وہ ایک شخص نہیں اِک زمانہ تھا!

“سیدنا طاہر نمبر” جماعت احمدیہ یوکے

خلافت رابعہ کے بابرکت عہد میں عظیم الشان جماعتی ترقیات
اور دیگر اہم تاریخی واقعات پر ایک طائرانہ نظر
1928ء تا 2003ء


(فرخ سلطان محمود)

سیدنا حضرت خلیفۃالمسیح الرابع رحمہ اللّہ تعالیٰ کی پاکیزہ زندگی نہایت خوبصورتی سے تراشے ہوئے ایک ایسے ہیرے کی مانند تھی جو شش جہات میں اپنی روشنی منعکس کرتی رہی۔ یہ روشنی جو محبت الٰہی، عشق رسولؐ، حضرت مسیح موعودؑ کی بعثت کے مقاصد عالیہ کی تکمیل اور انسانیت کے لئے بے پایاں شفقت کا مظہر تھا، آپؒ کی حیات مبارکہ کے ہر پہلو سے پھوٹتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ اگرچہ حضورؒ کی سوانح عمری کو بنیادی طور پر دو ادوار میں تقسیم کیا جاسکتا ہے یعنی خلافت سے قبل اور خلافت کے منصب پر فائز ہونے کے بعد۔ لیکن زمانۂ خلافت میں حضورؒ نے جو عظیم الشان کارہائے نمایاں سرانجام دیئے ہیں یا جو اہم واقعات رونما ہوئے، اُن میں سے بھی چند ایک ذیلی عناوین کے تحت اختصار کے ساتھ اس مضمون میں بیان کئے جارہے ہیں۔

قبل از خلافت
= 18 دسمبر 1928ء کو سیدنا حضرت مصلح موعود خلیفۃالمسیح الثانیؓ اور حضرت سیدہ مریم بیگم صاحبہؓ کے ہاں آپ کی ولادت باسعادت قادیان میں ہوئی۔ ابتدائی تربیت مقدس والدین اور حضرت اقدس مسیح موعودؑ کے بزرگ صحابہؓ کے زیر سایہ ہوئی۔
= 5 مارچ 1944ء کو آپ کی والدہ ماجدہ کی لاہور میں وفات ہوگئی۔ ان دنوں آپ میٹرک کا امتحان دے رہے تھے۔
= 1944ء میں آپ نے تعلیم الاسلام ہائی سکول قادیان سے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ پھر گورنمنٹ کالج لاہور سے ایف ایس سی کا امتحان پاس کیا اور پھر پرائیویٹ طور پر بی اے کا امتحان پاس کیا۔
= اگست 1947ء میں تقسیم ہند کے وقت آپؒ نے قادیان میں آنے والے پناہ گزینوں کی خدمت کی توفیق پائی اور حفاظت قادیان میں حصہ لیا۔ 22 ستمبر1947ء کو قادیان میں بھارتی پولیس نے آپ کی والدہ مرحومہ کے مکان کی تلاشی لی۔ آپ اس وقت قادیان میں ہی تھے۔ جلد ہی امیر مقامی حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحبؓ نے آپ کو لاہور بھجوانے کا فیصلہ فرمایا اور آپ لاہور چلے آئے۔
= 7 نومبر 1949ء کو حضرت مصلح موعودؓ ربوہ میں مستقل رہائش کے لئے تشریف لائے تو آپ بھی حضورؓ کے ہمراہ ربوہ آگئے۔
= 7 دسمبر 1949ء کو آپ نے جامعہ احمدیہ ربوہ میں داخلہ لیا اور 1953ء میں جامعہ احمدیہ سے شاہد کی ڈگری حاصل کی۔
= 5اکتوبر 1954 ء کو جب آپ مجلس خدام الاحمدیہ ربوہ کے قائد تھے تو لاہور میں آنے والے تباہ کن سیلاب کے موقع پر خدام الاحمدیہ کا ایک وفد آپؒ کی قیادت میں لاہور پہنچا۔ اس وفد نے لاہور کے خدام کے ساتھ مل کر 75 مکان نئے سرے سے تعمیر کئے۔ اہل لاہور اور حضرت مصلح موعودؓ نے اس وفد کی خدمات پر خوشی کا اظہار فرمایا۔
= اپریل 1955ء میں حضرت مصلح موعودؓ کے بغرض علاج کئے جانے والے دوسرے سفر یورپ میں آپؒ بھی حضورؓ کے ساتھ لندن گئے اور حضورؓ کی واپسی پر مزید تعلیم کے لئے وہیں ٹھہر گئے۔
= 1956ء میں آپؒ نے آئر لینڈ کا سفر کیا۔
= 4اکتوبر 1957ء کو آپ لندن سے واپس ربوہ تشریف لے آئے۔
= 5 دسمبر1957ء کو حضرت مصلح موعودؓ نے آپ کا نکاح حضرت سیدہ آصفہ بیگم صاحبہ بنت صاحبزادہ مرزارشید احمد صاحب سے پڑھا۔ 9دسمبر کو شادی کی مبارک تقریب ہوئی اور 11 دسمبر کو دعوت ولیمہ کا انعقاد ہوا۔
= دسمبر 1957ء میں جب حضرت مصلح موعودؓ نے تحریک وقفِ جدید کا اعلان فرمایا۔ تو اس کے لئے جو ارکان نامزد فرمائے، اُن میں سب سے اوپر آپ کا نام رکھا۔ 12 دسمبر1958ء کو آپ کو وقفِ جدید کا ناظم ارشاد مقرر کیا گیا۔
= 14اکتوبر1959ء کو آپ خدام الاحمدیہ کی مرکزی عاملہ میں پہلی دفعہ بطور مہتمم مقامی شامل ہوئے۔
= دسمبر 1959 ء میں فضل عمر ہو میو پیتھک ریسرچ ایسوسی ایشن کا قیام عمل میں آیا جس کے آپؒ صدر مقرر ہوئے۔ کچھ عرصہ بعد آپ نے ہومیو پیتھی کی مفت ادویہ دینے کا سلسلہ شروع کیا۔ آغازمیں اپنے گھر میں تیسرے پہر دوائیں دیتے تھے۔ 1965ء میں آپ نے اپنی ہمشیرہ حضرت صاحبزادی امۃالحکیم بیگم صاحبہ کے گھر میں دوائیں رکھیں۔ مریض دن کے اوقات میں نسخہ لکھوالیتے اور عصر کے بعد مکرم صوفی عبدالغفور صاحب دوا دیتے تھے۔ یہ سلسلہ 1968ء (یعنی اُس وقت) تک جاری رہا جب وقفِ جدید میں باقاعدہ ڈسپنسری قائم ہوئی۔ اس وقت تک دواؤں کے تمام اخراجات حضورؒ خود برداشت فرمایا کرتے تھے۔
= نومبر60ء تا اکتوبر66ء : آپ مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ کے نائب صدر رہے۔
= 1961ء میں افتاء کمیٹی کے رکن مقرر ہوئے ۔
= نومبر 63ء تا اکتوبر66ء :آپ خدام الاحمدیہ مرکزیہ میں مہتمم صحت جسمانی بھی رہے۔

خلافت ثالثہ میں خدمات
= 11فروری 1966ء آپ نے ڈھاکہ (بنگلہ دیش) میں مسجد کا سنگ بنیاد رکھا۔ اس اینٹ پر حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ نے دعا کی تھی۔
= نومبر66ء تا نومبر69ء آپؒ نے صدر خدام الاحمدیہ مرکزیہ کے طور پر خدمات سرانجام دیں۔
= یکم جنوری 1970ء کو بطور ڈائریکٹر فضل عمر فاؤنڈیشن آپؒ کی تقرری ہوئی۔
= دسمبر 1970ء میں پاکستان کے عام انتخابات میں زبردست خدمات سرانجام دیں۔
= دسمبر1973ء میں حضرت خلیفۃالمسیح الثالثؒ نے صدسالہ جوبلی منصوبہ کا اعلان فرمایا تو آپ کو بھی اس کمیٹی کا ایک ممبر مقرر فرمایا۔
= 1974ء میں حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ کی قیادت میں پاکستان کی قومی اسمبلی میں شریک ہونے والے وفد کے بھی رکن تھے۔
= 1975ء میں حضرت خلیفۃالمسیح الثالثؒ نے ’’خیل الرحمان مرکزیہ‘‘ کے نام سے گھوڑوں کی پرورش وغیرہ میں رہنمائی کے سلسلہ میں ایک کمیٹی بنائی جس کا صدر آپؒ کو مقررفرمایا۔
= جولائی 1978ء میں آپ نے بعض مغربی ممالک کا دورہ فرمایا۔ آپؒ امریکہ وکینیڈا بھی تشریف لے گئے اور کینیڈا کے جلسہ سالانہ میں شمولیت اور تقریر فرمائی، نیز جرمنی کا دورہ بھی فرمایا۔
= یکم جنوری 1979ء کو بطور صدر مجلس انصاراﷲ مرکزیہ آپؒ کی تقرری ہوئی۔ آپؒ منصب خلافت پر فائز ہونے تک اس عہدہ پر خدمات سرانجام دیتے رہے۔
= 17 تا 23 جنوری 1980ء: حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ نے اپنی ربوہ سے عدم موجودگی میں آپ کو امیر مقامی مقرر فرمایا۔
= 1980ء میں حضرت خلیفۃالمسیح الثالثؒ نے آپ کو مجلس طلبائے سابق جامعہ احمدیہ کا صدر بھی مقرر فرمایا۔ آپ نے30 مارچ کو اس کے سالانہ اجلاس کی صدارت فرمائی۔
= 15 تا 17جولائی 80ء (یکم تا ۳؍رمضان المبارک) آپ نے مسجد مبارک ربوہ میں پہلی دفعہ درس القرآن ارشاد فرمایا اور سورۃالفاتحہ تا سورۃ آل عمران رکوع9 تک کا درس دیا۔
= 31 اکتوبر 1980ء کو ہونے والے مجلس انصاراﷲ مرکزیہ کے سالانہ اجتماع کے پہلے روز آپ نے حضرت خلیفۃالمسیح الثالثؒ کی تقریر کاانگریزی تر جمہ براہ راست 18سامعین تک پہنچانے کا کامیاب تجربہ کیا گیا۔ یہ منصوبہ فضل عمر فاؤنڈیشن کی مالی سر پرستی اور آپ کی نگرانی میں ہوا۔ اس کے بعد اسی سال جلسہ سالانہ ربوہ کے موقع پر دو زبانوں انگریزی اور انڈو نیشین میں حضورؒ کے خطبات کا رواں ترجمہ بھی نشر ہوا۔ اس کی نگرانی بھی آپ نے فرمائی۔
= 1980ء میں احمدیہ آرکیٹیکٹس اینڈ انجینئر ز کی ایسوسی ایشن کے سرپرست کے طور پر آپکی تقرری ہوئی۔
= 1980ء میں احمدیہ سٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کے سرپرست مقرر ہوئے۔احمدی طلبہ کی یہ تنظیم قبل ازیں احمدیہ انٹر کالجئیٹ ایسوسی ایشن کے نام سے محدود سطح پر کام کر رہی تھی۔ آپ کے سرپرست بننے کے بعد اس کے پروگراموں میں مرکزیت اور وسعت پیدا ہوئی اور مختلف سطحوں پر اس نے عمدہ خدمات انجام دیں۔
= خلافت ثالثہ میں آپ لمبا عرصہ نائب افسر جلسہ سالانہ بھی رہے۔
= جون 1982ء میں حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ کی آخری بیماری کے سلسلہ میں آپؒ اسلام آباد (پاکستان) تشریف لے گئے۔ حضورؒ کی وفات کے بعد جسد اطہر کو غسل دیتے وقت اسی کمرہ میں موجود تھے۔

تقاریر برموقع جلسہ سالانہ
مرکزی جلسہ سالانہ ربوہ کے سٹیج پر آپ نے سب سے پہلی تقریر ’’وقف جدیدکی اہمیت‘‘ کے موضوع پر 1960ء میں ارشاد فرمائی۔ اس کے بعد کے سالوں میں آپ نے مندرجہ ذیل عنوانات پر سیر حاصل روشنی ڈالی اور ہر بار اپنے منفرد اسلوب بیان اور سحر انگیز خطابت سے سامعین کو متأثر کیا:-
= ارتقائے انسانیت اور ہستی باری تعالیٰ(1962ء)
= مصلح موعود سے متعلق پیشگوئی(1964ء)
= احمدیت نے دنیا کو کیا دیا(1968ء)
= اسلام اور سوشلزم (1969ء)
= حضرت مصلح موعودؓ کی خدمت قرآن(1970ء)
= حقیقت نماز (1972ء)
= دین حق کی نشأۃ ثانیہ خلیفۃ الرسول سے وابستہ ہے(1973ء)
= دین حق کا بطل جلیل (1974ء)
= قیام نماز(1976ء)
= فلسفہ حج (1977ء)
= فضائل قرآن کریم(1978ء)
= غزوات میں آنحضرت ﷺکا خلق عظیم (1979ء تا 1981ء)

عظیم الشان دَورِ خلافت
= 10 جون1982ء کو بعد نماز ظہر مسجد مبارک ربوہ میں آپ کا انتخاب بطور خلیفۃالمسیح الرابع ہوا۔ سب سے پہلے حضورؒ نے مجلس انتخاب سے مختصر خطاب فرمایا جس کے بعد مجلس انتخاب نے بیعت کی اور اس موقعہ پر آپؒ کی خواہش پر حضرت چودھری سرمحمد ظفراللہ خان صاحبؓ نے اپنا ہاتھ آپ کے دست مبارک پر رکھا۔
= اس کے بعد حضورؒ نے بیعت عام سے قبل دوبارہ خطاب فرمایا جس کے بعد پہلی عام بیعت ہوئی جس میں آپؒ کے ارشاد پر حضرت خلیفۃالمسیح الثالثؒ کے تینوں صاحبزادوں نے سب سے پہلے اپنے ہاتھ بیعت کے لئے پیش کئے۔ بیعت کے بعد حضورؒ نے بحیثیت خلیفۃالمسیح پہلی نماز کی امامت کروائی۔ یہ عصر کی نماز تھی۔ جس کے بعد حضرت خلیفۃالمسیح الثالثؒ کا جسد مبارک بہشتی مقبرہ لے جایا گیا جہاں حضورؒ نے نماز جنازہ پڑھائی اور تدفین کے بعد دعا کروائی۔
= 11 جون 1982ء کومسجد اقصیٰ ربوہ میں حضورؒ نے پہلا خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا۔
= 13جون 1982ء کو حضور کا پہلا تحریری پیغام اخبار الفضل ربوہ میں شائع ہواجو اہل فلسطین کے لئے دعا کی تحریک پر مشتمل تھا۔
= 23جون 1982ء کو رمضان المبارک کے آغاز پر حضورؒ نے مسجد مبارک ربوہ میں سورۃ الفاتحہ سے درس قرآن کریم کا آغاز فرمایا اور رمضان کے اختتام پر21؍جولائی کو آخری تین سورتوں کا درس دیا۔ اسی طرح حضورؒ نے رمضان المبارک کے اختتام پر 17تا 21 جولائی 1982ء کو حدیث نبویؐ کے دروس بھی ارشاد فرمائے۔
= 16 تا 20جون 1982ء حضور کے دَور خلافت میں کسی ملک کا سب سے پہلا جلسہ سالانہ منعقد ہوا۔ یہ جماعت انڈونیشیا کا جلسہ تھا جس میں تین ہزار مخلصین شامل ہوئے۔
= 28 جولائی تا 12؍اکتوبر1982ء حضورؒ نے پہلا سفر یورپ اختیار فرمایا جس کے دوران حضورؒ نے:
٭ 5؍اگست 1982ء کو اسلو ناروے میں بیرون پاکستان پہلی پریس کانفرس سے خطاب فرمایا۔
٭ 10ستمبر 1982ء کو مسجد بشارت سپین کا افتتاح فرمایا۔
٭ 5؍اکتوبر1982ء کو جلنگھم مرکز برطانیہ کا افتتاح فرمایا۔
٭ 7؍اکتوبر 1982ء کو کرائیڈن مرکز برطانیہ کا افتتاح فرمایا۔
= 29؍اکتوبر1982ء کو خطبہ جمعہ کے دوران مسجد اقصیٰ میں حضورؒ نے ’’بیوت الحمد سکیم‘‘ کا اعلان فرمایا۔ یہ خلافت رابعہ کی پہلی مالی تحریک تھی جس کے ذریعہ مسجد بشارت سپین کے افتتاح کے شکرانے کے طور پر غرباء کے گھر تعمیر کرنے کی تحریک فرمائی۔
= 26 تا 28 دسمبر1982ء کو ربوہ میں منعقد ہونے والے آپؒ کے دورِ خلافت کے پہلے مرکزی جلسہ سالانہ میں 2لاکھ 20 ہزار افراد نے شرکت کی۔ اگلے سال26 تا 28دسمبر 1983ء کو منعقد ہونے والے جلسہ سالانہ میں حاضری پونے تین لاکھ تھی۔ یہ حضورؒ کا ربوہ میں آخری جلسہ سالانہ تھا۔
= 1983ء میں حضورؒ مشرق بعید کے بعض ممالک کے دورہ پر تشریف لے گئے۔ یہ کسی خلیفہ وقت کا ان ممالک کا پہلا دورہ تھا۔ اس کامیاب دورہ کے دوران:
٭ 9؍ستمبر 1983ء کو سنگا پور میں احمدیہ مسجد کا سنگِ بنیاد رکھا۔
٭ 18؍ستمبر1983ء کو مسجد فضل عمر سوا، فجی کا رسمی افتتاح فرمایا۔
٭ 25 ؍ستمبر 1983ء کو لٹوکا۔ فجی میں احمدیہ مسجد کا سنگ بنیاد رکھا۔
٭ 30؍ ستمبر 1983ء کو مسجد بیت الھدیٰ آسٹریلیا کا سنگ بنیاد رکھا۔
٭ 18؍اکتوبر1983ء کو حضورؒ کے دورِ خلافت میں فجی میں پہلا جلسہ سالانہ منعقد ہوا۔
= 31؍اکتوبر1983ء :سپین میں پہلا جلسہ سالانہ منعقد ہوا۔
= 27،28؍اگست 1983ء: سوئٹزرلینڈمیں پہلا جلسہ سالانہ ۔
= 11؍ اپریل 1983ء :دارالضیافت کے جدید بلاک کی بالائی منزل کے تعمیری کام کا آغاز۔
= 16 ؍جولائی 1983ء:سرائے محبت ربوہ کی دوسری منزل کا سنگ بنیاد
= 27جولائی1983ء: دفتر لوکل انجمن احمدیہ ربوہ کا افتتاح ہوا۔
= 21؍اگست 1983ء: دارلقضاء ربوہ کا سنگِ بنیاد رکھا گیا۔
= 15؍مارچ 1984ء:گلشن احمد نرسری کا افتتاح عمل میں آیا۔
= ہجرت سے قبل حضور نے پاکستان میں آخری خطبہ جمعہ20 ؍ اپریل1984ء کو اسلام آباد میں ارشاد فرمایا۔
= 26؍ اپریل 1984ء کو پاکستان کے صدر ضیاء الحق نے امتناع قادیانیت آرڈیننس جاری کیا۔
= 27؍ اپریل کی شام حضورؒ نے مسجد مبارک میں بعد نماز مغرب احباب سے مختصر خطاب فرمایا۔ 28؍ اپریل کو نماز عشاء کے بعد حضورؒ نے دوبارہ احباب سے خطاب فرمایا۔ 29؍ اپریل کو حضور علی الصبح ربوہ سے کراچی کے لئے روانہ ہوئے اور 30؍ اپریل کو پہلے ایمسٹرڈم اور پھر بعد دوپہر لندن پہنچے۔ یکم مئی کوحضور نے جماعت پاکستان کے نام پیغام تحریر فرمایا۔ اور4مئی کو لندن میں دور ہجرت کا پہلا خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا۔
= 25،26 ؍اگست1984ء کو جلسہ سالانہ برطانیہ منعقد ہوا جس میں حضورؒ نے اختتامی خطاب فرمایا۔ حاضری تین ہزار تھی۔ 1985ء میں حضورؒ کی موجودگی کے باعث یہ جلسہ مرکزی رنگ اختیار کر گیاجس کی حاضری7ہزار تھی۔
= مارچ1990ء میں بورکینا فاسو میں جلسہ سالانہ کا آغاز ہوا۔
= 1991ء میں صد سالہ جلسہ کے موقع پر حضورؒ قادیان تشریف لے گئے۔ اس جلسہ کی حاضری 25 ہزار تھی۔ خلافت رابعہ میں قادیان کا پہلا جلسہ 18 تا 20 دسمبر1982ء منعقد ہوا تھا جس کی حاضری 3760 تھی۔اور2002ء میں حضورؒ کے دورِ خلافت کے آخری جلسہ کی حاضری 50ہزار تک پہنچ گئی۔
= 20تا 22 مارچ1998ء: گنی بساؤ میں جلسہ سالانہ کا آغاز ہوا۔
= 10،11؍اکتوبر1998ء کو مڈغاسکر میں پہلا جلسہ سالانہ منعقد ہوا۔
= 2002ء میں جلسہ سالانہ برطانیہ حضورؒ کی زندگی کا آخری مرکزی جلسہ سالانہ تھا جس میں حضورؒ نے شمولیت فرمائی۔ اس کی حاضری 19,400 تھی۔ 2001 ء میں مرکزی جلسہ جرمنی میں منعقد ہوا تھا جس کی حاضری 48190 تھی۔

نئے ممالک میں احمدیت کا نفوذ
= 1982ء میں خلافت رابعہ کے آغاز کے وقت جماعت 80 ممالک میں قائم تھی۔ 1984ء میں حضور کی ہجرت کے وقت جماعت91 ممالک میں قائم ہو چکی تھی اور 2003ء میں حضور کی وفات کے وقت جماعت 175ملکوں میں مضبوطی سے قدم جما چکی تھی۔
= آپ کے دورِ خلافت میں جن ممالک میں احمدیت قائم ہوئی ان کی تفصیل سَن وار پیش خدمت ہے۔
1985ء :موریطانیہ، روانڈا، برونڈی، موزمبیق
1986ء : بورکینا فاسو، طوالو، کیری باس، ویسٹرن سمودا، روڈرگ،
آئی لینڈ، برازیل، تھائی لینڈ، بھوٹان، نیپال، یوگوسلاویہ، زنجبار۔
1987ء: کونگو (برازویلیا)، پاپوانیو گنی، فن لینڈ، پرتگال، Nauro اور آئس لینڈ۔
1988ء: ٹونگا ، ساؤتھ کوریا، جزائر مالدیپ، گیبون، سولومن آئی لینڈز۔
1990ء : مارشل آئی لینڈ، مائکرونیشیا،Tolelauمیکسیکو۔
1991ء: Ne Caledonia، منگولیا۔
1992ء: Guam،Chuukis، لتھوانیا، بیلورشیا۔
1993ء: ہنگری، کولمبیا، ازبکستان، یوکرین، تاتارسان۔
1994ء: البانیہ، رومانیہ، بلغاریہ، چاڈ، کیپ ورڈ، قازقستان، Norfolkis
1995ء: کمبوڈیا، ویتنام، لاؤس، جمیکا، گریناڈا، میسی ڈونیا، ایکٹوریل گنی،
1996ء:El Salvador،Slovenia، بوسنیا، قرغیزستان۔
1997ء: کروشیا۔
1998ء: Nicaragua، مایوٹی آئی لینڈ۔
1999ء:چیک ریپبلک، سلووکریپبلک،Ecuodor Lesotho
2000ء: سنٹرل افریقن ریپبلک، ساؤٹومے، سیشلز، سازی لینڈ، بوٹسوانا، نمیبیا، ویسٹرن صحارا، جبوتی، اریٹریا، کوسوو، موناکو، اندورا۔
2001ء: وینزویلا، سائپرس، مالٹا، آذربائجان۔
2002ء: مالدووا۔

مختلف ممالک میں نئی جماعتوں کا قیام
حضرت خلیفۃا لمسیح الرابع کے دور ہجرت میں نئی جماعتوں کے قیام میں غیر معمولی اور حیرت انگیز اضافہ ہوا۔ لندن آنے کے بعد پہلے سال یعنی 1984-85ء میں 28نئی جماعتیں قائم ہوئیں اور پھر اگلے سال1985-86ء میں یہ تعداد 254 ہو گئی۔ سال 87 -1986ء میں یہ تعداد بڑھ کر 258ہوگئی۔ اس کے بعد اس میں سال بہ سال مسلسل حیرت انگیز اضافہ ہوتا رہا۔ اس رفتار کا اندازہ آخری تین سالوں کے جائزہ سے لگایا جا سکتا ہے۔ سال 1999-2000ء میں دنیا بھر میں 6175 مقامات پر جبکہ2000-2001ء میں 12343مقامات پر نئی جماعتوں کا قیام عمل میں آیا اور سال 2001-2002ء میں دنیابھر میں 4485 نئی جماعتیں قائم ہوئیں۔ اس طرح ہجرت کے 19 سالوں میں دنیا بھر میں 35358 مقامات پر نئی جماعتیں قائم ہوئیں۔

عالمی بیعت کی تقاریب
= حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ نے عالمی بیعت کا سلسلہ1993ء میں شروع فرمایا۔ اور10 سالوں میں16 کروڑ 48 لاکھ 75 ہزار 605 افراد جماعت احمدیہ میں شامل ہوئے۔ اس کی سال وار تفصیل یہ ہے۔
2002ء…2,06,54000 2001ء…8,10,06721
2000ء…4,13,08975 1999ء…1,08,20226
1998ء…50,04591 1997ء…30,04585
1996ء…16,02721 1995ء…8,47725
1994ء…4,21753 1993ء…2,04308
میزان…16,48,75,605

وہ ممالک جن کا بطور خلیفہ دورہ فرمایا
= سنگاپور، فجی،آسٹریلیا، سری لنکا، کینیا، یوگنڈا، تنزانیہ، ماریشس، گوئٹے مالا، جاپان، نیوزی لینڈ، سورینام، پرتگال اور انڈونیشیا وہ ممالک تھے جن کی سرزمین نے پہلی بار کسی خلیفۃالمسیح کے قدم چومے۔
= بھارت وہ ملک تھا جہاں ۱۹۴۷ء کی ہجرت کے بعد پہلی بار ۱۹۹۱ء میں کسی خلیفہ وقت کو جانے کی سعادت حاصل ہوئی۔
= جن دیگر ممالک کے حضورؒ نے دورے فرمائے ان میں ناروے، سویڈن، ڈنمارک، جرمنی، آسٹریا، سوئٹزرلینڈ، فرانس، لکسمبرگ، ہالینڈ، سپین، انگلستان، کینیڈا، بیلجیم،امریکہ، آئرلینڈ، گیمبیا، سیرالیون، لائبیریا، آئیوری کوسٹ، غانا اور نائیجیریا شامل ہیں۔

مساجد کی تعمیر
= دورِ ہجرت کے پہلے سال 85۔1984ء میں نئی مساجد جو دنیا بھر میں قائم ہوئیں ان کی تعداد32 تھی۔
٭ 86۔1985ء میں یہ تعداد 32سے بڑھ کر 206ہوگئی۔
٭ 87۔1986ء میں136 نئی مساجد تعمیر ہوئیں۔
= مساجد کی تعمیر اور بنی بنائی مساجد کے عطا ہونے کی رفتار میں حیرت انگیز طور پر جو اضافہ ہوا جس کا اندازہ مندرجہ ذیل تین سالوں کے جائزہ سے لگایا جا سکتا ہے۔
1999ء میں…1524 2000ء میں…1915
2001ء میں…2570
= ہجرت کے19 سالوں میں مجموعی طور پر کل 13065 نئی بیوت جماعت احمدیہ کو دنیا بھر میں قائم کرنے کی توفیق ملی۔

احمدیہ مراکز تبلیغ کا قیام
یورپ: 1984 میں8 ممالک میں کل تعداد 16 تھی جو بڑھ کر 18 ممالک میں148ہو چکی ہے۔
امریکہ: امریکہ میں تعداد 6سے بڑھ کر36 ہو چکی ہے
کینیڈا: 84ء میں5مشن ہاوسز تھے جن میں 5کا اضافہ ہوا۔بعض پرانے مشن ہاؤسز فروخت کر کے کئی گنا بڑے مشن ہاؤسز خریدے گئے۔
افریقہ : 84ء میں14 ممالک میں کل تعداد 68 تھی اب 25ممالک میں تعداد 656ہو چکی ہے۔

جماعت کی دوسری صدی کا آغاز
پہلا نکاح: 23مارچ 1989ء بعد نماز فجر حضور نے پڑھایا۔
حضور کا پہلا خطبہ جمعہ: 24 مارچ 1989ء بیت الفضل لندن۔ جو ماریشس اور جرمنی میں بذریعہ ٹیلی فون سنا گیا۔
حضور کا پہلا الہام: السلام علیکم ورحمۃ اللّہ
پہلی بیعت: محمد صمد لون صاحب 24مارچ 1989ء بعد نماز جمعہ۔
پہلا نومولود: آفتاب احمد خان صاحب کا نواسہ
پہلا جنازہ: 24؍ مارچ 1989ء عبد السلام خان صاحب کا جنازہ بعد نماز جمعہ حضور نے پڑھایا۔
حضور کا پہلا دورہ: آئر لینڈ۔ 29 مارچ تا یکم اپریل 1989ء

نئے تعلیمی اور تربیتی پروگرام
دور خلافت رابعہ میں مختلف ممالک میں کئی سطحوں پر اہم تربیتی اور تعلیمی پروگراموں کا آغاز کیا گیا۔ یہ پروگرام قومی، علاقائی اور مقامی سطحوں پر باقاعدگی سے منعقد ہورہے ہیں۔ احمدیہ لٹریچر کی مدد سے ذیل میں چند تاریخی حقائق پیش ہیں۔
= برطانیہ میں انٹرنیشنل مجلس شوریٰ کے انعقاد کے علاوہ بہت سے ممالک میں مجالس شوریٰ کا قیام عمل میں آیا۔
= سوئٹزر لینڈ میں 16 ؍اپریل 1983ء پہلا یوم دعوت اللہ کا انعقاد
= ناروے میں9 ستمبر1983ء انصاراللہ کا پہلا سالا نہ اجتماع
= ملائشیا میں 4،5 نومبر 1983ء خدام کا سالانہ اجتماع
= غانا میں مئی 1983ء میں پہلے احمدیہ ٹیچرز ٹریننگ کالج کا افتتاح
= ٹرینیڈاڈ میں 20 مئی 1984ء لجنہ کے پہلے سالانہ اجتماع کا انعقاد۔
= یورپ میں 27 تا 29 جولائی 1984ء خدام الاحمدیہ یورپ کا برطانیہ میں پہلا سالانہ اجتماع
= آسٹریلیا میں اکتوبر 1984ء مصلح موعود ٹیبل ٹینس ٹورنامنٹ
= جرمنی میں 8 تا 10 مئی 1984ء خدام کی پہلی مجلس شوریٰ
= برطانیہ12،13نومبر 1988ء انصاراللہ کا پہلا یورپین اجتماع
= جرمنی میں 27 اگست1989ء کو مجلس خدام الاحمدیہ کے تحت پہلا سر ظفر اللہ ٹیبل ٹینس اور والی بال ٹورنامنٹس کا انعقاد
= ربوہ پاکستان میں 25 تا 27ستمبر1990ء خدام الاحمدیہ کی پہلی سپورٹس ریلی
= زائرے: 6،7؍اکتوبر 1990ء خدام الاحمدیہ کا پہلا سالانہ اجتماع
= فرانس میں 5 جولائی 1991ء خدام کا پہلا سالانہ اجتماع
= سوئٹزرلینڈ: 1992ء انصار اللہ کا پہلا دو روزہ سالانہ اجتماع
= پاکستان: 1994ء پہلی سالانہ علمی ریلی خدام واطفال
= پاکستان 12 تا 14؍اگست 1995ء پہلی صنعتی نمائش خدام الاحمدیہ
= پاکستان:6 ستمبر 1995ء کو ایسوسی ایشن آف احمدی کمپیوٹر پروفیشنلز کا پہلا کنونشن ربوہ میں منعقد ہوا۔
= بیلجیم: 5؍ اپریل1998ء پہلا سیمینار برائے دعوت اللہ
= جرمنی: 5 تا 7 مئی 2000ء اطفال الاحمدیہ کی پہلی سپورٹس ریلی
= پاکستان: 13 تا 15 جولائی2001ء واقفین نو کا پہلا سالانہ اجتماع
= پاکستان: 29، 30 دسمبر2001ء انصاراللہ کی پہلی علمی ریلی
= بینن میں 6تا 10 مارچ 2002ء پہلا فٹ بال ٹورنامنٹ
= جرمنی میں 18 ،19 مئی2002ء پہلا یورپین اجتماع انصار
= آسٹریلیا میں 2002ء لجنہ کا پہلا سالانہ اجتماع

خلافت رابعہ میں عطا ہونے والی بعض نئی عمارتیں
ذیل میں ایسی اکثر عمارتوں کی تفصیل درج ہے جن کا افتتاح یا سنگ بنیاد حضورؒ نے خود فرمایا اور وہ وسیع علاقہ میں مرکزی حیثیت کی حامل ہیں۔ تاہم سینکڑوں عمارتیں ایسی ہیں جو حضورؒ کے دورِ خلافت میں مختلف ممالک میں خریدی گئیں اور جماعتی ضروریات کے لئے زیراستعمال ہیں۔ نیز ہر ملک میں بے شمار مساجد اور مراکز کی تعمیر بھی اس فہرست میں شامل نہیںجن کا سنگ بنیاد حضورؒ نے نہیں رکھا یا افتتاحی تقاریب میں بنفس نفیس شرکت نہیں فرمائی۔
10؍ستمبر 1984ء: اسلام آباد مرکز (یوکے) کی خرید (بعد ازاں یہاں روٹی پلانٹ، رقیم پریس اور مرکزی نمائشگاہ کا قیام بھی عمل میں آیا)۔
10؍مئی 1985ء: گلاسگو کے نئے مشن ہاؤس کا افتتاح ۔
13 ؍ستمبر 1985ء : بیت النو رنن سپٹ ہالینڈ کا افتتاح۔
15؍ ستمبر 1985ء : بیلجیئم کے مشن ہاؤس اور مسجد بیت السلام کا افتتاح۔
17 ؍ستمبر 1985ء: کولون مرکز جرمنی کا افتتاح ۔
22 ؍ستمبر 1985ء: گروس گیراؤ مرکز جرمنی کا افتتاح ۔
13 ؍اکتوبر1985ء: فرانس کے نئے مرکز کا افتتاح ۔
23 ؍اکتوبر 1987ء: مسجد لاس اینجلس، امریکہ سنگ بنیاد۔
30؍اکتوبر 1987ء: مسجد رضوان پورٹ لینڈ امریکہ کا افتتاح۔
9؍ اکتوبر 1987ء: مسجد بیت الرحمان امریکہ کا سنگ بنیاد۔
جنوری 1988ء: گیمبیا میں دو مساجد کا افتتاح کیا۔ نیز ایک مسجد، ایک کلینک اور ایک مشن ہاؤس کا سنگ بنیاد رکھا۔
5فروری 1988ء: غانا۔ مشن ہاؤس کی نئی عمارت کا افتتاح۔
8؍ اپریل 1988ء : گلاسگو (سکاٹ لینڈ) میں مسجد کی نئی عمارت کا افتتاح
31؍ اگست 1988ء: شیانہ (کینیا) میں مسجد کا افتتاح نیز مشن ہاؤس اور مدرسہ کا سنگ بنیاد رکھا۔
12ستمبر1988ء: موروگورو (تنزانیہ) میں ڈسپنسری کا افتتاح۔ نیز کنسوا ( تنزانیہ) میں ایک ہسپتال کا سنگ بنیاد۔
13ستمبر1988ء: ڈوڈھا (تنزانیہ) میں مسجد بیت الحمید کا افتتاح ۔
18 ستمبر1988ء:New Groveماریشس میں مسجد کا سنگ بنیاد ۔ نیز ملٹری کواٹرز (ماریشس) میں مسجد کا افتتاح۔
31مارچ 1989ء: آئر لینڈ مشن ہاؤس کا افتتاح۔
21 مئی1989ء: فرانس میں نمائش ہا ل کاافتتاح۔
30 جون 1989ء: سان فرانسسکو (امریکہ) مشن ہاؤس کا افتتاح۔
3 جولائی1989ء: گوئٹے مالا میں مسجد کا افتتاح۔
7جولائی 1989لاس اینجلس (امریکہ) میں مسجد کا افتتاح ۔
17؍ اکتوبر1992ء :مسجد بیت الاسلام ٹورانٹو کینیڈا کا افتتاح۔
14؍ اکتوبر1994ء: مسجد بیت الرحمان واشنگٹن امریکہ اور واشنگٹن میں ارتھ سٹیشن کا افتتاح۔
18؍اکتوبر1994ء: ولنبر و (امریکہ) میں مسجد کا سنگ بنیاد۔
23؍اکتوبر 1994ء: شکاگو (امریکہ) میں مسجد بیت الصادق کا افتتاح ۔
7؍اپریل 1995ء: پاپونیواگنی:ایم ٹی اے کے ذریعہ مسجد کاافتتاح۔
3؍جولائی 1998ء: امریکہ میں مسجد بیت البصیر کا افتتاح۔
19؍اکتوبر1999ء: برطانیہ میں مسجد بیت الفتوح مورڈن کا سنگ بنیاد۔
31 ؍اگست 2000ء: جرمنی میں ایک مسجد کا سنگ بنیاد اور ایک مسجد کا افتتاح۔

مجلس نصرت جہاں کے تحت سکول
= 86-1985میں غانا، نائیجیریا، سیرالیون، گیمبیا، لائبیریا اور یوگنڈا میں 31ہائر سیکنڈری سکولز تھے۔ سیکنڈری کے علاوہ پرائمری اور نرسری سکولوں کی مجموعی تعداد 174 تھی
= حضور کے دور مبارک میں کانگو اور آئیوری کوسٹ میں بھی سکولز کا قیام عمل میں آیا۔
= 2003ء میںمجموعی طور پر افریقہ کے 8ممالک میں 40 ہائرسیکنڈری سکولز، 37جونئر سیکنڈری سکولز،238 پرائمری سکولز،58 نرسری سکولز کام کررہے ہیں اور کل تعداد 373ہے۔گویا کہ حضور کے دور ہجرت میں 199 سکولز کا اضافہ ہوا۔

مجلس نصرت جہاں کے تحت ہسپتال
86-1985ء میں 7 ممالک غانا ، نائیجریا، سیرالیون، گیمبیا، لائبیریا، آئیوری کوسٹ اور یو گنڈا میں 24 ہسپتال کا م کر رہے تھے۔ ان ممالک میں مزید وسعت کے علاوہ درج ذیل ممالک میں بھی ہسپتالوں کا اضافہ ہوا :بورکینا فاسو، بینن ،کانگو، کینیا اور تنزانیہ۔ اور یوں اس وقت افریقہ کے 12ممالک میں احمدیہ کلینکس اور ہسپتالوں کی تعداد 32 ہو چکی ہے۔ اس کے علاوہ جماعت احمدیہ کے انتظامات کے تحت دنیا بھر میں سینکڑوں کلینکس اور ہومیوپیتھک ڈسپنسریاں بھی کام کر رہی ہیں۔

تراجم قرآن کریم
دور خلافت رابعہ میں تراجم قرآن کریم کا تاریخ سازکام ہوا۔ حضورؒ نے قرآن مجید کے دیگر زبانوں میں معیاری مستند تراجم کا بے حد شوق اور جذبہ سے اہتمام کروایا۔ چنانچہ آپ کے 21سالہ دور خلافت میں جن زبانوں میں معیاری تراجم کرواکر اُن کی دید زیب اور اعلیٰ معیار کی طباعت کا اہتمام ہوا، اُن کی کُل تعداد 57ہوچکی ہے۔ جن زبانوں میں مکمل تراجم کی اشاعت ہوئی، اُن کے نام درج ذیل ہیں۔ نیز ان کے علاوہ دنیا کی کُل 117زبانوں میں مختلف مضامین پر مشتمل منتخب آیات کے تراجم بھی شائع کئے جاچکے ہیں۔
Albanian, Assamese, Bengali, Bulgarian, Chinese, Czech, Danish, Dutch, English, Esperanto, Fijian, French, German, Greek, Gujrati, Gurumukhi, Hausa, Hindi, Lgbo, Indonesian, Italian, Japanese, Kashmiri, Kikuyu, Korean, Luganda, Malay, Malayalam, Manipuri, Marathi, Mende, Nepalese, Norwegian, Oria, Pashtu, Persian, Polish, Portuguese, Punjabi, Russian, Saraeki, Sindhi, Spanish, Sundanese, Swahili, Swedish, Tagalog, Tamil, Telugu, Turkish, Tuvalu, Urdu, Vietnamese, Yoruba, Thai-Vol: 1 Part 1-10, Jual , Kikamba

مسلم ٹیلی وژن احمدیہ
= 24 مارچ1989 ء: احمدیت کی دوسری صدی کا پہلا خطبہ ماریشس جرمنی میں بذریعہ ٹیلی فون براہ راست سنایا گیا۔
= 18 جنوری 1991ء: حضور کا خطبہ انگلستان سمیت 6 ممالک یعنی جاپان، جرمنی،ماریشس،امریکہ اور ڈنمارک میں سنایا گیا۔
= 23 جون 1991ء:حضورؒ کاخطبہ عید الاضحی،24 ممالک میں نشریاتی رابطہ پر سنا گیا۔
= 31 جنوری 1992ء:حضورؒ کا خطبہ پہلی دفعہ مواصلاتی سیارہ کے ذریعہ براعظم یورپ میں دیکھا اور سنا گیا۔
= 3؍اپریل 1992ء: حضرت سیدہ آصفہ بیگم صاحبہ کی وفات پر (جماعت کی تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی کی) نمازجنازہ براہ راست
(اسلام آباد ٹلفورڈ سے) نشر کی گئی اور حضورؒ کی حسب ہدایت مقامی امام کی اقتدا میں دنیا بھر میں مختلف مقامات پر بیک وقت ادا کی گئی۔
= اپریل1992ء: حضور نے خطبہ عید الفطر ارشاد فرمایا جو بذریعہ سیٹیلائٹ براہ راست نشر کیا جانے والا پہلا خطبہ عید تھا۔
= جون1992ء: حضور کا خطبہ عیدا لاضحیہ بھی یورپ بھر میں MTA کے ذریعہ براہ راست نشر کیا گیا۔
= 31 جولائی تا 2؍اگست 1992ء: جلسہ سالانہ انگلستان براہ راست ٹیلی ویژن پر دکھایا گیا۔
= 21؍اگست 1992ء: حضور کے خطبات جمعہ سیٹیلائٹ کے ذریعہ چار براعظموں میں نشر ہونا شروع ہوئے یعنی یورپ ، ایشیا ،افریقہ اورآسٹریلیا۔
= 16؍اکتوبر 1992ء: کو مسجد بیت الاسلام،ٹورانٹو ،کینیڈا کا افتتاح ہوا جسے کینیڈا سے براہ راست پہلی مرتبہ تین براعظموں میں نشر کیا گیا۔
= دسمبر 1992ء: حضورؒ کے جلسہ سالانہ قایان کے لئے افتتاحی اور اختتامی خطابات محمود ہال لندن سے براہ راست نشر کئے گئے۔
= 1993ء:شمالی امریکہ میں سیٹلائٹ کے ذریعہ حضور کے خطبات کی باقاعدہ ٹرانسمیشن کا آغاز ہوا۔
= دسمبر1993ء میں جلسہ سالانہ قادیان کے لئے حضورؒ نے ماریشس کی سرزمین سے خطاب فرمایا جو کہ قادیان سے بیرون ہندوستان قائم ہونے والا دوسرا بیرونی مرکز ہے۔ماریشس سے ہی اپنے اس خطاب میں حضور نے ایم ٹی اے کی باقاعدہ نشریات 7؍جنوری 1994ء سے شروع ہونے کا اعلان فرمایا۔
= 7جنوری 1994ء وہ مبارک اور بابرکت دن ہے جب حضور کے خطبہ جمعہ سےMTAکی روزانہ کی باقاعدہ نشریات کاآغاز ہوا۔ اسی روز جماعت کی اپنی پہلی براڈکاسٹ وین کا افتتاح بھی عمل میں آیا۔
اُس وقت روزانہ کی ان نشریات کا دورانیہ بارہ گھنٹے تھا جن میں سے لندن سے تین گھنٹے کا پروگرام تمام دنیا کے لئے نشر کیا جاتا تھا اور ایشیائی ممالک کے لئے روس سے 9گھنٹے کا اضافی پروگرام نشر ہوتا تھا۔
= 1994ء میں جماعت احمدیہ امریکہ اور کینیڈا کی مشترکہ کاوشوں سے قائم ہونے والے ارتھ سٹیشن کا واشنگٹن میں قیام عمل میں آیا۔
= 1995ء:انٹرنیٹ پر احمدیہ ویب سائٹ قائم ہوئی اور 1996ء میں اس نے حضور کا خطبہ جمعہ براہ راست نشر کرنا شروع کر دیا۔
= یکم اپریل 1996ء: ایم ٹی اے کی24 گھنٹے کی نشریات کا آغاز ہوا اور حضور نے براہ راست خطاب فرمایا۔
= 21 جون 1996ء:حضور کے سفر کینیڈا کے موقع پر دو طرفہ رابطہ کا آغاز ہوا۔ انگلستان میں کینیڈا سے حضور کا خطبہ نشر ہورہا تھا اور لندن کی تصاویر کینیڈا پہنچ رہی تھیں اور تمام دنیا کے احمدی یہ تصاویر بیک وقت دیکھ رہے تھے۔
= 7جولائی 1996ء :گلوبل بیم کے ذریعہ MTA کی نشریات جاری ہوئیں ۔ اس سلسلہ میںمحمود ہال لندن میں مبارک تقریب منعقد ہوئی۔
= 1999ء: ایم ٹی اے کی ڈیجیٹل نشریات کا آغاز ہوا۔

حضور کے ریکارڈ شدہ پروگرام
= MTA کی باقاعدہ نشریات شروع ہونے بعد حضور کے جو پروگرام ریکارڈ ہوئے۔ ان میں خطبات جمعہ، مجالس عرفان اور جلسہ سالانہ و اجتماعات کے مواقع پر ارشاد فرمائے ہوئے سینکڑوں خطابات کے علاوہ سٹوڈیوز میں ریکارڈ کئے جانے والے وہ سینکڑوں پروگرام بھی شامل ہیں جن میں سے ہر ایک کا دورانیہ ایک گھنٹہ کا ہے۔ ان پروگراموں کی تفصیل (تعداد اور آغاز کی تاریخ) حسب ذیل ہے:
= اردو ملاقات … 160پروگرام (۹؍جنوری ۱۹۹۴ء)
= اعتراضات کے جواب… 37 (۱۸؍جنوری ۱۹۹۴ء)
= انگریزی دان سے ملاقات …150 (۵؍فروری ۱۹۹۴ء)
= ہومیوپیتھی کلاس… 198 (۲۳؍مارچ ۱۹۹۴ء)
= ترجمۃ القرآن کلاس… 305 (۱۵؍جولائی ۱۹۹۴ء)
= لقاء مع العرب…472 (۱۷؍جولائی ۱۹۹۴ء)
= اردو کلاس… 460 (۲۱؍جولائی ۱۹۹۴ء)
= بچوں کی کلاس… 300 (۲۳؍جولائی ۱۹۹۴ء)
= فرنچ ملاقات… 209 (۱۳؍جولائی ۱۹۹۷ء)
= بنگلہ ملاقات… 128 (۱۹؍اکتوبر ۱۹۹۹ء)
= جرمن ملاقات… 130
= لجنہ سے ملاقات… 130
= اطفال سے ملاقات… 45
= میزان…… 2724

حضور کے بعض اہم لیکچرز
دنیا بھر میں مختلف ممالک کی یونیوسٹیوں میں اور دانشوروں کے اجلاسات سے حضور انور نے متعدد خطابات فرمائے۔ جن کی تفصیل یوں ہے:
= 31؍ اگست 83ء: سوئٹزرلینڈ میں بعنوان انسانیت کا مستقبل
= 5؍اکتوبر83: آسٹریلیا میں بعنوان اسلام کی امتیازی خصوصیات
= 4جون87ء: سوئٹزرلینڈ میں بعنوان :سچائی ،علم ،عقل اور الہام۔ بعد ازاں یہی مضمون حضورؒ کی عظیم الشان کتاب “Revelation, Rationality, Knowledge & Truth” کی بنیاد بنا۔
= 9ستمبر 88ء: تنزانیہ کی دارالسلام یونیورسٹی سے خطاب
= 19 ستمبر 88ء: ماریشس کی یونیورسٹی میں لیکچر
= 17 مئی 89ء: سوئٹزرلینڈ کی یونیورسٹی میں ایک لیکچر
= 24فروری 90ء: برطانیہ میں خطاب بعنوان دین موجود الوقت مسائل کا کیا حل پیش کرتا ہے۔
= 12مارچ90ء: سپین کی اشبیلیہ یونیورسٹی میں خطاب بعنوان:دین کی بنیادی تعلیمات کا فلسفہ۔
= 24؍جون 2000ء کو انڈونیشیا میں Gadja Mada University میں خطاب بزبان انگریزی۔
= 29؍جون 2000ء کو جکارتہ (انڈونیشیا) کے ایک ہوٹل میںIIndonesian Muslim Intellectuals Dialogue کے تحت خطاب بعنوان “Islam & Prospect of Muslim Rivival considering Existential Problem with 21st Century.
= 6؍جولائی 2000ء کو جکارتہ (انڈونیشیا) میں ہومیوپیتھی کے موضوع پر انگریزی میں خطاب۔

تصانیف و علمی کارہائے نمایاں
سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ کا پیدا کردہ انقلاب انگیز لٹریچر قبولیت کی سند عام حاصل کر چکا ہے اور مغرب و مشرق کے دانشوروں اور مفکروں نے اسے زبردست خراج تحسین پیش کیا ہے۔ آپ کی متعدد تالیفات کے مختلف زبانوں میں تراجم بھی شا ئع ہو چکے ہیں۔حضورؒ کی مطبوعات کی فہرست درج ذیل ہے۔
1۔ مذہب کے نام پر خون…1962ء
2۔ ورزش کے زینے …1965ء
3۔ احمدیت نے دنیا کو کیا دیا؟…1968ء
4۔ آیت خاتم النبیین(ﷺ) کا مفہوم اور جماعت احمدیہ کا مسلک …1968ء
6,5۔ سوانح فضل عمر جلد اوّل، جلد دوم…1975ء
7۔ رسالہ ’’ربو ہ سے تل ابیب تک‘‘پر تبصرہ …1976ء
8۔ وصال ابن مریم مطبوعہ لاہور…1979ء
9۔ اہل آسٹریلیا سے خطاب اردو و انگریزی…1983ء
10۔ مجالس عرفان 84-1983ء کراچی …1989ء
11۔ سلمان رشدی کی کتاب پر محققانہ تبصرہ …1989ء
12۔ خلیج کا بحران اورنظام جہان نو…1992ء
13۔ Islam’s Response to Contemporary Issues…1992ء
14۔ ذوق عبادات اور آداب دعا…1993ء
15۔ Christianity – A Journey From Facts to Fictions…1994ء
16۔ زھق الباطل … 1994ء
17۔ Absolute Justice … 1996ء
18۔ کلام طاہر (شائع کردہ لجنہ اماء اللہ کراچی) … 1996ء
19۔ Revelation, Rationality Knowledge & Truth…1998ء
20۔ قرآن کریم کا اردو ترجمہ (مع حواشی کل صفحات 1315، طبع اول لندن جولائی 2000ء ، پاکستانی ایڈیشن 2003ء)

انقلاب انگیز تحریکات
حضورؒ نے اپنے دورِ خلافت میں متعدد تحریکات فرمائیں۔ بعض تحریکات خصوصی دعاؤں کرنے کی طرف توجہ دلانے کے لئے تھیں اور بعض اخلاقی اور روحانی ترقی کے لئے عملی اقدامات کے طور پر کی گئیں۔ جبکہ بعض کا تعلق خدمت خلق سے روشن پہلوؤں سے تھا۔ ان تمام تحریکات کا احاطہ کرنا اس مضمون میں ممکن نہیں تاہم ان میں سے بیشتر تحریکات درج ذیل ہیں:-
= پہلے مطبوعہ پیغام میں عالم اسلام اور فلسطین کی بہتری کے لئے دعاؤں کی تحریک (الفضل 13 جون 82ء)
= جھوٹ کے خلاف جہاد کی تحریک (درس القرآن 19 جولائی 82ء)
= لجنہ کو عالمگیردعوت اللہ کا منصوبہ بنانے کی تحریک (اجتماع لجنہ 16؍ اکتوبر82ء)
= محرم میں کثرت سے درود پڑھنے کی تحریک (مجلس عرفان 24؍ اکتوبر82ء)
= بیوت الحمد سکیم کا اعلان (خطبہ جمعہ29؍اکتوبر82ء)۔ یہ حضورؒ کے دَور کی پہلی مالی تحریک ہے۔
= وقف بعد از ریٹائر منٹ کی تحریک (اجتماع انصاراللہ 5؍ نومبر 82ء)
= تحریک جدید دفتر اوّل ودوم کو تا قیامت جاری رکھنے کی تحریک (خطبہ 5نومبر 82ء)
= باہمی جھگڑے ختم کرنے کی تحریک(خطبہ 5 نومبر82ء)
= نمازوں کی حفاظت کرنے کی تحریک (خطبہ 19 نومبر 82ء)
= مستشرقین کے اعتراضات کے جوابات تیار کرنے کی تحریک (خطاب استقبالیہ تحریک جدید2 دسمبر82ء)
= امریکہ میں5 نئے مراکز اور مساجد کے قیام کی تحریک (15؍ دسمبر 82ء)
= احمدی خواتین کو پردہ کی پابندی کی تحریک (خطاب جلسہ سالانہ 27دسمبر 82ء)
= الفضل اور ریویو آف ریلجنز کی اشاعت دس ہزار کرنے کی تحریک (خطاب جلسہ سالانہ 27 دسمبر82ء)
= کینیڈا میں نئے مراکز تبلیغ اور مساجد کی تحریک (20؍ اپریل 83ء)
= عید پر غرباء کے ساتھ خوشیاں بانٹنے کی تحریک (12جولائی 83ء)
= بدرسوم کے خلاف جہاد کی تحریک (خطبہ جمعہ 16 دسمبر83ء)
= جلسہ کے لئے 500 دیگوں کی تحریک (الفضل 8 فروری 84ء)
= برطانیہ اور جرمنی میں دو نئے مراکز قائم کرنے کی تحریک (خطبہ جمعہ 18مئی 84ء)
= حبشہ کے مصیبت زدگان کی مالی امداد (خطبہ 9نومبر84ء)
= حفظ قرآن کی تحریک (11 نومبر84ء)
= نستعلیق کتابت کے لئے کمپوٹر کی خرید (خطبہ12 جولائی 85ء)
= تحریک جدید کے دفتر چہارم کا آغاز (خطبہ25؍ اکتوبر 85ء)
= قیام نماز کیلئے ذیلی تنظیمیں ہر ماہ اجلاس کریں (خطبہ 8 نومبر 85ء)
= وقف جدید کو عالمگیر کرنے کا اعلان (خطبہ 27 دسمبر 85ء)
= سیدنا بلال فنڈ کا قیام (خطبہ14 مارچ 86ء)
= توسیع مکان بھارت فنڈ (خطبہ 28 مارچ 86ء)
= جلسہ ہائے سیرۃ النبیﷺ منانے کی تحریک (خطبہ 8؍ اگست 86ء)
= فتنہ شدھی کے خلاف جہاد (خطبہ22؍اگست86ء)
= متاثرین زلزلہ ایل سلوا ڈور کی امداد (خطبہ 17؍اکتوبر 86ء)
= لجنہ اماء اللہ مرکزیہ ربوہ کے نئے ہال و دفتر کے لئے چندہ (خطبہ16 جنوری 87ء)
= صد سالہ جوبلی سے پہلے ہر خاندان ایک نیا احمدی خاندان بنائے (خطبہ30جنوری 87ء)
= صد سالہ جوبلی پر ہر ملک میں ایک یادگار عمارت بنائی جائے (خطبہ6 فروری 87ء)
= تحریک وقف نو کا اعلان (خطبہ3؍اپریل87ء)
= توسیع مسجد نور ہالینڈ (خطبہ21؍اگست 87ء)
= منہدم شدہ مساجد کی تعمیرکریں (خطبہ18ستمبر 87ء)
= اسیران کی فلاح وبہبود کے لئے کوشش (خطبہ4 دسمبر 87ء)
= نصرت جہاں تنظیم نو (خطبہ22جنوری 88ء)
= سپینش سیاحوں کی میزبانی کی تحریک (خطبہ4؍اگست 88ء)
= نوجوانوں کو شعبہ صحافت سے منسلک ہونے کی تحریک (خطبہ 24 فروری 89ء)
= احمدی خاندان اپنی تاریخ مرتب کریں (خطبہ 17مارچ89ء)
= مسجد بیت الرحمن واشنگٹن کے لئے چندہ (خطبہ ۷ جولائی 89ء)
= افریقہ وہندوستان کے لئے 5 کروڑکی تحریک (خطاب جلسہ سالانہ یوکے89ء)
= پانچ بنیادی اخلاق اپنانے کی تحریک (خطبہ24 نومبر 89ء)
= واقفین نو کو تین زبانیں سیکھنے کی تحریک (خطبہ یکم دسمبر89ء)
= متاثرین زلزلہ ایران کے لئے امداد (جون 89ء)
= روس میں دعوت اللہ اور وقف عارضی (خطبہ15 جون 90ء، 18؍اکتوبر91ء)
= فاقہ زدگان افریقہ کے لئے امداد (خطبہ18 جنوری 91ء)
= مہاجرین لائبیریا کیلئے امداد کی تحریک (خطبہ 26؍ اپریل 91ء)
= کفالت یتامیٰ کی تحریک (جنوری1991ء)
= خدمت خلق کی عالمی تنظیم کا اعلان (خطبہ 28؍اگست92ء)
= مختلف شعبوں کے احمدی ماہرین کو سابق روسی ریاستوں میں جانے کی تحریک (خطبہ2؍اکتوبر92ء)
= بوسنیا کے یتیم بچوں ، صومالیہ کے قحط زدگان کے لئے امداد (خطبہ 30؍اکتوبر92ء)
= مسی ساگا (ٹورانٹو کینیڈا) کی احمدیہ مسجد کے لئے عطیات (خطبہ 30؍ اکتوبر 92ء)
= 1993ء کو انسانیت کا سال منانے اور بہبود انسانی کی تحریک (خطبہ یکم جنوری 93ء)
= ظلم کے خلاف آواز اٹھانے، تمام ممالک کے سربراہان سے رابطہ کر کے انہیں تقویٰ اور سچائی کی راہ پر بلانے کی تحریک (خطبہ 22 جنوری 93ء)
= مظلومین بوسنیا کی مالی واخلاقی امداد(خطبہ 29 جنوری 93ء)
= مختلف مذاہب کے لئے نوجوانوں کی ریسرچ ٹیمیں بنانے کی تحریک (خطبہ14 مارچ 93ء)
= گھر اور معا شرہ کو جنت نظیر بنانے کی تحریک (خطبہ16؍اپریل 93ء)
= جماعتی اجلاسوں میں بزرگوں کے تذکرے کریں (خطبہ 13؍ اگست 93ء)
= بزرگ پرستی سے بچیں تا آئندہ نسلیں بچ جائیں (خطبہ 13؍ اگست 93ء)
= قطب شمالی کی پہلی مسجد کیلئے مالی تحریک (خطبہ 8؍اکتوبر93ء)
= شہد پر منظم تحقیق کرنے کی تحریک (پروگرام ملاقات 6جون 94ء)
= مظلومینِ رونڈا کے لئے مالی امداد (خطبہ22 جولائی94ء)
= نو مبایعین کیلئے مرکزی تربیت گاہوں کا قیام (خطبہ 19؍ اگست 94ء)
= کینسر پر ریسرچ کی تحریک (پروگرام ملاقات 6 دسمبر 94ء)
= MTAکے لئے متنوع اور دلچسپ پروگرام بنائیں (خطبہ 16 دسمبر 94 ء)
= انگلستان کی مرکزی مسجد کے لئے پانچ ملین پاؤنڈ کی تحریک (خطبہ 24 فروری 94ء)
= نظام شوریٰ کے چارٹر کو دیگر زبانوں میں ترجمہ کرنے کی تحریک (خطبہ31 مارچ 95ء)
= امراء اضلاع – امارات کے تقاضے پورے کریں (خطبہ 14؍ جون 96ء)
= مشرقی یورپ میں جماعتی ضروریات کے لئے۱۵ لاکھ ڈالرز کی تحریک (خطبہ 27 دسمبر 96ء)
= ہر احمدی گھرانہ ڈش انٹینا لگائے (مجلس سوال وجواب 10جنوری 97ء)
= شاملین وقف جدید کی تعداد بڑھائیں (خطبہ2 جنوری 98ء)
= ’’سرخ کتاب ‘‘ رکھنے کی تحریک (خطبہ 7؍اگست 98ء)
= بیلجیم کی مسجد کے لئے مالی امداد (خطبہ یکم مئی 98ء)
= خلیفہ وقت کا خطبہ براہ راست سنیں (خطاب جلسہ سالانہ بیلجیم 3 مئی 98ء)
= درس القرآن ایم ٹی اے سے استفادہ کریں (خطبہ 19جون 98ء)
= ’’عمل الترب‘‘ پر ریسرچ کریں (پروگرام ملاقات 14ستمبر 98ء)
= امانتوں کا حق ادا کریں (سلسلہ خطبات28؍اگست تا 18 ستمبر 98ء)
= امیر مسلم ممالک غریب ملکوں کے بچوں کیلئے دولت مختص کریں (خطبہ 25 دسمبر 98ء)
= یتامیٰ بیوگان کی خدمت کی عالمی تحریک نیز اہل عراق کے بچوں یتیموں اور بیواؤں کے لئے دعا کی تحریک۔ (خطبات جمعہ 29 جنوری، 5فروری 99ء)
= تعمیر مساجد کا منصوبہ (خطبہ 19 مارچ 99ء)
= لواحقین کو شہداء کی تفصیلات جماعتی ریکارڈ کے لئے بھجوانے کی تحریک (خطبہ21 مئی 99ء)
= نوافل میں حضرت مسیح موعودؑ کی دعا سبحان اللّہ وبحمدہٖ … پڑھنے کی تحریک (خطبہ 19نومبر 99ء)
= پاک زبان استعمال کرنے کی تحریک (4 فروری 2000ء)
= جماعت انڈونیشیا انفاق سبیل اللہ کی مثال بنے اور آئندہ 25سال میں ایک کروڑ ہوجائیں (خطبات جلسہ انڈونیشیا 2 جولائی 2000ء)
= بیت الفتوح کے لئے مزید5 ملین پاؤنڈ کی تحریک (خطبہ 16 فروری 2001ء)
= مریم شادی فنڈ کا اجراء (خطبہ21،28فروری 2003ء)
= ہیو مینٹی فرسٹ کے ذریعہ عراق کی مالی امداد کی تحریک (خطبہ4 ؍ اپریل 2003ء)

مباہلہ
حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ نے پاکستان کے شرپسند ملاؤں اور ظالم صدر ضیاء الحق کو بار بار متنبہ کرنے کے بعد خدا تعالیٰ کے اذن سے ۱۰؍جون ۱۹۸۸ء کو انہیں مباہلہ کا چیلنج دیا اور صدر ضیاء الحق کے بارہ میں یہ بھی فرمایا کہ اگر وہ مباہلہ باقاعدہ طور پر قبول نہیں کرتے لیکن ظلم سے باز نہیں آتے تو اللہ تعالیٰ کی گرفت میں آجائیں گے ۔
اس چیلنج کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے بہت جلد ملاؤں کی دروغ گوئی کو طشت از بام کردیا چنانچہ جولائی میں ہی ملّا اسلم قریشی ازخود برآمد ہوگیا جس کے قتل کا مقدمہ حضورؒ کے خلاف قائم کیا گیا تھا۔ پھر ۱۷؍اگست کو ضیاء الحق کی ہلاکت کے ساتھ مباہلہ کا نشان عظیم الشان طور پر ایک بار پھر پورا ہوا۔ دشمن کی ناکامیوں، تباہیوں اور ہلاکتوں کے علاوہ احمدیت کی شاندار ترقیات بھی اس مباہلہ میں کامیابی کا ثبوت ہیں۔

پاکستان میں قائم شدہ مقدمات
حضورؒ کے دَور میں پاکستان میں سینکڑوں معصوم احمدیوں کو قیدوبند کی صعوبتوں سے گزرنا پڑا اور ہزاروں مقدمات احمدیوں کے خلاف قائم کئے گئے۔ ان مقدمات کی تعداد یوں ہے:
= حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ پر … 16
= مختلف احمدیوں پر کلمہ لکھنے پر … 755
= اذان دینے پر …37
= اسلامی شعار کے استعمال پر …386
= اسلامی اصطلاحات کے استعمال پر …130
= نماز پڑھنے پر …93
= تبلیغ کرنے پر …582
= صد سالہ جشن تشکر منانے پر … 27
= کسوف وخسوف کی سالگرہ منانے پر …50
= پمفلٹ ’’اک حرف ناصحانہ‘‘ کی تقسیم پر … 27
= مباہلہ پمفلٹ کی تقسیم پر … 148
= قرآن کریم پڑھنے پر … 17
= C،B 298 کے تحت … 816
= توہین رسالت … 206
= تمام اہلِ ربوہ (50 ہزار افراد)پر …1
کُل تعداد…3291

عہد خلافت رابعہ کے شہداء
خلافت رابعہ کے عہد میں جن احمدیوں کو جان کی قربانی پیش کرنے کی سعادت حاصل ہوئی اُن کی تعداد 79 ہے۔ ذیل میں ان شہداء کے اسماء نیز تاریخ شہادت اور مقام شہادت کی تفصیل پیش کی جارہی ہے:
1 16 اپریل 1983ء :ماسٹر عبدالحکیم ابڑو صاحب۔ وارہ لاڑکانہ
2 8 اگست 1983ء: ڈاکٹر مظفر احمد صاحب۔ امریکہ
3 8 ستمبر1983ء: شیخ ناصر احمد صاحب ۔اوکاڑہ
4 10 اپریل 1984ء: چوہدری عبدالحمید صاحب۔ مہراب پور
5 یکم مئی1984ء: قریشی عبد الرحمان صاحب۔ سکھر
6 16 جون 1984ء: ڈاکٹر عبدالقادر صاحب۔فیصل آباد
7 15 مارچ1985ء: ڈاکٹر انعام الرحمان صاحب ۔سکھر
8 7 اپریل1985ء: چوہدری عبد الرزاق صاحب۔ بھریاروڈ
9 9 جون1985ء: ڈاکٹر عقیل بن عبد القادر صاحب۔ حیدرآباد
10 29 جولائی1985ء: محمود احمد اٹھوال صاحب۔ پنوں عاقل
11 10 اگست1985ء: قریشی محمد اسلم صاحب مربی سلسلہ۔ ٹرینیڈاڈ
12 18 اپریل1986ء: مرزا منور بیگ صاحب۔لاہور
13 11مئی1986ء : سید قمر الحق صاحب۔سکھر
14 11مئی1986ء: راؤخالد سلیمان صاحب۔کراچی
15 9جون1986ء: رخسانہ طارق صاحبہ۔مردان
16 9جولائی1986ء: بابو عبد الغفار صاحب۔حیدرآباد
17 25فروری1987ء: غلام ظہیر احمد صاحب۔سوہاوہ جہلم
18 14مئی1989ء : ڈاکٹر منور احمد صاحب۔ سکرنڈ سندھ
19 16جولائی1989ء: نذیر احمد ساقی صاحب۔چک سکندر گجرات
20 16جولائی1989ء: رفیق احمد ثاقب صاحب۔چک سکندرگجرات
21 16جولائی1989ء: عزیزہ نبیلہ ۔چک سکندر گجرات
22 اگست1989ء: ڈاکٹر عبد القدیر جدران صاحب۔ قاضی احمد نوابشاہ
23 28ستمبر1989ء: ڈاکٹر عبد القدوس جدران صاحب، قاضی احمد نوابشاہ
24 17جنوری1990ء: قاضی بشیر احمد کھوکھر صاحب۔ شیخوپورہ
25 30جون1990ء : مبشر احمد صاحب۔تیماپور کرنا ٹک بھارت
26 17نومبر1990ء: نصیر احمد علوی صاحب۔دوڑ نواب شاہ
27 16دسمبر1992ء: محمد اشرف صاحب۔ جلہن گوجرانوالہ
28 5فروری1994ء: رانا ریاض احمد صاحب۔لاہور
29 5فروری1994ء: احمد نصر اللہ صاحب۔لاہور
30 30اگست1994ء: وسیم احمد بٹ صاحب۔فیصل آباد
31 30اگست1994ء: حفیظ احمد بٹ صاحب۔فیصل آباد
32 10اکتوبر1994ء: ڈاکٹرنسیم احمد بابر صاحب۔اسلام آباد
33 28اکتوبر1994ء: عبد الرحمان باجوہ صاحب۔کراچی
34 30اکتوبر1994ء: دلشاد حسین کھچی صاحب۔لاڑکانہ
35 10نومبر1994ء: سلیم احمد پال صاحب۔ کراچی
36 19دسمبر1994ء: انور حسین ابڑو صاحب۔لاڑکانہ
37 9اپریل1995ء: ریاض احمد صاحب۔شب قدر مردان
38 3مئی 1995ء: مبارک احمدشرما صاحب۔شکارپور
39 8نومبر1996ء: محمد صادق صاحب۔حافظ آباد
40 19جون1997ء :چوہدری عتیق احمد باجوہ صاحب۔ وہاڑی
41 26اکتوبر1997ء: ڈاکٹر نذیر احمد صاحب ۔گوجرانوالہ
42 12نومبر1997ء: مظفر احمد شرما صاحب ایڈوکیٹ۔ شکارپور
43 8 فروری 1998ء :میاں محمد اکبر اقبال صاحب۔یوگنڈا
44 7 جولائی 1998ء: محمد ایوب اعظم صاحب۔ واہ کینٹ
45 4؍ اگست1998ء: ملک نصیر احمد صاحب۔ وہاڑی
46 10 ؍اکتوبر 1998ء: ماسٹر نذیر احمد بگھیو صاحب۔نواب شاہ
47 30؍اکتوبر 1998ء: چوہدری عبد الرشید شریف صاحب۔ لاہور
48 یکم دسمبر 1998ء ملک اعجاز احمد صاحب۔وزیر آباد گو جرانوالہ
49 14 ؍اپریل 1999ء: مرزا غلام احمد قادر صاحب ۔ربوہ
50 9؍مئی 1999ء: مبارکہ بیگم صاحبہ اہلیہ عمر سلیم بٹ صاحب۔ چونڈہ سیالکوٹ
51 8؍اکتوبر 1999ء : نور الدین احمد صاحب ۔کھلنا بنگلہ دیش
52 8؍اکتوبر 1999ء : محمد جہانگیر حسین صاحب۔کھلنا بنگلہ دیش
53 8؍اکتوبر 1999ء : محمد اکبر حسین صاحب۔کھلنا بنگلہ دیش
54 8؍اکتوبر 1999ء : سبحان علی موڑل صاحب۔کھلنا بنگلہ دیش
55 8؍اکتوبر 1999ء : محمد محب اللہ صاحب۔کھلنا بنگلہ دیش
56 8؍اکتوبر 1999ء : ڈاکٹر عبد الماجد صاحب۔کھلنا بنگلہ دیش
57 8؍اکتوبر 1999ء : ممتاز الدین صاحب ۔کھلنا بنگلہ دیش
58 18 ؍جنوری2000ء: ڈاکٹر شمس الحق طیب صاحب۔ فیصل آباد
59 15 ؍اپریل2000ء: مولانا عبد الرحیم صاحب ۔لدھیانہ بھارت
60 8 جون2000ء: چوہدری عبد اللطیف اٹھوال صاحب۔ چک بہوڑو، شیخوپورہ
61 30؍ اکتوبر 2000ء:افتخار احمد صاحب ۔گھٹیالیاں سیالکوٹ
62 30؍ اکتوبر 2000ء: عزیزم شہزاد احمد بعمر ۱۶ سال۔ گھٹیالیاں
63 30؍ اکتوبر 2000ء:عطاء اللہ صاحب۔ گھٹیالیاں سیالکوٹ
64 30؍ اکتوبر 2000ء:غلام محمد صاحب۔ گھٹیالیاں سیالکوٹ
65 30؍ اکتوبر 2000ء:عباس علی صاحب۔ گھٹیالیاں سیالکوٹ
66 10 ؍نومبر 2000ء:ماسٹر ناصر احمد صاحب۔ تخت ہزارہ سرگودھا
67 10 ؍نومبر 2000ء: عزیزم مبارک احمد بعمر ۱۵ سال۔ تخت ہزارہ سرگودھا
68 10 ؍نومبر 2000ء: نذیر احمدصاحب رائے پوری (والد)۔ تخت ہزارہ سرگودھا
69 10 ؍نومبر 2000ء: عارف محمود صاحب (بیٹا)۔ تخت ہزارہ سرگودھا
70 10 ؍نومبر 2000ء:مدثر احمد صاحب۔تخت ہزارہ سرگودھا
71 22؍جون2001ء:پاپو حسن صاحب۔انڈونیشیا
72 28 ؍جولائی2001ء:شیخ نذیر احمد صاحب۔فیصل آباد
73 13؍ستمبر 2001ء: نور احمد چوہدری صاحب (والد) سدووالانیواں، نارووال
74 13؍ستمبر 2001ء: طاہر احمد (بیٹا) سدووالا نیواں، نارووال
75 10 ؍جنوری2002ء: غلام مصطفی محسن صاحب۔ پیر محل،ٹوبہ ٹیک سنگھ
76 یکم ستمبر 2002ء: مقصود احمد صاحب ۔فیصل آباد
77 14؍نومبر 2002ء:عبد الوحید صاحب ۔فیصل آباد
78 15 ؍نومبر2002ء: ڈاکٹر رشید احمد صاحب۔رحیم یار خان
79 25 ؍فروری2003ء: میاں اقبال احمد صاحب ایڈووکیٹ۔ راجن پور

ایک عظیم الشان دَور کا اختتام
= آخری پیغام بیماری کے دوران 9نومبر 2002ء کو جاری فرمایا۔
= اپنے دَور کی آخری مستقل مالی تحریک مریم شادی فنڈ کو جاری کرنے کے سلسلہ میں فروری 2003ء میں فرمائی
= آخری تحریک عراق کے مظلوم عوام کے لئے 4؍اپریل 2003ء کو خطبہ جمعہ میں فرمائی۔
= آخری نماز مسجد فضل لندن میں 18 ؍اپریل 2003ء کو نماز عشاء پڑھائی۔
= اور آخری خطبہ جمعہ بھی 18؍ اپریل2003ء کو ارشاد فرمایا۔
= 18؍ اپریل2003ء کی شام کو آخری مجلس عرفان میں رونق افروز ہوئے۔
= 19؍اپریل 2003ء بروز ہفتہ کی صبح آپؒ کی مطمئن روح اپنے ربّ کے حضور حاضر ہوگئی۔ انّاللہ و انّا الیہِ راجعون۔
= 23؍اپریل 2003ء کی شام آپؒ کی نماز جنازہ سیدنا حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے اسلام آباد (یوکے) میں پڑھائی جس کے بعد اسلام آباد میں ہی تدفین عمل میں آئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں