محترم میجر (ر) عبدالحمید صاحب مبلغ سلسلہ

محترم میجر عبدالحمید صاحب کہوٹہ ضلع راولپنڈی کے ایک معزز راجپوت جنجوعہ خاندان کے ایک فرد تھے۔ جون 1932ء میں گارڈن کالج راولپنڈی میں تعلیم پانے کے دوران ’’براہین احمدیہ‘‘ کے مطالعہ سے حلقہ بگوش احمدیت ہونے کا شرف پایا اور نظام وصیت سے منسلک ہوگئے۔ آپکے قبولِ احمدیت پر آپکے والد محترم راجہ سید اکبر صاحب نے ابتدا میں سخت مخالفانہ رویہ اختیار کیا لیکن محترم میجر صاحب کے بار بار نہایت صبر کے ساتھ تبلیغ حق کے نتیجے میں آخر دسمبر 1934ء میں وہ بھی بیعت کرکے سلسلہ احمدیہ میں داخل ہوگئے اور پھر وصیت کی توفیق بھی پائی اور بعد وفات بہشتی مقبرہ قادیان میں دفن ہوئے لیکن بیعت کرنے کے بعد اکثر روتے رہتے تھے کہ وائے بدقسمتی کہ میں نے حضرت مسیح موعودؑ کا زمانہ پایا مگر اس وقت انہیں شناخت نہ کرسکا۔
محترم میجر عبدالحمید صاحب 1942ء میں انڈین آرمی کے کمیشنڈ آفیسر مقرر ہوئے اور جون 1960ء میں میجر کے عہدہ سے ریٹائر ہوئے۔ اس دوران آپ کوحفاظت مرکز قادیان اور پھر فرقان بٹالین کے کمپنی کمانڈر کی حیثیت سے بھی خدمات بجالانے کی توفیق ملی۔ ریٹائرڈ ہونے کے بعد آپ نے اپنی زندگی خدمت دین کیلئے وقف کردی۔ چنانچہ انگلستان میں ایک سال سے کچھ زائد عرصہ، امریکہ میں چھ سال اور جاپان میں ساڑھے پانچ سال بطور مربی خدمت کی سعادت پائی۔ اس دوران بعض تصانیف بھی کیں جن میں دعوت الی اللہ کے واقعات (دو حصے)، اسلام اور عیسائیت (انگریزی) اور دل کی آواز (شعری مجموعہ) شامل ہیں۔ آپ کا مختصر ذکرِ خیر مکرم پروفیسر (ر) محمد سلطان اکبر صاحب کے قلم سے روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 8؍اکتوبر 1997ء میں شامل اشاعت ہے۔
محترم میجر صاحب کے قیام جاپان کے دوران اکتوبر 1970ء میں ٹوکیومیں ایک بین الاقوامی کانفرنس ’’امن اور بنیادی انسانی حقوق‘‘ کے متعلق منعقد ہوئی جس میں دنیا کے دس بڑے مذاہب کے 210 نمائندے شامل ہوئے۔ اس کانفرنس میں محترم میجر صاحب کو اسلام کی تعلیمات کو پیش کرنے کی سعادت حاصل ہوئی اور اس سلسلہ میں آپ کی پیش کردہ قرارداد کو نہ صرف منظور کیا گیا بلکہ ہر مکتب فکر کی طرف سے اسے شاندار خراج عقیدت پیش کیا گیا۔
محترم میجر عبدالحمید صاحب کو کچھ عرصہ ربوہ میں بطور نائب وکیل التبشیر اور سیکرٹری کمیٹی آبادی ربوہ بھی کام کرنے کا موقع ملا۔ آپ انگریزی زبان پر کامل عبور رکھتے تھے، مدلل و مسکت گفتگو کے ماہر اور عیسائیت و اسلام کے جید سکالر تھے نیز تقویٰ و طہارت اور دل آویز طرز بیان کا ایک پاک نمونہ تھے۔ 24؍ ستمبر 1997ء کو ربوہ میں وفات پائی اور بہشتی مقبرہ میں تدفین عمل میں آئی۔

50% LikesVS
50% Dislikes
0

اپنا تبصرہ بھیجیں