مکرم مبارک محمود صاحب مربی سلسلہ

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 14 ستمبر 2012ء میں مکرم مظفر احمد درّانی صاحب کے قلم سے مکرم مبارک محمود صاحب مربی سلسلہ کا ذکرخیر شامل اشاعت ہے۔ قبل ازیں 22 جنوری 2016ء کے الفضل انٹرنیشنل کے اسی کالم میں مرحوم کا ذکرخیر کیا جاچکا ہے۔
مضمون نگار رقمطراز ہیں کہ مکرم مبارک محمود صاحب مربی سلسلہ ابن مکرم سیف علی شاہد صاحب امیر ضلع میرپورخاص سے خاکسار کا تعلق بہت پرانا ہے۔ 1989ء میں بطور مربی ضلع جھنگ میری تقرری ہوئی تو اُن دنوں عنایت پور بھٹیاں میں مکرم مبارک محمود صاحب تعینات تھے جہاں آپ سے میرا باقاعدہ تعارف ہوا۔ ہم دونوں نے ایک سائیکل پر بیٹھ کر اُن کے حلقہ کی جماعتوں کے دورے کئے۔
ایک ہی حلقہ میں مکرم مبارک محمود صاحب کے ساتھ کام کرنے سے معلوم ہوا کہ آپ بہت شریف النفس، بے ضرر، ہمدرد اور دوسروں کے خیرخواہ تھے اور جماعتی خدمت کے مواقع تلاش کر کے ذاتی لگن اور بہت محنت سے وقف کی ذمہ داریاں نبھاتے تھے۔ بعدازاں ٹھٹھہ شیریکا میں متعیّن ہوئے۔ ہر دو جگہ مسجد کے ساتھ والے کمرہ میں آپ کی رہائش تھی، مسجد میں درس و تدریس کے علاوہ آپ کے کمرہ میں بھی چھوٹوںاور بڑوں کا ہر وقت آناجانا لگا رہتا تھا۔ ڈیروں، زمینوں اور دکانوں پر جاکر بھی آپ احباب جماعت سے رابطہ رکھتے۔ اور اپنی تمام مفوّضہ ذمہ داریوں کو باحسن سرانجام دیتے۔ آپ کی شرافت و ہمدردی اور دوسروں کی خیر خواہی کی وجہ سے اس حلقہ کے احباب ہمیشہ آپ سے رابطہ میں رہے۔
20فروری 1993ء کو خاکسار کینیا گیا جس کے چند سال بعد آپ تنزانیہ تشریف لے گئے۔ اپریل 1999ء میں جب خاکسار کا تقرر تنزانیہ کے لئے ہوا تو مکرم مبارک محمود صاحب تنزانیہ میں اکیلے مقیم تھے۔ فیملی پاکستان میں تھی۔ آپ کا سنٹر عروشہ شہر تھا اور آپ کے حلقہ میں ہی افریقہ کا سب سے بڑا پہاڑ Kilimanjaroواقع تھا۔ آپ نے اپنے حلقہ میں تبلیغ و تربیت کے کام کو خوب جاری رکھا اور میدان عمل میں ہی سواحیلی زبان بھی سیکھتے رہے۔ اس سنٹر میں بہت چھوٹی جماعت تھی جس کی وجہ سے ایک دشمن نے آپ کو ذہنی اور جسمانی دکھ میں مبتلا کئے رکھا حتی کہ آپ کو اسیری کے دن بھی کاٹنے پڑے مگرآپ نے خدا کی خاطر یہ وقت بھی نہایت حوصلہ، ہمت اور صبر سے گزارا۔
جب عروشہ میں آپ کی جگہ پر دوسرے مبلغ کا تقرر ہوا تو انہوں نے روٹی پکانے کے لئے توے کا مطالبہ کیا۔ جب مکرم مبارک محمود صاحب سے پوچھا گیا کہ آپ توے کے بغیر کیسے گزارہ کرتے رہے تو آپ نے جواب دیا کہ دوسال کے عرصہ قیام میں خاکسار نے کبھی روٹی پکائی ہی نہیں۔ اس عرصہ میں چاول اور ڈبل روٹی کھاکر گزارہ کرتے رہے۔ بعدازاں مختلف مقامات پر متعیّن رہے جہاں بڑی جماعتیں تھیں اور ذمہ داریاں بھی زیادہ تھیں۔ 2001ء میں ایک ماہ کے لئے تنزانیہ کے قائم مقام امیر اور مربی انچارج بھی رہے۔
کینیا کی سرحد پر تنزانیہ کا آخری شہر تاریمے (Tarime) ہے۔ سرحد کے دونوں طرف دونوں ملکوں میں بکثرت احمدی جماعتیں قائم ہیں۔ مقامی لوگوں کے لئے آر پار آنے جانے کے لئے کوئی پابندی نہیں۔ اس لئے تاریمے میں دومنزلہ بڑی مسجد کی تعمیر کا فیصلہ کیا گیا جس میں بالائی منزل پر معلّم کی رہائشگاہ بھی شامل تھی۔ اس منصوبہ کی تعمیر کی نگرانی کے لئے مکرم مبارک محمود صاحب کو وہاں بھجوادیا گیا۔ آپ نے بہت محنت سے سارا سارا وقت موقع پر کھڑے ہو کر اپنی مرضی کا تسلی بخش کام کروایا۔ جماعت احمدیہ تنزانیہ کی یہ پہلی دو منزلہ مسجد تھی۔
مکرم مبارک محمود صاحب کو شروع سے ہی ٹائپنگ کا شوق تھا اس لئے انہیں ایک ٹائپ رائٹر مہیا کر دیا گیا جس پر آپ چھوٹے چھوٹے پمفلٹس تیار کر کے اپنے داعیان اور زیر تبلیغ دوستوں میں تقسیم کیا کرتے تھے۔ تقریباً ہر ماہ چند دلائل پر مشتمل ایک نیا پمفلٹ تیار کرکے اس کی کاپیاں کرواکے مہیا کیا کرتے تھے۔ آپ جہاں جہاں بھی رہے ڈش انٹینا کا باقاعدہ خیال رکھتے تا کہ MTAکی مسلسل دستیابی میسر رہے۔ MTAسے خطبات اور دیگر معلومات حاصل کر کے اس کا خلاصہ اور سواحیلی ترجمہ احبابِ جماعت تک پہنچایا کرتے تھے۔
آپ Mbeya میں مقیم تھے کہ بیمار ہوگئے اور ابتدائی آپریشن وہیں ہوا۔ 2006ء میں بیماری کی حالت میں ہی پاکستان تشریف لائے اور بقیہ علاج کراچی میں ہوا۔ صحت کی بحالی پر 2007ء کے آخر میں وکالتِ تصنیف تحریک جدید ربوہ کے سواحیلی ڈیسک میں تعیناتی ہوئی جبکہ آپ سے دو ماہ قبل خاکسار بھی سواحیلی ڈیسک میں تعینات ہوچکا تھا۔ بیماری اور کمزوری کے باوجود بہت محنت سے کام کرتے رہے۔ انٹرنیٹ سے سواحیلی زبان سیکھتے اور نیٹ پر سواحیلی ریڈیو بھی سنا کرتے تھے۔ اس طرح آپ نے سواحیلی محاورات کا ایک کتابچہ بھی تیار کیا اور نیٹ سے ہی عام استعمال کے قواعد مع امثلہ تلاش کرکے پرنٹ کرلئے۔ الغرض سواحیلی زبان میں ترقی کرنے کا جذبہ رکھتے تھے۔ اور خواہش رکھتے تھے کہ مکمل صحت یابی کے بعد اپنے خرچ پر چند ماہ کے لئے تنزانیہ جاکر سواحیلی زبان میں بہتری پیدا کر یں گے۔ مگر اللہ کو اور ہی منظور تھا۔ پانچ سال کی تکلیف دہ بیماری کاٹنے کے بعد بالآخر 4مئی2011ء کو وفات پاگئے اور بہشتی مقبرہ میں تدفین عمل میں آئی۔ آپ کا اپنے بیوی بچوں کے ساتھ بہت ہی ہمدردانہ اور احترام والا سلوک تھا۔ آپ یقین، لگن اور امنگ سے لبریز تھے۔
13مئی کے خطبہ جمعہ میں حضور انور ایدہ اللہ نے آپ کا ذکرِ خیر فرمایا اور نمازِ جنازہ غائب پڑھائی۔

50% LikesVS
50% Dislikes
0

اپنا تبصرہ بھیجیں