مسجد ناصر سویڈن کی تعمیر نو

جماعت احمدیہ سویڈن کے ششماہی ’’الہدیٰ‘‘ جولائی تا دسمبر 2006ء میں سویڈن کے شہر گوتھن برگ میں مسجد ناصر کی تعمیرنو سے متعلق مکرم انور رشید صاحب سابق امیر کے قلم سے ایک ایمان افروز مضمون شامل اشاعت ہے۔
مضمون نگار بیان کرتے ہیں کہ حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ نے سویڈن کے دورہ کے دوران ایک نماز کے بعد آہستہ سے فرمایا: ’’ماشاء اللہ مسجد چھوٹی ہوگئی ہے‘‘۔ نماز کے بعد مجلس عرفان کا پروگرام تھا، خاکسار نے حضورؒ سے مذکورہ الفاظ کے حوالہ سے مسجد کو بڑا کروانے کے لئے درخواست کی تو حضورؒ نے فرمایا کہ ابھی ایک کمیٹی تشکیل دی جائے جو تعمیرنو پر کام کرے اور مَیں تمام دنیا میں اس مسجد کے فنڈ کے لئے اعلان کروں گا۔ چنانچہ وہیں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی جس کے صدر مکرم مامون الرشید صاحب مقرر ہوئے۔
پہلے پرانی مسجد پر ایک منزل کا اضافہ کرنے کا پروگرام تھا لیکن بعد میں وہ منصوبہ ترک کرکے نیا نقشہ منظور کروایا گیا۔ لیکن پھر معلوم ہوا کہ مسجد ناصر کی زمین کمیون سے لیز پر لی گئی تھی اور کمیون نے اچانک لیز کی قیمت کافی بڑھادی۔ جس پر کمیون سے جماعت کا تنازعہ چل پڑا۔ حضورؒ کو حالات کا علم ہوا تو فرمایا کہ اُس وقت تک تعمیر شروع نہیں کرنی جب تک پلاٹ اپنا نہ ہو۔ آخر کمیون نے پلاٹ کی قیمت آٹھ لاکھ کرونر لگائی جو نہایت مناسب تھی۔ حضورؒ کی خدمت میں جب صدر کمیٹی نے قیمت کا تخمینہ پیش کیا تو آپؒ نے فرمایا: بہت مناسب قیمت ہے، فوراً لے لو۔ اس پر صدر صاحب نے عرض کیا کہ زمین ہماری منشاء کی قیمت میں مل جائے تو اس سے بہتر ہے۔ حضورؒ نے فرمایا کہ کہیں زمین ہاتھ سے نہ نکل جائے۔ لیکن پھر کچھ توقف کے بعد آپؒ نے صدر کمیٹی کو گلے لگاکر فرمایا: اجازت ہے۔ اور دعا دی کہ اللہ تعالیٰ آپ کو آپ کی خواہش والی قیمت میں یہ جگہ عطا کرے۔
ہمارے دل میں خواہش تھی کہ زمین پانچ لاکھ کرونر میں مل جائے۔ 18؍فروری 1997ء کو کمیون سے مذاکرات تھے۔ اس سے قبل حضورؒ سے کسی رقم کا تعیّن کئے بغیر دعا کی درخواست کی گئی تو آپؒ نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ آپ کی تائیدونصرت فرمائے اور زمین کی خرید کے سامان آپ کی خواہش کے مطابق پیدا فرمادے۔ اس دعا کی قبولیت کے کمیٹی کے سب ارکان گواہ ہیں۔ کمیون نے اُس روز پانچ لاکھ کرونر پر زمین دینے کی حامی بھرلی۔ یہ حضورؒ کی قبولیت دعا کا بہت بڑا نشان تھا۔ یہ بھی اہم بات ہے کہ زمین کو خریدنے کے لئے ساری رقم ایک ہی خاندان کو ادا کرنے کی توفیق ملی۔ اسی دوران منظور شدہ نقشہ بھی ناکافی محسوس ہونے لگا تو دو منزلوں پر مشتمل ایک تیسرا نقشہ منظور کروایا گیا اور اُسی کے مطابق تعمیر شروع ہوئی۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہر مرحلہ خودبخود آسان ہوتا چلاگیا یعنی رقم کی فراہمی، کمیون سے تمام منصوبہ کے تیکنیکی کاموں کی منظوری اور تعمیر کی نگرانی وغیرہ۔
رقم کی فراہمی کے تعلق میں ہماری توقع تھی کہ تین چار لاکھ کرونر جمع ہوجائیں گے اور باقی رقم مرکز سے ملے گی۔ لیکن معلوم ہوا کہ ہمیں یہ رقم خود ہی جمع کرنی ہے۔ چنانچہ احباب سے وعدہ جات لئے گئے تو دو ملین کرونر کے وعدے اکٹھے ہوگئے۔ حضورؒ نے لسٹ دیکھ کر فرمایا کہ اس میں ابھی گنجائش ہے لہٰذا مزید کوشش کریں۔ چنانچہ پھر تحریک کی گئی تو وعدہ جات ساڑھے تین ملین کرونر تک پہنچ گئے۔ کئی افراد نے وعدے دوگنے کئے اور ایک مخلص مکرم رانا محمد شکیل صاحب کا وعدہ جس میں پہلے ہی پانچ صفر تھے، دس گنا تک بڑھا دیا گیا جو انہوں نے ادا بھی کردیا۔ کئی بہنوں نے زیورات پیش کئے۔
تعمیر کے لئے عام طور کسی کمپنی کو ٹھیکہ دیدیا جاتا ہے جو مختلف چھوٹے اداروں سے مختلف کام مکمل کرواتی ہے لیکن اس طرح اخراجات غیرمعمولی زیادہ ہوتے ہیں۔ چنانچہ ہم نے خود چھوٹی چھوٹی کمپنیوں سے رابطے کرکے کام کروانے کا فیصلہ کیا۔ اس سلسلہ میں کمیون نے ایسی کمپنیوں کی نشاندہی میں ہماری غیرمعمولی مدد بھی کی۔ یہ اُن کی ذمہ داری نہیں تھی لیکن اس کا اضافی فائدہ یہ ہوا کہ اُن کمپنیوں سے کروایا گیا کام کمیون کی نظر میں اتنا تسلّی بخش تھا کہ کسی گہری جانچ پڑتال کے بغیر ہی منظور ہوگیا۔
پرانی مسجد کو منہدم کرنے کے لئے کمپنیاں بڑی رقم کا تقاضا کررہی تھیں۔ جماعتی فیصلہ کے مطابق احمدیوں نے شدید برفباری کے باوجود خود ہی لمبا عرصہ وقارعمل کیا اور سارا ملبہ کنٹینرز میں بھرکر پھینکوایا گیا۔ بلکہ کچھ سکریپ فروخت کرنے کا بھی موقع مل گیا۔ تعمیر کے لئے جب ایک مناسب کمپنی سے رابطہ کیا گیا تو وہ معاہدہ نہیں کررہی تھی۔ بعد میں علم ہوا کہ اس کی وجہ یہ تھی وہ کسی اَور تعمیر کے سلسلہ میں کوشش کررہے تھے لیکن جب اُنہیں وہ کنٹریکٹ نہ مل سکا تو کچھ ہی عرصہ بعد انہوں نے ہم سے پہلے سے زیادہ بہتر شرائط پر معاہدہ کرلیا۔ تعمیر کے دوران لیبر کا خرچ بچانے کے لئے بہت وقارعمل کیا گیا۔ رات کو کمپنی کا سائٹ انچارج ہمیں بتادیتا کہ صبح کونسا سامان کتنا اور کہاں چاہئے۔ اور خدام رات کو وہ سامان اُس جگہ پہنچادیتے۔ایک رات خدام نے قریباً ایک ہزار مربع میٹر کی چھت کی ٹائلز چھت پر پہنچائیں۔
تعمیر کے دوران اللہ تعالیٰ کی غیرمعمولی تائید بھی شامل حال رہی۔ چنانچہ دیواروں کی چنائی کا وقت آیا تو نومبر کا وسط آچکا تھا۔ چنائی کا کام چھ سات سینٹی گریڈ سے کم کے درجہ حرارت پر نہیں ہوسکتا۔ اگر درجہ حرارت گر جائے تو پلاسٹک شیٹس لگاکر گرم ہوا کی مشین چلانی پڑتی ہے جس سے کافی خرچ بڑھ جاتا ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ایسا فضل کیا کہ اُس سال دسمبر کے آخر تک جب چنائی مکمل ہوئی، درجہ حرارت چھ سینٹی گریڈ سے زیادہ رہا۔
مینار کی تعمیر کے لئے جب ہم نے حضورؒ کی خدمت میں منظوری کے لئے درخواست کی تو حضورؒ نے جواباً فرمایا: ’’الحمدللہ! کیسا اچھا مینار منظور ہوگیا ہے‘‘۔ حالانکہ مینار کے لئے ابھی کمیون میں درخواست جمع ہی نہیں کروائی گئی تھی۔ بہرحال جب کمیون سے رابطہ کیا گیا تو اُن کا کہنا تھا کہ ڈرائنگ بھیج دو، ہماری طرف سے منظور ہے۔
ایک واقعہ یہ ہوا کہ چھت پر چکونی طرز کے ٹائلوں کے ٹکڑے کناروں پر لگ رہے تھے جن کو گرنے سے روکنے کا کوئی طریقہ سمجھ میں نہیں آرہا تھا۔ کمپنی نے اپنی ایسوسی ایشن سے بھی اس مسئلہ کے حل کیلئے رابطہ کیا لیکن کامیابی نہ ہوئی۔ ایک رات کسی عام احمدی نے اس پر غور کیا تو اس کو معلوم ہوا کہ اگر نصف ٹائلیں لگائی جائیں تو مسئلہ حل ہوسکتا ہے۔ پھر ایسی ٹائلز بھی مل گئیں۔ چنانچہ کمپنی نے بھی کئی دفعہ اظہار کیا کہ یہ مسئلہ جو ماہرین حل نہیں کرسکے تھے، آپ نے بخوبی حل کرلیا ہے۔
اگرچہ بہت سے احباب نے انتہائی جانفشانی سے ایک سال سے زائد عرصہ تک وقارعمل کے ذریعہ مسجد کی تعمیر کی کوشش کی اور رات کو لمباعرصہ پہرہ دینے کا بھی انتظام کیا۔ کئی خدام نے اسی جگہ کو اپنا گھر بنالیا تھا۔ لجنہ کی طرف سے گھروں میں کھانا پکواکر وقارعمل کرنے والوں کیلئے بھجوایا جاتا رہا۔ مکرم مامون الرشید صاحب صدر کمیٹی نے عملاً اپنے کاروبار کو بھلادیا۔ بارہا سارا سارا دن مسجد میں ہی مصروف رہتے۔ اسی طرح مکرم وسیم احمد ظفر صاحب نے ایک سال کی چھٹی لے کر اپنے دن کے اوقات وقف کردیئے۔ بہت سے ہنرمند افراد نے اپنے ذمہ تعمیر و تزئین کے مختلف کام لے لئے جو بہت محبت سے سرانجام دیئے۔ اللہ تعالیٰ اس مسجد کی تعمیر کسی بھی پہلو سے شامل ہونے والے تمام افراد کو جزائے خیر عطا فرمائے۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/zXKZx]

اپنا تبصرہ بھیجیں