محترم میاں اقبال احمد صاحب شہید

محترم میاں اقبال احمد صاحب شہید سابق امیر ضلع راجن پور کی خودنوشت سوانح 13؍جون 2003ء کے الفضل انٹرنیشنل کے اسی کالم “الفضل ڈائجسٹ” میں پیش کی جاچکی ہے۔
محترم میاں اقبال احمد صاحب شہید کے والدین شیعہ تھے اور والد تو خود بھی اعلیٰ پائے کے ذاکر تھے۔ محترم میاں اقبال احمد صاحب ربوہ میں حصول تعلیم کی غرض سے بھیجے گئے لیکن قبول احمدیت کی سعادت حاصل کی اور پھر اخلاص میں ترقی ہی کرتے چلے گئے۔
روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 6؍اگست 2003ء میں مکرم میاں اقبال احمد صاحب شہید سابق امیر ضلع راجن پور کا ذکر خیر کرتے ہوئے مکرم چودھری مسعود احمد صاحب ایڈووکیٹ امیر ضلع لیہ لکھتے ہیں کہ شہید مرحوم خود بھی اسیر رہے اور جماعتی اسیران کے مقدمات کی پیروی کی بھی توفیق پائی۔ آپ دراز قد، سڈول، مضبوط جسم رکھتے تھے۔ اظہار بیان سے جماعت کے ساتھ حد درجہ اخلاص کا مظاہرہ ہوتا۔
مضمون نگار بیان کرتے ہیں کہ مکرم میاں صاحب اسیران راہ مولیٰ کے ایک مقدمہ کی پیروی کے لئے مرکز کے حکم پر راجن پور سے پہلے ڈیرہ غازیخان اور پھر اڑہائی سو کلومیٹر دُور لیہ کی عدالت میں عام ٹرانسپورٹ کے ذریعہ باقاعدگی سے بروقت آتے رہے اور کبھی اشارۃً بھی اپنی تکلیف کا ذکر نہیں کیا۔ کبھی مخالفت میں جج یا وکیل تین چار دن بعد کی تاریخ مقرر کروادیتے لیکن میاں صاحب ہمیشہ خود سے یہی کہتے کہ میاں اقبال اپنے آپ کو وقف کرچکا ہے، روزانہ بھی آنا پڑے تو تیار ہے۔
مکرم میاں صاحب مقدمہ کی تیاری کے سلسلہ میں نہایت جانفشانی سے کام لیتے، دلائل راجن پور سے تیار کرکے لاتے اور مجھے دے کر کہتے کہ رات کو ضرور پڑھیں۔ یہ بحث اتنی طویل ہوتی کہ مَیں کوشش کرکے بھی رات ایک بجے تک فائل کا مکمل مطالعہ نہ کرپاتا۔
آپ ہمیں اپنی اسیری کے واقعات بھی اکثر سنایا کرتے۔ ایک بار ایک مقدمہ کا فیصلہ ماتحت عدالت اور سیشن جج نے آپ کے خلاف دیدیا تو ہائی کورٹ میں اپیل ہوئی۔ اتفاق سے اپیل ایسے جسٹس کے سامنے پیش ہوئی جو آپ کے شاگرد رہ چکے تھے۔ انہوں نے جب فائل دیکھی تو مذہبی دفعات دیکھ کر اپیل کی سماعت سے معذرت کرلی۔
آپ جماعتی وقار اور عزت نفس کا بہت خیال رکھتے تھے۔ ایک بار ایک اسیر کو جب عدالت میں لایا گیا تو انہوں نے رنگدار میلے کپڑے پہنے ہوئے تھے اور سر جھکایا ہوا تھا۔ اس پر آپ نے اُنہیں پیغام بھیجا کہ آئندہ سفید کپڑے پہن کر اور سینہ تان کر عدالت میں آئیں تاکہ دشمن ہمیں کمزور نہ سمجھے۔
آپ اطاعت نظام کے اعلیٰ مدارج پر فائز تھے۔ جب بھی تحریری بحث تیار کرتے ایک نقل مرکز میں روانہ کرتے اور وہاں سے رائے آنے پر متعلقہ بحث کرتے۔

50% LikesVS
50% Dislikes
0

اپنا تبصرہ بھیجیں