محترم ڈاکٹر عبدالمنان صدیقی شہید

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 11؍اپریل 2011ء میں مکرم ڈاکٹر امتیاز احمد صاحب نے مکرم ڈاکٹر عبدالمنان صدیقی صاحب کی یادیں بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اُن سے مجھے زندگی میں ایک دفعہ ہی ملنے کا موقع ملا جب ڈاکٹر صاحب 2008ء میں احمدیہ میڈیکل ایسوسی ایشن کی میٹنگ میں ربوہ تشریف لائے۔ یہ ملاقات گو چند لمحوں پہ محدود تھی مگر اس کی یاد آج بھی دل میں قائم ہے۔
محترم ڈاکٹر صدیقی صاحب کی شہادت کے چند ماہ بعد مرکز سے مجھے ہدایت ملی کہ میرپور خاص جاکر اُس خلا کو پُر کرنے کی کوشش کرنی ہے جو محترم ڈاکٹر صاحب کی شہادت سے پیدا ہوا ہے۔ چنانچہ خاکسار کو ڈیڑھ سال سے زیادہ عرصہ فضل عمر میڈیکل سنٹر میرپور خاص میں خدمت کا موقع ملا۔ اس دوران میری فیملی کا قیام بھی میرے ساتھ محترم ڈاکٹر صاحب کے مکان کے ایک حصّہ میں ہی رہا۔
شروع کے چند ماہ بہت سے مریض ہسپتال آتے جو ان کی یاد میں روتے۔ میرے لئے یہ ایک ناقابل یقین تجربہ تھا۔ اپنی 25 سالہ پریکٹس میں مَیں نے اتنے مریضوں کو کسی ڈاکٹر کی یاد میں روتے نہیں دیکھا تھا۔ یہ اس بات کی شہادت تھی کہ ڈاکٹر منان صاحب کا اپنے مریضوں سے نہایت ادب، اخلاص اور محبت کا رویہ تھا۔ ان میں اکثر غرباء مریض تھے جو باوجود فیس کی طاقت نہ رکھتے ہوئے بھی ان کے ہسپتال آتے اور مکمل علاج اور شفاء کے بعد رخصت ہوتے۔ اُن کی دریا دلی کا یہ عالم تھا کہ مریض کے پاس اگر فیس کے پیسے نہ ہوتے تو اپنی جیب سے کچھ نہ کچھ دے کر اسے رخصت کرتے۔
ڈاکٹر عبدالمنان شہید کے کمرہ میں بیٹھ کر مجھے یہی احساس ہوتا تھا کہ وہ میرے ساتھ موجود ہیں۔ یہ احساس اُس تمام عرصہ جو میں نے اس ہسپتال میں گزارا، مجھے رہا۔ ان کے گھر کا وہ حصہ جو ہماری رہائش تھا وہ بھی برکتوں سے بھرا ہوا تھا۔ میرے تینوں بچے جو وقف نو کی تحریک میں شامل ہیں۔ انہوں نے بھی وہاں بہت اچھا وقت گزارا اور کئی سچے خواب دیکھے۔
مَیں صدق دل سے یہ کہہ سکتا ہوں کہ میرپور خاص شہر اور اس کے اردگرد رہنے والوں کو شائد کبھی بھی ایسا لائق اور حقیقی حکیم نہ مل سکے گا جو ڈاکٹر ہونے کے علاوہ ایک سچا مومن بندہ تھا۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں