محترم مولوی محمد عبدالکریم صاحب آف لندن

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 8 ستمبر 2010ء میں مکرم مولانا عطاء المجیب راشد صاحب کا مضمون شائع ہوا ہے جس میں محترم مولوی عبدالکریم صاحب آف لندن کا ذکرخیر کیا گیا ہے۔
مضمون نگار بیان کرتے ہیں کہ محترم مولوی صاحب کو مَیں نے سب سے پہلے 60ء کی دہائی میں جلسہ سالانہ ربوہ کے موقع پر فوٹوگرافی کرتے ہوئے دیکھا۔ اور 1970ء میں جب پہلی بار بطور مبلغ انگلستان آیا تو آپ سے قریبی تعارف ہوا اور محبت کا ایک تعلق استوار ہوا جو ان کی وفات تک جاری رہا۔
محترم مولوی صاحب مرحوم بہت خوبیوں کے مالک ایک مخلص اور وفا شعار خادم احمدیت تھے۔ افریقہ میں بھی خدمت کی توفیق ملی اور بعد ازاں لندن میں اپنے قیام کے دوران بھی آپ نے خدمت دین کے نئے سے نئے انداز سوچے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے خدمت کی خوب توفیق پاتے رہے۔ آپ بہت ٹھوس علم رکھنے والے عالم باعمل تھے۔ آپ کی ہمیشہ یہ خواہش ہوتی کہ علم کے فیض کو آگے پھیلایا جائے۔ اس سلسلہ میں آپ نے متعدد بار علمی موضوعات پر جماعتی جلسوں میں تقاریر بھی کیں۔ درس و تدریس کی خدمت بھی سرانجام دی۔ ایک بہت نمایاں اور پائیدار خدمت انگریزی زبان میں قرآن مجیدکے پہلے پارہ کا (اور شاید دوسرے پارہ کا بھی) لفظاً لفظاًSplit Word ترجمہ کرنا ہے۔ یہ ترجمہ انگریزی دان بچوں اور نومبائع احباب کے لئے ایک مفید صدقہ جاریہ کا حکم رکھتا ہے۔
آپ کا خط بھی بہت عمدہ تھا اور ہر کام بڑے سلیقہ سے کرنے کے عادی تھے۔
محترم مولوی صاحب بہت نیک، عبادت گزار اور دعا گو بزرگ تھے۔ بہت محبت اور شفقت سے ملتے اور اکرام و الفت کا سلوک فرماتے۔ مجلس میں خوب رونق لگاتے اور پرانے واقعات ایک خاص دلکش انداز میں بیان فرمایا کرتے تھے۔ سفر میں آپ کا ساتھ بھی فرحت بخش ہوتا۔ سارا راستہ بہت دلچسپ، مفید، علمی اور ہلکی پھلکی پُر ظرافت باتیں ہوا کرتیں۔ ایک بار مہنگائی کا ذکر چل رہا تھا تو محترم مولوی صاحب نے بتایا کہ وہ ایک دفعہ ربوہ میں مرغی کا گوشت لینے کے لئے دکان پر گئے۔ دکاندار نے گوشت کاٹتے ہوئے پوچھا ’’مولوی صاحب ! کیا کھال بھی اتار دوں؟‘‘۔ آپ نے مہنگائی کے حوالہ سے فوراً برجستہ جواب دیا: ’’کیا پہلے کوئی کم کھال اتاری ہے؟‘‘۔
علمیت اور ظرافت کا حسین امتزاج آپ کی باتوں میں ہوا کرتا تھا۔ ایک بار مسجد فضل میں افطاری کے لئے روسٹ مرغی کی ایک ایک بوٹی بھی دی گئی۔ مولوی صاحب کی بوٹی میں ہڈیاں زیادہ تھیں اور گوشت والا حصہ بہت کم تھا۔ اس پر آپ کی رگ ظرافت پھڑکی اور آپ نے کہا کہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ بوٹی اُس دَور سے پہلے کی ہے جس کے بارہ میں اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا ہے کہ پھر اس کے بعد ہم نے ہڈیوں کے اوپر گوشت چڑھایا۔ (المومنون15:)۔ اس علمی ظرافت پر منتظمین نے فوراً آپ کی خدمت میں دوسری بوٹی پیش کر دی۔
غالباً 1985ء میں مولوی صاحب شدید بیمار ہوگئے اور ان کے معدہ کا ایک حصہ بھی اپریشن کے ذریعہ کاٹ دیا گیا تھا۔ اُن دنوں آپ کی عیادت کا موقعہ ملا تو کہنے لگے کہ میرے ڈاکٹروںکو کسی طرح یہ پتہ لگ گیا ہے کہ یہ مولوی ہے اور اس نے زیادہ کھانے سے نہیں رکنا۔ اس لئے اس کا علاج یہی ہے کہ اس کے معدہ کو ہی چھوٹا کر دیا جائے تاکہ نہ رہے بانس نہ بجے بانسری!
غالباً اس بیماری کے دوران ایک مرحلہ پر آپ کی طبیعت بہت زیادہ خراب ہو گئی۔ مَیں ایک نہایت مخلص دوست مکرم حمید احمد صاحب لائل پوری مرحوم کے ساتھ عیادت کے لئے ہسپتال گیا۔ مولوی صاحب کی حالت اس وقت بہت نازک تھی۔ تکلیف کی وجہ سے حالت ایسی تھی کہ دیکھی نہ جاتی تھی۔ حمید صاحب نے تو مولوی صاحب کو ایک نظر دیکھا اور پیچھے ہٹ گئے۔ میں کچھ دیر ٹھہرا اور دعا کی توفیق پائی۔ باہر آیا تو حمید صاحب کہنے لگے کہ بس ان کا معاملہ تو اب ختم ہو گیا ہے۔
لیکن اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا اور مرد خدا حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ کی خصوصی دعا سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو شفا عطا فرمائی اور آپ کچھ ہی دنوں میں ہسپتال سے گھر آگئے۔جب حمیدلائل پوری صاحب نے آپ کو سامنے دیکھا تو بے ساختہ بے ساختہ یہ فقرہ کہا: ’’لگدا اے کوئی وچ پے گیا اے‘‘ (یعنی لگتا ہے کوئی بیچ میں آگیا ہے)۔ اور واقعی یہی بات تھی۔ جو حالت ہم نے دیکھی تھی اس کے بعد بظاہر ان کے بچنے کی کوئی صورت نظر نہ آتی تھی۔
محترم مولوی صاحب موصوف بہت خوبیوں کے مالک تھے۔ بھرپور زندگی گزاری، علم سیکھا اور سکھایا، خدمت دین میں پیش پیش رہے، خلافت کے شیدائی تھے۔ ہر ایک کے ہمدرد اور دعا گو بزرگ تھے۔

پرنٹ کریں
0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/iWX9h]

اپنا تبصرہ بھیجیں