محترم مولانا محمد صدیق صاحب امرتسری

ماہنامہ ’’خالد‘‘ ربوہ میں شعرائے احمدیت کے تعارفی سلسلہ میں مکرم میر انجم پرویز کے قلم سے محترم مولانا محمد صدیق صاحب امرتسری کے حالاتِ زندگی و ادبی خصوصیات فروری 1998ء کے شمارہ میں شامل اشاعت ہیں۔
محترم مولانا صاحب 15؍جون 1915ء کو موضع ’بھڈیار‘ ضلع امرتسر میں پیدا ہوئے اور چھ سال کی عمر میں مستقل امرتسر منتقل ہوگئے جہاں آپ کی دینی تعلیم کے لئے آپ کو حضرت مسیح موعودؑ کے صحابی حضرت حکیم جان محمد صاحبؓ کے سپرد کردیا گیا جو وہاں حکمت کی دوکان کرتے تھے۔ انہوں نے آپ کو ناظرہ قرآن پڑھایا اور نماز اور کتابت وغیرہ بھی سکھائی۔ دس سال کی عمر میں امرتسر کے ایک پرائمری سکول میں داخلہ لیا اور فراغت کے بعد 1927ء میں آپ کے والد آپ کو قادیان لے گئے جہاں سے 1936ء میں آپ نے مولوی فاضل کا امتحان پاس کرلیا اور آپ کا تقرر ادارہ الفضل میں بطور نائب کے ہوا۔ 6؍مئی 1937ء کو فلسطین روانہ ہوئے جہاں احمدیہ سکول کے انچارج کے طور پر خدمت بجالائے۔ 1938ء سے 1940ء تک نائب امام مسجد فضل لندن فرائض ادا کئے۔ 26؍فروری 1940ء کو سیرالیون تبدیل ہوگئے۔ 1957ء میں حج بیت اللہ کی سعادت حاصل کی۔ 1959ء میں لائبیریا بھجوائے گئے۔ 1960ء میں واپس پاکستان آئے اور 1962ء تک جامعہ احمدیہ میں استاد رہے اور کچھ عرصہ وکالت تبشیر میں بھی کام کیا۔ مئی 1962ء میں احمدیہ مشن سنگاپور بھجوائے گئے جہاں سے 1966ء میں واپس آئے اور 1970ء میں بطور مبلغ فجی میں تقرر ہوا جہاں سے 1973ء میں واپسی پر نظارت تصنیف اور بعض دیگر اداروں میں کام کرتے رہے۔ کچھ عرصہ بطور مربی سلسلہ پشاور اور لاہور میں بھی خدمت کا موقعہ ملا۔ 1978ء میں آپ کو کمزوری صحت کے باعث ریٹائر کردیا گیا۔
دوران طالبعلمی ہی میں محترم مولانا محمد صدیق صاحب نے حضرت قاضی محمد ظہورالدین اکمل صاحبؓ کے توجہ دلانے پر پہلے نثر اور پھر نظم میں بھی اپنے خیالات کا اظہار شروع کردیا۔ ایک حادثہ میں آپ کی بیاض کھو گئی جس کی وجہ سے آپ نے شعر کہنا ترک کردیا لیکن جب 1962ء میں آپ کو بطور مبلغ ملائشیا بھجوایا گیا تو عزیزوں کی جدائی کے احساس سے آپ کی طبیعت پھر شعر و سخن کی طرف مائل ہوگئی اور اس کے بعد آپ نے ہزاروں اشعار کہے جو سلسلہ کے اخبارات و رسائل کی زینت بنتے رہے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد آپ نے علمی کام کا آغاز کیا تو ’’روح پرور یادیں‘‘، ’’نغماتِ صدیق‘‘ اور ’’دل کی دنیا‘‘ جیسی کتابیں مرتب کیں۔ آپ کی شاعری سلاست و روانی کا مرقع ہے۔ نمونہ کلام ذیل میں ہدیہ قارئین ہے۔

ہے تیرے دیں کیلئے وقف زندگی میری
مرے حبیب مری جاں، وفا شعار ہوں میں
نہ خوف نارِ سقر ہے نہ طمع خُلدِ بریں
فقط رضا کے لئے تیری، بے قرار ہوں میں
……………………
دعا جب ہمسفر نہیں ہوتی
کوئی منزل بھی سر نہیں ہوتی
دل سے نکلی ہوئی خدا کے حضور
التجا بے اثر نہیں ہوتی
ذکر مولیٰ میں جو گھڑی گزرے
وہ کبھی بے ثمر نہیں ہوتی
درد و دکھ میں کوئی دوا صدیق
جز دعا کارگر نہیں ہوتی
……………………
کامل نہ سہی عشق اپنا مگر اس دلبر جانی کی خاطر
جب جان کی بازی لگتی ہے ہم جان بھی ہارا کرتے ہیں

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/JXNqw]

اپنا تبصرہ بھیجیں