محترم ڈاکٹر محمد اسحاق خلیل صاحب

ماہنامہ ’’النور‘‘ امریکہ کے خلافت نمبر 2008ء میںمحترم ڈاکٹر محمد اسحاق خلیل صاحب (ابن محترم الحاج محمد ابراہیم خلیل صاحب سابق مبلغ اٹلی و مغربی افریقہ) کا ذکرخیر مکرم محمد زکریا ورک صاحب کے قلم سے شامل اشاعت ہے۔
محترم ڈاکٹر محمد اسحق صاحب 7؍مارچ 2008ء کو 73سال کی عمر میں سوئٹزرلینڈ میں وفات پاگئے جہاں آپ چالیس سال سے مقیم تھے۔ آپ موصی تھے۔1970ء میں آپ نے ہمبرگ یونیورسٹی جرمنی سے قانون میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی تھی۔ حافظ قرآن تھے اور 1971ء میں مسجد فضل لندن میں تراویح میں قرآن کریم کا دَور مکمل کرنے کی سعادت حاصل کی تھی۔ حج بیت اللہ بھی کیا۔ متقی، نرم خو، دعاگو اور مستجاب الدعوات تھے۔ بلا کے ذہین و فطین، خوش مزاج اور وسیع مطالعہ کے حامل تھے۔ 1969ء میں آپ کا مقالہ فضل عمر فاؤنڈیشن کے مقابلہ مضمون نویسی میں اوّل قرار پایا تھا۔ جماعتی اخبارات کے علاوہ زیورخ کے جرمن اخبارات میں بھی آپ کے مضامین اور انٹرویوز شائع ہوتے رہتے تھے۔ تبلیغ کا شوق جنون کی حد تک تھا۔ فارسی، عربی، اردو، پنجابی، انگریزی، جرمن اور ترکش زبانوں پر عبور حاصل تھا۔ زیورخ یونیورسٹی میں عربی اور اردو میں تدریس کے فرائض بھی سرانجام دیتے رہے جبکہ یونیورسٹی آف برلن میں سنسکرت پڑھاتے رہے۔ زیورخ میں وکالت بھی کرتے رہے۔ کئی ممالک کے مختلف مدبرین اور سیاستدانوں سے ملاقات کرکے قرآن کریم اور اسلامی لٹریچر کا تحفہ پیش کیا کرتے۔
آپ جیب میں حمائل شریف رکھتے تاکہ حفظ قرآن کی سعادت جو حاصل ہوچکی تھی، اُس میں کمی نہ آئے۔ تلاوت خاص لحن سے کرتے۔ بہت نفاست پسند تھے۔ کتابوں کے دلدادہ تھے اور علم کے شیفتہ۔ گھر میں ضخیم لائبریری بنارکھی تھی۔ تاہم آپ کے علم و فضل پر خاکساری کا پردہ پڑا ہوا تھا۔ مختلف ممالک کے سالانہ جلسوں میں باقاعدگی سے شامل ہوا کرتے۔ اسائلم کی خاطر زیورخ آنے والوں کے لئے شجرِ سایہ دار کی حیثیت رکھتے تھے۔

50% LikesVS
50% Dislikes
0

اپنا تبصرہ بھیجیں