مکرم مولانا محمد حفیظ صاحب بقاپوری

روزنامہ الفضل ربوہ 12؍مئی 2004ء میں مکرمہ امتہ الباری قمر صاحبہ اپنے والد مکرم مولانا محمد حفیظ بقاپوری صاحب کا ذکر خیر کرتے ہوئے رقمطراز ہیں کہ آپ حضرت مولوی محمد ابراہیم بقاپوری صاحبؓ کے بھتیجے تھے۔ 1947ء میں حفاظت مرکز کے لئے خود کو پیش کیا۔ بعد میں حضرت مصلح موعود ؓ نے ازراہ شفقت فیملی کو قادیان بھجوادیا۔ آپ نے ساری زندگی درویشی میں گزاری اور قادیان کے 313درویشوں میں آپ کا نام ملتا ہے۔ درویشانہ زندگی نہایت ایمانداری اور اخلاص سے گزاری۔
آپ نے مدرسہ احمدیہ میں تعلیم حاصل کرنے کے علاوہ F.A. بھی کیا۔ عرصہ دراز تک مدرسہ قادیان میں ہیڈ ماسٹر کے عہدہ پر فائز رہے۔ مدرسہ احمدیہ کے بورڈنگ ہاؤس میں ٹیوٹر بھی رہے اور طلبہ کا والد کی طرح خیال رکھا۔ تقسیم ملک کے بعد بطور معان ناظر دعوۃ الی اللہ خدمت کرنے کی توفیق ملی نیز بطور ممبر صدر انجمن احمدیہ، ممبر اصلاحی کمیٹی اور ممبر قضاء بورڈ بھی جماعتی خدمات انجام دیتے رہے۔ اخبار بدر کے عرصہ دراز تک ایڈیٹر رہے۔ اسی طرح افسر جلسہ سالانہ بھی رہے۔ میری بڑی بہن کے خطبہ نکاح میں حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒ نے فرمایا کہ ’’اس بچی کے والد مولوی محمد حفیظ بقاپوری صاحب سلسلہ احمدیہ کی دن رات چوبیس گھنٹے خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔‘‘
افسر جلسہ سالانہ ہونے کے دوران مہمانوں کا بہت خیال رکھتے۔ مصروفیت اس قدر ہوتی کہ رات کو ایک دوگھنٹہ آرام کے بعد تہجد کی نماز کے لئے روانہ ہوجاتے۔ رمضان المبارک کے آخری عشرے میں باقاعدگی سے اعتکاف بیٹھتے۔ پابند صوم وصلوٰۃ تھے۔ قرآن شریف ترجمہ کے ساتھ ہم سب بچوں کو پڑھایا۔ نیز باوجود تنگ دستی کے سب بچیوں کو گریجوایشن کروایا۔ ایک بیٹے کو سرجن اور دوسرے کو انجینئر بنایا۔
آپ 5نومبر 1987ء کو اپنے مولائے حقیقی سے جا ملے۔ آپ موصی تھے بہشتی مقبرہ قادیان میں تدفین عمل میں آئی۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/cbrkh]

اپنا تبصرہ بھیجیں