مکرم ریاض احمد بسراء صاحب شہید

(مطبوعہ الفضل ڈائجسٹ یکم فروری 2019ء)

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 30؍اکتوبر2012ء میں شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق مکرم ریاض احمد بسراء صاحب ابن مکرم چوہدری منیر احمد بسراء صاحب کو 18؍اکتوبر 2012ء کو گھٹیالیاں ضلع سیالکوٹ میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے شہید کردیا۔ حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مؤرخہ 26؍اکتوبر2012ء کے خطبہ جمعہ میں شہید مرحوم کا ذکر خیر فرمایا اور بعدازاں نماز جنازہ غائب پڑھائی۔
حضورانور نے فرمایا کہ شہید مرحوم 1958ء میں گھٹیالیاں کلاں تحصیل پسرور میں پیدا ہوئے۔ گاؤں میں جس طرح بعض دشمنیاں چلتی ہیں، ان کی دشمنیاں چل رہی تھیں۔ ان کے بڑے بھائی اور بعض دوسرے عزیزوں کو بھی پہلے شہید کیا گیا تھا۔ اُن کی دشمنیاں چل رہی تھیں اور بظاہر لگتا ہے کہ یہ براہ راست اُس میں Involve نہیں تھے لیکن جماعتی خدمات اور ایک رعب کی وجہ سے وہاں کے علاقہ کے بعض لوگ ان کے کافی خلاف تھے اور خاص طور پر کچھ مولوی اس علاقہ میں اب نئے آئے ہیں جنہوں نے ان کے دشمنوں کو بھڑکایا کہ ذاتی دشمنی کو اب جماعتی رنگ دو اور اب ان کو شہید بھی کردو گے توکوئی پوچھنے والا نہیں ہو گا، فوراً کہہ دینا کہ یہ کیونکہ قادیانی تھا اس لئے ہم نے مار دیا۔ بہرحال 18؍اکتوبر کو نماز عشاء کی ادائیگی کے بعد یہ کچھ دیر وہاں ڈیوٹی دینے والے خدام کے پاس بیٹھے رہے اور اُس کے بعد واپس گھر جا رہے تھے کہ راستہ میں بعض نامعلوم افراد نے پکڑ کر فائر کیا جس کے نتیجہ میں ان کی وفات ہوگئی۔
شہید مرحوم جماعتی کاموں میں بہت فعّال تھے۔ چار سال قائد مجلس گھٹیالیاں کے فرائض سرانجام دئیے۔ چھ سال تک ناظم عمومی رہے اور بوقت شہادت بطور سیکرٹری امور عامہ گھٹیالیاں خدمت کی توفیق پا رہے تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ انصاراللہ کے مختلف عہدوں پر بھی فائز رہے۔ جماعت کے لئے بڑی غیرت رکھنے والے تھے اور نظام جماعت کی اطاعت بھی ان میں خوب تھی۔ خلافت سے محبت کرنے والے تھے۔
شہید مرحوم حضرت چودھری غلام رسول بسراء صاحبؓ کی نسل میں سے تھے۔ کافی عرصہ قبل کسی جھگڑے کی وجہ سے ان کی خاندانی دشمنی پیدا ہوگئی تھی جس کی بِنا پر 2001ء میں اِن کے خاندان کے دو افراد قتل کردیئے گئے تھے۔ پھر اِن کے خاندان کے ایک فرد نے مخالف فریق کے ایک شخص کو قتل کردیا۔ بعدازاں دونوں خاندانوں میں صلح ہوگئی۔ آجکل شہید مرحوم چونکہ گھٹیالیاں کی احمدیہ مسجد کے کیس میں عدالت میں پیش ہوتے تھے اس لئے معاندین کو بہت کھٹکتے تھے۔ اور معاندین اِن کی پرانی خاندانی دشمنی کو ہوا دے رہے تھے کہ یہ بدلہ لینے کا اچھا وقت ہے اور یہ کہ اگر پکڑے گئے تو یہی کہہ دیں کہ احمدی ہونے کی وجہ سے مارا ہے۔ بہرحال قاتل کو پولیس نے پکڑ لیا ہے۔
شہید مرحوم موصی تھے۔ آپ کی تدفین ربوہ کے عام قبرستان میں ہوئی۔ آپ نے پسماندگان میں اہلیہ محترمہ شگفتہ متین صاحبہ کے علاوہ دو بیٹے اور دو بیٹیاں چھوڑیں۔ ایک بیٹا عزیزم طلحہ ریاض جامعہ احمدیہ جونیئر سیکشن میں زیرتعلیم ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes
0

اپنا تبصرہ بھیجیں