محترم ڈاکٹر طارق بشیر صاحب شہید

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 4؍اکتوبر 2010ء میں مکرم رانا عبدالرؤف صاحب نے اپنے مضمون میں اپنے ہم زلف اور خالہ زاد محترم ڈاکٹر طارق بشیر صاحب شہید کا ذکرخیر کیا ہے جو 28؍ مئی 2010ء کو دارالذکر لاہور کی دہشتگردی میں شہید ہوگئے۔
نماز جمعہ سے تھوڑی ہی دیر پہلے محترم ڈاکٹر طارق بشیر صاحب اپنی بیٹی کو میڈیکل کالج سے گھر لائے اور جلدی میں کھانا کھائے بغیر دارالذکر چلے گئے۔ دہشتگردوں کے حملہ کی ابتداء میں ہی اُن کی گولیوں سے شہادت کا درجہ پایا۔ آپ کے بیٹے ڈاکٹر نبیل طارق کو بھی دو گولیاں (بازو اور ران میں) لگیں اور کچھ Splinters بھی جسم کے مختلف حصوں پر لگے۔
محترم ڈاکٹر طارق بشیر صاحب ایک نہایت پڑھے لکھے خاندان کے چشم و چراغ تھے۔ آپ کے نانا خان بہادر نعمت خان صاحب ریٹائرڈ سیشن جج، ICS میں ٹاپ کرنے والے طالب علم تھے۔ وہ لمبا عرصہ تک جلسہ سالانہ قادیان و ربوہ کے ایک سیشن کی صدارت بھی کرتے رہے۔ ڈاکٹر صاحب کی والدہ صاحبہ بھی ایک تعلیمیافتہ خاتون تھیں۔ اسی طرح محترم ڈاکٹر صاحب بھی ایک قابل تقلید زندگی گزار کر گئے۔ اپنی ڈیوٹی انتہائی ایمانداری، محنت اور لگن سے ادا کرتے۔ غریبوں اور عزیز رشتہ داروں کا خاص خیال رکھتے۔ مہمان نوازی کا وصف ڈاکٹر صاحب اور ان کی زوجہ کو اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر عطا کیا تھا۔ مکرم ڈاکٹر صاحب خود بہت خاموش طبع تھے۔ غیرضروری بحث مباحثہ میں دخل نہ دیتے تھے۔ آپ کے ددھیال میں صرف آپ کے والد چوہدری محمد یوسف صاحب اکیلے احمدی تھے اور مخلصین میں نمایاں مقام رکھتے تھے۔
ڈاکٹر صاحب مرحوم کو ایمانداری کا وصف ننھیال اور والد کی طرف سے ورثہ میں ملا۔ ڈاکٹر صاحب کی طبیعت میں بے جا بیباکی قطعاً نہ تھی۔ کسی امیر غریب رشتہ دار سے یکساں ملنا ان کا وصف عظیم تھا۔ کبھی آپ کو اونچی آواز میں بات کرتے نہیں سنا۔ اپنی طبی مصروفیات کے باوجود گھر کی ہر ضرورت کا خود خیال رکھتے۔ چندہ دینے کی ایک تاریخ مقرر کر رکھی تھی۔ مقررہ تاریخ پر خود جاکر چندہ ادا کرتے۔ باوجود صاحب ثروت ہونے کے بچوں کو بسوں ویگنوں میں بھی بھیجنے سے کبھی اجتناب نہ کیا۔
آپ اپنے پیشے میں مستند مانے جاتے تھے۔ قصورؔ میں آپ نے اپنا ریڈیالوجی کلینک بنایا ہوا تھا۔ شہادت سے چند روز قبل فیس میں اضافہ کی تختی بنوائی لیکن بعد میں اس تختی کو اٹھا کر ایک طرف رکھ دیا اور پوچھنے پر بتایا کہ پتہ نہیں قصور کے اردگرد کے لوگ میری موجودہ فیس بھی کیسے ادا کرتے ہوں گے (جوکہ دوسرے ڈاکٹروں کی نسبت کہیں کم تھی)۔
حضرت مسیح موعودؑ کی کتب کے مطالعہ کا بہت شوق تھا۔ اس کے علاوہ حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ کی کتاب “Revelation, Rationality … ” اس قدر پسند تھی کہ عش عش کر اٹھتے۔ باوجود مصروفیت کے جماعتی اجلاسوں میں شرکت کرتے۔

پرنٹ کریں
0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/gLu0O]

اپنا تبصرہ بھیجیں