محترم مولوی خلیل الرحمن صاحب

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 12؍ستمبر 2003ء میں مکرمہ شازیہ باسط خان صاحبہ نے اپنے والد محترم مولوی خلیل الرحمن صاحب کے تفصیلی حالات زندگی پر روشنی ڈالی ہے جو محترم مولوی صاحب نے خود بیان کئے ہیں۔
محترم مولوی خلیل الرحمن صاحب بیان کرتے ہیں کہ مَیں 13 جون 1913ء کو درگئی (خوست، افغانستان) میں محترم عبدالرحیم خان صاحب کے ہاں پیدا ہوا جو حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحبؓ شہید کے خاص شاگردوں میں سے تھے۔ آپ کا پہلا نام سید پیر خان تھا اور آپ اپنے بھائی سید آدم خان کے ساتھ قادیان آئے تھے جہاں آپ کا نام بدل کر عبدالرحیم خان رکھا گیا۔ میرے دادا نے اپنے گھر کے ساتھ ایک مسجد بھی بنوائی تھی اور اُن کا کام اپنے علاقہ میں عوام کے مقدمات کا تصفیہ کروانا تھا ۔
میرے والد نے 18 سال کی عمر میں حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحبؓ کی بیعت کی۔ بیعت کی ایک شرط نماز تہجد کی ادائیگی بھی تھی جس پر آپ ہمیشہ کاربند رہے۔ بعد میں حضرت صاحبزادہ صاحبؓ کے ذریعہ ہی میرے اکثر خاندان نے احمدیت قبول کرلی۔ حضرت صاحبزادہ صاحبؓ کی شہادت اور اس سے قبل کے واقعات میرے والد کے چشمدید تھے۔
میرے تایا سید آدم خان صاحب 1913ء میں قادیان آگئے۔ پھر وہ کئی بار وطن آئے اور نوجوانوں کو قادیان لے جاتے رہے۔ 1917ء میں اُن کی وفات ہوئی اور وہ بہشتی مقبرہ میں مدفون ہوئے۔ اُن کی وفات کی اطلاع والد صاحب کو بذریعہ خواب ہوئی اور خواب میں ہی تایا نے پیغام دیا کہ میری وصیت کی رقم آپ کو دینی پڑے گی۔ چنانچہ والد صاحب دو سو چاندی کے روپے لے کر قادیان پہنچے اور 1918ء میں نقل مکانی کرکے مستقل قادیان آگئے۔ تقسیم ملک کے بعد انہیں درویشان قادیان میں شامل ہونے کی سعادت بھی ملی۔ 31؍اکتوبر 1962ء کو قادیان میں فوت ہوکر بہشتی مقبرہ میں دفن ہوئے۔ بہت دعا گو اور صاحب رؤیا و کشوف بزرگ تھے۔
مَیں 1918ء میں جب قادیان آیا تو ہم دونوں بھائی مہمان خانہ میں سکونت رکھتے تھے۔ مَیں نے پرائمری پاس کرکے مدرسہ احمدیہ میں داخلہ لے لیا۔ 1933ء میں مولوی فاضل کا امتحان پاس کیا۔ دعوت الی اللہ کا بہت شوق تھا۔ قادیان کے اردگرد اکثر دعوت الی اللہ کیلئے جایا کرتا اور کئی بار مار بھی کھائی۔ 1935ء میں مردان سے ہوتا ہوا پشاور آیا۔ یہاں مڈل کیا، پھر میٹرک کیا۔ ادیب فاضل اردو کا امتحان پنجاب سے پاس کیا اور پھر مختلف سکولوں میں تدریس کا کام کرتا رہا۔ مئی 1945ء میں تعلیم الاسلام ہائی سکول قادیان میں مدرس ہوا۔ 1947ء سے 1950ء تک کشمیر کے محاذ پر بھی خدمات بجالایا اور حکومت پاکستان سے بہادری کے اعتراف میں تمغہ پایا۔
اس کے بعد مَیں پھر پشاور چلا آیا اور اسلامیہ ہائی سکول میں مدرس ہوگیا۔ احمدی ہونے کی وجہ سے بار بار تکالیف پہنچائی گئیں لیکن اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ حفاظت کی۔ 1972ء میں ریٹائرڈ ہوا۔ 1973ء میں بذریعہ بس حج کیا۔ 1974ء میں کئی بار مار کھائی اور تکلیف اٹھائی۔ پہلی اہلیہ سے اللہ تعالیٰ نے مجھے چار لڑکیاں اور دو لڑکے عطا کئے جبکہ دوسری بیوی سے دو لڑکیاں اور ایک لڑکا ہوا۔
محترم مولوی خلیل الرحمن صاحب کا ذکر خیر کرتے ہوئے آپ کی بیٹی بیان کرتی ہیں کہ آپ کی ساری زندگی درس و تدریس میں گزری، بے شمار احمدی اور غیراحمدی بچوں و بچیوں کو قرآن کریم پڑھایا۔ بہت مہمان نواز تھے۔ 2؍دسمبر 1984ء کو آپ کی وفات سرگودھا میں ہوئی اور بہشتی مقبرہ ربوہ میں تدفین عمل میں آئی۔

50% LikesVS
50% Dislikes
0

اپنا تبصرہ بھیجیں