نیا سال مبارک – نئے سال کو خوش آمدید کہنے کا منفرد انداز

اداریہ رسالہ ’’انصارالدین‘‘ لندن – نومبر و دسمبر 2020ء

مثبت زاویۂ نگاہ اور احساسِ شکرگزاری
(محمود احمد ملک)

علم نفسیات (سائیکالوجی) کی کلاس میں استاد نے میز پر پڑی ہوئی بوتل سے شیشے کے ایک گلاس میں پانی انڈیلا اور نصف گلاس بھر کر اُسے میز پر رکھ دیا۔ پھر اُس نے طلبہ سے مخاطب ہوکر گلاس کی کیفیت کسی کاغذ پر لکھنے کے لئے کہا۔ بعدازاں جائزہ لینے پر معلوم ہوا کہ طلبہ کی طرف سے دو مختلف جواب آئے تھے۔ کسی نے کہا تھا کہ آدھا گلاس پانی سے بھرا ہوا ہے اور کسی کا کہنا تھا کہ نصف گلاس خالی ہے۔ تب استاد نے طلبہ کو بتایا کہ اپنے مشاہدے کی بِنا پر جو رائے ہم قائم کرتے ہیں وہ دراصل ہماری سوچ کی عکاس ہوتی ہے۔ اور یہ سوچ ہماری دلی کیفیات کی آئینہ دار ہوتی ہے۔ ایک ماہر نفسیات نے لکھا ہے کہ جب تک کسی انسان کی سوچ مثبت اور ہمت جواں رہتی ہے وہ پہاڑوں سے ٹکرانے اور دریاؤں کا رُخ موڑنے کی باتیں کرتا ہے اور کسی بھی مشکل اور خطرناک کام سے گھبرانے کی بجائے اس کو ایک چیلنج سمجھ کر قبول کرتا ہے۔ مثبت سوچ کے حامل اچھے ساتھی اور رہنما ہوتے ہیں جو دوسروں کی عملی مدد کے لیے ہمیشہ تیار رہتے ہیں۔ ہر خدمت کے لئے نہ صرف خود لبّیک کہتے ہیں بلکہ دوسروں کی ہمّت بڑھانے اور منفی سوچ کے اسیر اپنے ساتھیوں کو مایوسی اور پست ہمّتی کی کیفیت سے نکال کر امید، سکون اور رہنمائی کا ذریعہ بنتے ہیں۔
ایک معروف حکایت یوں بیان کی گئی ہے کہ کسی شخص نے سال کے اختتامی لمحات میں اپنا قلم اٹھایا اور ایک کاغذ پر لکھنے لگا:
= گزشتہ سال میرا آپریشن ہوا اور پتا نکال دیا گیا، بڑھاپے میں ہو نے والے اس آپریشن کی وجہ سے مجھے کئی ہفتے تک بستر کا ہو کر رہنا پڑا۔
= اسی سال میری عمر ساٹھ سال ہوئی اور مجھے اپنی پسندیدہ اور اہم ترین ملازمت سے سبکدوش ہونا پڑا۔ میں نے نشرواشاعت کے اس ادارے میں اپنی زندگی کے تیس قیمتی سال گزارے۔
= اسی سال ہی مجھے اپنے والد صاحب کی وفات کا صدمہ اٹھانا پڑا۔
= اسی سال ہی میرا بیٹا میڈیکل کے امتحان میں فیل ہو گیا، جس کی واحد وجہ اس کی کار کا خوفناک حادثہ تھا جس میں زخمی ہو کر اُسے کئی ماہ تک پلستر کرا کر گھر میں رہنا پڑا، کار کا تباہ ہوجانا علیحدہ سے نقصان تھا۔
اس صفحے کے نیچے اُس نے لکھا: آہ! میرے اور میرے گھر والوں کے لیے یہ کیا ہی برا سال تھا۔
ایسے میں اُس کی بیوی کمرے میں داخل ہوئی تو دیکھا کہ اُس کا خاوند غمزدہ چہرے کے ساتھ خاموش بیٹھا خلاؤں میں گھور رہا تھا۔ اُس نے خاوند کی پشت کے پیچھے کھڑے ہوکر سامنے رکھے کاغذ پر مذکورہ بالا تحریر دیکھی تو ساتھ والی کرسی پر بیٹھ کر ایک دوسرے کاغذ پر کچھ دیر قلم چلانے کے بعد خاموشی سے اپنا نوٹ اپنے خاوند کے سامنے رکھ دیا اور خود خاموشی سے کمرے سے باہر نکل گئی۔ کچھ ہی دیر میں اُس کا خاوند اپنی بیوی کا رقعہ ہاتھ میں تھامے مسکراتا ہوا باہر آیا اور دالان میں کرسی پر بیٹھی ہوئی اپنی بیوی کا شکریہ ادا کیا۔ پھر اپنے ہاتھ میں پکڑے ہوئے کاغذ پر اپنی بیوی کی لکھی ہوئی عبارت کو آہستہ آہستہ پڑھنے لگا۔ لکھا تھا:
= گزشتہ سال میں آخرکار مجھے اپنے پتّے کے اُس درد سے نجات مل گئی جس کے کرب میں مَیں کئی سالوں سے مبتلا تھا۔
= امسال مَیں اپنی پوری صحت مندی اور سلامتی کے ساتھ ساٹھ سال کا ہو گیا۔ تیس سالوں کی ریاضت کے بعد مجھے اپنی ملازمت سے ریٹائرمنٹ ملی ہے تو اب مَیں مکمل یکسوئی اور راحت کے ساتھ اپنا وقت کچھ بہتر لکھنے کے لیے استعمال کر سکوں گا۔
= اسی سال میرے والد پچاسی سال کی عمر میں، بِنا کسی پر بوجھ بنے اور بغیر کسی بڑی تکلیف کے، آرام کے ساتھ اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔
= اسی سال اللہ تعالیٰ نے میرے بیٹے کو ایک نئی زندگی عطا فرما دی اور ایسے حادثے میں جس میں فولادی کار تباہ ہو گئی تھی مگر میرا بیٹا کسی معذوری سے بچ کر زندہ و سلامت رہا۔
آخری فقرہ جو اُس کی بیوی نے اپنی تحریر مکمل کرتے ہوئے رقم کیا تھا، وہ یوں تھا کہ: الحمدللہ۔ یہ ایک ایسا سال تھا جسے اللہ نے میرے اور میرے اہلِ خانہ کے لیے رحمت بنا کر بھیجا تھا اور جو بخیرو خوبی گزرا۔
پس غور کیجیے کہ ایک ہی جیسے حوادث و احوال کو منفی یا مثبت نظر سے دیکھنے اور سوچنے سے بالکل مختلف نتائج مترتّب ہوتے ہیں۔ لیکن ایک مختلف نقطہ نظر سے۔ گویا اگر ہم صرف اپنی سوچ کا زاویہ بدل لیں تو ہم نہ صرف اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر شاکر بن جائیں گے بلکہ اللہ تعالیٰ کے وعدے کے مطابق شکرگزار کی نعمتوں میں جو اضافہ کیا جاتا ہے، اُس کے حقدار بھی قرار پائیں گے۔ اسی پس منظر میں اب ذرا اپنے اختتامی ایام میں داخل ہوتے ہوئے سال 2020ء پر غور کیجیے۔
یہ وہ سال ہے جب دنیا میں Pandemic کی اصطلاح متعارف ہوئی۔ ’کرونا‘ کے نام سے ایک ایسی عالمی بیماری کا ظہور ہوا جس نے رواں دواں انسانی زندگی کو ہلاکر رکھ دیا، خوف اور دہشت کی لہر نے ہر سطح پر بدامنی کو فروغ دیا، اقتصادیات کی کمر توڑ دی اور سب سے بڑھ کر صحت کے شعبے میں تو اس وبا نے مسائل کے انبار کھڑے کردیے ہیں اور سارے شعبہ ہائے صحت کو تہ و بالا کرکے رکھ دیا ہے۔ بین الاقوامی تجارت اور سیاحت سمیت تمام صنعتوں نے عالمی معیشت کا رُخ بدل دیا ہے۔ ایسے حالات میں ہمارے بہت سے پیارے بھی ہم سے جدا ہوگئے اور بعض کی روزمرّہ زندگی مفلوج ہوتی ہوئی نظر آئی۔ بے شمار چھوٹے بڑے جو منزل مقصود کی طرف رواں دواں تھے اُن میں سے بعض کو منزل دھندلی دکھائی دینے لگی۔ پرنٹ میڈیا کے ساتھ ساتھ الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا کے اثرات نے اُن کے ذہنوں کو جکڑ کر اُن کی سوچ ہی بدل ڈالی جس کے نتیجے میں گویا انسانی مشقّت میں اچانک کئی سو گُنا اضافہ ہوگیا۔
لیکن اب ان حالات کو خداتعالیٰ کے افضال و انعامات کے پس منظر میں بھی دیکھیں۔ خوف و خطر سے لبالب اِس دنیا میں ہم احمدیوں پر خداتعالیٰ کا کس قدر عظیم احسان ہے کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے ہمیں ایک زندہ خدا سے متعارف کروایا اور پھر اُس کی محبت اور اُس کی صفات حسنہ کوایسے منفرد انداز میں پیش فرمایا جس کے نتیجے میں خداتعالیٰ کی قدرتوں پر ایمان لانا اور اُس سے زندہ تعلق قائم کرنا احمدیوں کے لئے نہ صرف آسان ہوگیا بلکہ یہی زندگی کا حقیقی مقصد قرار پایا۔ پھر بحیثیت جماعت، ہمارا طرزعمل اُس مثبت سوچ کا عکاس ہے جسے خلفائے عظام نے ایک صدی سے زائد عرصے میں پروان چڑھایا ہے۔ چنانچہ زمانے کے حالات کچھ بھی رہیں، خداتعالیٰ نے اپنے فضل سے جو روحانی امام ہمیں عطا فرمایا ہے اُس کے ساتھ تعلق رکھنے والوں کے خوف کو امن میں بدلنے کی ضمانت بھی دی ہے۔ پس ہماری فلاح کے لئے منتخب یہ وجود ہر مشکل دَور میں نہ صرف اپنی عاجزانہ دعاؤں سے ہمارے حوصلے بلند رکھنے کی سعی کرتا ہے بلکہ ہماری دنیاوی ضرورتوں کے پیش نظر بھی گرانقدر ہدایات سے نوازتا ہے۔ کبھی خوراک اکٹھی کرنے کا مشورہ دیتا ہے اور کبھی ہماری جسمانی اور ذہنی تندرستی کو قائم رکھنے کے لئے ہومیوپیتھی طریقہ علاج تجویز فرماتا ہے۔ پھر اپنے عالمی نظام کے ذریعے اس امر کو یقینی بناتا ہے کہ بنی نوع انسان عموماً اور اُس کے روحانی غلام خصوصاً، خیروعافیت کے حصار میں آجائیں۔ پس جب ساری دنیا انتشار اور افتراق کا نظارہ پیش کرنے لگتی ہے تو ایسے میں خلیفہ وقت کے لئے اُس کی جماعت، اُس کے غلام، یعنی ہم احمدی ہی اُس کا قیمتی سرمایہ بن جاتے ہیں۔ وہ پاک وجود ایک مادرِ مہربان کی طرح ہماری خاطر اپنا آرام و آسائش قربان کرتا ہے۔ اُس کی اس بے لَوث محبت اور دعاؤں کے اثرات زمین کے کناروں تک بسنے والے خلافتِ عظمیٰ کے غلام محسوس کرتے ہیں اور عقیدت سے اس کا اظہار بھی کرتے ہیں۔
پس اس غیرمعمولی دَور سے گزرتے ہوئے ہمیں بھی اپنے آقا کی اقتدا میں دعاؤں پر خاص توجہ دینی چاہیے اور اس سلسلے میں دو امور پیش نظر رکھنے چاہئیں۔ اوّل: اپنے اُس محسن آقا ایدہ اللہ تعالیٰ کے لئے اپنی خاص دعائیں وقف کیے رکھیں جس نے ہمارے لئے اپنا سب کچھ وقف کررکھا ہے۔
دوم یہ کہ اپنے قول و فعل سے اہلِ دنیا کو بھی اُس زندہ خدا کی طرف بلائیں جو تمام صفات حسنہ کا مالک ہے۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام جس عظیم الشان مقصد کو لے کر مبعوث ہوئے تھے اُس مقصد کے حصول کے لئے ہم بھی اپنی کوششوں کو نقطۂ عروج تک پہنچادیں تاکہ مخلوق کا اپنے خالق سے زندہ تعلق قائم ہوجائے اور بنی نوع انسان پر اُس ربّ کریم کا وہ ابر رحمت برسنے لگے جو دورِ حاضر میں آفاتِ زمینی و سماوی میں مبتلا جاں بلب انسانیت کو خلافتِ حقّہ کی آغوش میں لاکر آبِ حیات سے سیراب کردے اور اُن کا ہر خوف بھی امن میں بدل جائے۔ آمین

50% LikesVS
50% Dislikes

نیا سال مبارک – نئے سال کو خوش آمدید کہنے کا منفرد انداز” ایک تبصرہ

  1. بہت ہی اچھا اور دلوں کو گرمانے والا اداریہ ہے۔ بےشک مثبت سوچ انجام کار مفید ہوتی ہے۔ یہ بھی خلافت کی برکات میں سے ہے۔ اللہ ہمیں خدا تعالیٰ سے ملانے والے سے اپنا دامن وابستہ رکھنے کی توفیق دے۔ چوہدری ناز احمد ناصر وکالت تبشیر اسلام آباد (یوکے)

اپنا تبصرہ بھیجیں