محترم مولانا محمد شفیع اشرف صاحب

محترم مولانا محمد شفیع اشرف صاحب 25؍اکتوبر 1929ء کو اٹھوال ضلع گورداسپور میں مکرم چودھری محمد صدیق بھلر صاحب کے ہاں پیدا ہوئے۔ آپ کے دادا حضرت میاں اللہ بخش صاحبؓ کے ذریعہ احمدیت آپ کے خاندان میں آئی تھی۔
محترم مولانا صاحب 1940ء میں مدرسہ احمدیہ قادیان میں داخل ہوئے۔ میٹرک پاس کرکے جامعہ احمدیہ میں داخلہ لیا اور شاہد کے بعد مولوی فاضل کا امتحان بھی پاس کیا۔ 1944ء میں آپ نے زندگی وقف کردی تھی۔ 1953ء میں جب الفضل جبراً بند کردیا گیا تو آپ نے حضرت مصلح موعودؓ کے ارشاد پر کراچی جاکر ’’المصلح‘‘ بطور روزنامہ کا اجراء کیا۔ اس سے پہلے رسالہ ’’فاروق‘‘ لاہور کے ایڈیٹر بھی رہے۔ 1957ء میں حضرت مصلح موعودؓ کی زیر ہدایت راولپنڈی سے ہفت روزہ ’’خورشید‘‘ کا اجراء کیا اور نہایت کامیابی سے اسے شائع کرتے رہے۔ 1960ء سے 1973ء تک آپ ملتان، راولپنڈی اور لاہور میں بطور مربی سلسلہ متعیّن رہے۔ پھر 1975ء تک انڈونیشیا میں تبلیغ کی سعادت حاصل کی۔ جس کے بعد 1982ء تک راولپنڈی اور اسلام آباد میں مربی سلسلہ رہے۔ مارچ 1982ء میں ایڈیشنل ناظر اصلاح و ارشاد (تعلیم القرآن) اور اگست 1983ء میں ناظر امور عامہ مقرر ہوئے۔ اس دوران بیوت الحمد سوسائٹی کے صدر ، مجلس کارپرداز کے رکن اور حدیقۃالمبشرین کے سیکرٹری بھی رہے۔ سوانح فضل عمر کی تدوین بھی آپ کے سپرد تھی۔ اکتوبر 1988ء میں خرابی صحت کی بناء پر دیگر اہم ذمہ داریوں کا سلسلہ جاری نہ رکھ سکے البتہ تا دم وفات سیکرٹری حدیقۃالمبشرین رہے۔ آپ جید عالم، شاعر اور برجستہ مقرر تھے۔ 1982ء اور 1983ء کے جلسہ سالانہ کے موقع پر تقریر کرنے کی توفیق بھی پائی۔
محترم مولانا صاحب 1970ء سے ذیابیطس کے مریض تھے۔ آخری عمر میں کئی بیماریاں لاحق ہوگئیں۔ 29؍مارچ 1989ء کی صبح وفات پائی۔ آپ کے دونوں بیٹے مکرم ڈاکٹر محمد احمد اشرف صاحب اور مکرم محمود احمد اشرف صاحب بطور واقفین زندگی خاص خدمت دین کی توفیق پا رہے ہیں۔
محترم مولانا صاحب کا نمونہ کلام ملاحظہ ہو:

ولولہ دل میں ہے کچھ کام کریں کام کریں
خدمت خلق کریں خدمت اسلام کریں
حسن و احسان محمدؐ کا کریں ذکرِ جمیل
دن کریں رات کریں صبح کریں شام کریں
……………………
سونی پڑی ہے محفلِ عُشّاق آج کل
جمتی نہیں ہے مجلسِ عرفان تیرے بغیر
……………………
یا ربّ رہیں نہال جوانانِ جامعہ
خوش بخت و خوش خصال جوانانِ جامعہ
مقصد ہو ان کا ان کی نگاہوں کے سامنے
خدمت کریں یہ دین کی شایانِ جامعہ
یک قطرئے زبحر کمال محمدؐ است
فیضِ مسیح پاک ہے فیضانِ جامعہ
اپنے شعور و فکر کی دولت کے واسطے
میں ہوں رہینِ منّت و احسانِ جامعہ

محترم مولانا صاحب کو 1986ء کے جلسہ سالانہ لندن میں شمولیت کی سعادت بھی حاصل ہوئی تو واپسی پر آپ نے اپنے مشاہدہ کو منظوم صورت میں پیش کیا۔ اُس نظم کا پہلا بند ہدیہ قارئین ہے:

ہم تیرے آستاں سے ہو آئے
کعبۂ عاشقاں سے ہو آئے
رشکِ کُوئے جناں سے ہو آئے
اک نئے آسماں سے ہو آئے
ہم تیرے آستاں سے ہو آئے

حضور انور ایدہ اللہ نے اس نظم کے بارہ میں فرمایا ’’آپ کی نظم اتنی پیاری اور دلنشیں ہے کہ میرے دل میں گھر کر گئی ہے۔ میں نے اسے کئی بار پڑھا اور حیرت سے دیکھتا رہا کہ مجھے پتہ تو تھا کہ شفیع اشرف صاحب دل کے کوچوں سے آشنا ہیں مگر اتنا بھی پتہ نہیں تھا‘‘۔
محترم مولانا کی زندگی کی آخری نظم تھی:

مئے الست سے مخمور ہوگئے ہیں ہم
بلیٰ کے قول سے مسرور ہوگئے ہیں ہم
اُسی کے رنگ میں رنگیں ہو رہے ہیں وجود
اُسی کے نور سے پُرنور ہوگئے ہیں ہم
اُسی کے عشق کا سر میں سما گیا ہے نشہ
اسی کے حسن سے مخمور ہوگئے ہیں ہم
اُسی کی ذات سے نکلے ہیں ہم بشکلِ بروز
اُسی کی ذات میں مستور ہوگئے ہیں ہم
نگاہِ غیر میں مقہور ہیں تو کیا غم ہے
نظر میں اُس کی جو منظور ہوگئے ہیں ہم

محترم مولانا محمد شفیع اشرف صاحب کے بارہ میں یہ مضمون محترم مولانا صاحب کے بیٹے مکرم محمود احمد اشرف صاحب استاذ الجامعہ کے تعاون سے مکرم راجہ برہان احمد طالع صاحب نے تحریر کیا ہے جو ماہنامہ ’’خالد‘‘ ربوہ مئی 1998ء میں شامل اشاعت ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes
0

اپنا تبصرہ بھیجیں