مکرم میاں لطیف احمد صاحب

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 3؍جولائی 2004ء میں مکرمہ امۃ الرحمن صاحبہ اپنے والد مکرم میاں لطیف احمد صاحب کا ذکر خیر کرتے ہوئے لکھتی ہیں کہ آپ 1938ء میں پیدا ہوئے۔ میٹرک کرنے کے بعد نیشنل بنک میں ملازم ہوئے اور امتحانات پاس کرتے کرتے منیجر بن گئے۔ ربوہ میں نیشنل بنک کی برانچ آپ ہی نے کھولی۔ کئی بار آپ کو اعلیٰ کارکردگی پر نقد انعام بھی ملا۔ آپ نہایت ایماندار آفیسر تھے۔ ہمیں ہمیشہ رزقِ حلال کھانے کی نصیحت کرتے۔ سچ کا دامن کبھی نہ چھوڑتے۔ اس وجہ سے کئی بار آپ کی ٹرانسفر دُور دراز علاقے میں کی گئی۔
مرحوم خدمت خلق کرکے خوش ہوتے۔ اگر کوئی بیمار یا ضعیف آدمی سڑک پر مل جاتا تو اکثر موٹر سائیکل پر بٹھا کر اس کو گھر چھوڑ کر آتے۔ سوالی کو کبھی خالی ہاتھ نہ جانے دیتے۔ مقروض سے قرض کا تقاضا نہ کرتے۔ ہمارا گھر بڑی سڑک کے پاس ہے، اگر کوئی گاڑی یا ٹرک وغیرہ خراب ہوجاتا تو آدمیوں کو گھر لے آتے اور ان کے کھانے پینے اور سونے کا انتظام کرتے۔ ایک بارایک ٹرک خراب ہوگیا تو آپ نے ٹرک والوں کو کھانا وغیرہ کھلا کر گھر میں سلایا اور خود بستر لے کر ٹرک کے پاس سو گئے۔
نیشنل بنک میں ان کی جگہ جو افسر متعین ہو کر آتا اس کو اپنے گھر ٹھہراتے اور ان کے کھانے پینے کا بندوبست بھی کرتے۔ بہت مہمان نواز تھے۔ گوجرہ میں نوکری کے دوران ایک مخالف کی شکایات پر آپ کی ٹرانسفر کردی گئی۔ لیکن کچھ عرصہ بعد جب اُس کی ٹرانسفر ربوہ میں ہوئی اور اس کو ربوہ میں رہائش کی دقت تھی تو آپ نے نہ صرف تین سال تک اس کو اپنے گھر رکھا بلکہ اس کے کھانے پینے کا انتظام بھی کیا۔ رات کو روزانہ اس کے لئے دودھ لے کر جاتے رہے۔
غرباء کا بہت خیال رکھتے، غریب لڑکی کی شادی ہوتی تو رقم وغیرہ اکٹھی کرنے کا انتظام کرتے۔ عید پر عیدی کے پیکٹ بنا کر محلہ میں اور اپنے ڈیرہ پر غریب لوگوں میں تقسیم کرتے۔ وفات سے ایک دن قبل ایک غریب آدمی احمد نگر جاتے ہوئے دیکھا تو اس کوموٹر سائیکل پر بٹھا کر احمد نگر چھوڑ کر آئے۔
ایک احمدی بزرگ (جن کے غیراحمدی بیٹے بڑے بڑے عہدوں پر فائز ہیں) نے ربوہ میں رہنے کی خواہش ظاہر کی تو آپ ان کو اپنے گھر لے آئے۔ ان کا ناشتہ اور کھانا اپنے سامنے تیار کرواتے۔ یہ احمدی دوست ہمارے گھر رہے اور ہمارے گھر ہی فوت ہوئے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد آپ اپنے محلہ میں رشتہ ناطہ اور وقفِ جدید کے سیکرٹری بھی رہے۔ 25؍اکتوبر 2003ء کو وفات پائی۔

50% LikesVS
50% Dislikes
0

اپنا تبصرہ بھیجیں