معلم شریف جمعہ صاحب آف کینیا

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 28؍جون 2008ء میں مکرم مظفر احمد درانی صاحب مربی سلسلہ کے قلم سے محترم معلّم شریف جمعہ صاحب کا ذکرخیر شائع ہوا ہے۔
کینیا (مشرقی افریقہ) میں جماعت کا قیام 1896ء میں ہوا تھا۔ میں فروری 1993ء میں بطور مبلغ وہاں پہنچا تو میرا پہلا تقرر ممباسہ میں ہوا جہاں پر مکرم عبداللہ حسین جمعہ علی صاحب پہلے سے تعینات تھے۔ صوبہ کوسٹ کے ضلع Kwale میں جماعت کو زیادہ پذیرائی حاصل ہوئی۔ Mazumalume میں چیف امام اپنے علاقہ کے ائمہ، مساجد اور متبعین سمیت احمدی ہوئے۔ یہ کینیا کی واحد چیفڈم تھی جس کے تمام سرکاری افسران احمدی تھے۔ Mamba کے علاقہ Waduruma قبیلہ میں بھی نمایاں کامیابی ملی۔ اس قبیلہ کے بارہ میں یہ تأثر پایا جاتا ہے کہ یہ بے دین لوگ ہیں اور اگر ایمان لے بھی آئیں تو استقامت نہیں دکھاتے۔ Dzombo نامی گائوں میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایسی مضبوط جماعت عطا کی جس نے مذکورہ تأثر کو سو فیصد غلط ثابت کر دیا۔ یہاں احمدی ہونے والے پنجوقتہ نمازی بلکہ باقاعدگی سے تہجد گزار تھے۔ دعوت الی اللہ کے شیدائی۔ قرآن پڑھ نہ سکنے کے باوجود تمام حوالے اور ان کا سواحیلی ترجمہ زبانی یاد ہوتے۔ اسی قبیلہ کا ایک نوجوان جو عیسائیت کی آغوش میں جا چکا تھا وہ نہ صرف مسلمان ہوا بلکہ اُس نے زندگی وقف کرکے سینکڑوں نفوس کو سیدھی راہ بھی دکھائی۔ یہ نوجوان تھا معلّم شریف جمعہ۔
ان دنوں دعوت الی اللہ کا طریق یہ تھا کہ خاکسار ایک معلّم صاحب اور ایک دو داعیان الی اللہ کو ساتھ لے کر کئی کئی روز کا سائیکل سفر کیا کرتا اور راستہ میں ہر بستی اور ہر گھر کو پیغام حق پہنچایا جاتا۔ جہاں رات پڑ جاتی کسی ڈیرے پر سو جاتے۔ ہفتہ دس روز بعد واپسی ہوتی۔
عزیز شریف جمعہ نے وقف کیا تو انہیں میرے پاس ممباسہ بھجوا دیا گیا۔ آپ کو تعلیم کا بہت شوق تھا اس لئے جلد بنیادی مسائل سیکھ لئے۔ فارغ اوقات میں بازار میں سٹال لگا کر کتب بھی بیچتے۔ 1999ء میں خاکسار کو تنزانیہ بھجوا دیا گیا۔ وہاں معلمین تیار کرنے کیلئے باقاعدہ کلاس لگتی تھی۔ شریف جمعہ صاحب کو اس کا علم ہوا تو وہاں آکر تین ماہ تک معلمین کلاس میں تعلیم حاصل کی اور تحصیل علم کی باقاعدہ سند لے کر واپس کینیا گئے اور بطور معلم کام شروع کردیا۔ یہ سند سرکاری دفاتر اور پولیس سے اجازت کیلئے بہت مفید تھی۔
2003ء میں خاکسار دوبارہ کینیا گیا تو معلم شریف جمعہ صاحب وہاں فرائض سرانجام دے رہے تھے۔ تبلیغ کا شوق۔ سچائی کا اظہار۔ صاف ستھرا اور استری کیاہوا لباس زیب تن کرنا بھی آپ کی نمایاں صفات تھیں۔ جلسوں میں متعدد غیر از جماعت مہمانوں کو اکٹھا کرلینا آپ کے وسیع تعلقات کا نتیجہ تھا۔ تبلیغ کے شوق میں دیگر مذاہب اور فرقوں کے مراکز میں بھی چلے جاتے۔ کئی مناظرانہ نشستیں بھی کیں۔ مسلسل نمایاں خدمت کی سعادت پاتے ہوئے آپ نے فروری2008ء میں ہائی بلڈ پریشر کی وجہ سے صرف 35سال کی عمر میں وفات پائی۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/bF6CL]

اپنا تبصرہ بھیجیں