نماز کی لذت اور محبت

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 16اپریل 2012ء میں قیادت تربیت مجلس انصاراللہ پاکستان کا مُرسلہ ایک مختصر مضمون شامل اشاعت ہے جس میں خلفائے احمدیت کے حوالہ سے نماز کی لذّت اور محبت کا تذکرہ، چند دلنشیں روح پرور واقعات کے حوالہ سے، کیا گیا ہے۔ ان واقعات میں سے انتخاب ہدیۂ قارئین ہے:
٭ 1910ء میں گھوڑے سے گرنے کی وجہ سے حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل کو جو چوٹ آئی تھی۔ گو بظاہر تو عرصہ چھ ماہ کے بعد اس سے آرام آگیا تھا مگر وہ تکلیف بکلّی رفع نہیں ہوئی تھی۔ آنکھ کے قریب ناسور باقی رہ گیا تھا جس کے باعث تھوڑا سا کام کرنے سے بھی بعض اوقات آپ تھکاوٹ اور ضعف محسوس کرنے لگتے تھے۔ اخبار ’’بدر‘‘ لکھتا ہے:
’’یکم اپریل 1913ء کی شام مسجد اقصیٰ میں اچانک حضرت خلیفۃ المسیح الاوّلؓ کودرس دیتے ہوئے ضعف جسمی ہوگیا۔ بیٹھ گئے پھر لیٹ گئے۔ ہاتھ پائوں سرد ہوگئے۔ چلنے کی قوّت نہ رہی، چارپائی پر اٹھا کر لائے۔ مگر راستہ میں جب مسجد مبارک کے پاس پہنچے تو فرمایامجھے گھر نہ لے جائو مسجد میں لے جائوبمشکل تمام مسجد کی چھت پر پہنچ کر نماز مغرب پڑھی۔ کچھ دوائیں مقوّی استعمال کی گئیںباوجود اس تکلیف کے، بعد نماز مغرب ایک رکوع کا درس دیا۔پھر چارپائی پر ا ٹھا کر گھر پر لائے، رات کو افاقہ ہوا صبح کو پھر درس دیا اور بیماروں کو دیکھا۔ ڈاکٹر صاحب کی رائے ہے کہ یکم اپریل سے اوّل شب میں کثرت پیشاب کے سبب یہ دورہ ہوا تھا‘‘۔
٭ حضرت خلیفۃالمسیح الاو لؓ نماز میں لذّت کے حوالہ سے فرماتے ہیں:
’’ ایک شخص نماز پڑھتا ہے اور اسے لذّت نہیں ملتی تو اس کو سوچنا چاہئے کہ یہ بھی خدا کا فضل ہے کہ میں نے نمازتو پڑھ لی۔ دوسرا اس سے اعلیٰ ہے وہ نماز سمجھ کر پڑھتا ہے۔ مگر دنیاوی خیالات نماز میں بھی اس کاپیچھا نہیں چھوڑتے ۔ اس کو بھی خوش ہونا چاہئے کہ سمجھ کرتو نماز پڑھنی نصیب ہوئی۔ تیسرا لذّت بھی پاتا ہے اس کو بھی خوش ہونا چاہئے۔ اس طرح انسان ترقی کر سکتا ہے، شکر کرنے سے بھی ترقی ہوتی ہے۔ اگر پہلے ہی نماز کو اس خیال سے کہ لذّت نہیں ملتی، کوئی چھوڑ دے، تو وہ کیا ترقی کرے گا۔‘‘
٭ سیدنا حضرت مصلح موعودؓ اپنی عمر کے گیارہویں سال میں کئے گئے ایک عہد کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
1900ء میں جب میری عمر گیارہ سال کی تھی خداتعالیٰ پر میرا سماعی ایمان علمی ایمان میں تبدیل ہوگیا۔ اور ایک دن مَیں نے ضحی کے وقت حضرت مسیح موعودؑ کا جبّہ پہنا، اپنی کوٹھڑی کا دروازہ بند کیا اور ایک کپڑا بچھا کر نماز پڑھنی شروع کر دی۔ اورمیں اس میں خوب رویا، خوب رویا، خوب رویا اور اقرار کیا کہ اب نماز کبھی نہیں چھوڑوں گا ۔ اس اقرار کے بعد میں نے کبھی نماز نہیں چھوڑی ۔

50% LikesVS
50% Dislikes
0

اپنا تبصرہ بھیجیں