محترم پیر معین الدین صاحب

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 31؍مئی 2007ء میں محترم پیر معین الدین صاحب کا ذکر خیر مکرم مرزا خلیل احمد قمر صاحب کے قلم سے شامل اشاعت ہے۔
جامعہ احمدیہ میں انگریزی اور تفسیرالقرآن کے استاد محترم پیر معین الدین صاحب M.Sc (کیمیا) تھے اور تاریخ احمدیت میں فضل عمر ریسرچ انسٹیٹیوٹ میں خدمت کے حوالہ سے آپ کا ذکر بھی محفوظ ہے۔ آپ کی شادی محترمہ صاحبزادی امۃالنصیر صاحبہ (بنت حضرت مصلح موعودؓ) سے ہوئی تھی۔
آپ کے بزرگوار پیر اکبر علی صاحب MLA فیروز پور کی غریب پروری، مہمان نوازی اور احمدیت سے اخلاص و وفا کا ذکر محترم ثاقب زیروی صاحب اکثر کیا کرتے تھے۔ وہ اپنے علاقہ ضلع فیروزپور کے ممتاز سیاستدان تھے۔ علاقہ بھر کے مسلمان و ہندو ان کا یکساں احترام کرتے تھے۔ سیاستدان ہونے کی وجہ سے دیگر سیاستدانوں اور قائد اعظم محمد علی جناح کے ساتھ بھی آپ کے روابط تھے۔ 1945ء میں مسلم لیگ جب ہندوستان کے مسلمانوں کی واحد نمائندہ جماعت ہونے کی حیثیت سے انتخاب لڑ رہی تھی اس وقت حضرت مصلح موعودؓ نے محترم پیر صاحب کے ذریعہ ہی مسلم لیگ کی مرکزی قیادت اور قائد اعظم سے سلسلہ جنبانی شروع کیا تھا جو مسلم لیگ کی مکمل حمایت پر منتج ہوا۔ محترم پیر معین الدین صاحب کے بڑے بھائی محترم پیر صلاح الدین صاحب ریٹائرڈ کمشنر حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحبؓ کے داماد اور حضرت مصلح موعودؓ کے ہم زلف تھے۔ انہوں نے قرآن مجید کا انگریزی ترجمہ کیا اور اردو میں تین جلدوں میں ترجمہ مع تفسیر شائع کیں۔
محترم پیر معین الدین صاحب کی ایک بڑی علمی خدمت ’’مخزن معارف‘‘ کا مرتب کرنا بھی ہے۔ اس بارہ میں آپ تحریر فرماتے ہیں: حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ بیمار ہوگئے اور تفسیر کبیر کی تالیف کا کام رک گیا۔ تو خاکسار نے حضورؓ کی خدمت میں عرض کی مطبوعہ تفسیر کبیر کا خلاصہ تومیں شائع کرچکا ہوں۔ آگے تفسیر کبیر تو نہیں ہے مگر ہمارے لٹریچر میں تفسیر کا کافی مواد موجود ہے۔ حضرت مسیح موعودؑ کی کتب و ملفوظات، حضرت خلیفہ اولؓ کے درس القرآن کے نوٹ اور خود حضورؓ کے مطبوعہ ارشادات اور غیرمطبوعہ قلمی نوٹ موجود ہیں ان سے تفسیر مرتب کی جاسکتی ہے۔ حضورؓ نے مجھے اس کام کی اجازت دی اور ازراہ شفقت اپنے بیش قیمت ’’غیر مطبوعہ قلمی نوٹ‘‘ بھی مرحمت فرمائے ۔ …
فرمایا: ایک بات ہے جس کے بیان کرنے سے مجھے طبعاً حجاب محسوس ہوتا ہے مگر میں اسے اس لئے بیان کردیتا ہوں کہ اس میں سلسلہ کی صداقت کا ایک بڑا نشان ہے۔ جن دنوں میں ہماری شادی کے لئے استخارے ہورہے تھے ان دنوں میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ نے اپنی اس بیٹی کے متعلق جو بعد میں میرے عقد میں آئیں یہ رؤیا دیکھی تھی کہ انہوں نے ایک لونگ پہنا ہوا ہے جو ستارے کی شکل کا ہے اور اس کے چھ کونوں پر لگے ہوئے نگ عام نگوں سے بہت مختلف روشن اور چمکدار ہیں۔ پہلی دفعہ جب میں نے یہ رؤیا پڑھی تو اسی وقت میرے دل میں یہ خیال آیا کہ یہ رؤیا میرے متعلق ہے اس کے کئی سال بعد شادی ہوئی مگر اس وقت کے بعد سے مجھے ہمیشہ یہ خیال رہتا تھا کہ خدا تعالیٰ مجھ سے کوئی اہم دینی خدمت لے گا۔ اس خواب کے آٹھ سال بعد مخزن معارف کا کام شروع ہوا اور اس کی پہلی جلد میں ہی میں نے یہ رؤیا لکھ کر عرض کی تھی کہ میرے خیال میں اس میں ’’مخزن معارف‘‘ کے کام کی توفیق ملنے کی طرف اشارہ تھا۔…
خاکسار نے کام شروع کیا تو اس کے متعلق دعا کی تو خواب میں دیکھا کہ مبارک احمد نامی ایک عزیز دوست آئے ہیں اور مجھ سے گلے ملے ہیں۔ پھر ایک اور موقع پر میں نے سیدنا حضرت مسیح موعودؑ کو خواب میں دیکھا۔ میرے دل میں حضور سے مصافحہ کی خواہش پیدا ہوئی۔ اِدھر یہ خواہش پیدا ہوئی اُدھر حضورؑ نے میرے بغیر کہنے کے میری طرف ہاتھ بڑھایا اور میں نے مصافحہ کا شرف حاصل کیا۔ پھر میرے دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ کاش میں نے حضورؑ کا ہاتھ چوما بھی ہوتا۔ اس وقت پھر بغیر میرے کچھ کہنے کے حضورؑ نے دوبارہ اپنا ہاتھ میری طرف بڑھایا۔ اس وقت میرے دل میں بڑی شدت سے یہ خیال پیدا ہوا کہ یہ ہاتھ چونکہ حضورؑ کے ہاتھوں سے ملے ہیں اب جو میرے ہاتھوں سے ہاتھ ملائے گا وہ بھی برکت پائے گا۔ مجھے خداتعالیٰ کے فضل سے کبھی اپنے متعلق غلط فہمی نہیں ہوئی اور میں نے بیداری میں کبھی اپنے متعلق ایسا خیال نہیں کیا۔ اس لئے یہ خواب نفس کا دھوکہ نہیں ہوسکتی … رؤیا کی یہی تعبیر تھی کہ سیدنا حضرت مسیح موعودؑ کی برکت سے (باوجود میری نا اہلی کے) خدا تعالیٰ محض اپنے فضل سے میرے ہاتھ سے یہ ایک ایسا کام لینا چاہتا تھا کہ جس سے فائدہ اٹھانے والے برکت پائیں گے۔
محترم پیر صاحب کو پہلے تو اپنی تحقیق کی کتابت کے لئے کسی ایسے کاتب کی تلاش ہوتی تھی جو آپ کی مرضی کے مطابق کام کردے اور مضمون کو بار بار کاٹنے سے کترائے نہیں۔ معاوضہ دیتے وقت یہ خیال رکھتے تھے کہ کاتب کو نقصان نہ ہو۔ جب کمپیوٹر کا چرچا ہوا تو آپ کی دلچسپی کی یہ بات تھی کہ جہاں چاہو مواد شامل کردو اور جہاں سے چاہو مواد نکال دو۔ چونکہ جب بھی کتابت شدہ مواد ان کے سامنے جاتا تو وہ اس میں کانٹ چھانٹ اور اضافے ضرور فرما دیتے تھے چنانچہ دولاکھ روپے کا کمپیوٹرخریدا اور کسی نوجوان سے مدد لی تاکہ کمپیوٹر پر ہی کام کروالیا جائے۔
آپ کو قرآن کریم سے بہت محبت تھی۔ اس کے مضامین پر بہت غور و خوض کرتے رہتے تھے۔ آپ کے بلند پایہ تحقیقی مضامین الفضل اور مجلہ جامعہ میں شائع ہوتے رہے ہیں۔ آپ بہت علم دوست، مہمان نواز، غریب پرور اور منکسرالمزاج درویش انسان تھے۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/H3yk3]

اپنا تبصرہ بھیجیں