محترم ڈاکٹر عبدالمنان صدیقی شہید کے والد محترم کی سیرت

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 29؍اکتوبر 2008ء میں مکرم قریشی فائق محی الدین عامر صاحب بیان کرتے ہیں کہ یہ عاجز 1974ء کی یورش کے ابتدائی ایام میں لاہور سے میرپور خاص آیا اور پھر یہیں کا ہورہا۔ محترم ڈاکٹر عبدالرحمن صدیقی صاحب سے تعلق مسلسل بڑھتا گیا۔ محترم ڈاکٹر صاحب ایک لمبا عرصہ ڈویژنل امیر رہے۔ اعلیٰ اقدار کی حفاظت اور خلافت احمدیہ سے والہانہ وابستگی بلکہ وارفتگی اس خاندان کاخاصہ ہے۔ آپ کی مربیانہ شفقت اور طرز تکلم مجھے بہت ہی پسند تھا۔ جماعتی اور نجی دوروں میں آپ اس عاجز کو ہمراہ لے جاتے اس طرح انہیں بہت قریب سے دیکھنے اور سننے کا اتفاق رہتا۔ بسا اوقات رات دیر گئے تک ہسپتال میں باتیں ہوتی رہتیں اور پھر رات وہاں بسر کرتے۔ مگر صبح فجر کی نماز اُس کے وقت پر ادا کرواتے۔ ایک بار فرمانے لگے ’’ہمارے بزرگان عرصہ سے دکن میں آباد تھے۔ میرے ہوش سنبھالنے سے قبل ہی والد صاحب کا انتقال ہو چکا تھا ۔ میری پرورش چچا جان نے کی۔ ابتدائی تعلیم کے اختتام پر چچا کہنے لگے کہ میاں سہرا باندھنے کی تیاری کرو۔ تو میں نے کہہ دیا کہ چچا جان ابھی اس میں دیر ہے۔ مجھے تو ڈاکٹر بننا ہے۔ چچا خاموش رہے۔ ایک روز میں نے بتایا کہ میں نے میڈیکل کالج میں داخلہ لے لیا ہے۔ چچا حیران ہوئے۔ سقوط دکن سے قبل میں MBBS کر چکا تھا۔ پھر میں ربوہ چلا آیا اور سیدنا حضرت مصلح موعودؓ کی خدمت اقدس میں پیش ہوا آپ نے بے حد شفقت فرمائی اور مجھے حضرت ڈاکٹر مرزا منور احمد صاحب کے ہمراہ فضل عمر ہسپتال میں چند ماہ کام کرنے کا موقع ملا۔ چند ماہ بعد میں پھر حضورؓ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ حضور ملازمت کرنا میرے مزاج کے خلاف ہے۔ آپ نے مجھے تھرپار کر سندھ جانے کا مشورہ دیا اور فرمایا کہ سندھ میں ڈاکٹروں کی بہت کمی ہے، غرباء کو علاج معالجہ میں بہت دشواری رہتی ہے۔ آپ وہاں خدمت خلق پر توجہ دیں۔ سو میں میرپور خاص چلا آیا اور جلد اپنی پریکٹس شروع کر دی۔
حضرت ڈاکٹر صاحب کا سندھ میں قیام کا عرصہ 58 برس پر محیط ہے۔ اس علاقہ میں ایسی شہرت اور نیک نامی شائد ہی کسی کو نصیب ہوئی ہو۔ بلا امتیاز رنگ و نسل ہر قسم کے تعصب سے ہر دَور میں پاک رہنے والا یہ خاندان جس نے اپنے پرائے کی کبھی تفریق نہیں کی۔ دن رات امیر و غریب کی خدمت میں یکساں مصروف عمل رہا۔ دور دراز سے آئے ہوئے غریب لاچار اور بیکس مریضوں کی تشخیص علاج معالجہ اپنی گرہ سے ادویات فراہم کرنا، ان کی رہائش اور قیام و طعام بلکہ سفر خرچ بشاشت اور بہ رضا و رغبت انسانی ہمدردی اور خدا کی رضا کے لئے برسوں پیش کرتے رہے۔ ایک بار محترم ڈاکٹر عبدالرحمن صاحب نے فرمایا کہ ہم برسوں بے اولاد رہے۔ جماعت کے بعض احباب بڑے اخلاص سے مجھے دوسری شادی کیلئے رغبت دلاتے مگر میں نے کبھی کسی کی نہ سنی۔ میں اپنی بیگم صاحبہ اور ان کے خاندان کے اوصاف سے بخوبی واقف تھا۔ بالآخر اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے ہمیں اولاد عطا فرمائی۔
ڈاکٹر عبدالمنان صدیقی صاحب کے طالبعلمی کے زمانہ کا میں عینی شاہد ہوں۔ ان کی عادات و اطوار ہرگز رواجی بچوں جیسے نہ تھے بلکہ ایک خاص خاندانی وقار اور اعلیٰ اخلاق ان سے بچپن ہی میں ظاہر ہوا کرتے تھے۔ اُن کو اپنے ہم عمر بچوں کے ساتھ لڑتے جھگڑتے یا ہلکی گفتگو کرتے کبھی نہیں سنا نہ دیکھا اور نہ کبھی ان کی شکایت کسی سے سنی۔ 1979ء میں انہوں نے گورنمنٹ شاہ عبداللطیف کالج میرپور خاص میں د اخلہ لیا اور پھر 1982ء میں جناح میڈیکل کالج کراچی میں داخلہ لیا اور 1988ء میں ڈاکٹری کا امتحان اعلیٰ نمبروں سے پاس کیا اور اسی سال اعلیٰ تعلیم کے لئے امریکہ روانہ ہوئے۔
محترم ڈاکٹر عبدالمنان صاحب داعیان الی اللہ پر خصوصی توجہ دیا کرتے تھے۔ میرپور خاص کے نواحی علاقوں میں باقاعدگی سے وفود بھجواتے۔ خودبھی تشریف لے جاتے۔ مراکز نمازپر بغیر اطلاع پہنچ جاتے۔ جہاںسستی دیکھتے وہاں اُنہیں بیدار کرتے اور اس روز احباب کے ہمراہ ناشتہ اسی مرکز پر ہوتا۔ میٹنگز، مشاورت اور کام پوری توجہ اور انہماک سے کرتے۔ آپ اپنے جد امجد کے اوصاف حمیدہ میں جن دو صفات کا اضافہ فرما گئے ان میں سے ایک طبابت کا کمال ہے اور دوسری شہادت کا اعزاز۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/yoy2E]

اپنا تبصرہ بھیجیں