مکرم آدم عابد الیگزینڈر صاحب کا احمدیت کی طرف سفر

ماہنامہ ’’احمدیہ گزٹ‘‘ کینیڈا جنوری فروری 2010ء میں مکرم آدم عابد الیگزینڈر صاحب نے احمدیت کی طرف اپنے سفر کو مختصراً بیان کیا ہے۔
مکرم آدم عابد صاحب رقمطراز ہیں کہ ابتدائی عمر سے ہی مَیں مذہب سے متأثر تھا کیونکہ میرے خاندان کا تعلق عیسائی فرقہ Jehovah’s Witness سے تھا۔ لیکن میرے سوتیلے والد رومن کیتھولک تھے اور اسی طرح جب خاندان میں کچھ دوسرے فرقوں کے لوگ شامل ہوئے تو میرے سوتیلے دادا نے مجھے میری عمر کے چھٹے سال میں ہی یہ سمجھانا شروع کیا کہ مجھے اپنے فرقہ کے علاوہ دیگر فرقوں کی معلومات بھی حاصل کرنا چاہئیں تاکہ میرے ذہن میں وسعت پیدا ہو۔ وہ بھی مجھے عقائد کے اختلافات سے آگاہ کرتے۔ چنانچہ میں یہواوا وٹنس اور رومن کیتھولک کے عقائد کے ساتھ جوان ہوا اور بائبل کی تعلیمات کے ایک گروپ میں بھی شامل ہونے لگا جو ہر ہفتہ کے دوران تین بار منعقد ہوتا تھا۔ لیکن وہاں ہر بار اٹھنے والے سوالات مزید سوالات کو جنم دیتے تھے۔
بائبل میں انبیاء کرام کا تذکرہ پڑھتے ہوئے مَیں اُن سے ملاقات کرنے کے خواب دیکھا کرتا تھا۔ 14 سال کی عمر میں ملنے والی ایک خبر نے میرے روحانی سفر کا رُخ موڑ دیا۔ میری والدہ نے مجھے بتایا کہ چونکہ میری اور میری بہن کی پیدائش شادی سے پہلے ہوئی تھی اس لئے آئندہ ہم یہواوا وٹنس کے چرچ میں شامل نہیں ہوسکیں گے۔ میری والدہ نے ہمیں نصیحت کی کہ ہم خدا کو پانے کے لئے اپنی تحقیق جاری رکھیں اور جہاں سے بھی وہ ملے اُسے پائیں۔
چنانچہ مَیں نے مختلف مذاہب کے عقائد کا مطالعہ شروع کیا۔ پہلے بدھ ازم کی طرف مائل ہوا لیکن اندرونی اطمینان حاصل نہ ہوا۔ تب مَیں نے لمبی سیریں شروع کیں اور خدا کے بارہ میں سوچنے لگا کہ وہ کہاں رہتا ہے اور میرا اُس کے ساتھ کیا تعلق ہے؟ کیا مجھے اکیلے دعا کرنی چاہئے یا کسی چرچ سے وابستہ ہوجانا چاہئے؟
اس دوران میری ملاقات کالج میں اپنے پہلے مسلمان دوست سے ہوئی۔ اُس سے خدا کے وجود کے متعلق میری باتیں ہونے لگیں۔ جس قدر ہم بات چیت کرتے اُسی قدر مجھے احساس ہوتا کہ خدا کے بارہ میں میرے خیالات اسلامی تعلیمات کے مطابق ہیں۔ چنانچہ اسلام کے بارہ میں معلومات حاصل کرنے کا مجھے شوق پیدا ہوا یہاں تک کہ مَیں 2007ء میں اپنی آنٹی کے پاس البرٹا چلا آیا۔
البرٹا میں مجھے خیال آیا کہ کسی مسجد میں جاکر اسلام کے بارہ میں مزید معلومات حاصل کروں چنانچہ کسی سے مسجد کا پتہ پوچھ کر مَیں ایک جمعہ کے روز مسجد پہنچ گیا۔ وہاں ایک بوڑھے شخص سے ملاقات ہوئی جس کو انگریزی نہیں آتی تھی تاہم وہ میرے کہنے پر قرآن کریم کا انگریزی ترجمہ لے آیا جس میں مختصر تفسیر بھی تھی۔ جوں جوں مَیں قرآن کا مطالعہ کرنے لگا میرے احساسات پر کوئی چیز غالب آنے لگی۔ چنانچہ مَیں نے آنکھیں موند لیں اور خدا سے باتیں کرنے لگا کہ اگر مَیں اُس کی تلاش میں کسی غلط راستہ پر چل نکلا ہوں تو وہ مجھے سیدھے راستہ پر ڈال دے۔ اس دوران مجھے کانوں میں کسی کے گانے کی آوازیں آنے لگیں۔ لیکن مجھے معلوم تھا کہ مسجد میں گانا گانا منع ہے۔ تاہم گانے کی آواز تیز تر ہونے لگی۔ یہ ایک مردانہ آواز تھی جو نہایت مسحورکُن تھی۔ مَیں نے اپنی آنکھیں بند ہی رکھیں۔ کچھ دیر بعد مجھے احساس ہوا کہ مسجد لوگوں سے بھرنے لگی ہے اور وہ ایسی زبان بول رہے ہیں جو میری سمجھ سے بالا ہے۔ مَیں نے آنکھیں کھول دیں تو دیکھا کہ مَیں سب سے اگلی صف میں بیٹھا ہوں اور میرے دائیں بائیں اور پیچھے لوگ بیٹھے ہیں۔ اسی اثناء میں لوگ کھڑے ہوگئے تو مَیں بھی کھڑا ہوگیا۔ پھر ’’اللہ اکبر‘‘ کی صدا آئی اور نماز شروع ہوگئی۔ میرے لئے پچھلی صفیں توڑتے ہوئے باہر جانا ناممکن تھا اس لئے مَیں بھی وہی حرکات کرنے لگا جو دوسرے لوگ کررہے تھے۔ مَیں کَن انکھیوں سے اِدھر اُدھر دیکھتے ہوئے نقل کرتا رہا۔ جب سلام پھیرا گیا تو مجھے محسوس ہوا کہ جیسے لوگ مجھے دیکھ رہے تھے۔ یہ جمعہ کی میری پہلی نماز تھی۔ جب مَیں کھڑا ہوا تو بہت سے لوگ میرے گرد آگئے اور مجھ سے سوالات کرنے لگے۔ یہ صورتحال کسی حد تک پریشان کُن تھی۔ مَیں نے قرآن کریم کا انگریزی ترجمہ عاریۃً اپنے ساتھ گھر لے جانے کی اجازت اُن سے مانگی۔ لوگوں نے مجھے قرآن کریم اور رمضان کے بارہ میں بھی بتایا جو چند روز میں شروع ہونے والا تھا۔ انہوں نے کہا کہ مَیں بھی اگر چاہوں تو بے شک روزے رکھ لوں۔مَیں نے گھر جاکر یہ سب کچھ اپنی آنٹی کو بتایا۔ میری آنٹی اور اُن کی فیملی اِن معاملات میں میرے معاون تھے۔ جب مَیں نے سارا قرآن پڑھا تو وہ مجھے سنتے تھے۔ میری آنٹی اس بات پر خوش تھی کہ اسلام مردوں اور عورتوں کے درمیان مساوات کا حکم دیتا ہے۔ حالانکہ ایک عرصہ سے وہ یہی سمجھتی آرہی تھی کہ اسلام میں مردوں کی طرف سے عورتوں کے حقوق نہیں دیئے جاتے۔ بہرحال رمضان کے اختتام تک مَیں بہت خوش تھا کیونکہ اس دوران مَیں نے بہت کچھ سیکھ لیا تھا۔
دسمبر 2007ء میں جب مَیں اپنی فیملی کو ملنے ہملٹن پہنچا تو اسلام کے بارہ میں ساری باتیں اُن کو بھی بتائیں۔ اپنے گھر میں بھی مجھے اپنے خدا کی عبادت کرنے کی آزادی تھی۔ مَیں نے اپنے کالج والے مسلمان دوست کو بھی مسلمان ہونے کے بارہ میں بتایا تو اُس نے مجھے کہا کہ البرٹا کی مسجد شیعوں کی ہے اس لئے مجھے اُس دوست کے ساتھ اُس کی مسجد میں جاکر سنّی اسلام قبول کرلینا چاہئے۔ مَیں نے اُسے بتایا کہ مَیں صرف مسلمان ہونا چاہتا ہوں اور فرقے میرے لئے کوئی اہمیت نہیں رکھتے۔
سنّیوں کی مسجد میں بھی پہلے دن مجھ سے بیشمار سوالات کئے گئے۔ پھر مَیں تین ماہ تک ایک مصری شخص کے ساتھ رہا جو حج کرکے آیا تھا اور اس نے مجھے نماز سکھائی، قرآن پڑھنا سکھایا اور دیگر اسلامی معلومات سے روشناس کروایا۔
جب میں نے اپنے سوتیلے والد کے ساتھ اُن کے ریسٹورنٹ میں کام شروع کیا تو مجھے علم ہوا کہ وہاں سے کچھ ہی فاصلہ پر بھی ایک مسجد ہے۔ جب مَیں نے اپنے والد سے نماز جمعہ کی ادائیگی کے لئے نصف گھنٹہ کی اجازت طلب کی تو انہوں نے مجھے اس مقصد کے لئے چار گھنٹے کی رخصت دیدی۔ جب مَیں پہلی بار مسجد پہنچا تو مَیں نے کوشش کی کہ میری نظریں کسی سے نہ ملیں تاکہ پہلی دو مساجد کی طرح مجھ پر سوالات کی بوچھاڑ نہ ہو۔ لیکن مجھے خوشگوار حیرت تھی کہ کسی نے مجھ سے کچھ بھی نہ پوچھا۔ وہ صرف مجھے السلام علیکم کہتے اور پھر آگے بڑھ جاتے۔ مسجد کے ایک کونے میں بیٹھ کر مَیں نے خطبہ جمعہ بھی سنا اور بہت لطف اٹھایا۔ چنانچہ اب ہر جمعہ کے روز مَیں وہاں جانے لگا۔
چند ماہ بعد ایک جمعہ کے روز ایک شفیق شخصیت (رومی ساہی صاحب) نے مجھ سے پوچھا کہ یہ مسجد کس فرقہ کی ہے؟ مَیں نے جواب دیا کہ فرقہ بندی میرے لئے بے معنی بات ہے اور مجھے صرف یہ معلوم ہے کہ یہ مسجد سنّیوں یا شیعوں کی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ مسجد ایک مختلف فرقہ کی ہے جن کے پاس ایک خاص لیڈر ہے جن کا نام حضرت مرزا غلام احمد ہے۔ یہ وہ مسیح موعود ہیں جن کی آمد کی خبر تمام مذاہب میں دی جاچکی ہے۔ میرے لئے یہ خبر اتنی مسرّت انگیز تھی کہ مَیں نے اُن سے پوچھا کہ کیا لوگوں کو اس کی اطلاع ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہر احمدی کا فرض ہے کہ یہ خبر دوسروں تک پہنچائے۔ انہوں نے مجھے بیعت سے متعلق بتایا تو مَیں اُسی وقت بیعت کرنے کے لئے تیار تھا۔ تاہم انہوں نے مجھے بیعت کرنے سے پہلے احمدیت کے بارہ میں مزید تعارف حاصل کرنے کا مشورہ دیا۔
احمدیت کے بارہ میں مزید جاننا میرے لئے اہمیت نہیں رکھتا تھا کیونکہ مَیں خود کو ایمان لانے والوں میں ہی سمجھنے لگا تھا۔ تاہم مَیں نے حضرت مسیح موعودؑ کی حیات مبارکہ کا مطالعہ کیا اور پھر دو احمدیوں (عطاء الواحد LaHaye صاحب اور انصر رضا صاحب) سے تفصیلی ملاقات بھی کی۔ انہوں نے مجھے کتاب ’’احمدیت یعنی حقیقی اسلام‘‘ پڑھنے کے لئے دی اور ایک ویڈیو دی ۔ چنانچہ 16 ستمبر 2008ء کی شب مَیں نے بیعت فارم پر دستخط کردیئے۔
اس وقت میرا زیادہ وقت اسلام احمدیت کی تعلیمات کے مطالعہ میں گزرتا ہے۔ ایک سو سے زیادہ کتب میرے پاس جمع ہوچکی ہیں۔ مَیں اپنی بیوی سے بھی اس بارہ میں گفتگو کرتا رہتا ہوں اور میرا ایمان ہے کہ آج کی دنیا کی روحانی قحط سالی کا مداوا صرف احمدیت کی تعلیمات ہی کرسکتی ہیں۔

پرنٹ کریں
0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/mNKBe]

اپنا تبصرہ بھیجیں