وہ دُور تھا مگر قلب و نظر میں رہتا تھا – نظم

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 13؍دسمبر 2003ء میں شامل اشاعت مکرم حمیدالمحامد صاحب کی نظم سے انتخاب ہدیۂ قارئین ہے:

وہ دُور تھا مگر قلب و نظر میں رہتا تھا
سرور و لطفِ سماعت اثر میں رہتا تھا
سماعتوں میں سدا گھول کر کلام کا رَس
وہ اس کی روح میں اس کے اثر میں رہتا تھا
مسافتوں کا نہ اس کے شمار تھا کچھ بھی
وہ بحر علم تھا وہ بحر و بر میں رہتا تھا
صفائے قلب تھا اس کا کہ مثلِ آئینہ
صفاتِ حق کے حصول و نشر میں رہتا تھا

50% LikesVS
50% Dislikes
0

اپنا تبصرہ بھیجیں