نومبائعین کی تربیت کے لیے قیمتی نصائح

(قسط اوّل – مطبوعہ رسالہ انصارالدین مئی جون 2024ء)

میر انجم پرویز، قائد تربیت نومبائعین مجلس انصاراللہ یوکے

اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اپنی ایک سنت بیان فرمائی ہے کہ جب بھی زمین خشک سالی کا شکار ہو جاتی ہے تو میں آسمان سے پانی اتارتا ہوں اور جب بحروبر میں فساد برپا ہو جاتا ہے تو میں آسمان سے لوگوں کی ہدایت کے سامان کرتا ہوں۔ ہر نبی کی بعثت ایسے ہی وقت میں ہوئی۔ جب آنحضرت ﷺ کی بعثت ہوئی تو اس وقت بھی بحروبر میں فساد برپا تھا۔ پھر آپؐ نے اپنی قوتِ قدسیہ سے عبادِ صالحین کی ایسی جماعت قائم کی جو اس خشک سالی کے عالم میں مژدۂ بہار بن کر دنیا میں پھیل گئے اور جہاں بھی گئے دنیا کو سبزہ زار میں بدل دیا۔ آنحضرت ﷺ نے صدق واخلاص کے ساتھ ایمان لانے والوں کو جہاں اسلام کی ترقی اور سربلندی کی خوشخبریاں عطا فرمائیں وہیں یہ انذار بھی فرمایا کہ ایک وقت ایسا بھی آنے والا ہے جب مسلمان کہلانے والے اسلام کی تعلیمات سے روگردانی اختیار کر لیں گے۔ کہنے کو تو وہ مسلمان ہوں گے مگر ان کے دل نورِ ایمان سے خالی ہوں گے۔ ایمان دُنیا سے اٹھ جائے گا۔ لیکن ساتھ ہی آپؐ نے یہ خوشخبری بھی دی کہ ایسے عالم میں تم بالکل مایوس نہ ہونا۔ اُس وقت ایک رجلِ فارس اس ایمان کو دوبارہ دلوں میں قائم کر دے گا۔ چنانچہ اس مقصد کے لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مبعوث فرمایا۔ جو لوگ آپ پر ایمان لائے اور آپ کی صحبت سے فیضیاب ہوئے انھوں نے اپنے اندر غیرمعمولی تبدیلی پیدا کی اور صدق واخلاص کے وہ نمونے دکھائے کہ صحابہ کا درجہ پایا۔

دارالبیعت لدھیانہ

ہر احمدی جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت میں شامل ہوتا ہے اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس مقصد کو ہمیشہ اپنے پیشِ نظر رکھے جس کے لیے حضرت مسیح موعود علیہ السلام مبعوث ہوئے کیونکہ یہی ہماری اصلاح کا ایک ذریعہ ہے۔ یہی چیز ہے جو ہمیں دوسرے مسلمانوں سے بھی اور غیرمسلموں سے بھی ممتاز کرتی ہے۔ اگر ہم نے محض زبانی اقرارِ بیعت کرلیا اور اپنے اندر وہ تبدیلیاں پیدا نہ کیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہم میں پیدا کرنا چاہتے تھے تو پھر ہماری بیعت بے فائدہ ہے، بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو پہچان کر اور آپ کی بیعت میں آکر اگر ہم اپنے اندر نیک تبدیلی نہ پیدا کریں اور تقویٰ کے اعلیٰ معیار قائم نہ کریں اور دین کو دنیا پر مقدم نہ کریں تو پھر ہم دوسروں سے زیادہ سزا کے مستحق ٹھہریں گے کیونکہ دوسروں کے لیے تو کچھ عذر ہو سکتا ہے کہ انھوں نے آپؑ کو پہچانا ہی نہیں۔ اگر پہچان لیتے تو ہوسکتا ہے کہ ایمان لا کر نیک تبدیلیاں پیدا کرتے۔ مگر یہ معاملہ تو سراسر عالم الغیب خدا ہی کے ہاتھ میں ہے اور وہی جانتا ہے کہ کون ہدایت کا مستحق ہے۔ بہرحال ہمارا یہ فرض بنتا ہے کہ جو روشنی ہمیں نصیب ہوئی ہے اس سے نہ صرف خود بھرپور استفادہ کریں بلکہ اپنے خویش واقارب اور اصحاب ومعارف کو بھی اس سے منور کرنے کے لیے مقدور بھر سعی کریں۔ مگر اس کے لیے ضروری ہے کہ پہلے اپنے دلوں کو اس آسمانی نور سے روشن کریں تب ہی ہم دوسروں کے لیے چراغِ راہ بن سکتے ہیں۔
اس مضمون میں خاکسار نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کے خلفائے کرام کے ارشادات جمع کیے ہیں جن سے نہ صرف بیعت کرنے والوں کو بیعت کی اہمیت اور اپنی ذمہ داریوں کا علم ہوتا ہے بلکہ شعبہ تربیت نومبائعین سے وابستہ عہدیداروں کو ان کے فرائض وواجبات کی ادائیگی سے متعلق راہنمائی بھی میسر آتی ہے۔ اس لیے امید ہے کہ یہ مجموعۂ ارشادات جہاں نومبائعین کو اپنی تربیت کرنے میں فائدہ دے گا وہاں منتظمین وناظمینِ تربیت نومبائعین کو بھی اپنی ذمہ داریاں بطورِ احسن بجا لانے میں ممد ومعاون ثابت ہوگا۔


ارشادات حضرت مسیح موعود علیہ السلام

فہرست مضامین show

زندگی صرف سلسلہ احمدیہ میں ہے

جب انسان میرے ہاتھ پر بیعت توبہ کرتا ہے تو پہلی ساری بیعتیں ٹوٹ جاتی ہیں۔ انسان دو کشتیوں میں کبھی پاؤں نہیں رکھ سکتا۔ ….اس وقت اللہ تعالیٰ نے ساری بیعتوں کو توڑ ڈالا ہے صرف مسیح موعود ہی کی بیعت کو قائم رکھا ہے جو خاتم الخلفاء ہو کر آیا ہے۔ ….اس وقت سب گدیاں ایک مُردہ کی حیثیت رکھتی ہیں اور زندگی صرف اسی سلسلہ میں ہے جو خدا نے میرے ہاتھ پر قائم کیا ہے۔ اب کیسا نادان ہوگا وہ شخص جو زندوں کو چھوڑ کر مُردوں میں زندگی طلب کرتا ہے۔ (ملفوظات جلد 02 صفحہ 294۔ ایڈیشن 2022ء)

مبائعین بہت خوش قسمت ہیں

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بیعت کرنے والے کو مخاطب کرکے فرمایا: تم بہت خوش قسمت ہو۔ یہ جو بڑے بڑے مولوی تھے ان کے لیے خدا نے دروازے بند کر دیے اور تمھارے لیے کھول دیے۔ خدا کا تم پر بہت احسان ہے۔ (ملفوظات جلد 03 صفحہ 268۔ ایڈیشن 2022ء)

بیعت ایک تخم ریزی ہے جس کی آبیاری ضروری ہے

آپ نے جو آج مجھ سے بیعت کی ہے۔ یہ تخم ریزی کی طرح ہے۔ چاہیے کہ آپ اکثر مجھ سے ملاقات کریں اور اس تعلق کو مضبوط کریں جو آج قائم ہؤا ہے۔ جس شاخ کا تعلق درخت سے نہیں رہتا وہ آخر کار خشک ہو کر گر جاتی ہے۔ جو شخص زندہ ایمان رکھتا ہے وہ دنیا کی پروا نہیں رکھتا۔ دنیا ہر طرح مل جاتی ہے۔ دین کو دنیا پر مقدم رکھنے والا ہی مبارک ہے لیکن جو دنیا کو دین پر مقدم رکھتا ہے وہ ایک مردار کی طرح ہے جو کبھی سچی نصرت کا منہ نہیں دیکھتا۔ یہ بیعت اس وقت کام آسکتی ہے جب دین کو مقدم کرلیا جاوے اور اس میں ترقی کرنے کی کوشش ہو۔ بیعت ایک بیج ہے جو آج بویا گیا۔ اب اگر کوئی کسان صرف زمین میں تخم ریزی پر ہی قناعت کرے اور پھل حاصل کرنے کے جو جو فرائض ہیں ان میں سے کوئی ادا نہ کرے۔ نہ زمین کو درست کرے اور نہ آبپاشی کرے اور نہ موقع بہ موقع مناسب کھاد زمین میں ڈالے، نہ کافی حفاظت کرے تو کیا وہ کسان کسی پھل کی امید کر سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔ اس کا کھیت بالضرور تباہ اور خراب ہوگا۔ کھیت اسی کا رہے گا جو پورا زمیندار بنے گا۔ سو ایک طرح کی تخم ریزی آپ نے بھی آج کی ہے۔ خدا جانتا ہے کہ کس کے مقدر میں کیا ہے لیکن خوش قسمت وہ ہے جو اس تخم کو محفوظ رکھے اور اپنے طور پر ترقی کے لیے دعا کرتا رہے۔ (ملفوظات جلد 06 صفحہ 201-202۔ ایڈیشن 2022ء)

جلسہ سالانہ پر بیعت کا منظر

نومبائعین کو نصائح

آپ نے جو مجھ سے آج تعلق بیعت کیا ہے تو میں چاہتا ہوں کہ کچھ بطور نصیحت چند الفاظ تمہیں کہوں۔ یہ یاد رکھنا چاہیے کہ انسان کی زندگی کا کچھ اعتبار نہیں۔ اگر کوئی شخص خدا پر ایمان رکھے اور پھر قرآن کریم پر غور کرے کہ خدا تعالیٰ نے کیا کچھ قرآن کریم میں فرمایا ہے تو وہ شخص دیوانہ وار دنیا کو چھوڑ خدا تعالیٰ کا ہوجاوے۔ یہ بالکل سچ کہا گیا ہے کہ دنیا روزے چند عاقبت باخداوند۔ اب خدا کے کلام سے ظاہر ہوتا ہے کہ جوشخص خدا کی طرف آنا چاہتا ہے اور فی الواقع اس کا دل ایسا نہیں کہ اس نے دین کو دنیا پر مقدم کیا ہو تو وہ خدا کے نزدیک قابلِ سزا ٹھہرتا ہے۔ ہم اس دنیا میں دیکھتے ہیں کہ اس کے مقاصد حاصل کرنے کے لیے جب تک کافی حصّہ اپنا ان کی طلب میں خرچ نہ کر دیں وہ مقاصد حاصل ہونے ناممکن ہیں۔ مثلاً اگر طبیب ایک دوائی اور اس کی ایک مقدار مقرر کر دے اور ایک بیمار وہ مقدار دوائی کی تو نہیں کھاتا بلکہ تھوڑا حصّہ اس دوائی کا استعمال کرتا ہے تو اس کو کیا فائدہ اس سے ہوگا؟ ایک شخص پیاسا ہے تو ممکن نہیں کہ ایک قطرہ پانی سے اس کی پیاس دور ہو سکے۔ اسی طرح جو شخص بھوکا ہے وہ ایک لقمہ سے سیر نہیں ہوسکتا۔ اسی طرح خدا تعالیٰ یا اس کے رسول پر زبانی ایمان لے آنا یا ایک ظاہرًا رسم کے طور پر بیعت کر لینا بالکل بے سُود ہے جب تک انسان پوری طاقت سے خدا تعالیٰ کی راہ میں نہ لگ جاوے۔ نفس کی خیر خواہی اسی میں ہے کہ انسان پورے طور پر وہ حصّہ لے جو روحانی زندگی کے لیے ضروری ہے۔ صرف یہ خیال کہ میں مسلمان ہوں کافی نہیں۔ میں نصیحت کرتا ہوں کہ آپ نے جو تعلق مجھ سے پیدا کیا ہے (خدا تعالیٰ اس میں برکت ڈالے) اس کو بڑھانے اور مضبوط کرنے کی فکر میں ہر وقت لگے رہیں لیکن یاد رہے کہ صرف اقرار ہی کافی نہیں جب تک عملی رنگ سے اپنے آپ کو رنگین نہ کیا جاوے۔ (ملفوظات جلد 06 صفحہ 193-194۔ ایڈیشن 2022ء)

بیعت کی غرض

میرے پاس اکثر خطوط آتے ہیں مگر ان میں یہی لکھا ہوتاہے کہ میرے املاک کے لیے یا اولاد کے لیے دعا ہو۔ فلاں مقدمہ ہے یا فلاں مرض ہے وہ اچھا ہو جاوے لیکن مشکل سے کوئی خط ایسا ہوتاہے جس میں ایمان یا ان تاریکیوں کے دور ہونے کیلیے درخواست کی گئی ہو۔ بعض خطوط میں یہ لکھا ہوتا ہے کہ اگر مجھے پانسو روپیہ مل جاوے تو میں بیعت کر لوں۔ بیوقوفوں کو اتنا خیال نہیں کہ جن باتوں کو ہم چھوڑانا چاہتے ہیں وہی ہم سے طلب کی جاتی ہیں۔ اسی لیے میں اکثر لوگوں کی بیعت سے خوف کرتا ہوں کیونکہ سچی بیعت کرنے والے بہت کم ہوتے ہیں۔ بعض تو ظاہری شروط لگاتے ہیں جیسے کہ اوپر ذکر ہوا اور بعض لوگ بعد بیعت کے ابتلا میں پڑ جاتے ہیں جیسے کسی کا لڑکا مَرگیا تو شکایت کرتا ہے میں نے تو بیعت کی تھی یہ صدمہ مجھے کیوں ہوا؟ اس نادان کو یہ خیال نہیں آتا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم باوجود کہ پیغمبر تھے مگر آپ ؐکے گیارہ لڑکے فوت ہوگئے اور کبھی شکایت نہ کی کہ خداوندا تو نے تو مجھے پیغمبر بنایا تھا میرے بچے کیوں مار دیے؟
غرضیکہ یاد رکھوکہ دین کو دنیا سے ہرگز نہ ملانا چاہیے اور بیعت اس نیت سے ہرگز نہ کرنی چاہیے کہ میں بادشاہ ہی بن جاؤں گا یا ایسی کیمیا حاصل ہو جاوے گی کہ گھر بیٹھے روپیہ بنتا رہے گا۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں تو اس لیے مامور کیا ہے کہ ان باتوں سے لوگوں کو چھڑا دیویں۔ ہاں یہ بات ضرور ہے کہ جو لوگ صدق اور وفا سے خدا کی طرف آتے ہیں اور اس کے لیے ہر ایک دکھ اور مصیبت کو سر پر لیتے ہیں تو خدا ان کو اور ان کی اولاد کو ہرگز ضائع نہیں کرتا۔ (ملفوظات جلد 06 صفحہ 281۔ ایڈیشن 2022ء)

بیعت کو نبھائیں

تم لوگوں نے اس وقت جو بیعت کی ہے اس کا زبان سے کہہ دینا اور اقرار کر لینا تو بہت ہی آسان ہے مگر اس اقرار ِبیعت کا نبھا نا اور اس پر عمل کرنا بہت ہی مشکل ہے کیونکہ نفس اور شیطان انسان کو دین سے لاپروا بنانے کی کوشش کرتے ہیں اور یہ دنیا اور اس کے فوائد کو آسان اور قریب دکھا تے ہیں لیکن قیامت کے معاملہ کو دور دکھا تے ہیں جس سے انسان سخت دل ہو جاتا ہے اور پچھلا حال پہلے سے بدتربن جاتا ہے اس لیے یہ بہت ہی ضروری اَمر ہے کہ اگر خدا تعالیٰ کو راضی کرنا ہے تو جہاں تک کوشش ہوسکے ساری ہمّت اور توجہ سے اس اقرار کو نبھانا چاہیے اور گناہوں سے بچنے کے لیے کوشش کرتے رہو۔ (ملفوظات جلد 06 صفحہ 109۔ ایڈیشن 2022ء)

بیعت کے بعد اعمالِ صالحہ کی ضرورت

یہ نہیں سمجھ لینا چاہیے کہ بیعت کے بعد اعمال کی کوئی ضرورت نہیں ہے بلکہ بیعت کے بعد حجّت پوری ہو جاتی ہے پھر اگر اپنی اصلاح اور تبدیلی نہیں کرتا تو سخت جوابدہ ہے پس ضرورت اس بات کی ہے کہ سچے مسلمان بنو تاکہ اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں تمہاری کوئی قدروقیمت ہو جو چیز کار آمد ہوتی ہے اسی کی قدر کی جاتی ہے۔ دیکھو! اگرتمہارے پاس ایک دودھ دینے والی بکری ہو جس سے تمہارے بیوی بچے پرورش پاتے ہوں تو تم بھی اس کو ذبح کرنے کے لیے طیار نہیں ہوجاتے لیکن اگر وہ کچھ بھی دودھ نہ دے بلکہ نری چارہ دانہ کی چٹی ہو تو تم فوراً اس کوذبح کر لوگے۔ اسی طرح پر جو آدمی اللہ تعالیٰ کا سچا فرمانبردار، نیک کام کرنے والا اور دوسروں کو نفع پہنچانے والا نہ ہو اس وقت تک خدا تعالیٰ اس کی پروا نہیں کرتا بلکہ وہ اس بکری کی طرح ذبح کے لائق ہوتا ہے جو دودھ نہیں دیتی ہے اس لیے ضرورت اس اَمر کی ہے کہ تم اپنے آپ کو مفید ثابت کرو اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور اس کے بندوں کو نفع پہنچاؤ۔ (ملفوظات جلد 06 صفحہ 114-115۔ ایڈیشن 2022ء)

دشمن بھی گواہی دے کہ بیعت کے بعد یہ شخص وہ نہیں رہا

فتنہ کی بات نہ کرو، شر نہ کرو، گالی پر صبر کرو، کسی کا مقابلہ نہ کرو، جو مقابلہ کرے اس سے سلوک اور نیکی سے پیش آؤ، شیریں بیا نی کا عمدہ نمونہ دکھلاؤ، سچے دل سے ہر ایک حکم کی اطاعت کرو کہ خدا راضی ہو اور دشمن بھی جان لیوے کہ اب بیعت کرکے یہ شخص وہ نہیں رہا جو کہ پہلے تھا مقدمات میں سچی گواہی دو، اس سلسلہ میں داخل ہونے والے کو چاہیے کہ پورے دل، پوری ہمّت اور ساری جان سے راستی کا پا بندہو جاوے۔ (ملفوظات جلد 06 صفحہ 127۔ ایڈیشن 2022ء)

بیعت کے مغز کو اختیار کرو

یہ مت خیال کرو کہ صرف بیعت کر لینے سے ہی خدا راضی ہو جاتا ہے۔ یہ تو صرف پوست ہے، مغز تو اس کے اندر ہے۔ ….جو بیعت اور ایمان کا دعویٰ کرتا ہے اس کو ٹٹولنا چاہیے کہ کیا میں چھلکا ہی ہوں یا مغز؟ جب تک مغز پیدا نہ ہو ایمان، محبت، اطاعت، بیعت، اعتقاد، مریدی، اسلام کا مدعی سچا مدعی نہیں ہے۔ یاد رکھو کہ یہ سچی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حضور مغز کے سوا چھلکے کی کچھ بھی قیمت نہیں۔ خوب یاد رکھو کہ معلوم نہیں موت کس وقت آ جاوے لیکن یہ یقینی امر ہے کہ مرنا ضرور ہے۔ پس نِرے دعویٰ پر ہرگز کفایت نہ کرو اور خوش نہ ہو جاؤ۔ وہ ہرگز ہر گز فائدہ رساں چیز نہیں۔ جب تک انسان اپنے آپ پر بہت موتیں وارد نہ کر ے اور بہت سی تبدیلیوں اور انقلابات میں سے ہو کر نہ نکلے وہ انسانیت کے اصل مقصد کو پا نہیں سکتا۔ (ملفوظات جلد 02 صفحہ 53۔ ایڈیشن 2022ء)

جماعت میں داخل ہوکرانسان کیا تبدیلی پیدا کرے

اس جماعت میں داخل ہو کر اوّل تغیر زندگی میں کرنا چاہیے کہ خدا پر ایمان سچا ہو کہ وہ ہر مصیبت میں کام آتا ہے۔ پھر اس کے احکام کو نظر ِخفت سے ہرگز نہ دیکھا جاوے بلکہ ایک ایک حکم کی تعظیم کی جاوے اور عملاً اس تعظیم کا ثبوت دیا جاوے۔ (ملفوظات جلد 05 صفحہ 328۔ ایڈیشن 2022ء)

اس بیعت سے جو میرے ہاتھ پر کی جاتی ہے دو فائدے ہیں

انسان جب خود توبہ کرتا ہے تو وہ اکثر ٹوٹ جاتی ہے۔ بار بار توبہ کرتا اور باربار توڑتا ہے مگر مامور من اللہ کے ہاتھ پر جو توبہ کی جاتی ہے جب وہ سچے دل سے کرے گا تو چونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے ارادہ کے موافق ہو گی وہ خدا خود اسے قوت دے گا اور آسمان سے ایک طاقت ایسی دی جاوے گی جس سے وہ اس پر قائم رہ سکے گا۔ اپنی توبہ اور مامور کے ہاتھ پر توبہ کرنے میں بھی فرق ہے کہ پہلی کمزور ہوتی ہے دوسری مستحکم، کیونکہ اس کے ساتھ مامور کی اپنی توجہ، کشش اور دعائیں ہوتی ہیں جو توبہ کرنے والے کے عزم کو مضبوط کرتی ہیں اور آسمانی قوت اسے پہنچاتی ہیں جس سے ایک پاک تبدیلی اس کے اندر شروع ہو جاتی ہے اور نیکی کا بیج بویا جاتا ہے جو آخر ایک باردار درخت بن جاتا ہے۔ پس اگر صبر اور استقامت رکھوگے تو تھوڑے دنوں کے بعد دیکھو گے کہ تم پہلی حالت سے بہت آگے گزر گئے ہو۔ غرض اس بیعت سے جو میرے ہاتھ پر کی جاتی ہے دو فائدے ہیں: ایک تو یہ کہ گناہ بخشے جاتے ہیں اور انسان خداتعالیٰ کے وعدہ کے موافق مغفرت کا مستحق ہوتا ہے۔ دوسرے مامور کے سامنے توبہ کرنے سے طاقت ملتی ہے اور انسان شیطانی حملوں سے بچ جاتا ہے۔ (ملفوظات جلد 05 صفحہ 281۔ ایڈیشن 2022ء)

بیعت کے بعد تبدیلی کرنی ضروری ہے

یاد رکھو کہ بیعت کے بعد تبدیلی کرنی ضروری ہوتی ہے۔ اگر بیعت کے بعد اپنی حالت میں تبدیلی نہ کی جاوے تو پھر یہ استخفاف ہے۔ بیعت بازیچۂ اطفال نہیں ہے۔ درحقیقت وہی بیعت کرتا ہے جس کی پہلی زندگی پر موت وارد ہو جاتی ہے اور ایک نئی زندگی شروع ہو جاتی ہے۔ ہر ایک اَمر میں تبدیلی کرنی پڑتی ہے۔ پہلے تعلقات معدوم ہو کر نئے تعلقات پیدا ہوتے ہیں۔ جب صحابہؓ مسلمان ہوتے تو بعض کو ایسے امور پیش آتے تھے کہ احباب رشتہ دار سب سے الگ ہونا پڑتا تھا۔ ….غرض اس سلسلہ میں جو ابتلاؤں کا سلسلہ ہوتا ہے بہت سی ٹھو کریں کھانی پڑتی ہیں اور بہت سی موتوں کو قبول کرنا پڑتا ہے۔ ہم قبول کرتے ہیں کہ ان انسانوں میں جو اس سلسلہ میں داخل ہوتے ہیں ان میں بعض بزدل بھی ہوتے ہیں، شجاع بھی ہوتے ہیں۔ بعض ایسے بزدل ہوتے ہیں کہ صرف قوم کی کثرت کو دیکھ کر ہی الگ ہو جاتے ہیں۔ انسان بات کو تو پورا کر لیتا ہے مگر ابتلا کے سامنے ٹھہرنا مشکل ہے۔ خدا وند تعالیٰ فرماتا ہے اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ يُّتْرَكُوْۤا اَنْ يَّقُوْلُوْا اٰمَنَّا وَ هُمْ لَا يُفْتَنُوْنَ (العنکبوت۳ ) یعنی کیا لوگ یہی سمجھتے ہیں کہ ایمان لائیں اور امتحان نہ ہو۔ غرض امتحان ضروری شَے ہے۔ اس سلسلہ میں جو داخل ہوتا ہے وہ ابتلا سے خالی نہیں رہ سکتا۔ (ملفوظات جلد 03 صفحہ 135-136۔ ایڈیشن 2022ء)

بیعت اگر دل سے نہیں تو کوئی نتیجہ نہیں

بیعت اگر دل سے نہیں تو کوئی نتیجہ اس کا نہیں میری بیعت سے خدا دل کا اقرار چاہتا ہے پس جو سچے دل سے مجھے قبول کرتا اوراپنے گناہوں سے سچی توبہ کرتا ہے، غفور و رحیم خدا اُس کے گناہوں کو ضرور بخش دیتاہے اور وہ ایسا ہو جاتا ہے جیسے ماں کے پیٹ سے نکلا ہے۔ تب فرشتے اس کی حفاظت کرتے ہیں۔ (ملفوظات جلد 03 صفحہ 62۔ ایڈیشن 2022ء)

بیعت کی خالص اغراض کے ساتھ دنیا کے اغراض کو نہ ملاؤ

ہر ایک شخص جو میرے ہاتھ پر بیعت کرتا ہے اس کو سمجھ لینا چاہیے کہ اس کی بیعت کی کیا غرض ہے؟ کیا وہ دنیا کے لیے بیعت کرتا ہے یا اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے؟ بہت سے ایسے بد قسمت انسان ہوتے ہیں کہ ان کی بیعت کی غایت اور مقصود صرف دنیا ہوتی ہے۔ ورنہ بیعت سے ان کے اندر کوئی تبدیلی پیدا نہیں ہوتی اور وہ حقیقی یقین اور معرفت کانور جو حقیقی بیعت کے نتائج اور ثمرات ہیں ان میں پیدا نہیں ہوتا،ان کے اعمال میں کوئی خوبی اور صفائی نہیں آ تی، نیکیوں میں ترقی نہیں کرتے، گناہوں سے بچتے نہیں۔ ….یاد رکھو! اس سلسلہ میں داخل ہونے سے دنیا مقصود نہ ہو بلکہ خدا تعالیٰ کی رضا مقصود ہو۔ کیونکہ دنیا تو گزر نے کی جگہ ہے وہ تو کسی نہ کسی رنگ میں گزر جائے گی۔ ….بیعت کی خالص اغراض کے ساتھ، جو خدا ترسی اور تقویٰ پر مبنی ہیں، دنیا کے اغراض کو ہرگز نہ ملاؤ، نمازوں کی پابندی کرو اور توبہ واستغفار میں مصروف رہو نوعِ انسان کے حقوق کی حفاظت کرو اور کسی کو دکھ نہ دو، راستبازی اور پاکیزگی میں ترقی کرو تو اللہ تعالیٰ ہر قسم کا فضل کردے گا۔ عورتوں کو بھی اپنے گھروں میں نصیحت کرو کہ وہ نماز کی پابندی کریں اور ان کو گلہ شکوہ اور غیبت سے رو کو، پاکبازی اور راستبازی ان کو سکھاؤ۔ ہماری طرف سے صرف سمجھانا شرط ہے، اس پر عملدرآمد کرنا تمہارا کام ہے۔ (ملفوظات جلد 05 صفحہ 278-282۔ ایڈیشن 2022ء)

جو بیعت کرکے پھر گناہ سے نہیں بچتا….

جو بیعت کرکے پھر گناہ سے نہیں بچتا وہ گویا جھوٹا اقرار کرتا ہے۔ اور یہ میرا ہاتھ نہیں خدا کا ہاتھ ہے جس پر وہ ایسا جھوٹ بولتا ہے اور پھر خدا کے ہاتھ پر جھوٹ بول کر کہاں جاوے؟ كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللّٰهِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا لَا تَفْعَلُوْنَ (الصّف۴:) مَقْت خدا کے غضب کو کہتے ہیں۔ یعنی بڑا غضب ان پر ہوتا ہے جو اقرار کرتے ہیں اور پھر کرتے نہیں۔ ایسے آدمی پر خدا کا غضب نازل ہوتا ہے، اس لیے دعائیں کرتے رہو۔ کوئی ثابت قدم نہیں رہ سکتا جب تک خدا نہ رکھے۔ (ملفوظات جلد 04 صفحہ 321-322۔ ایڈیشن 2022ء)

دین کو دنیا پر مقدم رکھیں

بیعت کے وقت جو اقرار کیا گیا ہے کہ دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا۔ یہ اقرار خدا کے سامنے اقرار ہے۔ اب چاہیے کہ اس پر موت تک خوب قائم رہو ورنہ سمجھو کہ بیعت نہیں کی اور اگر قائم رہو گے تو اللہ تعالیٰ دین، دنیا میں برکت دے گا۔ اپنے اللہ کے منشا کے موافق پوری پوری تقویٰ اختیار کرو۔ (ملفوظات جلد 04 صفحہ 186۔ ایڈیشن 2022ء)

اپنے اندر صحابہ کا رنگ پیدا کریں

اب ایک اور جماعت مسیح موعود کی ہے جس نے اپنے اندر صحابہؓ کا رنگ پیدا کرنا ہے۔ صحابہ کی تو وہ پاک جماعت تھی جس کی تعریف میں قرآن بھرا پڑا ہے۔ کیا آپ لوگ ایسے ہیں؟ جب خدا کہتا ہے کہ مسیح کے ساتھ وہ لوگ ہوں گے جو صحابہ کے دوش بدوش ہوں گے۔ صحابہ تو وہ تھے جنھوں نے اپنا مال ، اپنا وطن راہ حق میں دیا اور سب کچھ چھوڑا۔ (ملفوظات جلد 1 صفحہ 37۔ ایڈیشن 2022ء)

(آئندہ شمارہ میں جاری ہے)

================================

(قسط دوم۔ مطبوعہ رسالہ انصارالدین جولائی اگست 2024ء)

ارشادات حضرت مسیح موعود علیہ السلام

ایمان کی مضبوطی کے لیے نومبائعین کو پیش آنے والی مشکلات

جب کوئی شخص اس جماعت میں داخل ہوتا ہے تو معاً دوست، رشتہ دار اور برادری الگ ہوجاتی ہے یہاں تک کہ بعض اوقات ماں باپ اور بھائی بہن بھی دشمن ہوجاتے ہیں۔ السلام علیکم تک کے روادار نہیں رہتے اور جنازہ پڑھنا نہیں چاہتے۔ اس قسم کی بہت سی مشکلات پیش آتی ہیں۔ میں جانتا ہوں کہ بعض کمزور طبیعت کے آدمی بھی ہوتے ہیں اور ایسی مشکلات پر وہ گھبرا جاتے ہیں لیکن یاد رکھو کہ اس قسم کی مشکلات کا آنا ضروری ہے۔ تم انبیاء و رسل سے زیادہ نہیں ہو۔ ان پر اس قسم کی مشکلات اور مصائب آئیں اور یہ اسی لیے آتی ہیں کہ خدا تعالیٰ پر ایمان قوی ہو اور پاک تبدیلی کا موقع ملے۔ دعاؤں میں لگے رہو۔ پس یہ ضروری ہے کہ تم انبیاء و رُسل کی پیروی کرو اور صبر کے طریق کو اختیار کرو۔ تمہارا کچھ بھی نقصان نہیں ہوتا۔ وہ دوست جو تمہیں قبولِ حق کی وجہ سے چھوڑتا ہے وہ سچا دوست نہیں ہے۔ ورنہ چاہیے تھا کہ تمہارے ساتھ ہوتا۔ تمہیں چاہیے کہ وہ لوگ جو محض اس وجہ سے تمہیں چھوڑتے اور تم سے الگ ہوتے ہیں کہ تم نے خد اتعالیٰ کے قائم کردہ سلسلہ میں شمولیت اختیار کر لی ہے ان سے دنگا یا فساد مت کرو بلکہ ان کے لیے غائبانہ دعا کرو کہ اللہ تعالیٰ ان کو بھی وہ بصیرت اور معرفت عطا کرے جو اس نے اپنے فضل سے تمہیں دی ہے۔ تم اپنے پاک نمونہ اور عمدہ چال چلن سے ثابت کر کے دکھاؤ کہ تم نے اچھی راہ اختیار کی ہے۔ (ملفوظات جلد 6 صفحہ 354-355 ۔ ایڈیشن 2022)

بیعت ، گناہ سے توبہ کا اقرار ہے

بیعت میں انسان زبان کے ساتھ گناہ سے توبہ کا اقرار کرتا ہے مگر اس طرح سے اس کا اقرار جائزنہیں ہوتا جب تک دل سے وہ اس اقرار کو نہ کرے۔ …. جب انسان یہ اقرار کرتا ہے کہ میں تمام گناہوں سے بچوں گا اور دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا تو اس کے یہ معنی ہیں کہ اگرچہ مجھے اپنے بھائیوں، قریبی رشتہ داروں اور سب دوستوں سے قطع تعلّق ہی کرنا پڑے مگر میں خدا تعالیٰ کو سب سے مقّدم رکھوں گا اور اسی کے لیے اپنے تعلقات چھوڑتا ہوں۔ ایسے لوگوں پر خدا کا فضل ہوتا ہے کیونکہ انھی کی توبہ دلی توبہ ہوتی ہے۔ پھر جو لوگ دل سے دعا کرتے ہیں خدا ان پر رحم کرتا ہے۔ جیسے اللہ تعالیٰ آسمان، زمین اور سب اشیاء کا خالق ہے ویسے ہی وہ توبہ کا بھی خالق ہے اور اگر اس نے توبہ کو قبول کرنا نہ ہوتا تو وہ اسے پیداہی نہ کرتا۔ گناہ سے توبہ کرنا کوئی چھوٹی بات نہیں۔ سچی توبہ کرنے والا خدا سے بڑے بڑے انعام پاتا ہے۔ (ملفوظات جلد 5 صفحہ 22-23 ۔ ایڈیشن 2022)

بیعت کے ساتھ دنیا کی خواہش نہ ملاؤ

اس شرط سے دین کو کبھی قبول نہ کرنا چاہیے کہ میں مالدار ہو جاؤں گا۔ مجھے فلاں عہدہ مل جاوے گا۔ یاد رکھو کہ شرطی ایمان لانے والے سے خدا بیزار ہے۔ بعض وقت مصلحت الٰہی یہی ہوتی ہے کہ دنیا میں انسان کی کوئی مراد حاصل نہیں ہوتی۔ طرح طرح کے آفات، بلائیں، بیماریاں اور نامُرادیاں لاحق حال ہوتی ہیں مگر ان سے گھبرانا نہ چاہیے۔ موت ہر ایک کے واسطے کھڑی ہے اگر بادشاہ ہوجاوے گا تو کیا موت سے بچ جاوے گا؟ غریبی میں بھی مرنا ہے۔ بادشاہی میں بھی مرنا ہے۔ اس لیے سچی توبہ کرنے والے کو اپنے ارادوں میں دنیا کی خواہش نہ ملانی چاہیے۔ (ملفوظات جلد 5 صفحہ 23 ۔ ایڈیشن 2022)

اقرارِ بیعت کے اثرات

اس وقت تم لوگوں نے ا للہ تعالیٰ کے سامنے بیعت کا اقرارکیا ہے اور تمام گناہوں سے توبہ کی ہے اور خدا سے اقرار کیا ہے کہ کسی قسم کا گناہ نہ کریں گے۔ اس اقرار کی دوتاثیر یں ہوتی ہیں۔ یا تو اس کے ذریعہ انسان خدا تعالیٰ کے بڑے فضل کا وارث ہو جاتا ہے کہ اگر اس پر قائم رہے تو اس سے خدا راضی ہو جائے گا اور وعدہ کے موافق رحمت نازل کرے گا اور یا اس کے ذریعے سے خدا کا سخت مجرم بنے گا کیونکہ اگر اقرار کو توڑے گا توگو یا اس نے خدا کی توہین کی اور اہانت کی۔ جس طرح سے ایک انسان سے اقرار کیا جاتا ہے اور اسے بجا نہ لا یا جاوے تو توڑنے والا مجرم ہوتا ہے ایسے ہی خدا کے سامنے گناہ نہ کرنے کا اقرار کرکے پھر توڑنا خدا کے روبروسخت مجرم بنا دیتا ہے۔ آج کے اقرار اور بیعت سے یا تو رحمت کی ترقی کی بنیا د پڑگئی اور یا عذاب کی ترقی کی۔ (ملفوظات جلد 5 صفحہ 4 ۔ ایڈیشن 2022)

خدا تعالیٰ کے پاک دل اور بے شر اور غریب مزاج بندے ہو جائیں

وہ جو اس سلسلے میں داخل ہو کر میرے ساتھ تعلق ارادت اور مریدی کا رکھتے ہیں اس سے غرض یہ ہے کہ تا وہ نیک چلن اور نیک بختی اور تقویٰ کے اعلیٰ درجے تک پہنچ جائیں اور کوئی فساد اور شرارت اور بدچلنی اُن کے نزدیک نہ آ سکے۔ وہ پنج وقت نماز باجماعت کے پابند ہوں۔ وہ جھوٹ نہ بولیں وہ کسی کو زبان سے ایذا نہ دیں۔ وہ کسی قسم کی بدکاری کے مرتکب نہ ہوں اور کسی شرارت اور ظلم اور فساد اور فتنے کا خیال بھی دل میں نہ لاویں۔ غرض ہر ایک قسم کے معاصی اور جرائم اور ناکردنی اور نا گفتنی اور تمام نفسانی جذبات اور بے جا حرکات سے مجتنب رہیں اور خدا تعالیٰ کے پاک دل اور بے شر اور غریب مزاج بندے ہو جائیں اور کوئی زہریلا خمیر اُن کے وجود میں نہ رہے۔ (مجموعہ اشتہارات جلد 2صفحہ 220مطبوعہ ربوہ)

اس دھوکا میں نہ رہو کہ ہم نے ہاتھ پر ہاتھ رکھ دیا ہے

پس یاد رکھو کہ نری بیعت اور ہاتھ پر ہاتھ رکھنا کچھ بھی سود مند نہیں۔ جب کوئی شخص شدتِ پیاس سے مرنے کے قریب ہوجاوے یا شدتِ بھوک سے مرنے تک پہنچ جاوے تو کیا اس وقت ایک قطرہ پانی یا ایک دانہ کھانے کا اس کو موت سے بچا لے گا؟ ہرگز نہیں۔ جس طرح اس بدن کو بچانے کے واسطے کافی خوراک اور کافی پانی بہم پہنچانے کے سوائے مفر نہیں۔ اسی طرح پورے جہنم سے تھوڑی سی نیکی سے تم بھی بچ نہیں سکتے۔ پس اس دھوکا میں نہ رہو کہ ہم نے ہاتھ پر ہاتھ رکھ دیا ہے اب ہمیں کیا غم ہے۔ ہدایت بھی ایک موت ہے جو شخص یہ موت اپنے اوپر وارد کرتا ہے اس کو پھر نئی زندگی دی جاتی ہے اور یہی اصفیاء کا اعتقاد ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بھی اسی ابتدائی حالت کے واسطہ فرمایا يٰاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا عَلَيْكُمْ اَنْفُسَكُمْ(المآئدۃ۱۰۶:) یعنی پہلے اپنے آپ کو درست کرو، اپنے امراض کو دور کرو، دوسروں کا فکر مت کرو۔ ہاں رات کو اپنے آپ کو درست کرو اور دن کو دوسروں کو بھی کچھ ہدایت کر دیا کرو۔ خدا تعالیٰ تمھیں بخشے اور تمہارے گناہوں سے تمہیں مخلصی دے اور تمہاری کمزوریوں کو تم سے دور کرے اور اعمالِ صالح اور نیکی میں ترقی کرنے کی توفیق دیوے۔ آمین (ملفوظات جلد 7 صفحہ 21 ۔ ایڈیشن 2022)

خدا سے عہد کرکے توڑا موجب عذاب ہے

اس بیعت کی اصل غرض یہ ہے کہ خدا کی محبت میں ذوق و شوق پیدا ہو اور گناہوں سے نفرت پیدا ہو کر اس کی جگہ نیکیاں پیدا ہوں۔ جو شخص اس غرض کو ملحوظ نہیں رکھتا اور بیعت کرنے کے بعد اپنے اندر کوئی تبدیلی کرنے کے لیے مجاہدہ اور کوشش نہیں کرتا جو کوشش کا حق ہے اور پھر اس قدر دعا نہیں کرتا جو دعا کرنے کا حق ہے تو وہ اس اقرار کی جو خدا تعالیٰ کے حضور کیا جاتا ہے سخت بےحرمتی کرتا ہے ۔ …. تم لوگوں نے اس وقت خدا تعالیٰ کے حضور میرے ہاتھ پر اپنے گناہوں سے توبہ کی ہے۔ ایسا نہ ہو کہ یہ توبہ تمہارے لیے باعث برکت ہونے کی بجائے لعنت کا موجب ہوجاوے۔ کیونکہ اگر تم لوگ مجھے شناخت کر کے بھی اور خدا تعالیٰ سے اقرار کر کے بھی اس عہد کو توڑتے ہو تو پھر تم کو دوہرا عذاب ہے کیونکہ عمداً تم نے معاہدہ کو توڑا ہے۔ دنیا میں جب کوئی شخص کسی سے عہد کر کے اسے توڑتا ہے تو اس کو کس قدر ذلیل اور شرمندہ ہونا پڑتا ہے۔ وہ سب کی نظروں سے گر جاتا ہے۔ پھر جو شخص خدا تعالیٰ سے عہد اور اقرار کر کے توڑے وہ کس قدر عذاب اور لعنت کا مستحق ہوگا۔ پس جہاں تک تم سے ہو سکتا ہے اس اقرار اور عہد کی رعایت کرو اور ہر قسم کے گناہوں سے بچتے رہو۔ پھر اس اقرار پر قائم اور مضبوط رہنے کے واسطے اللہ تعالیٰ سے دعائیں کرتے رہو۔ (ملفوظات جلد 7 صفحہ 21-22 ۔ ایڈیشن 2022)

بیعت اعمالِ صالحہ کی تخم ریزی ہے

یہ بیعت تخم ریزی ہے اعمالِ صالحہ کی۔ جس طرح کوئی باغبان درخت لگاتا ہے یا کسی چیز کا بیج بوتا ہے۔ پھر اگر کوئی شخص بیج بو کر یا درخت لگا کر وہیں اس کو ختم کر دے اور آئندہ آبپاشی اور حفاظت نہ کرے تو وہ تخم بھی ضائع ہو جاوے گا۔ اسی طرح انسان کے ساتھ شیطان لگا رہتا ہے۔ پس اگر انسان نیک عمل کر کے اس کے محفوظ رکھنے کی کوشش نہ کرے تو وہ عمل ضائع جاتا ہے۔ …. یاد رکھو کہ بیعت کے وقت توبہ کے اقرار میں ایک برکت پیدا ہوتی ہے۔ اگر ساتھ اس کے دین کو دنیا پر مقدم رکھنے کی شرط لگا لے تو ترقی ہوتی ہے۔ مگر یہ مقدم رکھنا تمہارے اختیار میں نہیں بلکہ امدادِ الہٰی کی سخت ضرورت ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: وَالَّذِيْنَ جَاهَدُوْا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا (العنکبوت۷۰:) کہ جو لوگ کوشش کرتے ہیں ہماری راہ میں انجام کار راہنمائی پر پہنچ جاتے ہیں۔ جس طرح وہ دانہ تخم ریزی کا بدوں کوشش اور آبپاشی کے بے برکت رہتا بلکہ خود بھی فنا ہوجاتا ہے اسی طرح تم بھی اس اقرار کو ہر روز یاد نہ کرو گے اور دعائیں نہ مانگو گے کہ خدایا! ہماری مدد کر تو فضلِ الہٰی وارد نہیں ہوگا اور بغیر امدادِ الہٰی کے تبدیلی ناممکن ہے۔ (ملفوظات جلد 7 صفحہ 12-13 ۔ ایڈیشن 2022)

مشروط بیعت والے ہمیشہ محروم رہتے ہیں

جو لوگ اس قسم کی شرائط پیش کرتے ہیں کہ اس قدر آمدنی ہو جاوے تو ایمان لائیں گے وہ گویا یہ سمجھتےہیں کہ ایمان لا کر اللہ تعالیٰ پر یا اس کے رسول پر احسان کرتے ہیں۔ وہ احمق نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ کو ان کی پروا کیا ہے۔ یہ تو اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ اس نے ہدایت کی راہ ان کو بتائی اور اپنے مامور کو ہدایت کے واسطے بھیجا۔ یہ اللہ تعالیٰ کا صاف احسان ہے وہ الٹا خدا تعالیٰ پر احسان رکھنا چاہتے ہیں۔ قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ نشان اللہ کے پاس ہیں۔ اور دوسری جگہ فرماتا ہے زمین و آسمان میں نشان ہیں۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ لوگ کیسے بیوقوف ہیں جو اتنا نہیں سمجھتے کیا یہ وقت کسی نبی کی ضرورت کا ہے یا نہیں؟ حالت زمانہ خود اس پر شہادت دیتی ہے۔ پھر اس سے بڑھ کر اور وہ کیا نشان چاہتے ہیں؟ ہر شخص اس امر کا محتاج ہے کہ اس کا خاتمہ ایمان پر ہو اور وہ اطمینان کے ساتھ اس دنیا سے جاوے۔ جب اس امر کی ضرورت ہے تو یہ شرط کیسی بیہودہ اور فضول ہے کہ وہ کام ہو یا اس قدر آمدنی ہو تو بیعت کروں گا۔ ضرورت جو ہر وقت مد نظر ہونی چاہیے وہ تو حسنِ انجام کی ضرورت ہے۔ (ملفوظات جلد 7 صفحہ 182 ۔ ایڈیشن 2022)

بیعت سے دنیا مقصود نہ ہو

بعض لوگ ایسے کچے اور کمزور ہوتے ہیں کہ ان کی بیعت کی غرض بھی دنیا ہی ہوتی ہے۔ اگر بیعت کے بعد ان کی دنیا داری کے معاملات میں ذرا سا فرق آجاوے تو پھر پیچھے قدم رکھتےہیں۔ یاد رکھو کہ یہ جماعت اس بات کے واسطے نہیں کہ دولت اور دنیا داری ترقی کرے اور زندگی آرام سے گذرے۔ ایسے شخص سے تو خدا بیزار ہے۔ چاہیے کہ صحابہؓ کی زندگی کو دیکھو وہ زندگی سے پیار نہ کرتے تھے۔ ہر وقت مرنے کے لیے تیار تھے۔ بیعت کے معنے ہیں اپنی جان کو بیچ دینا۔ جب انسان زندگی کو وقف کر چکا تو پھر دنیا کے ذکر کو درمیان میں کیوں لاتا ہے۔ ایسا آدمی تو صرف رسمی بیعت کرتا ہے۔ وہ تو کَل بھی گیا اور آج بھی گیا۔ یہاں تو صرف ایسا شخص رہ سکتا ہے جو ایمان کو درست کرنا چاہے۔ انسان کو چاہیے کہ آنحضرت ﷺاور صحابہ کی زندگی کا ہر روز مطالعہ کرتا رہے۔ وہ تو ایسے تھے کہ بعض مر چکے تھے اور بعض مرنے کےلیے طیار بیٹھے تھے۔ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اس کے سوائے بات نہیں بن سکتی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو لوگ کنارہ پر کھڑے ہو کر عبادت کرتے ہیں تاکہ ابتلا دیکھ کر بھاگ جائیں وہ فائدہ نہیں حاصل کر سکتے۔ دنیا کے لوگوں کی عادت ہے کہ کوئی ذرا سی تکلیف ہو تو لمبی چوڑی دعائیں مانگنے لگتے ہیں اور آرام کے وقت خدا کو بھول جاتےہیں۔ کیا لوگ چاہتے ہیں کہ امتحان میں سے گذرنے کے سوائے ہی خدا خوش ہوجائے۔ خدا رحیم و کریم ہے۔ مگر سچا مومن وہ ہے جو دنیا کو اپنے ہاتھ سے ذبح کر دے۔ خدا ایسے لوگوں کو ضائع نہیں کرتا۔ ابتدا میں مومن کے واسطے دنیا جہنم کا نمونہ ہوجاتا ہے۔ طرح طرح کے مصائب پیش آتے ہیں۔ اور ڈراؤنی صورتیں ظاہر ہوتی ہیں۔ تب وہ صبر کرتے ہیں اور خدا ان کی حفاظت کرتا ہے۔ (ملفوظات جلد 8 صفحہ 28-29 ۔ ایڈیشن 2022)

اگر اندرونی تبدیلی نہیں تو تم میں اور غیر میں کچھ فرق نہیں

ہماری جماعت کو ایسا ہونا چاہیے کہ نری لفاظی پر نہ رہے بلکہ بیعت کے سچے منشا کو پورا کرنے والی ہو۔ اندرونی تبدیلی کرنی چاہیے۔ صرف مسائل سے تم خدا کو خوش نہیں کر سکتے۔ اگر اندرونی تبدیلی نہیں تو تم میں اور تمہارے غیر میں پھر کچھ فرق نہیں۔ اگر تم میں مکر، فریب، کسل اور سستی پائی جائے تو تم دوسروں سے پہلے ہلاک کیے جاؤ گے۔ (ملفوظات جلد 8 صفحہ 31 ۔ ایڈیشن 2022)

جب تک استقامت نہ ہو بیعت بھی ناتمام ہے

ثابت قدمی خدا تعالیٰ کی دی ہوئی توفیق سے حاصل ہو سکتی ہے۔ جب تک استقامت نہ ہو بیعت بھی ناتمام ہے۔ انسان جب خدا کی طرف قدم اٹھاتا ہے تو راستہ میں بہت سی بلاؤں اور طوفانوں کا مقابلہ کرنا پڑتا ہے۔ جب تک ان میں سے انسان گذر نہ لے منزلِ مقصود کو پہنچ نہیں سکتا۔ امن کی حالت میں استقامت کا پتہ نہیں لگ سکتا کیونکہ امن اور آرام کے وقت تو ہر ایک شخص خوش رہتا ہے اور دوست بننے کو طیار ہے۔ مستقیم وہ ہے کہ سب بلاؤں کو برداشت کرے۔ (ملفوظات جلد 8 صفحہ 40 ۔ ایڈیشن 2022)

جو دنیا کو مقدم کرتا ہے وہ اقرار بیعت کو توڑتا ہے

یقیناً یاد رکھو کہ خدا تعالیٰ کے نزدیک وہی مومن اور بیعت میں داخل ہوتا ہے جو دین کو دنیا پر مقدم کرلےجیسا کہ وہ بیعت کرتے وقت کہتا ہے۔ اگر دنیا کی اغراض کو مقدم کرتا ہے تو وہ اس اقرار کو توڑتا ہے اور خدا تعالیٰ کے نزدیک وہ مجرم ٹھیرتا ہے۔ (ملفوظات جلد 8 صفحہ 132 ۔ ایڈیشن 2022)

سچی بیعت سے گذشتہ گناہ بخش دیے جاتے ہیں

حدیث میں آیا ہے کہ اَلتَّائِبُ مِنَ الذَّنْبِ کَمَنْ لَّا ذَنْبَ لَہٗ۔ اب جو تم لوگوں نے بیعت کی تو اب خدا تعالیٰ سے نیا حساب شروع ہؤا ہے۔ پہلے گناہ صدق و اخلاص کے ساتھ بیعت کرنے پر بخشے جاتے ہیں۔ اب ہر ایک کا اختیار ہے کہ اپنے لیے بہشت بنا لے یا جہنم۔ …. ہماری جماعت کو تو ایسا نمونہ دکھانا چاہیے کہ دشمن پکار اٹھیں کہ گو یہ ہمارے مخالف ہیں مگر ہیں ہم سے اچھے۔ اپنی عملی حالت کو ایسا درست رکھو کہ دشمن بھی تمہاری نیکی خدا ترسی اور اتقا کے قائل ہوجائیں۔ (ملفوظات جلد 9 صفحہ 238 ۔ ایڈیشن 2022)

مشروط بیعت قابل قبول نہیں

میں کھول کر کہتا ہوں کہ اگر کوئی شخص میری بیعت اس لیے کرتا ہے کہ اسے بیٹا ملے یا فلاں عہدہ ملے یعنی شرطی باتوں پر بیعت کرتا ہے تو وہ آج نہیں۔ کل نہیں۔ ابھی الگ ہو جاوے اور چلا جاوے۔ مجھے ایسے آدمیوں کی ضرورت نہیں اور نہ خدا کو ان کی پروا ہے۔ یقیناً سمجھو! اس دنیا کے بعد ایک اور جہان ہے جو کبھی ختم نہ ہوگا۔ اس کے لیے تمہیں اپنے آپ کو تیار کرنا چا ہیے۔ یہ دنیا اور اس کی شوکتیں یہاں ہی ختم ہو جاتی ہیں مگر اس کی نعمتوں اور خوشیوں کا بھی انتہا نہیں ہے۔ میں سچ کہتا ہوں کہ جو شخص ان سب باتوں سے الگ ہو کر خدا تعالیٰ کی طرف آتا ہے وہی مومن ہے اور جب ایک شخص خدا کا ہوجاتا ہے تو پھر یہ کبھی نہیں ہو سکتا کہ خدا تعالیٰ اسے چھوڑ دے۔ (ملفوظات جلد 9صفحہ 25 ۔ ایڈیشن 2022)

بیعت کے بعد ایک امتیاز دکھائیں

ہماری جماعت کو چاہیے کہ کوئی امتیازی بات بھی دکھائے۔ اگر کوئی شخص بیعت کر کے جاتا ہے اور کوئی امتیازی بات نہیں دکھاتا، اپنی بیوی کے ساتھ ویسا ہی سلوک ہے جیسا پہلے تھا اور اپنے عیال و اطفال سے پہلے کی طرح ہی پیش آتا ہے تو یہ اچھی بات نہیں۔ اگر بیعت کے بعد بھی وہی بد خلقی اور بدسلوکی رہی اور وہی حال رہا جو پہلے تھا تو پھر بیعت کرنے کا کیا فائدہ؟ چاہیے کہ بیعت کے بعد غیروں کو بھی اور اپنے رشتہ داروں اور ہمسایوں کو بھی ایسا نمونہ بن کر دکھاوے کہ وہ بول اٹھیں کہ اب یہ وہ نہیں رہا جو پہلے تھا۔ ….سچے آدمی کا ضرور رعب ہوتا ہے۔ چاہیے کہ بالکل صاف ہو کر عمل کیا جاوے اور خدا کے لیے کیا جاوے تب ضرور تمہارا دوسروں پر بھی اثر اور رعب پڑے گا۔ (ملفوظات جلد 9 صفحہ 238 ۔ ایڈیشن 2022)

میں کثرت جماعت سے کبھی خوش نہیں ہوتا

میں کثرت جماعت سے کبھی خوش نہیں ہوتا۔اب اگرچہ چار لاکھ یا اس سے بھی زیادہ ہے مگر حقیقی جماعت کے معنے یہ نہیں ہیں کہ ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر صرف بیعت کر لی۔ بلکہ جماعت حقیقی طور سے جماعت کہلانے کی تب مستحق ہو سکتی ہے کہ بیعت کی حقیقت پر کار بند ہو۔سچے طور سے ان میں ایک پاک تبدیلی پیدا ہو جاوے اور ان کی زندگی گناہ کی آلائش سے بالکل صا ف ہو جاوے۔ نفسانی خواہشات اور شیطان کے پنجہ سے نکل کر خدا کی رضا میں محو ہو جاویں۔ حق اللہ اور حق العباد کو فراخ دلی سے پورے اور کامل طور سے ادا کریں۔ دین کے واسطے اور اشاعتِ دین کے لیے ان میں ایک تڑ پ پیدا ہو جاوے اپنی خواہشات اور ارادوں، آرزؤں کو فنا کر کے خدا کے بن جاویں۔ (ملفوظات جلد 10 صفحہ 119 ۔ ایڈیشن 2022)

اپنے آپ کو عمدہ اور نیک نمونہ بناؤ

ہماری جماعت کے لوگوں کو نمونہ بن کر دکھانا چاہیے اگر کسی کی زندگی بیعت کے بعد بھی اسی طرح کی ناپاک اور گندی زندگی ہے جیسا کہ بیعت سے پہلے تھی اور جو شخص ہماری جماعت میں ہو کر بُرا نمونہ دکھاتا ہے اور عملی یا اعتقادی کمزوری دکھاتا ہے تو وہ ظالم ہے کیونکہ وہ تمام جماعت کو بدنام کرتا ہے اور ہمیں بھی اعتراض کا نشانہ بناتا ہے۔ بُرے نمونے سے اَوروں کو نفرت ہوتی ہے اور اچھے نمونہ سے لوگوں کو رغبت پیدا ہوتی ہے۔ (ملفوظات جلد 10 صفحہ 120 ۔ ایڈیشن 2022)

بیعت کی حقیقت سے آگاہ ہونا ضروری ہے

بیعت کرنے سے مطلب بیعت کی حقیقت سے آگاہ ہونا ہے۔ ایک شخص نے روبرو ہاتھ میں ہاتھ دے کر بیعت کی، اصل غرض اور غایت کو نہ سمجھا یا پر وا نہ کی تو اس کی بیعت بے فائدہ ہے اور اس کی خدا کے سامنے کچھ حقیقت نہیں۔ مگر دوسرا شخص ہزار کوس سے بیٹھا بیٹھا صدقِ دل سے بیعت کی حقیقت اور غرض وغایت کو مان کر بیعت کرتا ہے اور پھر اس اقرار کے اوپر کار بند ہو کر اپنی عملی اصلاح کرتا ہے وہ اس رو برو بیعت کر کے بیعت کی حقیقت پر نہ چلنے والے سے ہزار درجہ بہتر ہے۔ (ملفوظات جلد 10 صفحہ 123 ۔ ایڈیشن 2022)

بیعت کی حقیقت سے پوری واقفیت اور اس پر کاربند ہونا ضروری ہے

ظاہر نام میں تو ہماری جماعت اور دوسرے مسلمان دونوں مشترک ہیں۔ تم بھی مسلمان ہو۔ وہ بھی مسلمان کہلاتے ہیں۔ تم کلمہ گو ہو وہ بھی کلمہ گو ہیں۔ تم بھی اتباع قرآن کا دعویٰ کرتے ہو۔ وہ بھی اتباع قرآن ہی کے مدعی ہیں۔ غرض دعووں میں تو تم اور وہ دونوں برابر ہو مگر اللہ صرف دعووں سے خوش نہیں ہوتا جب تک کوئی حقیقت ساتھ نہ ہو اور دعوے کے ثبوت میں کچھ عملی ثبوت اور تبدیلی حالت کی دلیل نہ ہو۔ اس واسطے اکثر اوقات مجھے اس غم سے سخت صدمہ پہنچتا ہے۔ ظاہری طور سے جماعت (کی) تعداد میں تو بہت ترقی ہو رہی ہے کیا خطوط کے ذریعہ سے اور کیا خود حاضر ہو کر دونوں طرح سے سلسلہ بیعت میں روز افزوں ترقی ہو رہی ہے۔ آج کی ڈاک میں بھی ایک لمبی فہرست بیعت کنندگان کی آئی ہے، لیکن بیعت کی حقیقت سے پوری واقفیت حاصل کرنی چاہیے اور اس پر کاربند ہونا چاہیے۔ اور بیعت کی حقیقت یہی ہے کہ بیعت کنندہ اپنے اندر سچی تبدیلی اور خوف خدا اپنے دل میں پیدا کرے اور اصل مقصود کو پہچان کر اپنی زندگی میں ایک پاک نمونہ کرکے دکھاوے اگر یہ نہیں تو پھر بیعت سے کچھ فائدہ نہیں بلکہ یہ بیعت پھر اس واسطے اور بھی باعث عذاب ہو گی کیونکہ معاہدہ کرکے جان بوجھ اور سوچ سمجھ کر نافرمانی کرنا سخت خطرناک ہے۔ (ملفوظات جلد 10 صفحہ 289 ۔ ایڈیشن 2022)

نومبائعین جلسہ سالانہ میں شامل ہوں

بیعت کرنے سے غرض یہ ہے کہ تا دنیا کی محبت ٹھنڈی ہوا اور اپنے مولیٰ کریم اور رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت دل پر غالب آجائے اور ایسی حالت انقطاع پیدا ہو جائے جس سے سفر آخرت مکروہ معلوم نہ ہو لیکن اس غرض کے حصول کے لیے صحبت میں رہنا اور ایک حصہ اپنی عمر کا اس راہ میں خرچ کرنا ضروری ہے تا اگر خدائے تعالیٰ چاہے تو کسی برہانِ یقینی کے مشاہدہ سے کمزوری اور ضعف اور کسل دور ہو اور یقینِ کامل پیدا ہو کر ذوق اور شوق اور ولولۂ عشق پیدا ہو جائے۔ سو اس بات کے لیے ہمیشہ فکر رکھنا چاہیے اور دعا کرنا چاہیے کہ خدائے تعالیٰ یہ توفیق بخشے اور جب تک یہ توفیق حاصل نہ ہو کبھی کبھی ضرور ملنا چاہیے کیونکہ سلسلہ بیعت میں داخل ہو کر پھر ملاقات کی پروا نہ رکھنا ایسی بیعت سراسر بے برکت اور صرف ایک رسم کے طور پر ہوگی اور چونکہ ہریک کے لیے باعث ضعفِ فطرت یا کمیِ مقدرت یا بُعدِ مسافت یہ میسر نہیں آ سکتا کہ وہ صحبت میں آکر رہے یا چند دفعہ سال میں تکلیف اٹھا کر ملاقات کے لیے آوے کیونکہ اکثر دلوں میں ابھی ایسا اشتعال شوق نہیں کہ ملاقات کے لیے بڑی بڑی تکالیف اور بڑے بڑے حرجوں کو اپنے پر روا رکھ سکیں، لہٰذا قرینِ مصلحت معلوم ہوتا ہے کہ سال میں تین روز ایسے جلسہ کے لیے مقرر کیے جائیں۔ جس میں تمام مخلصین اگر خدا تعالیٰ چاہے بشرطِ صحت و فرصت و عدم موانعِ قویہ تاریخِ مقررہ پر حاضر ہوسکیں۔ …. ایک عارضی فائدہ ان جلسوں میں یہ بھی ہوگا کہ ہر ایک نئے سال میں جس قدر نئے بھائی اس جماعت میں داخل ہوں گے وہ تاریخ مقررہ پر حاضر ہو کر اپنے پہلے بھائیوں کے منہ دیکھ لیں گے اور روشناسی ہو کر آپس میں رشتہ تودد و تعارف ترقی پذیر ہوتا رہے گا ۔ (مجموعۂ اشتہارات جلد1 صفحہ318-319)

میں بہت دعا کرتا ہوں کہ میری سب جماعت ایسی ہو….

میں تو بہت دُعا کرتا ہوں کہ میری سب جماعت ان لوگوں میں ہو جائے جو خدا تعالیٰ سے ڈرتے ہیں اور نماز پر قائم رہتے ہیں اور رات کو اُٹھ کر زمین پر گرتے ہیں اور روتے ہیں اور خدا کے فرائض کو ضائع نہیں کرتے اور بخیل اور ممسک اور غافل اور دُنیا کے کیڑے نہیں ہیں اور میں امید رکھتا ہوں کہ یہ میری دعائیں خدا تعالیٰ قبول کرے گا اور مجھے دکھائے گا کہ اپنے پیچھے میں ایسے لوگوں کو چھوڑتا ہوں لیکن وہ لوگ جن کی آنکھیں زنا کرتی ہیں اور جن کے دل پاخانہ سے بدتر ہیں اور جن کو مرنا ہرگز یاد نہیں ہے میں اور میرا خدا اُن سے بیزار ہیں ۔ میں بہت خوش ہوں گا اگر ایسے لوگ اس پیوند کو قطع کر لیں کیونکہ خدا اس جماعت کو ایسی قوم بنانا چاہتا ہے جس کے نمونہ سے لوگوں کو خدا یاد آوے اور جو تقویٰ اور طہارت کے اول درجہ پر قائم ہوں اور جنھوں نے در حقیقت دین کو دنیا پر مقدم رکھ لیا ہو لیکن وہ مفسد لوگ جو میرے ہاتھ کے نیچے ہاتھ رکھ کر اور یہ کہہ کر کہ ہم نے دین کو دنیا پر مقدم کیا ، پھر وہ اپنے گھروں میں جا کر ایسے مفاسد میں مشغول ہو جاتے ہیں کہ صرف دنیا ہی دنیا اُن کے دلوں میں ہوتی ہے۔ نہ اُن کی نظر پاک ہے نہ اُن کا دل پاک ہے اور نہ ان کے ہاتھوں سے کوئی نیکی ہوتی ہے اور نہ ان کے پیر کسی نیک کام کے لیے حرکت کرتے ہیں اور وہ اس چوہے کی طرح ہیں جو تاریکی میں ہی پرورش پاتا ہے اور اسی میں رہتا اور اسی میں مرتا ہے۔ وہ آسمان پر ہمارے سلسلہ میں سے کاٹے گئے ہیں۔ وہ عبث کہتے ہیں کہ ہم اس جماعت میں داخل ہیں کیونکہ آسمان پر وہ داخل نہیں سمجھے جاتے۔ جو شخص میری اس وصیت کو نہیں مانتا کہ در حقیقت وہ دین کو دنیا پر مقدم کرے اور در حقیقت ایک پاک انقلاب اس کی ہستی پر آجائے اور در حقیقت وہ پاک دل اور پاک ارادہ ہو جائے اور پلیدی اور حرام کاری کا تمام چولہ اپنے بدن پر سے پھینک دے اور نوعِ انسان کا ہمدرد اور خدا کا سچا تا بعدار ہو جائے اور اپنی تمام خودروی کو الوداع کہہ کر میرے پیچھے ہولے۔ ….کیا میں اس بات کا محتاج ہوں کہ وہ لوگ زبان سے میرے ساتھ ہوں اور اس طرح پر دیکھنے کے لیے ایک جماعت ہو۔ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اگر تمام لوگ مجھے چھوڑ دیں اور ایک بھی میرے ساتھ نہ رہے تو میرا خدا میرے لیے ایک اور قوم پیدا کرے گا جو صدق اور وفا میں اُن سے بہتر ہو۔ (مجموعۂ اشتہارات جلد3 صفحہ 330-331)

(باقی آئندہ شمارہ میں ان شاءاللہ)

===============================

اپنا تبصرہ بھیجیں