مصر (Egypt)

ماہنامہ ’’تشحیذالاذہان‘‘ ربوہ کے ستمبر، اکتوبر اور نومبر 2011ء کے شماروں میں مصر کی سیر سے متعلق مکرم شہاب احمد صاحب کا ایک معلوماتی مضمون شامل اشاعت ہے۔
مصر 1922ء سے ایک آزاد مملکت ہے۔ حضرت ابراہیمؑ، حضرت یوسفؑ، حضرت موسیٰ ؑ اور حضرت عیسیٰؑ کا مصر کی سرزمین سے گہرا تعلق رہا ہے۔ آنحضور ﷺ کی زندگی میں ہی یہاں اسلام کا پیغام پہنچ چکا تھا اور حضرت عمرؓ کے دَور میں حضرت عمرو بن العاصؓ کے ہاتھوں مصر فتح ہوا۔
مصر کے معروف شہروں میں دارالحکومت قاہرہ کے علاوہ اسکندریہ، شرم الشیخ، الاقصر اور اُسوان شامل ہیں۔ یہاں کی کرنسی ’’مصری پاؤنڈ‘‘ کو عربی میں جُنَیۡہٌ کہتے ہیں۔ یہاں کی ایک خاص چیز دریائے نیل ہے جو مصر سمیت نو ممالک سے گزرتا ہے۔
یہاں کے آثار قدیمہ میں اہرام مصر بھی شامل ہیں۔ اب تک قریباً 140 چھوٹے بڑے اہرام دریافت ہوچکے ہیں۔ سب سے قدیم سقارہ کا اہرام ہے۔ شہر Giza میں موجود اہرام قدیم دنیا کے سات مشہور عجائبات میں سے واحد عجوبہ ہے جو ابھی تک قائم ہے۔ اس احاطہ میں تین بڑے اور تین چھوٹے اہرام بھی موجود ہیں۔ یہ تین بڑے اہرام The Great Pyramids of Gizaکے نام سے جانے جاتے ہیں۔ سب سے بڑا اہرام ’’بادشاہ خوفو‘‘ (Cheops) نے تعمیر کروایا۔ یہ لمبے عرصے تک دنیا کی بلند ترین عمارت رہا ہے۔ تعمیر کے وقت اس کی اونچائی 485 فٹ تھی جو اس وقت 455 فٹ رہ گئی ہے۔ چٹانوں سے تراشے گئے پتھر کے ٹھوس بلاکس سے تیار کیے جانے والے یہ اہرام آج کے دَور میں بھی سائنس دانوں اور ماہرین تعمیرات کے لیے حیرت کا باعث ہیں۔ ماہرین آثار قدیمہ نے خوفو کے اہرام کے قریب سے خاص انداز میں کٹی ہوئی لکڑیاں دریافت کیں جن کو تقریباً چودہ سال کی محنت کے بعد آپس میں جوڑنے پر 143 فٹ لمبی کشتی وجود میں آئی۔ یہ کشتی اہرام کے ساتھ موجود تین منزلہ عجائب گھر میں محفوظ کردی گئی ہے۔ ان اہراموں کے ساتھ ایک دیوہیکل مجسمہ ’’ابوالھول‘‘ ہے جس کا سر انسان کا اور دھڑ شیر کا ہے۔ یہ دنیا کا سب سے بڑا مجسمہ ہے جسے ایک ہی چٹان کو تراش کر بنایا گیا ہے۔
قاہرہ کے وسط میں واقع قدیم تعلیمی ادارے ’’جامعۃالازھر‘‘ کا قیام 970ء میں عمل میں آیا۔ عربی ادب اور اسلامی تعلیمات میں تدریس کی وجہ سے مشہور اس ادارے میں دنیوی علوم میں تدریس کا سلسلہ 1961ء سے شروع ہوا۔
قاہرہ میں واقع قلعہ صلاح الدین کی تعمیر عباسی حکمران صلاح الدین ایوبی نے 1175ء سے 1183ء کے درمیان کروائی تاکہ صلیبی جنگوں میں عیسائی فوجوں کے حملوں سے محفوظ رہا جاسکے۔ اس قلعہ کے احاطہ میں عظیم الشان ’’مسجد محمدعلی‘‘ کو 1848ء میں مصری حاکم محمد علی پاشا نے اپنے بڑے بیٹے کی وفات پر بطور یادگار تعمیر کروایا تھا۔ یہ اسلامی طرز تعمیر کا شاندار نمونہ ہے۔ اور اس مسجد کے احاطہ کے ایک کونے میں محمدعلی پاشا کا مزار بھی ہے۔ قلعہ میں ایک اَور ’’مسجد الناصر محمد القلاوون‘‘ بھی ہے۔ مذکورہ دونوں مساجد صرف سیاحوں کی زیارت کے لیے ہی استعمال ہوتی ہیں۔ قلعہ میں تین عجائب گھر بھی موجود ہیں۔ ایک پولیس نیشنل میوزیم ہے جس میں ہر دَور کی مصری پولیس، مشہور جرائم اور مجرموں کے بارے میں تاریخی حقائق محفوظ ہیں۔ نیشنل ملٹری میوزیم میں مصر کی افواج کے بارے میں تفصیلی معلومات تصاویر اور ماڈلز کی شکل میں رکھی گئی ہیں۔ تیسرے عجائب گھر میں پرانے دَور میں سرکاری طور پر استعمال ہونے والی چند بگھیوں کو رکھا گیا ہے۔
مصر میں عرب دنیا کا سب سے بڑا بازار ’’خَانُ الۡخَلِیۡلِی‘‘ 1382ء سے قائم ہے اور زیورات، عطر، مصالحہ جات، کپڑے، چمڑے اور قالین کے علاوہ تحائف کی بے شمار دکانیں بھی اس میں موجود ہیں۔
قاہرہ کے وسط میں واقع مصر کا سب سے بڑا عجائب گھر Egyptian Museum ہے جس کا قیام 1835ء میں عمل میں آیا۔ اس میں ایک لاکھ بیس ہزار سے زائد نوادرات موجود ہیں۔ یہ عجائب گھر فراعین مصر کے نوادرات اور Mummies کا سب سے بڑا ذخیرہ ہے۔
مصر کا شہر اسکندریہ بحیرہ روم کے ساحل پر واقع ہے۔ رومیوں نے اس شہر پر قبضہ کیا تھا تو یہاں کی مشہور لائبریری تباہ کردی گئی تھی۔ اس کی یاد میں یہاں ایک شاندار لائبریری ’’مکتبہ اسکندریہ‘‘ قائم کی گئی ہے۔ یہاں کے میوزیم میں 1800 نوادرات موجود ہیں۔ میوزیم کے قریب ہی رومی دَور کا تعمیر شدہ Pompey’s Pillar ہے جو کہ اسکندریہ کی اُن قدیم ترین تعمیرات میں سے ایک ہے جو ابھی تک موجود ہیں۔ یہ پتھر سے بنا ہوا بلند مینار ہے۔ ایسے چھوٹے بڑے مینار مصر کے کئی قدیم شہروں میں دیکھے جاسکتے ہیں۔
حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ نے احمدی طلباء کو مصر کی تاریخ کے بارے میں تحقیق کرنے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے اپنے درس القرآن (فرمودہ 13؍فروری 1995ء) میں ارشاد فرمایا تھا:
’’مزید تحقیق کے لئے Egyptology کی طرف توجہ کرنی چاہئے۔ … Egypt کے علوم سے متعلق آج تک ہمارا کوئی ماہر پیدا نہیں ہوا اور اس علم میں ہمیں ضرور ماہرین پیدا کرنے چاہئیں کیونکہ قرآن کریم کی صداقت کے تعلق میں بہت ہی اہم ایسے امور ہیں جو Egypt کی تاریخ اور اس کا کھوج لگانے کے نتیجے میں ہمیں قرآن کی تائید میں مل سکتے ہیں۔ اس لیے بجائے اس کے کہ صرف غیروں پر انحصار کیا جائے ہمیں خود بھی تحقیق کرنی چاہیے۔‘‘

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/rXVYl]

اپنا تبصرہ بھیجیں