مسجد نبویؐ کی توسیع

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 6؍نومبر 2004ء میں مسجد نبوی کی توسیع سے متعلق بعض معلومات ایک قومی اخبار سے منقول ہیں۔ اپنے مضمون میں جناب محمد اظہار الحق لکھتے ہیں کہ مسجد نبوی کی آج تک نو مرتبہ توسیع ہوئی۔ پہلی توسیع 7 ہجری میں خود آنحضرتؐ نے غزوہ خیبر سے واپسی پر فرمائی۔ اس کے لئے اضافی زمین حضرت عثمانؓ نے خرید کر پیش خدمت کی۔ دوسری توسیع حضرت عمر فاروق ؓ کے زمانہ میں ہوئی۔ تیسری حضرت عثمانؓ نے چوتھی ولید بن عبدالملک نے پانچویں عباسی خلیفہ مہدی نے چھٹی مصر کے سلطان عبدالعزیز نے اور نویں توسیع موجودہ سعودی حکمران شاہ فہد نے کروائی۔
یوں تو ہر خلیفہ اور ہر بادشاہ نے مسجد نبوی کی جاروب کشی انتہائی عقیدت سے کی لیکن عثمانی ترکوں نے 1277ہجری میں جو توسیع کروائی اس کی تفصیل حد درجہ ایمان افروز ہے۔ ترکوں نے جب اس کام کا ارادہ کر لیا تو اپنی وسیع وعریض سلطنت میں اعلان عام کیا کہ عمارت سازی سے متعلق مختلف علوم و فنون کے ماہرین درکار ہیں۔ چنانچہ پورے عالمِ اسلام سے ہنرمندوں کا ایک سمندر قسطنطنیہ کی جانب چل پڑا۔ ان میں سنگ تراش، معمار، نقشہ نویس، خطاط، رنگ ساز، شیشہ گر، پچی کاری کے ماہر غرض ہر علم اور ہنر کے مانے ہوئے استاد تھے۔ ترک حکومت کی طرف سے ان تمام ماہرین اور ان کے خاندانوں کو سفر کی ہر سہولت بہم پہنچائی گئی۔ پھر قسطنطنیہ کے باہر ایک نیا شہر بسایا گیا جس میں اطراف عالم سے آنے والے ان قافلوں کو اتار کر ہر شعبہ کے ماہرین کو الگ الگ محلوں میں بسایا گیا۔ اس سارے عمل میں کئی سال لگ گئے۔
پھر عقیدت اور حیرت کا نیاباب شروع ہوا جب عثمانی خلیفہ خود اس نئے شہر میں آیا اور کہا کہ ہر شعبہ کا ماہر اپنے ذہین ترین بچے کو اپنے فن میں یکتا وبے مثال کر دے۔ اس اثناء میں ترک حکومت اس بچے کو قرآن حفظ کرائے گی۔ تاریخ کا یہ عجیب وغریب منصوبہ کئی سال جاری رہا اور پچیس برس بعد نوجوانوں کی ایک ایسی جماعت تیار ہوئی جو نہ صرف اپنے شعبہ میں یکتائے روزگار تھی بلکہ ہر شخص حافظ قرآن، باعمل مسلمان اور صحت تندرستی کا پیکر تھا۔ یہ تعداد میں پانچ سو کے لگ بھگ تھے۔
لیکن اس سارے عرصہ میں ترک دوسرے کام نہیں بھولے تھے۔ انہوں نے عمارتی پتھروں کی نئی کانیں دریافت کیں اور پھر پتھر نکال کر انہیں بند کر دیا اور آج تک کوئی نہیں جانتا کہ وہ کہاں تھیں۔ پھر جنگلوں سے لکڑیاں کاٹی گئیں، رنگ حاصل کئے گئے ، شیشے کا سامان بہم پہنچایا گیا۔ یہ سارا سامان نبیؐ کے شہر میں پہنچا تو ادب کا یہ عالم تھا کہ اسے رکھنے کے لئے مدینۃ النبیؐ سے کئی میل دُور ایک الگ بستی بسائی گئی تاکہ پتھر کٹیں تو شورسماعت مبارک پر گراں نہ گزرے۔ احتیاط کا یہ عالم تھا کہ کٹایاترشا ہوا پتھر مسجد نبویؐ پہنچتا اور اس میں کسی ترمیم کی ضرورت پڑتی تو ٹھیک کرنے کے لئے اس بستی میں واپس لے جایا جاتا اور پھر دوبارہ مسجد میں پہنچایا جاتا۔
ساری تیاریوں کے بعد ماہرین نے کام شروع کیا تو حکومت کا حکم یہ تھا کہ ہر شخص کام کرنے کے دوران اول سے آخر تک باوضو رہے اور مسلسل تلاوت قرآن کریم کرتا رہے۔
تعمیر نو اور توسیع کا کام پندرہ سال جاری رہا۔ کوئی احتیاط ایسی نہ تھی جو ترک بروئے کار نہ لائے ہوں۔ وہ ایک حصے کو منہدم کر کے اسے بنا لیتے تو اس کے بعد ہی دوسرے حصے کی تعمیر شروع کرتے تاکہ نماز باجماعت میں رکاوٹ نہ ہو۔
ریاض الجنۃ کی تعمیر کے دوران انہوں نے چھت اور زمین کے درمیان لکڑی کے تختے لگادئیے تاکہ منہدم ہوتے وقت اوپر سے مٹی نہ گرے۔ پھر حجرہ مبارکہ کی، جہاں سرکاردوعالمﷺ محواستراحت ہیں، جالیوں کے چاروں طرف کپڑا لپیٹ دیا تاکہ گردوغبار اندر نہ جائے۔ کوئی دھماکہ نہ کیا گیا کہ خدانخواستہ بے ادبی ہو۔ سارے عرصہ میں ریاض الجنۃ میں عبادت بھی جاری رہی۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/9eDD6]

اپنا تبصرہ بھیجیں