وقارعمل

واقفین نَو کے مرکزی رسالہ ’’اسماعیل‘‘ اپریل تا جون 2012ء میں ’وقارعمل‘ کے حوالہ سے مکرم ڈاکٹر سرافتخار احمد ایاز صاحب کا ایک مضمون شامل اشاعت ہے۔
حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓ نے جماعت احمدیہ کی خصوصی طور پر اور انسانیت کی عمومی طور پر دینی اور دنیوی فلاح و بہبود اور ترقی کے لئے جن عظیم الشان اصلاحات اور تحریکات کو جاری فرمایا ان میں سے وقارعمل کو ایک بنیادی اہمیت حاصل ہے۔دنیا آجکل جس اقتصادی اور بیروزگاری کے بحران میں جکڑی ہوئی ہے اس کا حل وقارعمل کی روح کو زندہ کرنے اور زندہ رکھنے میں ہے۔ وقار عمل ہی قومی اور انفرادی وقار اور عظمت کا حامل ہے۔
اللہ تعالیٰ نے بھی انسان کو ایسا بنایا ہے کہ وہ محنت اور مشقت سے کام کرے اور کسی کام کو عار نہ سمجھے۔ فرمایا: لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِی کَبَدٍ (البلد۔5) یقیناً ہم نے انسان کو ایک مسلسل محنت میں (رہنے کے لئے) پیدا کیا۔ غرض کامیابی کے جتنے بھی راستے دنیا میں پائے جاتے ہیں وہ سب کے سب محنت اور مشقت سے ہی حاصل ہو سکتے ہیں یہاں تک کہ اپنے ربّ سے ملنے کے لئے بھی محنت مشقت لازم ہے۔ جیسا کہ فرمایا: یَا أَیُّہَا الْإِنْسَانُ إِنَّکَ کَادِحٌ إِلَی رَبِّکَ کَدْحاً فَمُلَاقِیْہِ (الانشقاق آیت7) یعنی ’’اے انسان تو پوری جدو جہد کرے گا پوری محنت کرے گا اپنے ربّ کی طرف جانے کی تو اس سے جا کر مل ہی جائے گا‘‘۔
خدام الاحمدیہ اور انصاراللہ کے قیام کا اصل مقصد یہ ہے کہ خدا کے پانے کے لئے ہر خادم اور ہر ناصر ہر وقت خدا کے کام محنت سے کرنے کے لئے تیار ہو اور کسی بھی کام کو عار نہ سمجھے۔اور اجر کے لئے صرف مُلَاقِیْہِ کی تڑپ ہو۔ اور کسی دنیوی فائدہ یا معاوضہ سے غرض نہ ہو۔
جماعت احمدیہ کا دنیا کو ششدر کرنے والا ایک امتیازی نشان یہ بھی ہے کہ ہزاروں ہزار مرد ، عورتیں اور بچے ہمہ وقت اور ہمہ تن جماعت کی خدمت پر مامور ہیں ۔ کسی دنیوی اجرت کا خیال تک نہیں، صرف اپنے محبوب کی رضا و خوشنودی کی تمنا ہے۔
اعمال کی دو بڑی شاخیں حقوق اللہ اور حقوق العباد ہیں۔ حقوق اللہ ارکانِ اسلام کی بجاآوری سے متعلق ہے اور حقوق العباد میں فلاح و بہبود اور فیض رسانی کے جذبہ سے وہی ہمکنار ہو سکتا ہے جو ایثار اور قربانی سے سرشار ہو۔ اس مقصد کی تکمیل کے لئے مجلس خدام الاحمدیہ کے قیام پر حضرت مصلح موعود ؓ نے عہد کے الفاظ میں یہ الفاظ شامل فرمائے کہ ’’میں اپنی جان، مال، وقت اور عزت کو قربان کرنے کے لئے ہر دم تیار رہوں گا‘‘۔ ان الفاظ میں جن طاقتوں کا ذکر کیا گیا ہے وہ سب طاقتیں انسان کو اللہ تعالیٰ نے ودیعت فرمائی ہیں اور جب ان کا برمحل استعمال مخلوقِ خدا کو فیض پہنچانے کا موجب ہو تو یہ اس رنگ میں صدقہ جاریہ بن جاتا ہے۔
آنحضور ﷺ نے فرمایا ہے کہ ہر روز جب آفتاب طلوع ہوتا ہے تو انسان کے ہر جوڑ پر صدقہ واجب ہو جاتا ہے۔ اگر کوئی دو آدمیوں کے درمیان انصاف سے فیصلہ کرے تو یہ صدقہ ہے۔ کوئی کسی آدمی کو سوار ہونے میں مدد کرے، سواری پر بٹھائے یا اپنی سواری پر اس کا سامان رکھے ،یا کسی تکلیف دہ چیز کو راستہ سے ہٹادے تو یہ بھی صدقہ ہے۔ (مشکوٰۃ)
آنحضرت ﷺ کی زندگی میں ایثار کا وصف ایک نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔ آپؐ گھر کے کام کاج خود کر لیا کرتے تھے۔ پھٹا ہوا کپڑا سی لیتے۔ جوتا مرمت کرلیتے۔ گھر کی صفائی کرلیتے۔ معذوروں کا سودا سلف خرید لایا کرتے۔ یہی صورت آپؐ کی بیٹی حضرت فاطمہ الزہرا ؓ کی زندگی میں بھی نظر آتی ہے۔ خود چکی پیستیں اور خود ہی پانی کی مشک بھر کر لاتیں۔ آنحضور ﷺ کی قوت قدسیہ نے پھر یہی رنگ آپؐ کے صحابہؓ کو بھی عطا کیا۔ اور پھر آخری زمانہ میں جن لوگوں نے ان سے آملنا تھا اُن میں بھی یہی روح ودیعت کر دی کہ وہ اپنے ہاتھ سے تمام کام کرنے کی عادت ڈالیں کہ اس عادت میں جہاں بہت برکت ہے وہاں اس میں ایک وقار بھی ہے۔
ہمارے آقا ﷺ کا یہی اسوۂ حسنہ ہے۔ چنانچہ مسجد صفّہ کی تعمیر میں آپؐ نے مزدوروں کی طرح حصہ لیا۔ تعمیر کعبہ کے موقع پر آپؐ بھی باقی لوگوں کے ساتھ مل کر پتھر اٹھا اٹھا کر جمع کرتے ۔ ایک سفر کے دوران آپؐ صحابہ کے ساتھ ایک مقام پر کچھ آرام کے لئے اترے ۔ صحابہ نے مختلف کام آپس میں تقسیم کئے اور کھانے کی تیاری کرنے لگے۔ آپؐ نے فرمایا کہ مَیں بھی تمہارے ساتھ شامل ہوتا ہوں۔صحابہؓ کے اصرار کے باوجود آپ نے یہ فیصلہ فرمایا کہ آپ جنگل میں جا کر لکڑیاں کاٹ کر لائیں گے۔ چنانچہ آپؐ نے ایسا ہی فرمایا۔
ہجرت مدینہ کے بعد آپ کا سب سے پہلا کام مسجد نبوی کی تعمیر تھا۔ اس میں صحابہ نے معماروں اور مزدوروں کا کام کیا۔ جس میں کبھی کبھی خود آنحضرت ﷺ بھی شرکت فرماتے۔ بعض اوقات اینٹیں اٹھاتے ہوئے صحابہ کے ساتھ مل کر باآواز بلند اشعار پڑھتے۔
غزوہ خندق کے موقع پر خندق کی کھدائی میں آنحضور ﷺ نے بھی صحابہ کے دوش بدوش حصہ لیا۔ آپؐ اپنے وقت کا بیشتر حصہ خندق کے پاس گزارتے اور بسااوقات خود بھی صحابہ کے ساتھ مل کر کھدائی اور مٹی کی ڈھلائی کا کام کرتے تھے اور ان کی طبیعتوں میں شگفتگی قائم رکھنے کے لئے بعض اوقات شعر پڑھتے تو صحابہ بھی آپؐ کے ساتھ سُر ملا کر وہی شعر دہراتے۔ اس حالت میں بھی فاقہ کشی کا یہ عالم تھا کہ پیٹ پر پتھر باندھے ہوتے تھے۔
ایک بار خندق کھودتے کھودتے ایک ایسا پتھر نکلا جو کسی طرح ٹوٹنے میں نہ آتا تھا اور صحابہ کا یہ حال تھا کہ وہ تین دن کے مسلسل فاقہ سے سخت نڈھال ہورہے تھے۔ آخر تنگ آکر وہ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ماجرا عرض کیا۔ اس وقت آپؐ کا بھی یہ حال تھا کہ بھوک کی وجہ سے پیٹ پر پتھر باندھ رکھا تھا مگر آپ فوراً وہاں تشریف لے گئے اور ایک کدال لے کر اللہ کا نام لیتے ہوئے اس پتھر پر ماری تو لوہے کے لگنے سے پتھر میں سے ایک شعلہ نکلا جس پر آپؐ نے زور کے ساتھ اَللہُ اَکْبَرکہا اور فرمایا کہ مجھے مملکت شام کی کنجیاں دی گئی ہیں اور شام کے سرخ محلاّت میری آنکھوں کے سامنے ہیں۔ اس ضرب سے وہ پتھر کسی قدر شکستہ ہو گیا۔ دوسری دفعہ آپؐ نے پھر اللہ کا نام لے کر کدال چلائی اور پھر ایک شعلہ نکلا۔ آپؐ نے پھراَللہُ اَکْبَر کہا اور فرمایا کہ اس دفعہ مجھے فارس کی کنجیاں دی گئی ہیں اور مدائن کے سفید محلاّت مجھے نظر آرہے ہیں۔ اس دفعہ پتھر کسی قدر زیادہ شکستہ ہوگیا۔ تیسری دفعہ آپؐ نے پھر کدال ماری جس کے نتیجہ میں پھر ایک شعلہ نکلا اور آپؐ نے پھر اَللہُ اَکْبَر کہا اور فرمایا: اب مجھے یمن کی کنجیاں دی گئی ہیں اور خدا کی قسم صنعاء کے دروازے مجھے دکھائے جارہے ہیں۔ اس دفعہ پتھر بالکل شکستہ ہو کر اپنی جگہ سے گرگیا۔
مہمان کے آنے پر خود اٹھ کر دروازہ کی کنڈی کھولنا اور اسے واپسی پر رخصت کرنے کے لئے باہر دروازہ تک آنا آپؐ کا طریق مبارک تھا۔ ایک عیسائی مہمان نے رات کو آپؐ کے ہاں قیام کیا اور پیٹ کی خرابی کی وجہ سے بستر گندہ کر دیا۔ شرم کی وجہ سے صبح سویرے وہ خاموشی سے نکل گیا۔ لیکن بھولی ہوئی چیز لینے کے لئے اسے واپس آنا پڑا تو یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ آنحضرت ﷺ خود اُس کے گندے کئے ہوئے بستر کی صفائی کررہے تھے۔ صحابہ نے عرض بھی کیا کہ ہم حاضر ہیں لیکن آپؐ نے فرمایا کہ نہیں مَیں یہ کام خود کروں گا وہ میرا مہمان تھا۔
آنحضرت ﷺ نے فرمایا خدا تعالیٰ کے مقرر کردہ فرائض کی طرح محنت کی کمائی بھی فرض ہے۔ یہ بھی فرمایا کہ اپنے ہاتھ سے کمائی ہوئی روزی سے بہتر کوئی روزی نہیں جیسا کہ اﷲ تعالیٰ کے نبی حضرت دائود ؑ اپنے ہاتھ کی کمائی کھایا کرتے تھے۔ اسی طرح ایک بار فرمایا کہ ہر نبی نے قبل از بعثت بکریاں چرائی ہیں۔ صحابہؓ نے عرض کیا: کیا حضورؐ نے بھی؟ فرمایا: ہاں کچھ معاوضہ پر مَیں بھی مکہ والوں کی بکریاں چرایا کرتا تھا۔
ایک بار ایک انصاری سوالی بن کر آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپؐ نے اسے فرمایا کہ تیرے لئے خود کما کر کھانا اس بات سے زیادہ اچھا ہے کہ تو در در مانگتا پھرے اور قیامت کے دن اس حالت میں اللہ کے حضور آئے کہ تیرا چہرہ خراش زدہ ہو۔
آنحضرت ﷺ نے فرمایا تم میں سے جو شخص رسّی لے کر جنگل میں جاتا ہے اور وہاں سے لکڑیوں کا گٹھا اپنی پیٹھ پراٹھا کر بازار میں آکر اسے بیچتا ہے اور اس طرح اپنا گزارا چلاتا ہے اور اپنی آبرو اور خود داری پر حرف نہیں آنے دیتا وہ بہت ہی معزز ہے اور اس کا یہ طرز عمل لوگوں سے بھیک مانگنے سے ہزار درجہ بہتر ہے۔ نہ معلوم وہ لوگ اس کے مانگنے پر اسے کچھ دیں یا نہ دیں۔ اسی طرح ایک بار فرمایا: لوگوں کو سوال کرنے سے بچنا چاہیے۔اوپر والا ہاتھ جو خرچ کرنے والا ہے نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔
وقار عمل کی صورت میں یہی روح کار فرما نظر آتی ہے۔ حضرت مصلح موعود ؓ نے اس کو ایک اجتماعی شکل بھی عطافرمائی۔ کئی غیرازجماعت ذرائع ابلاغ نے جماعت احمدیہ کی اس روایت کو بھرپور سراہا۔ مثلاً 1950ء کی دہائی میں صوبہ پنجاب میں سیلاب کی تباہی سے دوچار مصیبت زدگان کی مدد پر اخبارات نے خبریں شائع کیں اور وزیر اعظم پاکستان اور ہلال احمر (ریڈ کراس ) سوسائٹی کی طرف سے شکریہ کے پیغامات بھجوائے گئے۔
احمدیہ مرکز ربوہؔ کا قیام خود اپنی جگہ اپنی مدد آپ کرنے کا حاصل ہے۔ محدود وسائل کے باوجود چند دیوانے ربوہ کی بے آب و گیاہ زمین میں Tents لگاتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ دن کو جھلسا دینے والی دھوپ ، پانی کی نایابی اور شدید آ ندھیوں کے تھپیڑے ان کے کسی کام میں رکاوٹ نہ ڈال سکے اور بالآخر ربوہ کی آبادکاری ایک حقیقت بن کر ابھری۔ اُس وقت کے اخبارات نے اس روح سے متأثر ہو کر تحسین آمیز نوٹ شائع کئے۔
حضرت مصلح موعودؓ کی ہدایت تھی کہ خدام جماعت کے سب دوستوں کو اپنے ساتھ وقارعمل میں شامل کر لیا کریں اور ہوسکے تو مجھے بھی کام کرنے کے لئے بلا لیا کریں۔
چنانچہ جماعت احمدیہ نے اس روح کو اسی طرح زندہ رکھا جیسا کہ حضرت مصلح موعود ؓ نے فرمایا تھا۔ اس روح نے نوجوانوں کے اخلاق و اقدار بدل ڈالے جن میں جذبۂ خدمت خلق ، قوت ایمانی اور ادنیٰ ادنیٰ کاموں سے عار نہ کرنے کا جذبہ اس حد تک ودیعت پاگیاجو اُن کے سینوں میں ایسے انقلاب کا موجب ہوا جو ہر ضرورت کے وقت ابھر کر باہر آجاتا تھا۔ مساجد کی تعمیر کا معاملہ ہو،مشن ہائوسز کی تزئین کا کام ہو ، جلسہ سالانہ کی خدمت ہو، ہر جگہ آپ کو خدام اور جماعت کے مخلصین کے اخلاص کا پتہ دے گی جو انہوں نے وقارعمل کے رنگ میں دکھایا۔
جلسہ سالانہ کے وسیع انتظامات ہر سال حسن انتظام کے ساتھ کئے جاتے ہیں۔ کس قدر محنت اور مشقت اس کی نذر ہوتی ہے۔ اس کے لئے دن رات ایک کر دینے والی افرادی قوت کے جذبے، شوق اور ولولے ہر دیکھنے والے کو متعجب کردیتے ہیں اور وہ بے اختیار عش عش کر اٹھتے ہیں۔ وقارعمل کرنے والے اس محنت کو سعادت سمجھتے ہوئے گھروں کو لَوٹتے ہیں اور خواہش رکھتے ہیں کہ انہیں بار بار ایسا موقع ملتا چلا جائے۔
حضرت مصلح موعود ؓ نے فرمایا تھا: ’’جب تک ہم یہ احساس نہ مٹا دیں کہ بعض کام ذلیل ہیں اور ان کو کرنا ہتک ہے یا یہ کہ ہاتھ سے کما کر کھانا ذلّت ہے اس وقت تک ہم دنیا سے غلامی کو نہیں مٹا سکتے۔ لوہار، بڑھئی، دھوبی، نائی غرضیکہ کسی کا کام ذلیل نہیں۔ یہ سارے کام دراصل لوگ خود کرتے ہیں۔ ہر شخص تزئین کا کام کرتا ہے اپنی داڑھی مونچھوں کی صفائی کرتا ہے یہی حجام کا کام ہے۔ بچہ پیشاب کر دے تو امیر غریب ہر ایک اسے دھوتا ہے جو دھوبی کا کام ہے۔ تو یہ سب کام انسان کسی نہ کسی رنگ میں خود کرتا ہے۔ مگر اس طرح کہ کسی کو پتہ نہ لگے اور خود بھی محسوس نہ کرے۔ لیکن ہم چاہتے ہیں وہ ایسے رنگ میں کرے کہ وہ سمجھتا ہو کہ گو یہ کام برا سمجھا جاتا ہے مگر دراصل برا نہیں اور اس کے کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ ہر انسان اپنی طہارت کرتا ہے۔یہ کیا ہے؟ یہی چوہڑوں والا کام۔ نہ کرے تو لوگ اسے پاگل سمجھتے اور اس سے زیادہ غلیظ اور کوئی نہیں ہوتا۔ …..جس قوم میں یہ عادت پیدا ہو جائے اس کی اقتصادی حالت اچھی ہو جائے گی۔ اس سے سوال کی عادت دور ہو جائے گی۔ اس کے افراد میں سستی پیدا نہیں ہو گی۔ پھر جن لوگوں کی اقتصادی حالت اچھی ہو گی وہ چندے بھی زیادہ دے سکیں گے۔ بچوں کو تعلیم دلا سکیں گے اور اس طرح ان کی اخلاقی حالت درست ہوگی۔ تو اس کے اور بھی بہت سے فوائد ہیں مگر سب سے اہم امر یہ ہے کہ اس سے مذہب کو تقویت ہوتی ہے اور دنیا سے غلامی مٹتی ہے۔ جب تک دنیا میں ایسے لوگ موجود ہیں جن کو ہاتھ سے کام کرنے کی عادت نہیں وہ کوشش کریں گے کہ ایسے لوگ دنیا میں موجود رہیں جو ان کی خدمت کرتے رہیں اور دنیا ترقی نہ کرے-

اپنا تبصرہ بھیجیں