مکرم محمد شفیع سلیم پوری صاحب

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 30؍مئی 2009ء میں مکرم محمد شفیع سلیم پوری صاحب نے اپنا اور اپنے خاندان کا تعارف پیش کیا ہے۔
آپ لکھتے ہیں کہ مَیں 18 جون 1924ء کو مکرم کرم الٰہی صاحب کے ہاں چار بیٹیوں کے بعد پیدا ہوا۔ پرائمری کے بعد والد نے تعلیم کا خرچ اٹھانے سے انکار کردیا۔ میرے والد نے ایک دور کا رشتہ دار لڑکا پالا تھا جو مجھ سے بیس سال بڑا تھا اور سیالکوٹ میں درزی کی دکان کرتا تھا۔ اُس نے مجھے تعلیم حاصل کرنے میں مدد دی اور اس طرح مختلف سکولوں میں پڑھتے ہوئے مَیں نے میٹرک پاس کیا۔ دو بہنیں اور تین بھائی مجھ سے عمر میں چھوٹے تھے۔ بچپن سے ہی نماز پڑھنے کا خاص شغف تھا۔ کبھی بیماری میں بھی نماز نہیں چھوڑی۔ جب ساتویں جماعت میں پڑھتا تھا تو ہمارے گاؤں کے ایک احمدی ملک محمد حسین صاحب مجھ سے الفضل پڑھواکر سنا کرتے تھے۔ وہ باتوں باتوں میں مجھے احمدیت کی صداقت سے بھی آگاہ کرتے۔ مَیں بھی دعا کرتا کہ اللہ تعالیٰ حق ظاہر فرمادے۔ آٹھویں جماعت میں تعلیم کے دوران ہی احمدیت کی صداقت مجھ پر ظاہر ہوگئی۔ میٹرک کے دوران بیعت کرنے کی شدید خواہش تھی لیکن مخالفت کے خوف سے خاموش رہا۔ میٹرک کا نتیجہ نکلنے سے پہلے اپریل 1942ء میں بیعت فارم پُر کردیا۔ حضرت مصلح موعودؓ نے میری بیعت منظور فرمالی اور اس کے ساتھ ہی میرا سارا گاؤں میرا مخالف ہوگیا تاہم میرے والد نے مخالفت نہیں کی اور چپ رہے۔ جلد ہی مَیں فوج میں حوالدار کلرک بھرتی ہوگیا اور برما کے محاذ پر بھجوادیا گیا۔ مَیں نے وہاں الفضل لگوالیا، لٹریچر بھی منگواتا اور خوب تبلیغ کرتا۔ ملیریا بخار کی وجہ سے مجھے علاج کے لئے پہلے بنگلور اور پھر لاہور آنا پڑا۔ لاہور کے سفر کے دوران بٹالہ ریلوے سٹیشن پر اُتر گیا اور پہلی بار قادیان کی زیارت کو چلا گیا۔ تانگہ والے نے بہشتی مقبرہ میں اتار دیا۔ مَیں حضرت مسیح موعودؑ کے مزار مبارک کے ساتھ لیٹ گیا۔ تھوڑی دیر بعد خدام وہاں پہنچے اور مجھے چارپائی پر ڈال کر ہسپتال لے گئے۔ دو ہفتہ وہاں رہا اور پھر لاہور چلا آیا جہاں ہسپتال والوں نے فوجی سروس سے 1946ء میں فارغ قرار دیدیا۔
1949ء میں مجھے نظام وصیت میں شمولیت کی توفیق ملی۔ میرے دو چھوٹے بھائیوں کو بھی احمدیت قبول کرنے کی سعادت ملی۔ ایک بھائی محمد اسحق کراچی میں ایک حادثہ میں جاں بحق ہوگیا۔ اُس کی جیب میں وقف زندگی کا فارم پُر کیا ہوا ملا۔
1945ء میں میری شادی ہوگئی۔ منگنی بچپن میں ہوگئی تھی لیکن میرے احمدی ہونے پر رشتہ توڑنے پر بہت دباؤ ڈالا گیا۔ تاہم میرے سسر جیون بخش صاحب نے کہا کہ وہ زبان دے چکے ہیں اب لڑکا احمدی ہو یا کچھ اَور ہوجائے، زینب بی بی اُس کو ہی دوں گا۔ شادی کے بعد مَیں نے بیوی سے کہہ دیا کہ مَیں تمہیں احمدی ہونے پر مجبور نہیں کروں گا۔ پاکستان بننے کے بعد 1949ء میں پہلے جلسہ سالانہ ربوہ میں اپنی بیوی اور بچہ کے ساتھ شریک ہوا۔ چار سال مسلسل جلسہ سالانہ میں شامل ہونے کے بعد میری بیوی نے ازخود بیعت کرلی۔ چند سال بعد وصیت بھی کرلی۔ جنوری 2001ء میں زینب بی بی وفات پاگئیں اور بہشتی مقبرہ ربوہ میں دفن ہوئیں۔
1954ء میں مَیں نے پاکستان آرڈیننس فیکٹری واہ کینٹ میں مستقل سروس کرلی۔ حضرت مصلح موعودؓ کے مشورہ پر جماعتی کتب کی ایجنسی بھی لے لی۔ 1985ء میں ریٹائر ہوکر اپنے گاؤں سلیم پور آگیا۔ اس دوران ایک لاکھ روپے سے زیادہ رقم کی کتب فروخت کرکے مرکز میں رقم ارسال کی۔ گاؤں میں صدر جماعت، زعیم انصاراللہ اور کئی ذمہ داریاں ادا کرنے کی توفیق ملتی رہی ہے۔ میرا بڑا بیٹا جامعہ احمدیہ سے فارغ التحصیل ہے۔ دوسرا بیٹا PIA میں انجینئر اور تیسرا M.Sc, M.Ed. کرنے کے بعد ہائی سکول میں سینئر میتھ ٹیچر ہے۔ واہ کینٹ میں اپنی قلیل آمدنی سے بچوں کو تعلیم دلانا مشکل تھا۔ چنانچہ میری اہلیہ نے گاؤں میں رہ کر دستکاری کا کام کیا اور بچوں کے تعلیمی اخراجات اٹھانے میں میری مدد کی۔
گاؤں میں میرا خستہ حالت کا مٹی کا بنا ہوا مکان تھا۔ حضرت خلیفۃالمسیح الثالثؒ سے دعا کی درخواست کی تو حضورؒ کی طرف سے تسلّی بخش جواب آیا۔ میری ریٹائرمنٹ پر تیس سال کی سروس بنتی تھی۔ بتیس سال سروس کرنے والوں کو فیکٹری کی طرف سے پلاٹ دیئے جانے تھے۔ حضورؒ کی دعا سے فیکٹری کے چیئرمین نے ہدایت دی کہ جس نے فوجی سروس کی ہے وہ بھی شمار کی جائے۔ اس طرح مجھے بھی پلاٹ مل گیا۔ یہ پلاٹ 1995ء میں پانچ لاکھ روپے میں بیچا اور گاؤں میں دو منزلہ پختہ مکان بنانے کی توفیق مل گئی۔
میرے دو بیٹوں کے ہاں نرینہ اولاد نہیں تھی۔ حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ کی خدمت میں دعا کے لئے خطوط لکھے گئے۔ اللہ تعالیٰ نے حضورؒ کی دعاؤں کے طفیل فضل فرمایا اور دونوں کے ہاں بیٹے پیدا ہوئے۔

پرنٹ کریں
0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/wJPHa]

اپنا تبصرہ بھیجیں