مکرم مشتاق احمد بٹ صاحب

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ کے جنوری 2012ء میں شائع ہونے والے اپنے مضمون میں مکرم ڈاکٹر عبدالباری ملک صاحب نے مکرم مشتاق احمد بٹ صاحب کا ذکرخیر کیا ہے جو 8 ستمبر 2011ء کو بریڈفورڈ میں وفات پاگئے۔
مکرم مشتاق احمد بٹ صاحب انتہائی مہربان اور شفیق شخصیت کے مالک تھے۔ باقاعدگی سے نماز تہجد اور پانچوں نمازوں کو وقت پر ادا کرنے کا اہتمام کرتے۔ انتہائی صابر، متقی، پرہیزگار، قرآن پاک سے عشق رکھنے والے، نظام جماعت کی کامل اطاعت اور خلیفۂ وقت سے عقیدت اور وفا کا تعلق رکھنے والی شخصیت تھے۔ انگلستان آنے سے پہلے آپ پاکستان میں فوج میں ملازم تھے۔ ساٹھ کی دہائی میں بریڈفورڈ آکر آباد ہوئے اور یہاں کے ابتدائی احمدیوں میں شامل تھے۔ انگلستان آنے کے بعد مقامی ٹیکسٹائل مل میں بڑی محنت سے کام کیا۔ اپنے ساتھیوں اور انگریز افسروں میں اپنی محنت اور حسن اخلاق کی وجہ سے بڑے مقبول تھے۔ آپ نے مخالفت کے باوجود کبھی اپنی احمدیت کی شناخت کو نہیں چھپایا۔
جوانی سے ہی آپ نمازوں کے پابند تھے۔ قرآن پاک سے عشق کا یہ عالم تھا کہ خاصاحصہ زبانی حفظ تھا۔ احمدیہ مسجد بریڈفورڈ میں لمبا عرصہ امامت کرنے اور تراویح پڑھانے کا اعزاز بھی حاصل رہا۔ تلاوت قرآن بہت خوش الحانی سے کرتے تھے۔ ترنّم سے نظمیں بھی پڑھتے تھے۔ ایک موقع پر ایک انگریز مہمان نے اِن کی زبان سے حضرت مسیح موعودؑ کا پُرسوز منظوم کلام سُنا تو اُن کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور وہ بار بار کہتے تھے کہ مجھے زبان کی سمجھ تو نہیں آئی لیکن اتنی خوبصورت آواز سے مَیں بہت لطف اندوز ہواہوں۔
مکرم بٹ صاحب 1979ء میں صدر جماعت بریڈفورڈ مقرر ہوئے۔ آپ کے دَور میں مسجد بیت الحمد کے لئے زمین کی خرید کا کام شروع ہوا اور آپ کے دَور میں ہی بریڈ فورڈ میں پہلے مربی سلسلہ مکرم عبدالحفیظ کھوکھر صاحب تعینات ہوئے۔ بحیثیت صدر جماعت آپ نے بڑی محنت سے کام کیا اور ساری جماعت کا بہت خیال رکھا۔ بحیثیت زعیم انصاراللہ، صدر اصلاحی کمیٹی اور کئی شعبوں کے سیکرٹری کے طور پر بھی خدمت کی توفیق پائی۔ بڑھاپے اور خراب صحت کے باوجود مسجد کے کچن میں صفائی کرتے اور برتن بھی دھو دیتے۔
مکرم بٹ صاحب کی طبیعت میں لطیف مزاح تھا۔ اس وجہ سے بڑوں اور بچوں میں یکساں مقبول تھے۔ ہر محفل کی جان ہوتے۔ دینی علم پر بھی خاصا عبور تھا۔ ہر موضوع پر قرآن و حدیث کے حوالے یاد تھے۔ ہر وقت ہر موضوع پر بات کرسکتے تھے۔ تبلیغ کا بہت شوق تھا۔ ہر ایسی مجلس میں آپ کے مہمان ضرور مدعو ہوتے۔
دینی غیرت بھی بلا کی تھی۔ جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے ایک دوست سے آپ کے دیرینہ خاندانی تعلقات تھے۔ اُس نے ایک دفعہ اخبار میں جماعت کے خلاف مضمون تحریر کیا اور حضرت مسیح موعودؑ کی شان میں گستاخی کی۔ اس پر مکرم مشتاق احمد بٹ صاحب نے فون کرکے اُس کو کہا کہ آج سے تمہارے ساتھ میرا کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس کے بعد کئی سال تک آپ نے اس سے مکمل قطع تعلق کئے رکھا۔ آخر اُس شخص کی بیوی کی معذرت پر آپ نے اس سے تعلقات بحال کئے۔
آپ کو اللہ تعالیٰ نے چار بیٹوں اور ایک بیٹی سے نوازا۔ آپ نے بڑی محنت کرکے سب کو اعلیٰ تعلیم دلوائی اور جماعت سے ہمیشہ مضبوط تعلق قائم رکھا۔ آپ کے سب سے بڑے بیٹے مکرم سلیم احمد صاحب لیسٹر میں جج کے عہدہ پر فائز ہیں۔ وہ احمدیہ لائرزسوسائٹی کے کئی سال تک صدر رہے اور کئی سال تک لیسٹر جماعت کے صدر بھی رہے۔
مکرم مشتاق احمد بٹ صاحب نے ریٹائرمنٹ کے بعد اپنے گھر کے قریب ہی مقامی کونسل سے ایک قطعہ زمین لے کر مشغلے کے طور پر باقاعدہ کھیتی باڑی شروع کردی تھی۔ سبزیوں کا سیزن ہوتا تو نماز جمعہ کے موقع پر اپنی کار بھر کر لاتے اور دوستوں کو تحفۃً دیتے۔
آپ کو شاعری کا بھی شوق تھا اور بڑے خوبصور ت شعر کہتے۔ آپ کا شعری مجمو عہ ’’پھول کھلے ہیں گلشن گلشن‘‘ ہے جو محترم ڈاکٹر افتخار احمد ایاز صاحب نے قادیان سے شائع کروایا ہے۔ ان کے چند اشعار ملاحظہ ہوں۔

کبھی جو ملتے ہو ایسی خوشی سی ملتی ہے
کہ رُوح جھومتی ہے زندگی سی ملتی ہے
رہِ حیات کے اسرار کھلنے لگتے ہیں
نگاہ ملتے ہی اِک روشنی سی ملتی ہے
……………………..
مجھ کو نشاط سے کیا غرض ، رسم وفا عزیز ہے
میرا رفیق شب ہوا ، اک دیا بجھا ہوا
آپ کے مجاہدہ سے مجھ میں روشنی رہی
ورنہ میری بساط کیا ، اک دیا بجھا ہوا

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں