محترم مولوی سراج الحق صاحب درویش

ہفت روزہ ’’بدر‘‘ قادیان (درویش نمبر 2011ء) میں مکرم قمر الحق صاحب نے اپنے والد محترم مولوی سراج الحق صاحب درویش ولد محترم منشی حضرت عبد الحق صاحبؓ کا ذکرخیر کیا ہے۔
محترم مولوی سراج الحق صاحب 10؍جون 1929ء کو پیدا ہوئے۔ جب آپ حضرت مصلح موعودؓ کی تحریک پر لبّیک کہتے ہوئے حفاظت مرکز کے لئے تشریف لائے تو عمر قریباً 17 سال تھی۔ بطور درویش اپنی تعلیم قادیان میں مکمل کرکے بطور مبلغ آپ نے اپنی خدمات کا آغاز کیا۔ کئی مقامات پر نہایت احسن رنگ میں خدمت بجالانے کی توفیق پائی۔ بعد ازاں انسپکٹر بیت المال برائے جنوبی ہند مقرر ہوئے اور ریٹائرمنٹ سے قبل لمبے عرصہ تک مختار عام جائیداد صدر انجمن احمدیہ (حیدرآباد) کے طورپر خدمت کی توفیق پائی۔ حیدرآبادکی جائیدادوں (بیت الارشاد اور انور منزل) کے مقدمات میں کامیابی کے لئے آپ کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ احمدیہ جوبلی ہال کی دوبارہ تعمیر اور مدراس کے مشن ہاؤس کی تعمیر بھی آپ کی کاوشوں کا نتیجہ ہیں ۔نیز ’’الحق بلڈنگ ممبئی‘‘ کے مقدمہ میں کئی سال تک آپ پیروی کرتے رہے۔ آپ ناظم انصاراللہ صوبہ آندھرا پردیش کے طور پر بھی خدمت بجا لاتے رہے اور اپنی محنت لگن اور کاوشوں سے جماعتوں میں ایک نئی رُوح پھونکی۔
آپ کی شادی1955ء میں حیدرآباد کے ایک معزز خاندان میں محترم میر احمد علی صاحب مرحوم کی بیٹی محترمہ ناصرہ بیگم صاحبہ سے ہوئی ۔ اللہ تعالیٰ نے تین لڑکیوں اور ایک لڑکے سے نوازا۔ آپ مکرم مولانا ابوالمنیر نورالحق صاحب کے چھوٹے بھائی تھے۔
محترم مولوی سراج الحق صاحب نے 17مئی 2006ء کو بعمر78سال حیدرآباد میں وفات پائی۔ آپ موصی تھے۔ قطعہ درویشان بہشتی مقبرہ قادیان میں تدفین عمل میں آئی۔ آپ صوم و صلوٰۃ کے پابند، تہجدگزار، مخلص، تلاوت باقاعدہ کرنے والے، بہت ملنسار اور اپنوں و غیروں میں یکساں مقبول تھے۔ چنانچہ حیدرآباد میں کثیر تعداد میں غیراحمدی بھی نماز جنازہ میں شامل ہوئے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں