محترم مولانا محمد عثمان چو چنگ شی صاحب (المعروف عثمان چینی صاحب)

محترم مولانا محمد عثمان چو چنگ شی صاحب
(المعروف عثمان چینی صاحب)
(محمود احمد ملک)

(مطبوعہ رسالہ انصارالدین مئی جون و جولائی اگست 2018ء)

خلافت احمدیہ کے بے مثال خادم اور احمدیت کے فدائی وجود مکرم و محترم محمدعثمان چینی صاحب (انچارج چینی ڈیسک یوکے) کی وفات13 اپریل 2018ء کو لندن میں ہوئی۔ اس بزرگ وجود کی زندگی کا ایک ہی نصب العین تھا یعنی دین کو دنیا پر مقدّم رکھنے کا عزم۔ اپنی ذات کی ہر ضرورت پر، ہر پہلو سے، اسلام کی خدمت کو فوقیت دینا آپ کی فطرتِ ثانیہ بن چکا تھا۔ اور حقیقت یہی تھی کہ آپ کی حیات و ممات، چلناپھرنا، سوچنا اور بات کرنا، کھانا پینا اور سونا مجسم عبادت بن چکا تھا کیونکہ ان کا مقصدِ حیاۃ محض خدا اور رسول ﷺ کے دین کی محبت ہی تھا۔
سن 1989ء صد سالہ جوبلی کا سال اشاعتِ اسلام کے لحاظ سے بھی ایک عظیم الشان سال تھا۔ اسلام آباد (یوکے) میں قائم رقیم پریس روزانہ صبح 9 بجے سے شام 9 بجے تک (بارہ گھنٹے ) مصروفِ عمل رہتا لیکن اس کے باوجود بے شمار اشاعتی کام دیگر پریس اور اشاعتی ادارے سرانجام دیتے۔ محترم مولانا محمد عثمان چینی صاحب اُن دنوں چینی ترجمہ قرآن کی اشاعت کے سلسلہ میں سنگاپور گئے ہوئے تھے جبکہ آپ کی فیملی اسلام آباد میں ہی مقیم تھی۔ جب محترم چینی صاحب سنگاپور سے واپس تشریف لائے تو اسلام آباد میں عموماً اور اسلام آباد کی مسجد میں رونق میں خصوصاً اضافہ ہوگیا۔ محترم چینی صاحب کی مسکراہٹ اور مشفقانہ انداز اب بھی وہی تھا جس سے ہم ربوہ میں اپنے بچپن سے آشنا تھے۔ ایسے بزرگوں سے ملنا اپنی ذات میں ہمیشہ ہی بڑا ایمان افروز ہوتا ہے۔
خاکسار اُن دنوں رقیم پریس کے شعبہ کمپیوٹر میں خدمت بجا لارہا تھا۔ پریس کے اوقات کے بعد مَیں قریباً روزانہ محترم چینی صاحب کی خدمت میں حاضر ہوکر کچھ وقت گزارتا تھا جو اکثر دو تین گھنٹے تک پہنچ جاتا تھا اور نصف شب کے بعد آپ کو دفتر سے گھر پہنچانے کے بعد یہ نشست عملاً برخواست ہوا کرتی۔ اس دوران آپ کے ارشاد کے مطابق آپ کی طرف سے ان ذاتی خطوط کا جواب دیتا جو دنیابھر سے آپ کو جاننے والے دعا کے لئے تحریر کیا کرتے تھے۔ قریباً روزانہ ہی آپ رپورٹ نما خطوط حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ کی خدمت میں بھی ارسال کیا کرتے جن میں عموماً آپ کے چینی ترجمہ قرآن کی ترسیل اور چینی علماء، چین کے بعض سیاسی اور سماجی راہنماؤں اور اشاعتی اداروں کی طرف سے اس ترجمۂ قرآن کے بارہ میں کئے جانے والے بے مثال اور خوبصورت تبصروں کا خلاصۃً ذکر ہوتا۔ یہ تبصرے ان دنوں روزانہ کی بنیاد پر بذریعہ ڈاک اور فیکس آتے- کبھی آپ اپنا کوئی خواب بھی سناتے اور اُس کی وہ تعبیر بیان کرتے جو آپ سمجھتے تھے اور کبھی کوئی خواب بیان کرکے کہتے کہ اس خواب کو لکھ کر حضورؒ (حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ) کو بھجوانا ہے کیونکہ اس میں فلاں پیغام ہے۔ کام کے دوران آپ کی زندگی کے کئی پنہاں خوبصورت پہلوؤں نیز آپ کی والدہ محترمہ کے حوالہ سے بھی باتیں ہوتیں۔ تصوّف کے بعض معاملات بھی حل ہوتے۔ آپ اکثر اپنے بعض پرانے خواب، خلفائے کرام اور دیگر بزرگان کی شفقتیں اور ایمان افروز سبق آموز واقعات بھی بیان فرماتے۔
میرے لئے حیران کُن بات جس کا مَیں آپ سے اکثر اظہار بھی کرتا تھا، یہ تھی کہ سارا دن کام کرنے کے باوجود بھی آپ اُس وقت تک دفتر میں بیٹھے رہتے جب تک مَیں بیٹھنا چاہتا۔ تکان کے باوجود کبھی اُکتاہٹ کا اظہار نہ فرماتے۔ کبھی کبھار ڈکٹیشن دیتے ہوئے یا کوئی واقعہ یا اقتباس سنتے ہوئے تکان کی وجہ سے کرسی پر ہی سو جاتے- آپ کو اس حالت میں دیکھ کر مِیں خاموشی سے انتظار کرتا کیونکہ دو چار منٹ کے بعد ہی آپ اچانک آنکھیں کھول دیتے- پھر یہ اندازہ لگاکر کہ ہم تو کچھ کام کررہے تھے، آپ مسکراکر بتاتے کہ میں سوگیا تھا! اثبات میں جواب ملنے پر پوچھتے کہ کتنی دیر سویا ہوں اور یہ کہ ہم کیا کررہے تھے؟
عموماً آپ کے چہرہ پر دو ہی قسم کے تأثرات دکھائی دیا کرتے تھے۔ یا تو آپ کی شفیق اداؤں سے بھری ہوئی مسکراہٹ اور نرم خُوئی ہوتی یا پھر کسی اہم معاملہ پر تفکّر کرتی ہوئی سوچوں کا رازدار چہرہ نظر آتا۔ روزانہ ہی رات گئے جب مَیں آپ کو گھر تک چھوڑنے جاتا تو بھی آپ بار بار یہی اظہار کرتے کہ کام بہت کرنے والا ہے۔ اس ذمہ داری کا جواب دینا ہے جو ہم پر ڈالی گئی ہے۔ اگر کام کرنے کی توفیق بڑھ جائے تو پھر ہی تسلّی ہوگی۔ بارہا افسوس کا اظہار کرتے کہ ہمارا بہت سا وقت تو کھانے پینے اور حوائج ضروریہ کی نذر ہوجاتا ہے، پھر صحت قائم رکھنے کے لئے نیند اور سیر بھی ضروری ہے وغیرہ۔ آپ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بھی بیان کیا کرتے تھے کہ صحت کا خیال نہ رکھنے والا گویا ناشکری کرتا ہے اور گناہ کا مرتکب ہوتا ہے- چنانچہ جب بھی موقع ملتا تو سیر اور حسب توفیق ایکسرسائز کا اہتمام ضرور کرتے- سیر کے دوران اگر کوئی ساتھ ہوتا تو اس کی علمی سطح پر کوئی بات کرتے یا دوسرے کے علم سے استفادہ کرتے-
جب خاکسار کو مجلس خدام الاحمدیہ برطانیہ کے رسالہ ’’طارق‘‘ کے اردو صفحات کی ادارت کی ذمہ داری سونپی گئی تو کچھ عرصہ بعد اِن صفحات میں ایک تعارفی سلسلۂ شروع کیا گیا جس میں ایسے (غیرپاکستانی) خدّامِ احمدیت کے انٹرویوز پیش کئے جاتے تھے جنہوں نے پہلے خود احمدیت قبول کرنے کی سعادت پائی اور پھر اپنی زندگی خدمتِ دین کے لئے وقف کرنے کی توفیق بھی پائی۔ اسی سلسلہ میں خاکسار نے محترم چینی صاحب سے بھی انٹرویو دینے کے لئے عرض کیا تو آپ نے معذرت کی کہ ابھی بہت زیادہ ضروری کام کرنے ہیں۔ مَیں اکثر عرض کرتا کہ یہ سلسلہ شروع کرنے کا خیال ہی مجھے محترم بشیر احمد آرچرڈ صاحب اور آپ کو قریب سے دیکھنے کے بعد پیدا ہوا ہے۔ محترم آرچرڈ صاحب، محترم حلمی الشافعی صاحب اور بعض دیگر بزرگوں اور دوستوں کا انٹرویو لے کر شائع کرچکا ہوں اور اب آپ کا بھی انٹرویو لینا ہے جس میں آپ کی ذاتی اور جماعتی زندگی کے مختلف پہلو بیان کرنے ہیں۔ لیکن امر واقعہ یہ تھا کہ پہلے تو آپ انٹرویو دینے کے لئے آمادہ ہی نہیں ہوتے تھے اور فرماتے تھے کہ اس طرح ذات کو نمایاں کرنا اچھا نہیں ہے اور خدمت کی توفیق تو دراصل فضلِ الٰہی ہی ہے۔ مَیں عرض کرتا کہ ہمارے رسالہ کے اس سلسلے پر تو حضور (حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ) نے بھی پسندیدگی کا اظہار فرمایا ہے۔ پھر ایک دو بار قریباً ضد کرتے ہوئے خاکسار نے عرض کیا کہ اگر آپ اب بھی انٹرویو دینے کے لئے آمادہ نہیں ہوں گے تو مَیں اپنی یادداشت کی بنیاد پر خود ہی آپ کے بارہ میں ایک مضمون لکھ کر شائع کردوں گا جس میں آپ کے بیان کردہ فلاں فلاں واقعات اور خوابوں کا ذکر کروں گا اور یہ کہ پھر آپ کو اعتراض نہیں ہونا چاہئے…۔ میری بات سُن کر آپ ہنستے اور پھر بھی یہی کہا کرتے کہ ابھی بہت کام کرنا ہے جو زیادہ ضروری ہے۔
الغرض جب بھی انٹرویو دینے کی درخواست کرتا تو آپ چینی زبان میں تراجم اور دیگر کاموں کے بوجھ کا ذکر کرکے مجھے اس بات پر آمادہ کرلیتے کہ آج پہلے فلاں کام کرلیتے ہیں پھر گھر جاتے ہوئے اس پر بات کریں گے۔ عموماً میرے آنے سے قبل ہی آپ کے ذہن میں ہوتا تھا کہ مجھ سے اُس روز کیا کام لینا ہے۔ وقت کا ضیاع بالکل پسند نہیں تھا لیکن کام اس طرح نہیں لیتے تھے کہ مجھے کسی قسم کا بوجھ محسوس ہو۔ اسی لئے درمیان میں مختلف باتیں بھی کرتے رہتے۔ آپ انتہائی مصروف الاوقات تھے۔ دعاؤں کی درخواستوں کے بہت سے خطوط بھی موصول ہوتے۔ سنگاپور اور چین میں تبلیغ کے حوالہ سے کئے جانے والے اقدامات نہایت حکمت کے متقاضی تھے۔ آپ کبھی کوئی قدم خلیفۂ وقت کی رہنمائی کے بغیر نہیں اٹھاتے تھے۔ اس بات پر بہت کرب محسوس کرتے کہ اردو پر دسترس نہ ہونے کی وجہ سے کہیں حضور کا ارشاد پوری طرح سمجھ نہ آیا ہو اور تعمیل میں کوتاہی ہوجائے۔ بعد میں چینی ڈیسک کے علاوہ لمبا عرصہ اسلام آباد جماعت کے صدر اور اسلام آباد مینٹیننس کمیٹی کے صدر کے طور پر بھی خدمات آپ کے سپرد رہیں۔ MTA کے لئے پروگراموں کی ریکارڈنگ اور اردو کلاس وغیرہ میں باقاعدہ حاضری میں بھی بہت سا وقت صَرف ہوتا۔ ایک شعبہ مہمان نوازی کا تھا جو قریباً سارا سال آپ کے گھر میں جاری رہتا۔ بارہا آپ کے غیرملکی مہمانوں کو لندن سے لانے اور واپس لے جانے کی سعادت بھی مجھے ملی۔ آپ نہ صرف اپنے مہمانوں کی ظاہری مہمان نوازی نہایت خلوص سے کرتے بلکہ اُن کی روحانی ترقی اور تربیتی مقاصد کو بھی ہمیشہ پیش نظر رکھتے۔ چنانچہ آپ کی خدمات کا دائرہ وسیع تر ہوتا جارہا تھا اور عمر بڑھنے اور کاموں کے غیرمعمولی بوجھ کی وجہ سے آپ میں کمزوری کے آثار بھی پیدا ہونا شروع ہوگئے تھے۔ Frozen Shoulder اور بعض دیگر طبّی مسائل بھی درپیش تھے۔
محترم محمد عثمان چینی صاحب کی روحانی زندگی سے آشنا ہونے کے بعد آپ کا انٹرویو شائع کرنے کی خواہش شدید تر ہورہی تھی۔ آخر جب مَیں نے ازخود مضمون لکھ کر شائع کرنے کی بار بار دھمکی دی اور غالباً ایک بار کچھ لکھ بھی لیا تو پھر محترم چینی صاحب نے کہا کہ وہ ذاتی طور پر تو کوئی ایسا کام نہیں کرنا چاہتے جس کا فائدہ صرف اُن کی ذات کو ہی ہو اور دین کو کوئی فائدہ نہ ہو کیونکہ ایسا کرنا وقت کا ضیاع بھی ہوگا۔ اس پر مَیں نے عرض کیا کہ آپ کا انٹرویو مستقبل میں بہت سے لوگوں کے لئے ہدایت کا باعث بھی بنے گا نیز دنیابھر کے احمدی اور خصوصاً چینی قوم کے نواحمدی قیامت تک آپ کے لئے دعا کرتے چلے جائیں گے کہ اس وجود نے ہماری قوم میں احمدیت کا بیج بویا اور اُسے پروان چڑھایا تھا۔ اور یہ ایک ایسا نمونہ بھی ہوگا جس پر آئندہ زمانوں کے چینی احمدی چلنے کی کوشش کریں گے اور اسلام کے لئے اپنی زندگیاں وقف کریں گے۔ وغیرہ
چنانچہ چینی قوم میں تبلیغ کے نقطۂ نظر سے متعدّد بار اظہار کے بعد اور کافی اصرار کے نتیجہ میں آپ انٹرویو دینے کے لئے رضامند ہوگئے۔ کیونکہ اس سے قبل چینی صاحب نے کبھی کوئی باقاعدہ انٹرویو نہیں دیا تھا اور نہ ہی وہ آئندہ کبھی دینے کا ارادہ یا خواہش رکھتے تھے، اور اس خیال کو بھی مدّنظر رکھتے ہوئے کہ آئندہ اس انٹرویو کا چینی زبان میں ترجمہ کرکے بھی شائع کیا جاسکتا ہے، ساتھ یہ بھی طے پایا کہ یہ انٹرویو ہر پہلو سے اس لئے بھی مکمل ہونا چاہئے کیونکہ بہت سے چینی علماء اور دانشور آپ کے ترجمۂ قرآن کو پڑھنے کے بعد آپ سے ذاتی تعارف حاصل کرنے کے بھی خواہشمند تھے جس کا ذکر اُن کے خطوط میں ہوتا تھا۔ چنانچہ کئی نشستوں میں یہ انٹرویو مکمل ہوا۔ جسے ترتیب دینے اور فائنل ہونے کے بعد بار بار آپ نے سُنا، اصلاح کی اور تسلّی کی۔ اگرچہ میرے کئی سوالات آپ کی ذاتی اور روحانی زندگی کے مختلف پہلوؤں کے بارہ میں تھے اور محترم چینی صاحب نے جواب تو میرے ہرسوال کا دیا لیکن جب لکھنے کا وقت آیا تو کئی باتیں لکھنے کی اجازت نہ دی۔ اور صرف وہی باتیں لکھنے کی اجازت دی جن میں اپنی ذات کو اُجاگر کرنے کی بجائے اسلام کی محبت اور صداقت غالب نظر آتی تھی۔ نیز انٹرویو کے ساتھ آپ نے اپنی جو تصویر شاملِ اشاعت کرنے کے لئے دی اُس میں آپ نے اپنے ہاتھوں میں قرآن کریم کا چینی ترجمہ اُٹھا رکھا تھا۔
الحمدللہ کہ یہ انٹرویو نہ صرف قارئین کی طرف سے بہت پسند کیا گیا بلکہ حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ نے بھی اس پر بہت خوشنودی کا اظہار فرمایا۔ ذیل میں یہ انٹرویو معمولی لفظی تبدیلی کے ساتھ ہدیۂ قارئین ہے جو مجلس خدام الاحمدیہ برطانیہ کے رسالہ ’’طارق‘‘ 1997ء کے جلسہ سالانہ نمبر کی زینت بنا۔
…………………………………

مَیں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا
مکرم و محترم مولانا محمد عثمان چو چنگ شی صاحب
(المعروف محترم عثمان چینی صاحب)

رسالہ ’’طارق‘‘ کے اس کالم میں دنیا کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے ایسے فدائیانِ احمدیت کا تعارف پیش کیا جاتا ہے جنہوں نے پہلے خود قبولِ احمدیت کی سعادت حاصل کی اور پھر اس پیغام کو زمین کے کناروں تک پہنچانے کے لئے قابلِ قدر کوشش فرما رہے ہیں۔
آج ہم آپ کی ملاقات نہایت شفیق اور دعاگو بزرگ مکرم و محترم مولانا محمدعثمان چو چنگ شی صاحب (المعروف محترم عثمان چینی صاحب) سے کروا رہے ہیں۔آپ 13 دسمبر 1925ء کو چین کے صوبہ Anhui میں مکرم چوساؤفو صاحب کے ہاں پیدا ہوئے۔ آپ کے آباء و اجداد کسی وقت جہازرانی کے ذریعہ تجارت کرتے تھے۔ بعد میں انہوں نے Anhui صوبہ میں زرعی زمین کا بہت بڑا رقبہ خرید لیا جس کے حصے کرکے وہ چھوٹے زمینداروں کو ٹھیکے پر دیا کرتے تھے۔ محترم عثمان صاحب کے والد تک پہنچتے پہنچتے یہ زمین بہت تھوڑی رہ گئی تھی چنانچہ آپ کے والد نے تجارت کرکے بھی بہت دولت حاصل کی اور ایک وسیع علاقہ خرید لیا۔ لیکن چین پر کمیونسٹ حکومت کے قبضہ کے بعد ان سے یہ زمین چھین لی گئی۔ … بہرحال یہ خاندان مالی طور پر بہت آسودہ تھا اور نیک فطرت بھی۔ چنانچہ آپ کے دادا نے اپنی زمین پر مسجد اور سکول تعمیر کروائے اور ان اداروں کو مستقل اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے لئے زرعی زمین بطور عطیہ بھی دی۔
محترم عثمان صاحب کے والد کے ہاں گیارہ بارہ بچے پیدا ہوئے جن میں سے اکثر بچپن میں ہی فوت ہوگئے، صرف تین لڑکوں نے لمبی عمر پائی۔ جن میں سے آپ اُن کے منجھلے بیٹے ہیں۔ علاقہ کے کئی گاؤں آپ کے والد کی زیرنگرانی تھے جو بہت رحمدل اور شفیق ہونے کی وجہ سے بہت مقبول تھے۔
محترم عثمان صاحب کے دل میں بچپن سے ہی دینی تعلیم حاصل کرنے کا شوق موجزن تھا۔ قریباً نصف صدی قبل جب حضرت چودھری محمد ظفراللہ خان صاحبؓ برطانوی حکومت کی طرف سے چین میں ہندوستان کے نمائندہ کے طور پر متعین تھے تو انہوں نے چین کے مسلم رہنماؤں کو نصیحت فرمائی کہ وہ اسلامی تعلیمات سیکھنے کے لئے چین کے مسلمانوں کو ہندوستان بھجوائیں۔ حضرت چودھری صاحب کا یہ پیغام مسلم ایسوسی ایشن کے مقامی عہدیدار کے ذریعہ محترم عثمان صاحب تک بھی پہنچا۔ اس سے پہلے آپ دینی تعلیم کے حصول کے لئے ترکی جانا چاہتے تھے اور بعد میں بھی 1948ء کے وسط تک وہاں جانے کی کوشش کرتے رہے لیکن اس میں کامیابی نہیں ہوسکی۔ چنانچہ 1949ء میں آپ نے تین دیگر نوجوانوں کے ہمراہ دینی تعلیم کے لئے پاکستان کا سفر اختیار کیا۔ اس وقت آپ یونیورسٹی میں زیر تعلیم تھے اور گریجوئیشن کر رہے تھے۔ گو اس وقت چین پر کمیونسٹ حکومت کا قبضہ نہیں ہوا تھا لیکن ملک سے باہر جانے کی آسانی سے اجازت نہیں دی جاتی تھی۔ چنانچہ کنٹون کے علاقہ میں مقیم ایک احمدی ماہر امراضِ چشم مکرم ڈاکٹر لطیف احمد صاحب نے پاسپورٹ کے حصول اور دیگر سفری معاملات میں آپ کی مدد کی۔
محترم عثمان صاحب اپنے ساتھیوں کے ہمراہ بحری جہاز کے ذریعہ روانہ ہوئے اور سنگاپور اور انڈیا سے ہوتے ہوئے پاکستان تشریف لائے۔ سنگاپور میں آپ کی ملاقات مبلغ سلسلہ محترم مولانا غلام حسین ایّاز صاحب سے بھی ہوئی اور آپ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ چند روز اُن کے پاس مقیم رہے اوران کی راہنمائی سے ہی دینی تعلیم کے حصول کے لئے ربوہ آگئے۔ محترم ایّاز صاحب کا ذکر کرتے ہوئے آپ نے بیان کیا کہ وہ بہت نیک اور پارسا شخص تھے اور نماز تہجد میں گریہ و زاری ان کا معمول تھا حقیقتاً فنا فی اللہ تھے۔
محترم عثمان صاحب نے یہ بھی بیان کیا کہ چین سے روانگی سے پہلے گو آپ نماز شوق سے پڑھتے تھے لیکن باقاعدگی نہیں تھی۔ چنانچہ جب آپ دینی تعلیم کے حصول کے لئے روانہ ہوئے تو آپ کو احساس ہوا کہ ایک دہریہ ملک سے آپ کا یہ سفر محض خدا کی خاطر خدا کو پانے کے لئے ہے۔ چنانچہ آپ نے دل میں یہ عہد کئے کہ اوّل کسی نیک مشورہ کو ماننے میں تأمّل نہیں کریں گے اور دوسرے یہ کہ جو نیک بات سیکھیں گے اس پر خود عمل بھی کریں گے۔ چنانچہ نماز میں باقاعدگی اختیار کرنا آپ کا پہلا کام تھا۔
محترم عثمان صاحب ربوہ پہنچ کر جامعہ احمدیہ میں داخل ہوگئے۔ دورانِ تعلیم ہی آپ نے احمدیت کے بارہ میں تحقیق کی اور دعا بھی کی اور پھر 1956ء کے لگ بھگ بیعت کی سعادت حاصل کی۔ محترم عثمان صاحب نے بتایا کہ قبولِ احمدیت سے پہلے آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بیان فرمودہ طریقوں کے مطابق تحقیق کی یعنی نقلی دلائل، عقلی دلائل اور نشانات۔ ایک بار حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خواب میں آکر آپ کو ایک دعا بھی سکھلائی جو بعد میں اگرچہ آپ کو یاد نہ رہی لیکن پہلا لفظ یاد رہا یعنی ’’اللّٰھُمَّ‘‘ اور اس خواب کا اثر دل پر اب بھی قائم ہے۔ جب آپ نے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ عنہ سے اس خواب کی تعبیر پوچھی تو انہوں نے فرمایا کہ تمہیں دعائیں کرنے کی خاص توفیق ملے گی۔
ربوہ آنے کے بعد آپ کو کئی بار اعتکاف کرنے اور خداتعالیٰ کے حضور کی جانے والی دعاؤں کی استجابت کا خود مشاہدہ کرنے کی سعادت نصیب ہوئی۔ جب آپ پہلی بار اعتکاف بیٹھے تو یہ معلوم ہونے پر کہ اللہ تعالیٰ کے حضور اپنی زبان میں بھی دعائیں کرنی چاہئیں، آپ نے چینی زبان میں ایک نظم تحریر کی جس میں خداتعالیٰ کی صفات بیان کرکے دعائیں کیں۔ ان دعاؤں میں خصوصیت سے خدمتِ دین کی توفیق عطا ہونے اور اپنے والدین سے ملنے کی دعا تھی۔ آپ نے بتایا کہ آپ ان دعاؤں میں سے اکثریت کے مقبول ہونے کے شاہد ہیں اور اس نظم کو اب بھی پڑھا کرتے ہیں اور لطف اٹھاتے ہیں۔
آپ کی اپنے والدین سے ملاقات کی خواہش کرنے والی دعاؤں کے جواب میں مختلف اوقات میں (کم از کم دس بار) اللہ تعالیٰ نے خواب کے ذریعہ آپ کو یہ بشارت دی کہ آپ کی اپنی والدہ سے ملاقات ہو جائے گی البتہ والد سے نہیں ہوسکے گی۔ چنانچہ آپ کے والد کی وفات کے بعد آپ کی والدہ پاکستان تشریف لائیں اور قریباً پندرہ سال آپ کو اپنی والدہ کی خدمت کی توفیق ملی۔ آپ کی والدہ بہت نیک، پارسا اور عبادت گزار خاتون تھیں جنہیں اللہ تعالیٰ کے ساتھ مکالمہ و مخاطبہ کا شرف بھی حاصل تھا۔ سوائے چینی صاحب اور آپ کے ایک چھوٹے بھائی کے، اُن کے سارے بچے اُن کی زندگی میں ہی وفات پاگئے تھے اور یہ صدمات انہوں نے بڑے صبر، حوصلہ اور دعائیں کرتے ہوئے برداشت کئے تھے۔ اُن کا پاکستان آنا بھی معجزہ سے کم نہیں تھا۔ اس بارہ میں حضرت چودھری محمد ظفراللہ خان صاحبؓ نے خاص مدد کی تھی اور وہ 1964ء میں پاکستان آگئیں۔ 1978ء میں اُن کی وفات ہوئی اور بہشتی مقبرہ ربوہ میں تدفین عمل میں آئی۔
1959ء میں محترم محمد عثمان صاحب نے اپنی زندگی خدمت دین کے لئے وقف کردی اور 1960ء میں جامعہ احمدیہ سے شاہد کی ڈگری حاصل کی۔ جامعہ احمدیہ کے آخری سال میں آپ نے ’’کنفیوشس ازم‘‘ پر ایک مبسوط مقالہ رقم کیا۔ آپ کی پہلی باقاعدہ تقرری وکالت تصنیف تحریک جدید میں ہوئی اور آپ کا علمی میدان میں پہلا کام حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب ’’سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب‘‘ کا چینی زبان میں ترجمہ تھا۔ پھر آپ کو بطور مبلغ سنگاپور بھجوادیا گیا جہاں آپ نے ساڑھے تین برس خدمات انجام دیں اور اسلام کی حمایت میں چینی زبان میں ایک کتاب “Essence of Islam” بھی تصنیف کرکے شائع کروائی۔ 1970ء میں پاکستان واپس آنے سے پہلے آپ نے ملائشیا میں چار ماہ قیام کیا۔ ربوہ پہنچنے کے بعد آپ کی تقرری دوبارہ وکالت تصنیف میں ہوئی جہاں آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب ’’اسلامی اصول کی فلاسفی‘‘ کے چینی ترجمہ پر نظرِ ثانی کا کام کیا۔1971ء میں آپ کو ڈرگ روڈ کراچی میں بطور مبلغ سلسلہ تعینات کیا گیا۔ 1973ء میں آپ نے مختصر مدّت کے لئے ربوہ تشریف لاکر اپنے مقالے ’’کنفیوشس ازم‘‘ پر مزید تحقیقی کام کیا اور پھر 1975ء میں دوبارہ ڈرگ روڈ کراچی میں مربی سلسلہ متعیّن ہوئے۔
خلافت رابعہ کے دَور میں چینی زبان میں تحقیق و تصنیف کا کام محترم عثمان چینی صاحب کے سپرد کیا گیا اور آپ نے ’’اسلام اور دیگر مذاہب‘‘ کے عنوان سے چینی زبان میں ایک مقالہ سپرد قلم کیا اور پھر حضور انور ایدہ اللہ کی زیرہدایت چینی زبان میں قرآن کریم کے ترجمہ کے اہم کام کا آغاز کیا۔
محترم عثمان صاحب نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ سیّدنا حضرت مصلح موعودؓ آپ کے ساتھ بہت شفقت فرمایا کرتے تھے۔ مثلاً ایک بار موسمِ گرما میں حضورؓ مری میں قیام فرما تھے۔ جب کسی معمولی سے کام کے سلسلہ میں آپ کو وہاں طلب فرمایا اور کچھ عرصہ بعد فرمایا کہ اصل میں تو مَیں تمہیں اس موسمِ گرما میں چند روز مری میں ٹھہرانا چاہتا تھا۔
محترم عثمان صاحب نے بتایا کہ ایک بار آپ نے خواب میں اپنے آپ کو عرب ممالک میں دیکھا۔ یہ خواب حیرت انگیز طور پر پوری ہوئی اور بعد میں آپ کو نہ صرف ارضِ حجاز جاکر عمرہ ادا کرنے کی توفیق اور سعادت ملی بلکہ کویت، عراق، شام، اُردن اور عدن وغیرہ بھی دیکھنے کا موقع ملا اور لمبے صحرائی سفر کا تجربہ بھی ہوا۔
1984ء میں حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ کی لندن ہجرت سے چند روز قبل اللہ تعالیٰ نے آپ کو خواب کے ذریعہ حضور کے باحفاظت سفرِ ہجرت کی بشارت دی۔ کئی اَور مواقع پر بھی اللہ تعالیٰ نے آپ کی راہنمائی فرمائی۔ 1991ء میں حضورانور کے دورۂ قادیان سے پہلے آپ نے جو خواب دیکھا اس کا ذکر بھی حضورانور نے خود جلسہ سالانہ قادیان میں فرمایا۔
1986ء میں حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ کے ارشاد پر محترم عثمان چینی صاحب برطانیہ تشریف لے آئے اور اسلام آباد (ٹلفورڈ) میں مقیم ہوئے۔ حضورانور کے ارشاد پر جب مختلف زبانوں میں تحقیق و تصنیف کے کام کو تیزی سے بڑھانے کے لئے مختلف ڈیسک قائم ہوئے تو محترم عثمان صاحب کو چینی ڈیسک کا انچارج مقرر کیا گیا۔ آپ کا پہلا کام چینی زبان میں طبع شدہ مذکورہ بالا دوکتب کے ترجمہ پر نظرِثانی کرکے اُن کی دوبارہ طباعت کا اہتمام کرنا تھا۔
1988ء میں قرآن کریم کا چینی زبان میں ترجمہ مکمل کرنے کے بعد آپ نے سنگاپور اور چین کا سفر اختیار کیا اور کام کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے ایک سال سے زائد مدّت تک آپ وہاں مقیم رہے۔ اسی عرصہ میں آپ نے قرآن کریم کی منتخب آیات، منتخب احادیث النبیﷺ اور منتخب تحریرات حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے چینی ترجمے بھی مکمل کرواکے شائع کروائے اور دیگر لٹریچر بھی شائع کرنے کا انتظام کیا۔ برطانیہ واپس آکر آپ نے ایک اور کتاب “Why I believe in Islam” کے ترجمہ پر نظرثانی کرکے اس کی طباعت کا انتظام کیا۔ نیز حضورانور ایدہ اللہ کے کتابچہ ’’چینی بھائیوں کے نام ایک محبت بھرا پیغام‘‘ کا چینی زبان میں ترجمہ کرواکے شائع کروایا اور اس کتابچہ کا تعارف خود تحریر کیا۔
1991ئ میں آپ کی ایک اور تصنیف “Islam Among Religions” شائع ہوئی جس میں آپ نے کنفیوشس ازم، تاؤازم، موہ ازم، ہندومت، بدھ مت، یہودیت اور عیسائیت کا تجزیہ کرنے کے بعد ان کا اسلام کے ساتھ موازنہ کرکے یہ ثابت کیا کہ فقط اسلام ہی تمام زمانوں کی ضروریات کو پورا کرنے والا مذہب ہے۔ اس کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے چینی علاقے فارموساؔ کی سب سے بڑی مسجد Taibei کے پیش امام نے (جو رابطہ عالم اسلامی کے رُکن بھی تھے) یہ لکھا کہ ’’آپ کا موازنہ مذاہب بہت عمیق، وسیع اور مدلّل ہے۔ اس کے نتیجہ میں اسلام کی صداقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہوگئی ہے جیسے پتھروں کے مقابلہ میں ہیرا … اور یہ اسلامی علوم کی تحقیق کا نیا انداز ہے جو پہلے کہیں نہیں پایا جاتا … اس میدان میں کام کرنے والے چینیوں میں آپ پہلے شخص ہیں۔‘‘
1989ء میں محترم عثمان صاحب کے سسر Mr Hsu Shi Chien لندن تشریف لائے اور احمدیت کے بارہ میں تحقیق کرنے کے بعد حضرت خلیفۃالمسیح الرابع رحمہ اللہ کے دستِ مبارک پر بیعت کی سعادت حاصل کی۔ وہ چین میں اپنے علاقہ کے معروف دینی راہنما اور امام تھے۔ 1990ء میں چین میں اُن کی وفات ہوگئی۔
محترم چینی صاحب آجکل اسلام آباد (برطانیہ)میں اپنی اہلیہ محترمہ اور تین بچوں کے ساتھ مقیم ہیں۔ جماعت احمدیہ اسلام آباد کے صدر اور امام الصلوٰۃ ہیں۔ چینی ڈیسک کے انچارج ہیں اور حضورانور ایدہ اللہ کی ہدایات کے مطابق چینی لٹریچر کی تیاری، طباعت اور ترویج کا انتظام کرتے ہیں۔ اسی طرح مسلم ٹیلی ویژن احمدیہ انٹرنیشنل پر چینی زبان میں دینی پروگرام اور چینی زبان سکھلانے کے پروگرام پیش کرتے ہیںا ور حضورانور کے زبانیں سکھلانے کے پروگرام میں بھی شریک ہوتے ہیں۔
1993ء میں آپ نے چینی زبان میں ایک اور تصنیف کی جس میں چینی ترجمۂ قرآن کے حوالے سے موصول ہونے والے بعض تعریفی خطوط شامل کئے گئے جن میں مختلف حلقوں کی طرف سے اس ترجمہ پر کئے جانے والے اعتراضات کا مدلّل جواب بھی دیا گیا ہے۔ آپ کے ترجمۂ قرآن کو چین کے علمائ، آئمہ، صحافتی اداروں، مدارس کے سربراہوں، مسلم ایسوسی ایشن کے عہدیداروں، عام مسلمانوں اور غیرمسلموں کی طرف سے بہت پذیرائی حاصل ہوئی اور ایک سو سے زائد خطوط موصول ہوئے جن میں آپ کے ترجمۂ قرآن کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔
شنگھائی یونیورسٹی کے ایک پروفیسر نے لکھا: ’’اب تک شائع ہونے والے تراجم میں آپ کا ترجمہ زبان کی خوبصورتی، طباعت کی دلکشی، تفسیری نوٹس کی سلاست اور علمی وسعت کے اعتبار سے اس دَور کا ایک عظیم الشان کارنامہ ہے۔ آپ نے اسلام اور جماعت احمدیہ کی ترجمۂ قرآن کی صورت میں عظیم تاریخی خدمت سرانجام دی ہے…۔‘‘
اسی طرح چائنا مسلم ایسوسی ایشن کے ایک صوبائی سیکرٹری نے لکھا:
’’میرے پاس قبل ازیں چار تراجم موجود ہیں جن کی اپنی منفرد خصوصیات ہیں … لیکن آپ کا ترجمہ اعلیٰ تر ہے، تحریر مقدّس، ٹھوس اور جامع ہے اور آپ کی وسعتِ علمی کی شاہکار ہے۔ …‘‘۔
بعض اخبارات و رسائل نے بھی ترجمۂ قرآن پر شاندار ریویو تحریر کئے۔ مرکزی چائنا اسلامک ایسوسی ایشن کے جریدہ ’’چائنا مسلم‘‘ کے مدیر نے لکھا: ’’آپ کا چینی ترجمۂ قرآن ایک عظیم الشان کامیابی ہے اور بلاشبہ اس کی اشاعت، تعلیماتِ اسلامیہ اور اسلامی ثقافت کیلئے، عظیم الشان Contribution ہے۔‘‘
چینی ایسوسی ایشن آف ریلیجئس سٹڈیز بیجنگ کے نائب صدر نے (جو غیرمسلم ہیں) محترم عثمان صاحب کے نام اپنے مکتوب میں یوں خراج تحسین پیش کیا کہ:
’’آپ کی علمیت نہایت مستند ہے اور آپ ہمارے لئے بزرگ عالم ہیں۔ آپ کا ترجمہ دیگر تراجم کے مقابل پر کئی خصوصیات کا حامل ہے … بہت سے نکاتِ بصیرت اس میں بیان کئے گئے ہیں … اسے پڑھنے سے قرآن کریم کے وسیع اور گہرے علوم کے ادراک میں اضافہ ہوا ہے۔‘‘
محترم عثمان چینی صاحب نے خدام کو نصیحت کرتے ہوئے یہ پیغام دیا کہ ہمیں اللہ تعالیٰ کی صفات کے رنگ اپنی ذات کے اندر بھی پیدا کرنے کی کوشش کرتے رہنا چاہئے۔ (……مطبوعہ انٹرویو یہاں ختم ہوا)
——————————————
محترم مولانا محمد عثمان چینی صاحب کی زندگی کے بعض دیگر پہلو اختصار سے پیش ہیں۔
= محترم چینی صاحب کی ساری زندگی کا ہر پَل صرف اسلام کی خدمت کے لئے وقف تھا خصوصاً چینی قوم میں تبلیغ کے لئے آپ کے دل میں جوش انتہا درجہ پر تھا اور اس کے لئے بے انتہاء محنت، عرقریزی اور حکمت سے کام کرتے۔ ایک شام جب مَیں حاضر ہوا تو آپ نے اپنی ایک خواب سنائی جس میں چین میں احمدیت کے فروغ سے متعلق اعدادوشمار (سال وغیرہ) بیان کئے گئے تھے۔ پھر فرمایا کہ یہ خواب حضورؒ کی خدمت میں لکھنی ہے۔ چنانچہ ہم نے یہ خواب لکھی۔ اور پھر آپ نے اپنی ایک پرانی خواب (جو غالباً پچاس کی دہائی میں دیکھی تھی) مجھ سے بیان کی۔ اُس خواب میں بھی مختلف سالوں کے حوالہ سے چین میں احمدیت کے غلبہ سے متعلق علم دیا گیا تھا۔
خاکسار نے پوچھا کہ کیا پہلا خواب آپ نے حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں عرض کیا تھا؟۔ آپ نے اثبات میں جواب دیا لیکن خاموش رہے- اس پر کچھ توقف کے بعد مَیں نے پوچھا کہ حضرت مصلح موعودؓ نے پھر کیا فرمایا تھا؟ آپ نے بتایا کہ حضورؓ نے اُسی وقت زبانی حساب کتاب کرنے کے بعد جب دیکھا کہ یہ غلبہ اتنے لمبے عرصے کے بعد ہوگا یعنی حضورؓ کی زندگی میں تو ممکن نہیں ہوگا تو بڑے درد سے فرمایا: ’’پھر ہمیں کیا فائدہ!‘‘۔
محترم چینی صاحب بتانے لگے کہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے اُس وقت یہ بھی فرمایا تھا کہ جب کبھی خواب میں اس طرح کی کوئی مدّت بتائی جاتی ہے تو اُس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ اب آرام سے اُس وقت کا انتظار کرو۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اِس وقت کام کی جو رفتار ہے اُس کی بنیاد پر یہ نتیجہ نکل سکتا ہے۔ لیکن اگر آپ نے سُستی اور غفلت کردی تو فتح کی یہ بشارت مؤخر کردی جائے گی لیکن اگر آپ پہلے سے بھی بڑھ کر جوش و جذبہ کے ساتھ اس کام میں مشغول ہوجائیں گے تو فتح کی یہ بشارت اُس وقت سے پہلے بھی پوری ہوسکتی ہے۔
اس کے بعد محترم چینی صاحب نے بتایا کہ حضورؓ کی اس نصیحت کو مَیں نے پلّے باندھ لیا تھا۔ لیکن اب دوسری خواب سے معلوم ہوتا ہے کہ اتنے عرصہ کے دوران بھی مَیں کچھ زیادہ کام نہیں کرسکا اور اسی لئے نتیجہ میں زیادہ فرق نہیں پڑا ہے۔ مَیں نے عرض کیا کہ آپ کی کوشش اور دعاؤں سے کم از کم یہ تو ہوگیا ہے کہ التواء والی بات بھی نظر نہیں آتی۔ اس پر آپ نے فرمایا کہ یہ سب خدا کے کام ہیں ورنہ مَیں کسی قابل نہیں ہوں۔
محترم عثمان چینی صاحب کبھی کبھار حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے حوالہ سے بعض دلچسپ واقعات بھی بیان فرماتے تھے۔ جن سے معلوم ہوتا تھا کہ آپ پر حضورؓ کی شفقت کی خاص نظر تھی۔ اور اُن واقعات سے یہ بھی معلوم ہوتا تھا کہ چین میں اور چینی باشندوں میں تبلیغ وغیرہ کے نکتہ نظر سے حضورؓ جاننا چاہتے تھے کہ چینی معاشرہ کی روایات وغیرہ کیا ہیں اور وہاں کی جو معلومات مختلف ذرائع سے حضورؓ کے علم میں آیا کرتی تھیں، اُن میں کس قدر صداقت ہے۔ نیز یہ بھی کہ کمیونسٹ انقلاب کے بعد پیدا ہونے والے حالات کے نتیجہ میں چین کے اندر جوتبدیلیاں رُونما ہوئی ہیں اُن کی تفصیل کیا ہے۔
= کئی بارمحترم عثمان چینی صاحب نے یہ واقعہ بیان فرمایا کہ آپ نے (پچاس کی دہائی میں) ایک خواب دیکھا تھا کہ آپ نے لکڑی کا ایک بڑا شہتیر بڑے آرام سے اُٹھالیا ہے جسے بظاہر اٹھانا ناممکن نظر آتا ہے۔ چونکہ آپ کا حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ سے بہت محبت کا تعلق تھا اور حضرت میاں صاحبؓ بھی آپ سے غیرمعمولی شفقت سے پیش آتے تھے۔ اسی لئے آپ بہت سی خوابوں کی تعبیر کے لئے یا دیگر نہ سمجھ آنے والے علمی مسائل کے حل کے لئے حضرت میاں صاحبؓ سے رجوع کیا کرتے تھے۔ چنانچہ آپ نے مذکورہ بالا خواب کی تعبیر بھی حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ سے پوچھی تھی تو انہوں نے فرمایا تھا کہ آپ کو خدمت دین کی راہ میں کسی بہت بڑے کام کی توفیق ملے گی جو بڑے آرام سے مکمل ہوجائے گا۔ چینی صاحب فرمایا کرتے تھے کہ مَیں سوچا کرتا تھا کہ عربی یا اردو زبان تو مجھے آتی نہیں، بول چال بھی مشکل سے کرتا ہوں۔ اسلام کی کیا خدمت کرسکتا ہوں۔ لیکن دراصل قرآن کریم کا چینی ترجمہ کیا جانا ہی اس کی تعبیر تھی جو کئی سال بعد ظاہر ہوئی۔
آپ بتاتے تھے کہ جب حضرت خلیفۃالمسیح الرابع رحمہ اللہ کی طرف سے قرآن کریم کے چینی ترجمہ کی ذمہ داری آپ پر ڈالی گئی تو آپ نے اپنی بہت سی کمزوریوں کو بنیاد بناکر عذر بھی پیش کیا لیکن خلیفۂ وقت کی طرف سے یہی ارشاد ملا کہ آپ دعا کے ساتھ کام شروع کردیں اور نتیجہ اللہ تعالیٰ پر چھوڑ دیں۔ چنانچہ سالہاسال کی محنت شاقّہ کے بعد خداتعالیٰ نے ایسا عظیم الشان ترجمہ مکمل کرنے کی توفیق بخشی جس نے چینی علمائ کو بے ساختہ اس کی تعریف کرنے پر مجبور کردیا۔
ایک موقع پر جب آپ نے مذکورہ بالا خواب مجھ سے بیان کیا تو مَیں نے عرض کیا کہ شہتیر تو آپ نے اٹھالیا ہے گویا کہ چھت ڈالنے کی بنیاد رکھ دی ہے۔ اب باقی کام نسبتاً آسان ہوگا اور چھت بھی جلدی ڈال دی جائے گی۔ اس پر آپ افسردہ ہوگئے اور فرمایا کہ اگر یہ غلبہ والی بات میرے مرنے کے بعد ہوئی تو پھر مجھے کیا فائدہ، مَیں تو اسی لئے ہر وقت اس کام میں مصروف ہوں کہ شاید یہ غلبہ میری زندگی میں ہی ہوجائے۔
آپ نے بارہا یہ بھی کہا کہ مَیں سیر اور حسب توفیق ورزش وغیرہ ضرور کرتا ہوں اور اپنی صحت کا بھی صرف اسی لئے خیال رکھتا ہوں تاکہ زیادہ دیر تک اور بڑی عمر ہونے تک بھی کام کرنے کی توفیق ملتی جائے۔ کیونکہ ایسی زندگی تو بے فائدہ ہوتی ہے جس میں دین کی کوئی خدمت نہ ہوسکے۔
= محترم عثمان چینی صاحب کو اپنی والدہ سے بے انتہا محبت تھی اور چونکہ مَیں نے بچپن میں آپ کی والدہ کو دیکھا ہوا تھا اس لئے جب بھی مَیں اپنی یادداشت کے مطابق آپ کی والدہ محترمہ کی پاکیزہ معصوم سی صورت اور اُس زمانہ میں چینی روایات کے مطابق پاؤں کے چھوٹے سائز وغیرہ کو بیان کرتا تو آپ مسکراتے ہوئے سنتے رہتے اور پھر خود بھی اُن کی کوئی نہ کوئی بات بتاتے۔
کبھی کبھار محترم عثمان چینی صاحب اپنی والدہ مرحومہ کا نہایت محبت سے ذکرخیر کرتے ہوئے اُن کے بعض روحانی پہلو بیان فرمانے لگتے۔ ایک بار بتایا کہ چونکہ انہیں عربی زبان میں ادائیگی مشکل تھی اور بڑھاپا بھی تھا جس کی وجہ سے وہ کوشش کے باوجود درودشریف کے عربی الفاظ زبانی یاد نہ کرسکتی تھیں۔ اس پر آپ نے اُنہیں چینی زبان میں درودشریف کا ترجمہ سکھادیا تھا جسے وہ ہر وقت پڑھتی رہتی تھیں۔ خداتعالیٰ کے ساتھ اُن کا زندہ تعلق قائم تھا اور بے شمار مواقع پر خداتعالیٰ نے اُن کو مختلف معاملات سے متعلق سچی خبریں دی تھیں۔
ایک بار محترم عثمان چینی صاحب نے فرمایا کہ جب چینی حکومت کی پابندیوں کی وجہ سے میری بیوی کے چین سے پاکستان آنے کی صورت پیدا نہیں ہورہی تھی اور میری عمر بڑھتی جارہی تھی تو ایک بار میری والدہ نے حالات سے پریشان ہوکر اللہ تعالیٰ سے فلاں فلاں باتیں کی تھیں اور اللہ تعالیٰ نے فلاں فلاں کلمات کے ذریعہ اُن کی تسلّی کا سامان کیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے محترم چینی صاحب کی والدہ محترمہ کو اُس وقت جو خوشخبریاں دیں اُن میں یہ بھی تھیں کہ آپ (محترم چینی صاحب) کی بیوی چین سے پاکستان آجائے گی، نیز آپ کو ایسی اولاد بھی عطا ہوگی جو نہ صرف دنیاوی لحاظ سے ترقی کرے گی بلکہ تربیت کے لحاظ سے بھی نیکی پر قائم رہے گی۔
ایک بار مَیں نے پوچھا کہ آپ کی والدہ کو کیسے پتہ چلتا تھا کہ وہ خدا تعالیٰ سے ہی محو گفتگو ہیں اور اُن کی باتوں کا جواب دینے والا اُن کا خالق ہی ہے۔ آپ کہنے لگے کہ مَیں نے بھی اُن سے پوچھا تھا۔ وہ کہتی تھیں کہ جس طرح کسی دھاتی پلیٹ پر ہلکی سی ضرب لگائی جائے اور ایک مسحورکُن آواز پیدا ہو جو دیر تک فضا میں گردش کرتی رہے، اس طرح کی آواز اُن کے سوال کے جواب میں سنائی دیتی تھی اور اُس پُرلطف آواز میں سے ہی الفاظ اُن کے ذہن میں خودبخود منتقل ہوتے چلے جاتے تھے۔
اسی طرح میرے ایک سوال پر کہنے لگے کہ جب بھی اللہ تعالیٰ کو ئی بات بتاتا ہے تو بتانے کا طریق یا ذریعہ کوئی بھی ہو، اُس بات میں کوئی ابہام نہیں ہوتا بلکہ واضح رہنمائی پائی جاتی ہے۔
= محترم چینی صاحب کو اپنی فیملی سے انتہائی محبت تھی اور اپنی مصروفیات کے باوجود حتی الامکان اپنی بیوی اور بچوں کے جذبات اور احساسات کا خیال رکھتے تھے۔ لیکن اپنے ایسے پروگراموں کو بھی حتی المقدور اس انداز میں ترتیب دیتے کہ جماعتی خدمات کے متفرق پہلو بھی پیش نظر رہتے۔ ایک دو بار یوکے میں اپنی فیملی کے ساتھ سفر بھی کیا تو سیر کے ساتھ جماعتی خدمت بھی بجالاتے رہے۔
محترم چینی صاحب نے ایک بار مجھے فرمایا کہ لمبے عرصے سے میری بیوی اور بچے میرے کاموں کی وجہ سے کہیں نہیں جاسکے۔ مَیں چاہتا ہوں کہ اس سال ہم جرمنی کے جلسہ میں شامل ہوسکیں اور اگر آپ ہماری کار کو ڈرائیو کرکے جرمنی لے جاسکیں تو مَیں حضور سے اجازت لیتا ہوں۔ چنانچہ خاکسار کو یہ سعادت ملی کہ ڈرائیو کرکے آپ کو اور آپ کی فیملی کو یورپ لے کر گیا۔ اس لمبے سفر کے دوران بھی محترم چینی صاحب کی شفقت اور دوسروں کا خیال رکھنے کے کئی انداز دیکھے۔ اور وہ قولِ رسول ﷺ یاد آیا کہ کسی کے بارے میں جاننا ہو تو اُس کے ساتھ سفر کرکے دیکھ لو۔ آپ کے شفیق سلوک کو دیکھتے ہوئے آپ سے ایسا تعلق ہو جاتا تھا کہ آپ کی خدمت کرنے اور آرام پہنچانے کو جی چاہتا تھا۔
= اسی طرح ایک بار اپنے بڑھاپے اور کمزوری کے باوجود اپنی فیملی کو آپ نے چین بھجوانے کا اہتمام فرمایا۔ آپ اکیلے اسلام آباد میں مقیم رہے۔ باوجود اصرار کے آپ نے مجھے اجازت نہیں دی کہ مَیں آپ کے لئے کھانا مہیا کرنے کا مستقل انتظام کردوں۔ سارا دن کیسے گزرتا مجھے علم نہیں لیکن جب رات کو مَیں حاضر ہوتا تو معمولی سی کوئی چیز، کوئی مچھلی فرائی کرلیتے یا فریزر سے نکال کر کوئی معمولی سا کھانا گرم کرکے کھا لیتے جو آپ کی اہلیہ جانے سے قبل پکاکر فریز (Freeze) کرگئی تھیں۔ اگر مَیں اصرار سے بھی کھانا لانے کا پوچھتا تو یہی جواب دیتے کہ میرے پاس کئی چیزیں فریزر میں موجود ہیں اور یہ بھی کہ دوسرے لوگ نہیں جانتے کہ مجھے کیسا کھانا پسند ہے۔ اکثر آپ پہلے سے فریز کیا ہوا کھانا گرم کرکے، یا کوئی چیز صرف اُبال کر یا فرائی کرکے اور ہلکا سا نمک ڈال کر کھا لینا زیادہ پسند کرتے تھے۔
خود تو سادگی کا مرقع تھے اور حتی المقدور دوسروں پر بوجھ نہیں بنتے تھے لیکن دوسروں کی خدمت کرنے کا انداز بالکل جُدا تھا۔ مجھے یاد نہیں کہ اسلام آباد میں مقیم بغیر فیملی کے ایسا فرد ہو جو بیمار ہوجائے تو آپ اور آپ کی اہلیہ اُس کی خدمت کے لئے کمربستہ نہ ہوجائیں۔ بیمار کے لئے بغیر اُس کے تقاضے کے مناسب کھانے اور دوا کا انتظام بھی ہوتا اور دعاؤں کا اہتمام بھی۔ کئی بار حیرت ہوتی کہ غضِّ بصر کے باریک پہلوؤں کو ملحوظ رکھنے کے باوجود بھی آپ اپنے اردگرد کے حالات سے باخبر رہتے تھے۔ دوسروں کی تکلیف کو خود محسوس کرتے اور اُنہیں آرام پہنچانے کی ہر ممکن کوشش کرتے۔ خدمت، دین کی ہو یا مخلوق کی، دل کی گہرائی سے اور محض لِلّٰہ کرتے اور اُس کے لئے مشقّت برداشت کرتے لیکن چہرے بُشرے سے ہمیشہ بشاشت عیاں رہتی۔
= قریباً بیس سال قبل آپ کی صحت اگرچہ نسبتاً اچھی تھی لیکن عمر ستّر سال سے تجاوز کرچکی تھی۔ لیکن اُس عمر میں بھی آپ اتنی محنت کرتے کہ جسے سوچ کر بھی انسان تھک جائے۔ دن بھر کام کرنے کے باوجود قریباً ہر موسم میں رات کا کھانا کھاکر نماز عشاء ادا کرنے کے کچھ دیر بعد آپ دفتر آجاتے۔ ایک دو گھنٹوں بعد آپ کی اہلیہ محترمہ گھر سے قہوہ اور کچھ کھانے پینے کا سامان لے کر دفتر چھوڑ جاتیں۔ کرسی پر بیٹھے ہوئے چند لمحے سونے کے بعد اور کچھ قہوہ وغیرہ پینے کے بعد چینی صاحب مزید کام کرنے کے لئے تازہ دَم ہوجاتے۔ اگر کسی دن دفتر میں محترم چینی صاحب اکیلے ہوتے تو پھر آپ کی اہلیہ بھی گھر جانے کی بجائے اکثر خدمت کے لئے وہیں رُک جاتیں۔ جس حد تک بھی ممکن ہوتا اپنے قابل فخر خاوند کی خدمت کا حق دفتر میں بھی ادا کرنے کی کوشش کرتیں اور پھر رات گئے اُن کو ساتھ لے کر گھر جاتیں۔ ایک لمبا عرصہ خاکسار روزانہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوتا رہا۔ کبھی دفتر میں کرسی پر بیٹھے ہوئے آپ سوجاتے۔ کبھی آپ کو کرسی پر بیٹھے بیٹھے دبانا شروع کرتا۔ مجھے حیرت ہوتی کہ آپ نے کبھی نہیں روکا بلکہ واقعتاً آرام محسوس کرتے۔ مجھے اس بات پر زیادہ حیرت تھی کہ اتنی تکان اور تکلیف کے باوجود کبھی ازخود مجھے یہ نہیں کہا کہ مجھ کو دبادو۔ کئی بار رات گئے آپ کو گھر تک چھوڑنے گیا تو آپ کی تکان دیکھ کر عرض کیا کہ لائیں تھوڑا سا دبادُوں۔ آپ اپنے ڈرائینگ روم کے فرش پر ایک گدّا ڈال کر لیٹ جاتے اور مَیں پاؤں سے دبانا شروع کرتا تو چند منٹ میں ہی سو جاتے۔ مَیں حسب توفیق کچھ وقت ٹانگوں پر مساج کرتا۔ پھر Frozen Shoulder پر مساج کرتا۔ اس دوان آپ کے خراٹوں اور پُرسکون نیند سے لطف اندوز ہوتا اور پہلے سے قریب رکھا ہوا کمبل آپ کو اوڑھا کو خاموشی سے باہر نکل جاتا۔ جب اگلے دن ملتے تو پوچھتے کہ رات کب گئے تھے۔ یہ اظہار کرتے کہ تم نے اتنی تکلیف برداشت کی۔پھر اپنے کام کی زیادتی کا بھی ذکر کرتے اور کہتے کہ صحت کے بغیر دین کی خدمت بھی نہیں ہوسکتی اس لئے اس بارہ میں احتیاط کرنی چاہئے۔ یہی وجہ تھی کہ آپ صحت قائم رکھنے کے لئے اپنی زندگی میں چند اصولوںپر ہمیشہ گامزن رہے۔ حتی المقدور ورزش کرنے کی کوشش کرتے۔ سادہ اور عمدہ غذا کا استعمال کرتے۔ ہمیشہ نیم گرم پانی پیتے۔ مرچ مصالحوں سے پرہیز کرتے۔ دعوتوں کے مواقع پر بھی ایسی چیزیں استعمال کرتے جو مصالحوں سے پاک ہوتیں۔ بعض تقاریب میں جہاں آپ کے کھانے کے لئے سلاد وغیرہ کے علاوہ کچھ موجود نہ ہوتا تو وہاں سالن میں سے بوٹی نکال کر اسے پانی کے گلاس میں ڈال کر اُس کا مصالحہ اُتارتے اور پھر کھالیتے۔ کبھی بھی کسی قسم کا شکوہ نہ کرتے اور نہ کبھی اس طرح اظہار کرتے کہ گویا آپ کھانے سے محروم رہے ہیں۔ بے حد صابر و شاکر انسان تھے۔
= کئی سال آپ کے ساتھ مَیں نے رضاکارانہ طور پر خدمت کرنے کی توفیق پائی۔ بلاشبہ غلطیاں بھی ہوئیں۔ کئی بار وعدے کرکے مَیں کسی مجبوری کی وجہ سے پورے نہیں کرسکا، بارہا پہلے سے طے شدہ پروگرام کے مطابق حاضر نہ ہوسکا اور آپ رات گئے تک دفتر میں انتظار بھی فرماتے رہے لیکن (چونکہ اُس زمانہ میں ٹیلیفون اور موبائل فون اس طرح دستیاب نہ تھے اس لئے) آپ کو اطلاع بھی نہ دے سکا۔ کئی کام آپ کی مرضی کے خلاف بھی سرزد ہوجاتے۔ لیکن آپ کی یہ بہت بڑی خوبی تھی کہ آپ نے ساری زندگی مجھے کبھی نہیں ڈانٹا۔ اکثر آپ سے مذاق وغیرہ بھی کرتا رہتا اور آپ ایک خاص انداز سے مسکراتے رہتے اور لطف اندوز ہوتے۔ کبھی چینی قوم میں مروّجہ لطائف یا نصیحت آموز واقعات بھی سناتے۔ اگر فوری طور پر میرا کیا ہوا مذاق سمجھ نہ سکتے اور وضاحت کرنے پر جب سمجھ لیتے تو کھلکھلاکر ہنستے اور بعض اوقات اُس کو دہرایا کرتے۔ اگر کبھی مَیں آپ کے کسی خط میں لکھے گئے الفاظ سے اختلاف کا اظہار کرتا۔ تو پھر بھی آپ ناراض نہیں ہوئے اور نہ کبھی ڈانٹا کہ جو مَیں کہہ رہا ہوں، لکھنا ہے تو لکھو ورنہ اپنی راہ لو۔ بلکہ اکثر سمجھاتے چلے جاتے اور بار بار اپنی بات کو مختلف زاویوں سے واضح کرنے کی کوشش کرتے۔ اردو زبان میں اپنی کمزوری کا بھی بارہا اظہار کرتے۔ حالانکہ مَیں جانتا تھا کہ آپ ہر چھوٹے سے چھوٹے معاملہ کا نہایت احتیاط سے بغور جائزہ لیا کرتے تھے اور پھر نہایت مناسب الفاظ میں اپنی رائے کا اظہار کیا کرتے تھے۔
جب میری رہائش لندن میں ہوگئی تو کئی بار بعض ضروری خطوط لکھوانے کے لئے مرکزی کمپیوٹر سیکشن میں بھی تشریف لائے۔ اکثر ’’اردوکلاس‘‘ وغیرہ سے فارغ ہوکر آتے اور رات گئے واپس اسلام آباد جاتے۔ ڈرائیونگ آپ کو نہیں آتی تھی۔ اس خدمت کے لئے آپ کی اہلیہ محترمہ اور مکرم رشید احمد ارشد صاحب وقف تھے۔ ڈرائیونگ سیکھنے کی (یا یوں کہنا چاہئے کہ خاکسار نے آپ کو ڈرائیونگ سکھانے کی) ایک بار کوشش کی تھی۔ جب خاکسار نے اسلام آباد کی گراؤنڈ میں آپ کو ایک وین (Van) کی ڈرائیونگ سیٹ پر بٹھایا۔ پھر چند بار گاڑی کا Mechanism سمجھانے کے بعد اور گیئر وغیرہ لگوانے کے پریکٹیکل کے بعد، عرض کیا کہ اب خود سٹارٹ کرکے گیئر لگائیں اور اس کو چلائیں۔ آپ نے بڑی احتیاط سے وین سٹارٹ کرلی، Clutch دباکر پہلا گیئر بھی لگالیا۔ گاڑی رینگنے لگی۔ پھر دوسرا گیئر بھی لگالیا۔ لیکن جب مَیں نے کہا کہ اب بریک لگائیں تو آپ بھول چکے تھے کہ بریک کیسے لگانی ہے اور سٹیئرنگ کیسے موڑنا ہے۔ بظاہر آپ لطف اندوز تو ہورہے تھے لیکن بریک کی بجائے Accelerator ہی دبارہے تھے۔ چنانچہ مَیں نے ٹانگ آگے بڑھاکر بریک لگائی تو گاڑی ایک شدید جھٹکے سے رُک گئی۔ ہم دونوں ہنسنے لگے اور بغیر کچھ کہے دونوں ہی سمجھ گئے کہ یہ پہلا اور آخری Driving Lesson تھا۔ (اُس وقت تک آٹومیٹک گاڑیاں اتنی عام نہیں ہوئی تھیں ورنہ شاید آپ کے لئے آسانی ہوجاتی۔) پھر اس نئے تجربہ پر باتیں کرتے رہے اور میرے یہ واقعہ سنانے سے بہت لطف اندوز ہوئے کہ حضرت مصلح موعودؓ نے بھی کسی جگہ یہ ذکر فرمایا ہے کہ حضور رضی اللہ عنہ کو ڈرائیونگ سیکھنے میں اس لئے کامیابی نہیں ہوسکی تھی کیونکہ جب حضورؓ ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے اور گاڑی چلانی شروع کی تو ذہن قرآن کریم کی کسی آیت کی تفسیر میں اتنا محو ہوگیا کہ توجہ ڈرائیونگ پر مرکوز نہ رہ سکی۔
= محترم عثمان چینی صاحب کے ذہن میں بھی ہر وقت قرآن کریم اور اسلام کی تعلیمات کے حوالہ سے کوئی نہ کوئی بات غوروفکر کا مرکز رہتی۔ کبھی کوئی نکتہ سلجھتا تو بہت لُطف لے کر اُسے بیان کرتے۔ کبھی آپ کی زندگی کے روحانی پہلوؤں یا تصوّف کے مسائل وغیرہ پر بات ہوتی تو لطف آجاتا۔ ربوہ کے اُن ابتدائی بزرگان کے ایسے ایمان افروز واقعات بھی سناتے جن کی خدمت میں حاضر ہونے کا موقع آپ کو ملتا رہا تھا۔ کلّرکہار میں اپنی چلّہ کشی کے تجربات اور دعاؤں کی قبولیت کا ذکر بھی کبھی کبھار کیا کرتے۔ کبھی میدانِ عمل میں ہونے والے کسی خاص تجربہ کو لطف لے کر بیان فرماتے۔
= نماز آپ کی روح کی غذا تھی۔ نماز کو سنوار کر ادا کرنا تو تھا ہی لیکن نماز کی تیاری بھی دلی محبت سے کرتے تھے۔ عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ چلنے کی رفتار کم ہوتی جارہی تھی۔ گھنٹوں بیٹھ کر لکھنے پڑھنے کا کام کرنے سے کمر کے مُہرے مستقل ٹیڑھے ہوگئے تھے۔ پھر ہاتھوں میں لمبی سوٹیاں آگئیں تاکہ سہارا لے کر قدم اُٹھاسکیں اور کمر سیدھی رکھ کر آہستہ آہستہ چل سکیں۔ پھر جب کمزوری مزید بڑھی تو Zimmerframe کے سہارے سے بہت آہستہ آہستہ چلتے لیکن آپ کو بوقتِ نماز ہمیشہ مسجد کی طرف ہی گامزن دیکھا۔ رات گئے کسی بھی سفر سے واپس لَوٹتے تو بھی سفر کی طوالت یا تکان کے باوجود فجر کی نماز پر موجود ہوتے۔ اکثر نماز کے بعد بھی دیر تک مسجد میں رہتے۔ ذکرالٰہی بھی کرتے۔ جب تک ورزش وغیرہ کرسکتے تھے تو مسجد کے فرش پر لیٹ کر ورزش بھی کرتے اور کچھ دیر کے لئے آرام بھی کرلیتے۔ جب آپ کو Frozen Shoulder کی تکلیف ہوئی تو غالباً حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ نے آپ کو چینی زبان میں تحریرشدہ ایک کتاب دی تھی جس میں مختلف جانوروں کے حرکت کرنے کے انداز کو بنیاد بناکر بعض ورزشوں کے پروگرام بتائے گئے تھے جو جسم کے مختلف حصّوں کے لئے مفید ہوسکتے تھے۔ آپ اُس کے مطابق بھی عمل کرتے رہے۔ یُوگا کی بعض ورزشوں میں لکھا تھا کہ فلاں پوزیشن میں بیٹھ کر یا کھڑے ہوکر خاموشی سے اپنے ذہن کو خالی کرلیں اور کچھ نہ سوچیں۔ آپ کہا کرتے کہ کتاب میں تو یوں لکھا ہے لیکن مَیں اُس دوران سورۃ فاتحہ پڑھتا ہوں اور اللہ تعالیٰ کی صفات پر غور کرتا ہوں۔ بلاشبہ آپ عالم باعمل اور ولی اللہ انسان تھے۔
= آپ اپنی صحت کا ہرممکن خیال رکھتے تھے اور اپنے علاج کی طرف بھی سنجیدگی سے توجہ دیتے تھے لیکن ہمیشہ نکتہ نظر یہی ہوتا کہ خدمت دین اور عبادت کے لئے اچھی صحت ضروری ہے۔ ہر شخص کی بات ویسے ہی غور سے سُنتے تھے لیکن بعض لوگ جو ہمدردی سے آپ کی صحت کے بارہ میں آپ کو مسلسل مشورے دینا اپنا فرض سمجھتے تھے اُن کی باتیں بھی غور سے سنتے رہتے اور اگر مناسب سمجھتے اور کوئی بات پسند آجاتی تو ضرور عمل کرتے۔ بعض اوقات دوسروں کے دیئے گئے مشوروں پر عمل کرنے سے پہلے رائے بھی پوچھتے۔
= اگرچہ عام زندگی میں معصوم وجود تھے اور اکثر دوسروں کی بات پر مکمل اعتبار کرلیتے تھے لیکن جماعتی معاملات میں فیصلہ کرتے وقت ہمیشہ دین کو دنیا پر مقدّم رکھتے۔ مَیں ذاتی طور پر اس بات کا گواہ ہوں کہ بعض اوقات اپنے بعض عزیزوں اور قریبی دوستوں کے بارے میں صرف اس لئے سخت فیصلے کئے کیونکہ آپ سمجھتے تھے کہ اگرچہ ہر کسی کی ہمدردی کے لئے کوشش کرنی چاہئے لیکن کبھی کوئی ایسا قدم نہیں اُٹھانا چاہئے جس سے جماعتی نقصان کا احتمال ہو۔
آپ کی سادگی کو دیکھتے ہوئے بعض اوقات حیرت ہوتی کہ آپ مختلف النّوع معاملات کا کس قدر گہری نظر سے تجزیہ کرتے ہیں اور ایسے فیصلہ پر پہنچتے ہیں جو واضح طور پر درست نظر آتا ہے۔ پھر جب اپنی پختہ رائے قائم کرلیتے تو خلیفۂ وقت کی خدمت میں کچھ تحریر کرنے سے قبل بہت احتیاط سے الفاظ کا انتخاب کرتے۔ بعض اہم خطوط لکھواکر پھر مجھ سے رائے لیتے کہ اس خط سے ایسا ویسا تأثر تو نہیں اُبھرتا۔ کئی بار ایسے خطوط لکھتے ہوئے مَیں آپ کا فقرہ تبدیل کرنا چاہتا اور عرض بھی کرتا کہ اس فقرہ کو اس طرح کیوں نہیں لکھ دیتے۔ اس پر آپ اپنے مخصوص فقرہ کا تجزیہ کرتے اور مَیں حیران ہوجاتا کہ اہم معاملات کے بارہ میں اپنی رائے دینے سے قبل آپ نے کس قدر سوچ بچار سے کام لے کر فقرات کا انتخاب کیا ہوا تھا۔ اسی طرح خلیفۂ وقت سے ہدایات لے کر سنگاپور وغیرہ میں اپنی ٹیم کو اطلاع دینے میں بھی نہایت محتاط الفاظ کا انتخاب کرتے۔ آپ کے ساتھ کام کرتے ہوئے بارہا حضرت خلیفۃالمسیح الرابع رحمہ اللہ کی ایک بات یاد آیا کرتی کہ تقویٰ اور عقلمندی ایک ہی چیز کے دو نام ہیں۔
آپ کے دفتری استعمال کے لئے کار اور ٹیلیفون وغیرہ مہیا تھے۔ آپ جماعتی اخراجات (ٹیلی فون کالز اور ڈاک وغیرہ) کا گہری نظر سے جائزہ لیتے رہتے، باقاعدہ ریکارڈ رکھنے کی کوشش کرتے اور اپنی ذاتی ضروریات کے لئے استعمال ہونے والی رقم کا احتیاط سے حساب کتاب کرکے اُسے شعبہ مال میں جمع کروادیتے۔ بعض دفعہ آپ کی محتاط طبیعت دیکھ کر مجھے اُلجھن ہونے لگتی تو آپ فرماتے کہ چونکہ میری طبیعت میں غیرمعمولی احتیاط کا مادہ ہے اور ممکن ہے اسی وجہ سے آج تک مَیں کسی ابتلا کا شکار نہیں ہوا۔
= آپ کو پوری طرح یہ احساس تھا کہ چینی قوم میں آپ کی حیثیت کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نہ صرف چین میں بلکہ دنیابھر میں پھیلے ہوئے چینی قوم کے افراد کو مذہب کی طرف لانے کے لئے اور خصوصاً اسلام کی پاکیزہ تعلیمات سے متعارف کروانے کے لئے آپ نے اَنتھک محنت کی اور بلاشبہ اپنی تمام تر استعدادوں کو اِس راہ میں پیش کردیا۔ ایک دو بار لندن میں واقع چائنا ٹاؤن میں بھی خاکسار کو آپ کے ساتھ جانے کا موقع ملا۔ جب چین کا دَورہ کرکے واپس آئے تو چینی قوم کی مذہب سے بیزاری کا ذکر بڑے دکھ سے کرتے۔ وہاں کے مسلمانوں کی عمومی حالت کا بھی ذکر کرتے۔ چینی مسلمانوں کے اسلامی تعلیمات سے نابلد ہونے کا بہت احساس تھا۔ ایک دو بار یہ بھی ذکر کیا کہ جب آپ اپنے بھائی اور اور اُن کے بچوں سے ملنے اُن کے ہاں ٹھہرے ہوئے تھے تو نہ صرف نماز کے اوقات میں اپنے عزیزوں کو نماز کی طرف توجہ دلاتے بلکہ بعد میں بھی پوچھتے کہ کیا آپ نے نماز پڑھ لی ہے۔ آپ نے بتایا کہ وہ لوگ نماز پڑھنے کی طرف تو متوجہ نہ ہوئے لیکن آخر تنگ آکر وہ مجھے ہی کہنے لگے کہ چونکہ آپ اب بوڑھے ہوگئے ہیں اس لئے آپ کو یاد نہیں رہتا کہ تھوڑی دیر پہلے بھی آپ نے یہی بات پوچھی تھی۔
= کئی بار فرمانے لگتے کہ مَیں بہت لمبی زندگی نہیں چاہتا۔ مَیں صرف اُتنی ہی زندگی چاہتا ہوں کہ جس کے دوران اسلام کی خدمت اور چینی قوم میں تبلیغ کے لئے کچھ کرسکوں۔ بیماری اور بیکاری کی زندگی کسی کام کی نہیں ہوتی۔ مَیں عرض کرتا کہ بزرگوں کا دعائیں کرنا بھی تو خدمت ہی ہے۔ جب ذہنی اور جسمانی طاقت کم ہوجائے تو نیک وجود کی دعائیں بھی انقلاب لے آیا کرتی ہیں۔ اسی طرح کی باتیں کرتے ہوئے ایک دن اپنی اہلیہ محترمہ کی ایک خواب بیان کی۔ کہنے لگے کہ میری اہلیہ کو اللہ تعالیٰ نے میری اتنی عمر بتائی تھی لیکن پھر بچوں کی چھوٹی عمر ہونے کی وجہ سے میری اہلیہ کے باربار درخواست کرنے پر اللہ تعالیٰ نے میری زندگی بڑھاکر 108سال کی عمر تک کرنے کی بشارت اُنہیں دی ہے۔ اِس پر مَیں نے بہت خوشی کا اظہار کیا۔ لیکن آپ فرمانے لگے کہ ہمارا مشاہدہ ہے کہ اتنی زیادہ عمر ہوجانے پر کوئی شخص کسی قسم کی کوئی خدمت نہیں کرسکتا بلکہ بیکار ہوکر دوسروں پر بوجھ بن جاتا ہے۔ پھر کہنے لگے کہ میرے لئے یہ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ بیکاری اور معذوری کی زندگی سے بچالے اور صرف اُتنی عمر دے کہ جب تک مَیں اُس کے دین کی صحیح رنگ میں خدمت کرنے کے قابل رہ سکوں۔ مَیں نے عرض کیا کہ مَیں تو صرف آپ کی صحت کے لئے دعا کروں گا کہ ساری زندگی آپ بیماری اور کمزوری سے محفوظ رہیں اور یہ کہ آپ چین میں احمدیت کے غلبے کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں۔ لیکن آپ پھر بھی بار بار یہی فرماتے رہے کہ صرف لمبی زندگی کا ہونا کچھ فائدہ مند نہیں ہے اگر اس وقت تک دین کی خدمت کے قابل نہ رہ سکے۔
امرواقعہ یہی ہے کہ سالہاسال گزر جانے کے باوجود یہ بات میرے ذہن سے کبھی محو نہیں ہوئی۔ اکثر مَیں آپ کی صحت کو اسی لحاظ سے دیکھتا کہ 108سال کی عمر میں آپ کی صحت کیسی ہوگی۔ لیکن چند سال سے جب محترم چینی صاحب کی صحت میں مسلسل گرانی نظر آنے لگی، پھر آپ کے لندن شفٹ ہوجانے کے بعد آپ کی طویل بیماری کے دوران جب ہسپتال میں یا گھر پر آپ سے ملنے کے لئے حاضر ہوا، تو آپ کی کہی ہوئی باتیں میرے ذہن میں آنے لگتیں اور خوف پیدا ہوتا تھا کہ کہیں آپ کی وہ خواہش قبول نہ ہوگئی ہو جس کا اظہار آپ باربار کرتے رہے تھے۔ اگرچہ آپ سے ملنے اور پہلے کی طرح باتیں کرنے کو دل تو چاہتا تھا لیکن آپ کو بیمار حالت میں دیکھنا بھی تکلیف کا باعث تھا۔
بہرحال آپ اپنے ربّ کی رضا پر ہمیشہ راضی رہنے والے ایسے بزرگ تھے جن کے دل میں ہر انسان بلکہ جانوروں کے لئے بھی خیر ہی خیر تھی۔ اللہ تعالیٰ آپ کی مغفرت فرمائے، آپ کو آپ کی خدمات کا بہترین اجر عطا فرمائے اور اعلیٰ علییّن میں اپنے پیاروں کے قرب میں جگہ دے۔ آمین

50% LikesVS
50% Dislikes
0

اپنا تبصرہ بھیجیں