محترم میر مسعود احمد صاحب

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 14؍اپریل 2003ء میں مکرم عبدالباری صاحب اپنے مضمون میں محترم سید میر مسعود احمد صاحب کا ذکر خیر کرتے ہوئے رقمطراز ہیں کہ جب آپ کوپن ہیگن میں مربی تھے تو وہاں پہنچنے والے احمدیوں کی ہر ممکن مدد اور خدمت پر مستعد رہتے۔ جب مَیں وہاں پہنچا تو تیس کے قریب دوست پہلے سے وہاں مقیم تھے۔ وہ نمازیں پڑھتے، کھانا کھاتے، آرام سے سوتے اور روزگار کی تلاش کرتے۔ جس کو کام مل جاتا وہ چلا جاتا اور اس کی جگہ کوئی اَور آجاتا۔ میر صاحب سب سے بہت خندہ پیشانی سے پیش آتے، روزانہ صبح مختلف فیکٹریوں میں فون کرتے، لوگوں کو پتہ لکھ کر دیتے، بس کا روٹ سمجھاتے۔ جب سب چلے جاتے تو پھر انتظار کرتے کہ کون کام ملنے کی خوشخبری لاتا ہے۔ صبح نماز کے وقت ہال میں تشریف لاکر بلند آواز سے سلام کرتے اور پھر مسجد چلے جاتے۔ کئی بار ہم شام کو تھکے ہارے مسجد پہنچتے تو آپ نے ایک بڑا دیگچا سالن کا تیار کرکے رکھا ہوتا۔
ایک بار کسی نے میونسپلٹی میں شکایت کردی کہ مسجد میں بہت سارے لوگ رہتے ہیں۔ میونسپلٹی کے عملہ نے آپ سے پوچھا تو فرمایا کہ مَیں ان کو کیسے نکال دوں، ہاں اگر آپ ان لوگوں کی رہائش کا کوئی انتظام کردیں تو یہ وہاں چلے جائیں گے۔ اس کے بعد پھر کبھی کسی نے نہ پوچھا۔ کام ملنے کے بعد بھی مَیں دو سال تک مسجد سے ملحقہ ایک کمرہ میں رہا۔ مسجد کی عمومی ڈیوٹی میرے سپرد تھی۔
محترم میر صاحب بہت مہمان نواز تھے۔ مسجد میں احمدیوں کے علاوہ غیراحمدی بھی کثرت سے پناہ لیتے تھے اور حسن اخلاق دیکھ کر آپ کے مداح ہوجاتے۔ بازار میں آپ سے ملنے کے لئے کئی بار لوگوں کی قطار بن جاتی۔ جب مَیں قائد خدام الاحمدیہ تھا تو آپ کی ہدایت پر کئی مبلغین اور معززین کو دیگر ممالک سے مدعو کیا۔
آپ نظام کا بہت احترام فرماتے۔ ایک بار کسی دوست نے ذاتی مسئلہ کی وجہ سے ایک ذمہ دار شخص کے بارہ میں غلط ریمارکس دیدیئے تو آپ نے اس کا علم ہونے پر اُس دوست کا داخلہ اپنے ہاں بند کردیا۔ چنانچہ اُس دوست کو معذرت کرکے اپنے الفاظ واپس لینے پڑے۔
آپ بہت اچھے نشانہ باز تھے اور شکار کا بہت شوق تھا۔ ایک میلے پر جب آپ ہمارے ساتھ گئے تو نشانہ بازی کے مقابلہ میں مسلسل تین بار انعام جیتا۔ اس پر دکاندار نے کہا کہ اب آپ اس میں حصہ نہیں لے سکتے ورنہ ساری دکان ہی لے جائیں گے۔ آپ بہت زندہ دل تھے۔ ایک بار مجھے ایک مشکل مقام سے اتر کر سمندر کے پانی کو ہاتھ لگانے پر ایک سو کراؤن دینے کی پیشکش کی۔ مَیں پانی کو ہاتھ لگاکر واپس آیا تو رقم دیدی اور فرمایا کہ مَیں تمہاری جرأت دیکھنا چاہتا تھا۔

50% LikesVS
50% Dislikes
0

اپنا تبصرہ بھیجیں