موٹاپے کے مسائل – جدید تحقیق کی روشنی میں

موٹاپے کے مسائل – جدید تحقیق کی روشنی میں
(اطہر ملک)

٭ وزن کم کرنے کے حوالے سے اٹلی کے ماہرین کی یہ تحقیق ہے کہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کو وزن کم کرنے کے لئے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے کیونکہ کاربن ڈائی آکسائیڈ جسم کے خُلیات میں جذب ہوکر چکنائی کو پگھلادیتی ہے جس سے خون کی رگیں پھیل جاتی ہیں اور زیادہ آکسیجن جذب کرنے کی صلاحیت اُن میں پیدا ہوجاتی ہے۔ ماہرین کے مطابق نئے طریقۂ علاج Carboxy Therapy میں ایک باریک انجیکشن کے ذریعے کاربن ڈائی آکسائیڈ کو جسم میں داخل کردیا جاتا ہے اور اس عمل میں صرف چند سیکنڈلگتے ہیں۔
٭ ایک تحقیق کے مطابق وہ افراد جن کی رانوں کی موٹائی ساٹھ سینٹی میٹر سے زائد ہوتی ہے ان کے امراض قلب میں مبتلا ہونے کے امکانات پتلی رانوں والوں کی نسبت نصف ہوتے ہیں۔ ڈنمارک کی ٹیم کی یہ تحقیق تین ہزار افراد کے تجزیے پر مشتمل ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ایسے افراد کی جلد موت یا امراض قلب میں مبتلا ہونے کے امکانات اس وقت بھی کم ہوتے ہیں اگر جسم میں چکنائی اور کولیسٹرول کی مقدار اور تمباکو نوشی کی عادت کو مدنظر رکھا جائے۔ تحقیق کے مطابق پتلی رانوں میں انسولین سے نمٹنے کے لئے پٹھے کم ہوتے ہیں جس کی وجہ سے ذیا بیطس ہونے کا خدشہ بھی ہوتا ہے اور اسی وجہ سے بعد میں امراض قلب بھی ہوسکتے ہیں۔ یہ تحقیق برٹش میڈیکل جرنل میں شائع ہوئی ہے۔
٭ جرنل آف دی امیریکن اکیڈمی آف نیورولوجی نے قریباً تیس سال میں ساڑھے چھ ہزار افراد پر کی جانے والی اپنی ایک تحقیق گزشتہ دنوں شائع کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ موٹاپے کے شکار افراد میں بڑھاپے میں مخبوط الحواسی کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق بڑھے ہوئے پیٹ والے افراد میں دل کی بیماریوں اور ذیابیطس کے علاوہ دماغ کے خلل کا شکار ہونے کا خطرہ بھی لاحق ہوجاتا ہے۔
اس تحقیق میں حصہ لینے والے افراد کو تین گروہوں میں تقسیم کیا گیا تھا جس میں نارمل جسم والے ، نارمل وزن والے اور موٹے لوگ شامل تھے۔ رپورٹ کے مطابق مناسب وزن اور جسم رکھنے کے باوجود بڑھے ہوئے پیٹ والے افراد میں بھی بڑھاپے میں مخبوط الحواسی کا شکار ہونے کے امکانات 90فیصد ہوتے ہیں۔ جبکہ ایسے موٹے افراد جن کا پیٹ بھی بڑھا ہوا ہو، اُن میں اس بیماری کا شکار ہونے کا تناسب 260 فیصد تک پایا گیا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ مناسب خوراک کے استعمال اور ورزش کرنے سے پیٹ کی اندرونی چربی گھل کر ختم ہوجاتی ہے اور اس طرح مخبوط الحواسی جیسی بیماری کو روکا جاسکتا ہے۔ محققین کا کہنا ہے کہ وہ چربی سے نکلنے والے مادے کا دماغ یا یادداشت سے تعلق تلاش کرنے کے لئے مزید تحقیق کر رہے ہیں۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/QAgBb]

اپنا تبصرہ بھیجیں