مکرم عبدالمنان طاہر صاحب آف مظفرآباد (کشمیر)

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 10؍اپریل 2002ء میں مکرم عبدالمنان طاہر صاحب کا ذکر خیر کرتے ہوئے مکرم ڈاکٹر محمد صادق جنجوعہ صاحب رقمطراز ہیں کہ آپ محترم ماسٹر بشیر احمد صاحب آف چارکوٹ (جموں کشمیر) کے بڑے بیٹے تھے، راجوری ضلع ریاسی میں 7؍نومبر 1940ء کو پیدا ہوئے۔ بچپن میں کشمیر سے ہجرت کرکے گوجرانوالہ میں آباد ہونا پڑا۔ یہاں گزراوقات کے لئے معمولی نوکری بھی کی اور ٹیوشن بھی پڑھائی۔ 1957ء میں کشمیر کے اکاؤنٹنٹ جنرل کے دفتر میں ایک آڈیٹر کی حیثیت سے ملازمت کا آغاز کیا اور محکمانہ امتحانات پاس کرتے ہوئے ایڈیشنل اکاؤنٹنٹ جنرل کے عہدہ سے 10؍ستمبر 2000ء کو ریٹائرڈ ہوئے۔
چونکہ آپ نے غربت کے دن بھی دیکھے ہوئے تھے اس لئے اپنے غریب رشتہ داروں کا ہمیشہ بہت خیال رکھتے۔ کئی عزیزوں کے بچوں کو اپنے پاس رکھا اور تعلیم دلوائی۔ مہمانوں کی خدمت میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھتے۔ اپنی ذات پر بہت کم خرچ کرتے اور لباس اتنا سادہ ہوتا کہ دیکھنے والا آپ کی دنیاوی حیثیت کا اندازہ نہیں لگاسکتا تھا۔ عہدہ کے لحاظ سے سرکاری گاڑی ملی ہوئی تھی لیکن جب اسے ذاتی استعمال میں لاتے تو اخراجات اپنی جیب سے ادا کرتے۔ ملازمت کے دوران لاکھوں کی رشوت کی پیشکش اکثر ہوتی رہتی جسے ٹھکرادیتے۔ اپنی بڑی مالی ضرورتیں دفتر سے قرضہ لے کر بھی پوری کیں، یہ قرضہ اقساط میں ادا ہوتا رہتا۔ 43 سال بے داغ ملازمت کی۔ افسران، ساتھیوں اور ماتحتوں میں یکساں عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔
جماعتی کاموں میں مستعد رہتے۔ دعوت الی اللہ کرتے رہتے۔ 1974ء میں مخالفین کے جلوس نے آپ کے گھر کو لُوٹ مار کرنے کے بعد جلادیا تو بھی آپ نے صبر و تحمل کا اعلیٰ نمونہ پیش کیا۔ بعد میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو مالی لحاظ سے بے انتہا دیا اور غیرمعمولی محکمانہ ترقیات بھی عطا کیں۔ اپنی جماعت میں لمبا عرصہ سیکرٹری مال رہے اور بوقت وفات ناظم انصاراللہ ضلع مظفر آباد تھے۔ 1997ء میں اپنی جماعت کے صدر اور امیر ضلع بھی مقرر ہوئے۔ کئی مرحومین کی طرف سے چندہ تحریک جدید ادا کیا کرتے تھے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد زندگی کا آغاز وقف عارضی سے کیا اور دو ہفتوں کے لئے یہ خدمت بجالائے۔
نماز سنوار کر پڑھتے۔ نماز تہجد باقاعدگی سے ادا کرتے۔ آپ کا گھر ہی مرکز نماز بھی ہے۔ ڈش کا انتظام بھی کیا ہوا تھا جہاں غیراحمدی بھی خطبہ کے وقت مدعو ہوتے۔ بہت پُرسوز آواز پائی تھی۔ ایسے مسحورکُن انداز میں نظم سناتے کہ حاضرین بہت لطف اندوز ہوتے۔ 3؍ستمبر 2001ء کو چند روز کی بیماری کے بعد وفات پائی۔

50% LikesVS
50% Dislikes
0

اپنا تبصرہ بھیجیں