محترم مولانا کرم الٰہی ظفر صاحب

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 24؍جولائی 2000ء میں مکرم اقبال احمد نجم صاحب اپنے مضمون میں محترم مولانا کرم الٰہی ظفر صاحب کا ذکر خیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ جب مَیں سپین میں بطور مربی تعینات ہوکر ایک صبح ایئرپورٹ سے آپ کے گھر پہنچا تو آپ نے مجھے پہلی سرزنش اس بات پر فرمائی کہ مَیں نے لگژری ٹیکسی کیوں کروائی۔ کہا کہ مربی کو تن آسان نہیں ہونا چاہئے۔ آپ کا چھوٹا سا فلیٹ چھٹی منزل پر تھا جس میں آپ اپنی بیوی اور چھ بچوں کے ساتھ فروکش تھے۔ اسی کے لاؤنج میں فولڈنگ چارپائیاں بچھاکر رات کو لیٹ رہتے۔ دن کو وہیں میزکرسی پر آپ کا دفتر بن جاتا، یہیں ایک بڑی الماری میں لائبریری تھی جس میں مختلف زبانوں میں لٹریچر بھرا ہوا تھا۔ جمعہ کے روز یہیں پر صفیں بچھاکر نماز ادا کی جاتی تھی۔ دو بیٹے یونیورسٹی جاتے تھے اور دو بیٹیاں سکول میں پڑھتی تھیں۔ اتوار کو جو مارکیٹ لگتی تھی اُس میں مولوی صاحب اپنا سٹال لگاتے تھے اور آپ کے دونو بڑے بیٹے اپنے علیحدہ علیحدہ سٹال بھی لگاتے تھے اور اس طرح گزراوقات ہورہی تھی۔ وہاں آپ کا سارا دن تبلیغ میں گزرتا ، عصر کے بعد مارکیٹ بند ہوتی اور آپ زیردعوت احباب کو ساتھ لے کر گھر روانہ ہوتے، اُن کی ضیافت کرکے وعظ و نصیحت کرتے۔
آپ بے دھڑک کلیساؤں میں بھی گھس جاتے، کبھی کسی سے مرعوب نہیں ہوئے۔ اکثر مجھے بھی ساتھ لے جاتے۔ ایک بار ایک چرچ سے ہمیں نکال دیا گیا اور ایک شخص چھرا لے کر ہم پر آپڑا لیکن اللہ تعالیٰ نے ہمیں بچالیا۔ وہاں صرف رومن کیتھولک کو ہی مذہبی آزادی حاصل تھی، دوسروں پر بہت سختی ہوتی تھی۔ مگر آپ بڑی دلیری سے ہر جگہ ہر وقت اور ہر ایک سے بات کرلیتے تھے۔
میرے زبان سیکھنے کا مسئلہ تھا۔ لینگوئج سکول کافی نہ تھا۔ یونیورسٹی میں ایک کورس بہت اچھا تھا جس کی فیس اڑہائی سو ڈالر تھی۔ آپ کے بیٹے نے مجھے اُس کا بتایا تھا۔ مَیں نے آپ سے بات کی تو کہنے لگے کہ یہ تو ہمارے لئے بہت زیادہ ہے۔ تب مَیں نے جاکر یونیورسٹی میں بات کی۔ انہوں نے کہا کہ اس رقم میں ڈیڑھ سو ڈالر مختلف شہروں کے سفر کے لئے ہیں، اگر مَیں نہ جانا چاہوں تو وہ رقم نہ دوں۔ چنانچہ یہ کورس مَیں نے مکمل کیا۔ اس دوران آپ مجھ سے میری تعلیم اور دیگر طلباء کے بارہ میں پوچھتے اور مختلف ممالک سے آئے ہوئے طلباء کے لئے مختلف زبانوں میں لٹریچر نکال کر مجھے دیتے۔ جب مَیں نے امتحان پاس کرلیا تو آپ نے مجھے سورۃالفاتحہ کا ترجمہ کرنے کا ارشاد فرمایا۔ جب مَیں نے ٹھیک ترجمہ کردیا تو خوش ہوکر فرمایا کہ پاس تو تم اب ہوئے ہو۔
کئی ماہ تک آپ کے پاس رہنے کے بعد مَیں ایک بنگالی فیملی کے ساتھ ایک کمرہ میں Paying Guest کے طور پر منتقل ہوگیا جن کا فلیٹ اُسی عمارت میں آٹھویں منزل پر تھا۔ پھر مَیں اپنا کھانا پکانے لگا لیکن آپ کو اصرار ہوتا کہ دوپہر کا کھانا آپ کے ساتھ ہی کھاؤں۔ بعض اوقات آپ کے گھر سے کھانا مجھے بھجوادیا جاتا۔
آپ دعوت الی اللہ کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتے تھے۔ سینکڑوں اخبارات و رسائل کو مضامین و لٹریچر بھجواتے، ایسی کانفرنسوں اور سیمیناروں میں شرکت کرتے جہاں اپنے خیالات کے اظہار کا موقع دیا جاتا۔
بہت زودحس تھے۔ کبھی قادیان کا ذکر آتا تو بہت روتے تھے۔ ایک دفعہ مَیں نے بتایا کہ 1965ء میں مَیں قادیان گیا تھا۔ پوچھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مزار کا کوئی فوٹو ہے؟۔ جب مَیں نے فوٹو دکھایا تو آبدیدہ ہوگئے بلکہ زار و قطار روتے رہے اور کہا کہ یہ فوٹو کچھ دن میرے پاس ہی رہنے دو۔
میری سپین میں پہلی عیدالاضحی آئی تو میرے پوچھنے پر آپ نے منسٹری سے خصوصی اجازت نامہ حاصل کیا اور ہم نے باقاعدہ قربانی کی۔ آپ قربانی کا گوشت کھاتے جاتے اور روتے جاتے۔
آپ وقف کرنے کے بعد تھوڑی سی تعلیم حاصل کرکے اپنی معیشت خود کماتے ہوئے سپین میں محض دعوت الی اللہ کی غرض سے قیام پذیر رہے اور دنیا کے گرم و سرد سے اکیلے نبرد آزما رہے۔ یہ بہت مشکل کام تھا جو آپ نے کیا۔ ’’احمدیہ بلیٹن‘‘ میں میرا پہلا مضمون کفن مسیح کے بارہ میں شائع ہوا تو ہماری بڑی مخالفت ہوئی۔ منسٹر نے آپ کو بلاکر بہت ڈانٹا اور سپین سے نکالنے کی دھمکی دی۔ آپ کو یہ بات بہت شاق گزری۔ مجھے آکر بتایا کہ وہ کہتا ہے تمہیں سپین سے نکال دیں گے، اور رونے لگے۔ … تھوڑے ہی عرصہ بعد جنرل فرانکو کا انتقال ہوگیا اور ملک میں جمہوریت کی باتیں شروع ہوگئیں۔ نیا آئین بنا اور مذہبی آزادی کا سورج طلوع ہوا۔ سات سو سال بعد پیدروآباد میں پہلی مسجد کی تعمیر شروع ہوئی۔ آپ اس انعام خداوندی پر پھولے نہیں سماتے تھے۔ بڑے لمبے انتظار اور تکالیف جھیلنے کے بعد یہ صبح امید طلوع ہوئی تھی۔ آپ ہر ماہ میڈرڈ سے بمع اہل و عیال پیدروآباد آتے۔ آپ کو دھن تھی کہ یہ مسجد جلد از جلد مکمل ہوجائے۔ آپ کا پہلا دَور کیسی کسمپرسی کا دَور تھا اور آخری دَور کیسا شاندار!۔ آپ کو پرتگال کا پہلا مبلغ سلسلہ ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہوا۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں