نماز میں حضور قلب حاصل کرنے کا طریق

ماہنامہ ’’تشحیذالاذہان‘‘ ربوہ جنوری2008ء میں حضرت پیر سراج الحق نعمانی صاحبؓ کی کتاب سے ایک اقتباس شامل اشاعت ہے۔ آپؓ تحریر فرماتے ہیں کہ ایک روز میں نے عرض کیا کہ حضرت نماز میں حضور اور لذت اور ذوق و شوق تضرع کیونکر پیدا ہووے؟
فرمایا: کبھی مکتب میں پڑھے ہو۔ عرض کیا: ہاں پڑھا ہوں۔ فرمایا: کبھی استاد نے کان پکڑائے ہیں، پھر کیا حال ہوا۔ عرض کیا کہ میں پہلے تو برداشت کرتا رہا اور جب تھک گیا اور پسینہ پسینہ ہوگیا تو رو پڑا۔
فرمایا: پھر کیا ہوا؟
عرض کیا: پھر استاد کو رحم آگیا اور خطا معاف کر دی پھر پیار کرلیا۔
فرمایا: یہی حالت نماز میں پیدا کرو، جس قدر دیر لگے اتنی دیر نماز میں لگاؤ اور اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْم زیادہ پڑھو اور اس قدر پڑھو کہ ہاتھ پیر اور تمام بدن دکھ جاوے۔ تو کچھ اپنی جان پر رحم آوے گا اور پھر خدا تعالیٰ کے رحم پر نظر ہوگی اور اس کے بعد خدا بھی رجوع برحمت ہوگا اور دریائے رحمت الٰہی جوش مارے گا پھر حضور اور خشوع و خضوع اور لذت اور ذوق و شوق پیدا ہوجاوے گا۔ … قیام رکوع سجدہ میں بہت دیر لگانی چاہئے اور تہجد کی نماز ضرور پڑھنی چاہئے۔ میں نے عرض کیا کہ سستی کا بھی کوئی علاج ہے فرمایا اس وقت غسل کر لیا کرو سستی دفع ہوجائے گی ہم بھی غسل کر لیا کرتے ہیں۔ نماز تہجد سے انسان مقام محمود تک پہنچ جاتا ہے۔ مقام محمود وہ مقام ہے جہاں اللہ تعالیٰ انسان کی حمد کرتا ہے۔ پھر فرمایا قوالی تو سنی ہوگی میں نے عرض کیا کہ ہاں ۔ فرمایا وجد آیا۔ عرض کیا کہ ہاں آیا۔ فرمایا دیکھو عین قوالی کے وقت وجد آتا ہے قوالی کے بعد وجد نہیں آتا۔ اسی طرح نماز کے اندر انسان کو وجد آنا چاہئے جو حقیقی وجد ہے اور قوالی کے وقت عارضی وجد ہے جو آناً فاناً سب ذوق جاتا رہتا ہے اور نماز کا ذوق شوق و وجد حقیقی ہے جو ہمیشہ رہتا ہے۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/WJDsK]

اپنا تبصرہ بھیجیں