محترم چوہدری رحمت خاں صاحب

ماہنامہ ’’مصباح‘‘ ربوہ جون 2009ء میں محترم چودھری رحمت خاں صاحب سابق امام مسجد فضل لندن کا ذکرخیر آپ کی بیٹی محترمہ صوفیہ خانم صاحبہ کے قلم سے شامل اشاعت ہے۔
محترم چودھری رحمت خاں صاحب 1899ء میں دھیرکے کلاں ضلع گجرات میں ایک معزز احمدی زمیندار گھرانے میں حضرت چوہدری خوشی محمد صاحبؓ کے ہاں پیدا ہوئے۔ 1918ء میں میٹرک کرنے کے بعد B.A. تک تعلیم حاصل کی اور زمیندار ہائی سکول گجرات کے ہیڈماسٹر کے طور پر ریٹائر ہوئے۔
آپ قریباً چالیس سال تک دھیر کے کلاں جماعت کے صدر رہے۔ بچپن سے پنجوقتہ نماز کے عادی تھے۔ جس کی وجہ یہ بتاتے کہ چودہ سال کی عمر میں کسی وجہ سے آپ کی ٹانگ سوجنا شروع ہوگئی۔ کچھ عرصہ بعد مادہ رسنا شروع ہوگیا۔ آخر کار جب کوئی علاج فائدہ مند ثابت نہ ہوا تو ڈاکٹروں کا مشورہ تھا کہ ٹانگ کاٹ دی جائے کیونکہ ٹانگ کی ہڈی گلنا شروع ہوگئی تھی۔ آپ معذوری کے شدید خوف میں مبتلا تھے اور ایسے میں اللہ تعالیٰ سے گریہ و زاری سے یہ عرض کیا کہ اگر میری ٹانگ ٹھیک ہو گئی جو بظاہر ناممکن نظر آتا ہے مگر تیرے لئے تو کچھ ناممکن نہیں تو میں آخری سانس تک کوئی نماز قضاء نہیں کروں گااور تو ہی مجھے اس عہد کو نبھانے کی توفیق عطا کرنا۔
اس کے بعد ایک روز آپ نے زخم والی جگہ پہ اپنی ہڈی کو ہاتھ سے ٹٹولا تو گلی ہوئی ہڈی ٹوٹ کر آپ کے ہاتھ میں آگئی، پھر آہستہ آہستہ زخم بھرنا شروع ہوگیا اور آپ نے چلنا پھرنا شروع کردیا۔ چنانچہ پھر آپ نے آخری سانس تک اپنے عہد کو نبھایا اور تہجد بھی باقاعدگی سے ادا کرتے تھے۔ اپنے بچوں کو نماز کی پابندی کروانے کی ہمیشہ کوشش فرماتے رہے۔ نہایت درجہ صابر و شاکر تھے۔ اپنی زندگی میں بہت سے صدمات برداشت کئے جس میں لندن میں زیرتعلیم 26 سالہ نوجوان بیٹے کی وفات بھی تھی۔
اللہ تعالیٰ نے آپ کو حسن صورت کے ساتھ ساتھ حسن سیرت اور حسن قراء ت اور خوش الحانی سے بھی نوازا تھا۔ علم بہت وسیع تھا۔ آپ فرمایا کرتے تھے کہ ساری عمر خدا تعالیٰ کا خاص فضل رہا اور وہ میرے ہر کام میں راہنما بنا رہا ۔ میں نے ساری عمر سروس وغیرہ کے لئے بھی درخواست نہیں لکھی۔ یہاں تک کہ جب ہیڈ ماسٹر ہونے کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے تو اُن ہی دنوں حضرت خلیفۃالمسیح الثانیؓ نے رؤیا میں دیکھا کہ گویا حضورؓ حضرت اُمّ ناصر مرحومہ والے مکان میں تشریف فرما ہیں اور محسوس کرتے ہیں کہ گویا آپؓ کسی کے منتظر ہیں۔ اتنی دیر میں سیڑھیاں چڑھنے کی آواز آئی اور ایک ہاتھ مصافحہ کے لئے دروازہ میں سے آیا۔ حضورؓ فرماتے ہیں کہ میں نے وہ ہاتھ پہچان لیا کہ یہ ہاتھ چوہدری رحمت خاں صاحب کا ہے جو ضلع گجرات کے ایک گاؤں میں رہتے ہیں۔ انہوں نے 1922 ء میں قادیان میں بڑی محنت سے درس میں شمولیت کی اور درس جاری رکھنے کی رپورٹس بھی مجھے ملتی رہتی ہیں۔ میں نے ہاتھ پکڑ کر آگے کھینچ لیا … پھر حضورؓ نے نام کی تعبیر کرتے ہوئے فرمایا کہ چوہدری کا لفظ بڑائی کے لئے استعمال ہوتا ہے اس لئے ان کے نام کا مطلب ہے ’’بہت بڑی رحمت‘‘ ۔
جب خطبہ جمعہ میں حضورؓ نے یہ رؤیا بیان فرمائی تو چودھری صاحب ملاقات کے لئے حاضر ہوئے۔ اس موقعہ پر محترم صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب (وکیل التبشیر) بھی موجود تھے۔ حضورؓ نے اُن سے فرمایا: ’’چوہدری صاحب بڑے کام کے آدمی ہیں۔ انہوں نے 1922ء میں مجھ سے بڑی محنت سے درس لیا ہے۔ ان سے کوئی اعلیٰ کام لو۔ ان کو باہر بھیجو۔ میں نہیں پسند کرتا کہ باہر اشاعت کے لئے جوان لڑکے جائیں‘‘۔ چنانچہ 22؍ اکتوبر 1960ء کو لندن مرکز کے انچارج کی حیثیت سے آپ روانہ ہوئے اور 11 ؍اپریل 1964ء کو واپس ربوہ تشریف لائے۔ دو اڑہائی ماہ بعد حضورؓ نے آپ کو احمدیہ ہوسٹل لاہور کا چارج سنبھالنے کا حکم دیا اور یہ خدمت آپ آخر تک بجالاتے رہے۔
آپ صاحب رؤیا و کشوف بھی تھے۔ کئی بار قبل از وقت ہمیں کسی خبر سے آگاہ کردیتے۔ اللہ تعالیٰ پر بے انتہا توکّل تھا۔ 1966-1965ء میں خاکسار M.A. کی طالبہ تھی اور آپ کے ہمراہ عید کے لئے گاؤں جانے کے لئے نکلی لیکن بس اڈّہ پہنچانے کے لئے بھی کوئی رکشہ نہیں مل رہا تھا۔ اسی پریشانی میں دیر تک سڑک پر کھڑے رہے حتیٰ کہ شام ہونے لگی تو مَیں گھبراگئی۔ آپ نے میری پریشانی کو محسوس کرکے یہ الفاظ کہے ہی تھے کہ لَاتَحْزَنْ اِنَّ اللّٰہَ مَعَنَا کہ ایک کار ہمارے سامنے آکر رُکی۔ ایک شخص نے نکل کر سلام کیا اور پوچھا کہ کہاں جانا ہے؟ آپ نے جواب دیا کہ جانا تو اڈّہ تک ہی ہے مگر رش کی وجہ سے رکشہ وغیرہ نہیں مل رہا۔ وہ کہنے لگا: اڈّہ سے پھر گجرات جانا ہے! آپ نے پہچانا نہیں، مَیں آپ کا فلاں شاگرد ہوں … چنانچہ ہم آرام سے گاڑی میں گجرات پہنچ گئے۔
دھیرکے میں محترم چودھری صاحب کا بہت احترام تھا۔ سخت متعصب بھی آپ کی امامت میں نماز ادا کرلیتے ۔ آپ کے بیٹے مسعود کے جنازہ میں اور پھر آپ کی وفات پر بھی بے شمار غیراحمدی ربوہ پہنچ کر نماز جنازہ میں شامل ہوئے۔
22 جولائی 1968ء کو احمدیہ ہاسٹل موسم گرما کی تعطیلات کی وجہ سے بند ہوا تو آپ ربوہ آگئے۔ چند روز بعد وقف عارضی کے لئے دھیرکے جانا تھا۔ لیکن 29 جولائی کی رات حرکت قلب بند ہوجانے سے 69 سال کی عمر میں وفات پاگئے۔ حضرت خلیفۃالمسیح الثالثؒ نے اُسی دن کراچی تشریف لے جانا تھا لیکن محترم چودھری صاحب کے جنازہ کے لئے حضورؒ نے پروگرام تبدیل فرمالیا۔ سینکڑوں افراد نے حضورؒ کی اقتداء میں نماز جنازہ ادا کی۔
محترم چودھری صاحب کی ساری اولاد کو بھی اللہ تعالیٰ نے مختلف حیثیتوں میں جماعتی خدمات کی توفیق عطا فرمائی۔ محترم چوہدری بشیر احمد خان صاحب جو 1974ء میں صدرعمومی ربوہ تھے اور اسیر راہ مولیٰ بھی رہے، آپ کے فرزند تھے۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/z0R4G]

اپنا تبصرہ بھیجیں