تعارف کتاب : ’’مضامین شاکر‘‘ حصہ اوّل

تعارف کتاب از فرخ سلطان محمود

(مطبوعہ انصارالدین مارچ اپریل 2012ء)
(مطبوعہ الفضل ڈائجسٹ 28 جولائی 2017ء)

’’مضامین شاکر‘‘

آپ کی نظر سے بھی یقیناً بعض ایسی کئی کتب گزری ہوں گی جن کی ورق گردانی شروع کی جائے تو دلچسپ مضامین اپنی گرفت سے نکلنے ہی نہیں دیتے اور ایسے میں وقت کے گزرنے کا احساس ہوتا ہے اور نہ ہی کسی قسم کی تکان کا بوجھ یا نیند کا جھونکا محسوس ہوتا ہے۔ بلکہ جب تک کتاب پوری ختم نہ ہوجائے تب تک ایک ایسی تشنگی کا احساس قائم رہتا ہے جس کے نتیجہ میں قاری دیگر کاموں سے فراغت حاصل کرکے کتاب کے بقیہ صفحات سے لطف اندوز ہونے کی خواہش اپنے اندر موجزن پاتا ہے۔ ایک ایسی ہی کتاب اس وقت ہمارے پیش نظر ہے۔ ’’مضامین شاکرؔ‘‘ سوا تین صد صفحات پر مشتمل ضخیم مجلّد کتاب ہے۔ سرورق اگرچہ دیدہ زیب مگر سادہ ہے اور ایک ایسے شہر ربوہؔ کے ابتدائی دَور کی یاد دلاتا ہے جس کی مٹی نے بڑے ہی عظیم مگر منکسرالمزاج لکھاری (قلمکار) اور متواضع مگر بے بدل عالم پیدا کئے۔ اور ایسا کیوں نہ ہوتا کہ یہ شہر اُس سلطان القلم کی عظمت اور صداقت کا امین جو ٹھہرا جس نے اپنے سچے پیروکاروں کو ہر میدان میں غیر پر غلبہ پانے کی دائمی بشارت دی تھی۔
محترم عبدالرحمن شاکر صاحب مرحوم (ابن حضرت نعمت اللہ گوہر صاحبؓ) ایک علمی خاندان کے چشم و چراغ تھے۔ آپ نے ایسے اچھوتے رنگ میں مؤثر تربیتی مضامین تحریر کئے جو ’’الفضل‘‘ ربوہ کی زینت بنے اور قارئین کی روح تک کو سیراب کرگئے۔ یہ امر باعثِ مسرّت ہے کہ مرحوم شاکر صاحب کی پچاس سالہ ادبی و علمی کاوشوں میں سے ایک خوبصورت انتخاب مرتب اور مدوّن کرکے شائع کروانے کی سعادت اُن کے بیٹے مکرم کلیم احمد صاحب اور بیٹی مکرمہ رِبقہ زاہدہ صاحبہ (سابقہ پرنسپل جامعہ نصرت ربوہ) کو حاصل ہوئی ہے۔ اپنے مرحوم بزرگوں کی شاندار ادبی کاوشوں کو محفوظ کرنا ایک صدقہ جاریہ ہے اور یقینا ایک قابل ستائش عمل بھی۔ فجزاھم اللہ احسن الجزاء۔
کتاب ’’مضامین شاکر‘‘ میں کُل 75 مضامین شامل ہیں۔ بلاشبہ تمام مضامین ہی عمدہ تحریری کمالات سے مالامال، معلومات سے بھرپور، تربیتی اور منفرد علمی زاویہ نگاہ سے تحریر کئے جانے کے باعث نہایت دلچسپ ہونے کے علاوہ سبق آموز گہرائی کے بھی حامل ہیں۔ اس کتاب کی تعریف میں یہ کہنا یقینا بجا ہے کہ اسے پڑھنا آپ کی زندگی میں پیش آنے والے کئی روزمرّہ مسائل میں راہنمائی فراہم کرسکتا ہے۔ دل تو چاہتا ہے کہ اگر مقدور بھر میں ہو تو ساری کتاب ان صفحات میں اپنے قارئین کی نذر کردیتا مگر تنگیٔ داماں کے باعث محض چند ایمان افروز واقعات پر اکتفا کرتا ہوں۔ امید ہے کہ انہیں پڑھنے کے بعد آپ کے لئے ممکن نہیں ہوگا کہ کتاب خود حاصل کرکے اُس کا مطالعہ نہ فرمائیں۔
…………………

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں