو بس اتنی ہی ہونی چاہئے جتنی آنحضرت ﷺ کی تھی۔ وفات سے چند ماہ قبل شدید بیمار ہوئے تو آپ نے دعا کی کہ خدا احمدیت کی صد سالہ جوبلی تک ضرور زندگی عطا کردے۔ خداتعالیٰ نے اُن کی یہ خواہش پوری کردی۔ 23 مارچ 1989ء کو جماعت اپنی دوسری صدی میں داخل ہوئی اور 29 مارچ کو آپ نے 59 سال کی عمر میں وفات پائی۔ آخری بیماری میں ایک روز اپنے اوپر ہونے والے خدا کے فضلوں کا ذکرکرکے حضرت مسیح موعودؑ کا یہ شعر پڑھا:

’’ابتدا سے تیرے ہی سایہ میں میرے دن کٹے‘‘

آپ گیارہ سال کی عمر میں گاؤں سے قادیان آکر مدرسہ احمدیہ میں داخل ہوئے۔ چودہ سال کی عمر میں باپ کا سایہ بھی سر سے اٹھ گیا۔ بہت متوکّل اور شکرگزار انسان تھے۔ دعاؤں پر بہت زور دیتے۔ آپ کی زندگی میں بے شمار دفعہ ایسا ہوا کہ بظاہر ناممکن کام بھی دعا سے حل ہوجاتے۔ خصوصاً مالی پریشانی کی صورت میں کبھی کسی سے سوال کرتے اور نہ کبھی قرض لیتے بلکہ صرف دعا کیا کرتے اور اللہ تعالیٰ غیب سے سامان کردیتا۔ آپ کہا کرتے کہ خدا تعالیٰ کا مجھ سے وعدہ ہے کہ بعد زمانہ تیرے پہلے زمانہ سے بہتر ہوگا۔
بچوں کی تربیت کا غیرمعمولی خیال رکھتے اور علمی مقابلہ جات میں شامل ہونے کی حوصلہ افزائی اور مدد کرتے۔ مہمان نوازی کا وصف اعلیٰ درجہ کا تھا لیکن تکلّف سے کوسوں دُور تھے۔ جو کچھ بھی میسر ہوتا وہ پیش کردیتے۔ جلسہ سالانہ کے مہمانوں کے لئے خاص تیاری کرتے اور اس تیاری میں بچوں کو شامل رکھتے۔
آپ بہت زیرک اور چہرہ شناس تھے۔ کئی افراد کے بارہ میں جو اندازہ لگاتے وہ بعد میں درست ثابت ہوتا۔ بے شمار لوگ خاندانی اور عائلی مسائل لے کر آتے اور اکثر مطمئن ہوکر جاتے۔ معاملات سلجھانے کا آپ کو خاص ملکہ تھا۔
آپ کو اعتکاف بیٹھنے کا بہت شوق تھا اور جوانی میں کئی بار اس کا موقع ملا۔ بزرگوں سے ملاقات اور بچوں کو ملوانے کا خاص اظہار کرتے۔ہماری والدہ اکثر بیمار رہتیں اور آپ اُن کی تیمارداری اور چھوٹے بچوں کی ذمہ داری لمبا عرصہ تک نبھاتے رہے۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/kn6dC]

اپنا تبصرہ بھیجیں