ٹالسٹائے کی تصانیف

عظیم روسی مصنف ٹالسٹائے کے بارہ میں ایک مضمون قبل ازیں ہفت روزہ ’’الفضل انٹرنیشنل‘‘ یکم ستمبر 2000ء کے اسی کالم کی زینت بن چکا ہے۔ روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 12؍فروری 2000ء میں ٹالسٹائے کی بعض تصانیف کے بارہ میں ایک مضمون شامل اشاعت ہے۔
ٹالسٹائے نے چھوٹی بڑی نوے کتب تصنیف کیں۔ پہلی تصنیف ’’بچپن‘‘ تھی جو آپ کے ذاتی مشاہدات کا مجموعہ تھی۔ اس کے بعد ’’لڑکپن‘‘، ’’جوانی‘‘ اور ’’ایک جاگیردار کی صبح‘‘ کی اشاعت نے ٹالسٹائے کی عظمت دلوں میں گاڑ دی۔ اس کے بعد اُنہوں نے اپنے مشاہدات کی بنیاد پر کئی ناول اور افسانے رقم کئے جنہوںنے روسی ادب میں ٹالسٹائے کو عظیم مقام پر کھڑا کردیا۔ ’’ایک اعتراف‘‘ اُن کی آخری کتاب تھی جس میں انہوں نے عیسائیت سے برگشتہ ہونے کا کھلم کھلا اعلان کیا اور عیسائی عقائد پر گہری طنز کی۔ انہوں نے لکھا: ’’مَیں اُن لوگوں کے اعمال کی جو عیسائیت کا دعویٰ کرتے ہیں کڑی نگرانی کرتا رہا ہوں اور مَیں نہایت خوفزدہ ہوں‘‘۔ کتاب کا اختتام وہ یوں کرتے ہیں: ’’مَیں جاننا چاہتا ہوں کہ اس (عیسائی مذہب) میں کیا جھوٹ اور کیا سچ ہے۔ مَیں جھوٹ اور سچ کو ایک دوسرے سے علیحدہ کرنا چاہتا ہوں‘‘۔ اس کتاب کی اشاعت کے بعد ٹالسٹائے کو عیسائی مذہب سے نکال دیا گیا۔ اگرچہ روس میں یہ کتاب ضبط کرلی گئی لیکن خفیہ طور پر اس کی خوب اشاعت ہوئی۔
’’جنگ اور امن‘‘ ٹالسٹائے کا ایک عظیم تاریخی ناول ہے جسے دنیا کے تین بہترین کلاسیکل ناولوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اسے ٹالسٹائے نے 1863ء میں لکھنا شروع کیا تھا۔ اس ناول میں پانچ سو کردار ہیں اور زندگی کے تقریباً تمام رنگ ہیں۔ 1869ء میں یہ ناول مکمل ہوا اور چھ جلدوں میں شائع ہوا۔ ٹالسٹائے نپولین کے مداح تھے اور اُنہیں ہمیشہ یہ احساس رہا کہ وہ وقت کے بعد پیدا ہوئے ہیں، کاش وہ نپولین کے ہم عصر ہوتے!۔ جس زمانہ میں یہ ناول لکھا گیا تھا، اُس وقت روس کا اعلیٰ طبقہ فرانسیسی زبان بولتا تھا اور اس پر فخر کرتا تھا۔ بعض لوگ تو روسی زبان سیکھنا ہتک خیال کرتے تھے لیکن جنگ عظیم دوم میں جب روس اور فرانس کا ٹکراؤ ہوا تو پھر روسیوں میں قومی عصبیت ابھری اور انہوں نے فرانسیسی ترک کرکے روسی زبان اپنانی شروع کی۔ ناول لکھنے کے زمانہ میں اگرچہ یورپ میں موجودہ گریگورین کیلنڈر رائج ہوچکا تھا لیکن روس میں ابھی جولین کیلنڈر ہی رائج تھا چنانچہ ٹالسٹائے نے جولین کیلنڈر ہی استعمال کیا۔ دونوں کیلنڈروں کی تاریخوں میں بارہ دن کا فرق ہے۔
روسی زبان کے مزاج دان ایک امریکی ایڈمن ڈولسن نے کہا ہے کہ اگر کوئی روسی زبان سے شناسائی کے بعد صرف اس ایک ناول کو پڑھ لے تو وہ تقریباً تین چوتھائی روسی زبان کا ماہر بن چکا ہوگا۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں