نمبردار حضرت فتح محمد صاحبؓ عرف وَڈّا

نمبردار فتح محمد صاحب آف دوالمیال 1907ء میں اپنے کسی ذاتی کام سے جالندھر گئے اور کام نمٹاکر امرتسر آگئے جہاں رات کو ایک رؤیا دیکھا کہ آپ چند اشخاص کے ساتھ مسجد مبارک قادیان میں داخل ہو رہے ہیں اور ساتھ حضرت حکیم مولوی نورالدین صاحبؓ بھی کھڑے حضرت مسیح موعودؑ کی بیعت کرنے والوں کے نام لکھ رہے ہیں- سامنے حضرت اقدسؑ سفید پوشاک زیب تن فرمائے کھڑے ہیں، دروازہ کا مشرق والا در بند اور مغرب والا کھلا تھا- پھر حضورؑ مسجد کے صحن میں بیٹھ کر بیعت کرنے والوں کے نام لکھنے لگے اور ان ناموں میں نمبردار فتح محمد صاحب کا نام بھی شامل تھا-
یہ رؤیا دیکھنے کے بعد نمبردار صاحب کی حالت غیر ہوگئی کیونکہ دوالمیال میں اکثر احمدیت کی باتیں سنتے آ رہے تھے- چنانچہ آپ صبح سویرے قادیان روانہ ہوگئے- جب مسجد مبارک کی سیڑھیاں چڑھے تو حیرت ہوئی کہ رؤیا میں دکھایا جانے والا مسجد کا نقشہ سامنے تھا- حضرت مسیح موعودؑ بھی اُسی حلیے میں موجود تھے جو دکھایا گیا تھا- کچھ دیر بعد حضورؑ اٹھ کر گھر چلے گئے اور پھر دو روز تک تشریف نہ لاسکے- نمبردار صاحب نے یہ دو دن دیدار کے شوق میں بڑی بے تابی سے گزارے- تیسرے دن عید الاضحی تھی- حضورؑ عید کی نماز پڑھانے کے لئے تشریف لائے- عید کے بعد بیعت کرنے والوں کو دعوت ملی تو نمبردار صاحب نے، جو قریب ہی بیٹھے تھے ، فوراً اپنا ہاتھ حضرت اقدسؑ کے دست مبارک میں دے دیا اور یوں یہ عید ہر پہلو سے آپؓ کے لئے مبارک ہوگئی- بعد میں آپؓ نے اپنے قبول احمدیت کا واقعہ ایک پنجابی نظم میں بیان کیا جسے مکرم ریاض احمد ملک صاحب نے مضمون کی شکل دی ہے جو روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 6؍اگست 1998ء میں شامل اشاعت ہے-
مضمون نگار بیان کرتے ہیں کہ نمبردار حضرت فتح محمد صاحبؓ کے خاندان میں ایک دوسرے فتح محمد صاحب بھی تھے، دونوں نمبردار تھے، اس لئے عمر میں بڑا ہونے کی وجہ سے آپؓ کو وڈّا اور دوسرے کو نِکّا کہہ کر پکارا جاتا تھا-

50% LikesVS
50% Dislikes
0

اپنا تبصرہ بھیجیں