معارف اور دقائق ہیں ، یہ روحانی خزائن ہیں – نظم

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 2نومبر 2012ء میں مکرم اطہر حفیظ فراز صاحب کی ایک نظم بعنوان ’’یہ رُوحانی خزائن ہیں‘‘ شامل اشاعت ہے۔ اس نظم میں سے انتخاب پیش ہے:

معارف اور دقائق ہیں ، یہ روحانی خزائن ہیں
بہت گہرے حقائق ہیں ، یہ روحانی خزائن ہیں
زمانے میں کتابیں تو بہت پھیلی پڑی ہیں پر
جو دہرانے کے لائق ہیں ، یہ روحانی خزائن ہیں
مسیح پاک نے بڑھ کر خزانے اس طرح بانٹے
گریزاں اب خلائق ہیں ، یہ روحانی خزائن ہیں
فلک تک کی رسائی میں یہ ملفوظات رہبر ہیں
تو جنت کے جو سائق ہیں ، یہ روحانی خزائن ہیں
جو ان پر دسترس رکھیں فرازؔ ان پر یہ احساں ہیں
وہ ہر میداں میں فائق ہیں ، یہ روحانی خزائن ہیں

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں