محترم پروفیسر محمد عثمان صدیقی صاحب

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 20؍نومبر1997ء میں محترم پروفیسر محمد عثمان صدیقی صاحب کا ذکرخیر ان کی اہلیہ محترمہ کے قلم سے شامل اشاعت ہے۔
محترم صدیقی صاحب 6؍جون 1920ء کو موضع سوہاوہ (منڈی بہاؤالدین) کے ایک نیک اور غریب بزرگ حضرت حکیم محمد صدیق صاحبؓ صحابی حضرت مسیح موعودؑ کے ہاں پیدا ہوئے جن کا ذریعہ معاش معمولی حکمت کا کام تھا اور ان کو یہ توفیق بھی نہیں تھی کہ اپنے بیٹے کی تعلیم کے اخراجات برداشت کرسکیں۔ چنانچہ محترم صدیقی صاحب جب سکول میں داخل ہوئے تو تعلیمی اخراجات آپ کے چچا نے برداشت کئے۔ پانچویں جماعت پاس کی تو والد نے ایک لوہار کی دوکان پر کام سیکھنے کے لئے رکھوادیا۔ پہلے روز ہی آپ سارا دن دوکان پر بیٹھے روتے رہے اور رات کو اپنے والدین سے اصرار کیا کہ آپ کو مزید پڑھنا ہے چنانچہ آپ کو دوبارہ سکول میں داخل کروادیا گیا ۔ آٹھویں پاس کرنے کے بعد آپ نے مدرسہ احمدیہ میں داخلہ لے لیا اور مولوی فاضل کا امتحان پاس کرکے سکول میں استاد ملازم ہوگئے۔اسی دوران میٹرک پاس کیا اور جامعہ احمدیہ میں کچھ عرصہ تعلیم حاصل کرکے مربی بن گئے۔
ابھی آپ کی شادی کو ایک سال بھی نہیں ہوا تھا کہ حضرت مصلح موعودؓ نے آپ کو تبلیغ کے لئے اٹلی جانے کا ارشاد فرمایا اور آپ 18؍دسمبر 1945ء کو قادیان سے روانہ ہوئے اور بمبئی سے بحری جہاز کے ذریعے سفر کرکے لندن پہنچے جہاں 6 ماہ قیام کرنے کے بعد جولائی 1946ء میں اٹلی پہنچے۔ اس وقت جماعت کی مالی حیثیت ایسی تھی کہ آپ کو کوئی خرچ نہ بھجوایا جاسکتا تھا۔ چنانچہ پہلے تو آپ نے اپنی چیزیں بیچ کر کھانے پینے کا بندوبست کیا لیکن اس کے بعد فاقہ کشی تک نوبت پہنچ گئی۔ ایک دوست کے کہنے پر معمولی اشیاء سڑکوں پر بیچ کر گزارہ کرتے رہے اور پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کی خواہش کے مطابق ٹیوشن پڑھانے کا بندو بست فرمادیا۔ کچھ عرصے بعد آپ کو واپس لندن بلاکر سیرالیون بھجوادیا گیا جہاں آپ کا قیام چار سال تک رہا۔ وہاں سے واپس پاکستان آنے کا حکم ملا اور آپ غانااور سوڈان میں مختصر قیام کے بعد ربوہ آگئے۔ پاکستان واپس پہنچ کر محترم صدیقی صاحب پہلے جامعہ نصرت میں ٹیچر رہے اور اسی دوران پرائیویٹ طور پر F.A. اورB.A. کے امتحانات پاس کئے اور پھر پنجاب یونیورسٹی سے اسلامیات اور عربی میں M.A. کی ڈگریاں حاصل کیں۔کچھ عرصہ تعلیم الاسلام کالج ربوہ سے وابستہ رہے اور پھر گھٹیالیاں میں بطور پروفیسر تقرر ہوا جہاں سات سال تدریس کے فرائض سرانجام دیئے۔ پھر دوبارہ ربوہ کالج میں تعینات ہوئے اور 8؍اگست 1997ء (یعنی وفات تک) باقی تمام عرصہ ربوہ میں ہی مقیم رہے۔
محترم صدیقی صاحب نے انتہائی سادہ اور خاموش زندگی بسر کی۔ سفید اور سادہ لباس جو استری سے بے نیاز ہوتا زیب تن رکھتے تھے۔بہت حلیم تھے، بے شمار بچوں کو قرآن کریم کی تعلیم دی۔ اپنی تکالیف اور پریشانیوں کا کبھی کسی سے شکوہ نہ کرتے بلکہ ہر معاملہ خدا پر چھوڑ دیتے۔

50% LikesVS
50% Dislikes
0

اپنا تبصرہ بھیجیں